لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی اور تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ نہال ہاشمی اپنی تقریر پر پچھتا نہیں رہے۔ میرے خیال کے مطابق انہوں نے سوچ سمجھ کر یہ بیان دیا تھا۔ اس کے پیچھے ان کی پوری پلاننگ موجود ہو گی۔ ان کو ہلا شیری دینے والے بھی موجود ہوں گے جنہوں نے وقتی طور پر فوری ایکشن تو لیا اور ان سے استعفیٰ لے لیا پھر بعد میں کہا ڈٹ جا بیٹا۔ ”رام بھلی کرے گا“ لہٰذا وہ ڈٹ گئے۔ نہال ہاشمی کا مستقبل بہت روشن ہے کیونکہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت ان سے راضی ہے۔ کہاوت ہے کہ ”سہاگن وہی جو پیا من بھائے“ نہال ہاشمی کے بارے پہلے تو وفاق نے سندھ حکومت کو کہا کہ ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے پھر وزیراعظم نے ان سے استعفیٰ لے لیا اور اسی رات 8 بجے استعفیٰ سینٹ میں تحریری طور پر پہنچ گیا۔ 15 ویں ترمیم کے بعد پارٹی چیئرمین کے پاس یہ اختیارات موجود ہیں کہ وہ خلاف ورزی کرنے والے رکن کی رکنیت ختم کر سکے۔ ان کا استعفیٰ اگر سینٹ میں قبول نہیں کیا جاتا تو بھی میاں نوازشریف خود ان کو نااہل کر سکتے ہیں۔ نہال ہاشمی کی سینٹ رکنیت ویسے بھی آئندہ سال مارچ میں ختم ہو رہی ہے۔ چند ماہ قبل انہوں نے سوچ سمجھ کرچھکا لگایا۔ اعتزاز احسن کہہ چکے کہ اب انہیں سندھ کا گورنر لگایا جائے گا۔ نہال ہاشمی کے چہرے پر ایک خاص قسم کی نحوست صاف دکھائی دیتی ہے لوگ کہتے ہیں کہ یہ ہاشمی بھی نہیں ہیں انہوں نے خود ہی ہاشمی کا نام ساتھ جوڑ لیا ہے اس قسم کے لوگ پارٹی کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ نہال ہاشمی بھی میاں نوازشریف کو نقصان پہنچائیں گے۔ حسین نواز کی تصویر کے بارے چودھری نثار علی خان ہی صحیح جواب دے سکتے ہیں وہ چھ، چھ گھنٹے لگاتار بول لیتے ہیں۔ اسلام آباد کی فضا اس وقت گرد آلود ہے۔ وہاں چیزیں واضح دکھائی نہیں دے رہیں۔حسین نواز کی منظر عام پر آنے والی تصویر ایک پلاننگ کا حصہ لگتا ہے تا کہ جے آئی ٹی کو متنازع بنایا جا سکے۔ اس سلسلے میں مسلم لیگ ن کے میڈیا سیل نے اپنے کارڈز اچھے طریقے سے کھیلے ہیں۔ اس سے ہر چیز دھندلی ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ملزم پارٹی کیلئے سب سے فائدہ مند بات یہ ہوتی ہے کہ وہ انصاف کرنے والوں کو مشکوک بنا دے۔ حسین نواز کی تصویر کا معاملہ اتنا اہم نہیں جتنی اسے اہمیت دی جا رہی ہے جے آئی ٹی ممبران سے درخواست ہے کہ ایسے کیسز میں اگر ہو سکے تو انسان کی معاشی اور معاشرتی حیثیت کو دیکھتے ہوئے کچھ سہولیات فراہم کر دی جائیں۔ حسین نواز کے معاملے میں چائے کے کپ میں طوفان اس لئے اٹھایا جا رہا ہے تا کہ کہا جائے کہ ہمیں جے آئی ٹی پر اعتماد نہیں ہے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے بہتری کے اعلانات اچھی بات ہے لیکن قوم اس قسم کی باتیں سن سن کر ہم تھک چکی ہے۔ میاں نوازشریف پاکستان کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ آپ جو بھی اچھا کام کریں گے اس وقت درست سمجھا جائے گا جب وہ کام شروع ہو گا۔ میری دعا ہے نوازشریف کو کامیابی نصیب ہو۔ آپ ایک بار یہ برملا کہہ چکے ہیں کہ ہر طرف اتنی کرپشن ہے کہ میں ترقیاتی کاموں کی طرف توجہ دوں یا کرپشن کی طرف توجہ دوں۔ بحرحال انہوں نے فیصلہ کیا کہ ترقیاتی کاموں کی طرف پر توجہ دینی چاہئے۔ میرا ان سے سوال ہے کہ کروڑوں روپے لگا کر ایم پی اے اور ایم این اے بننے والے افراد کی اصل دلچسپی قانون سازی ہوتی ہی نہیں بلکہ وہ صرف اسمبلی میں اس وقت آتے ہیں جب تنخواہ یا مراعات میں اضافے کی بات ہو اور اس کام کیا حکومتی کیا اپوزیشن ارکان ،سب یک زبان ہو جاتے ہیں۔ میں ان سے سوال کرتا ہو ںکہ ان کرپٹ سیاست دانوں کا انہوں نے کیا حل نکالا ہے۔ میں نے اپنے اخبار میں 5 مرتبہ لسٹ شائع کی ہے ”گونگے‘بحرے‘کرپٹ ایم پی ایز“ کے عنوان سے چھپنے والی اس لسٹ میں وہ لوگ شامل تھے جو پانچ پانچ مرتبہ کامیاب ہو کر اسمبلی میں آئے لیکن ان پر حرام تھا کہ کبھی انہوں نے اسمبلی میں کھڑے ہو کر کسی بھی مسئلے پر اظہار خیال کیا ہو۔یہ وہ لاٹ ہے جو آپ اور اپوزیشن والے اسمبلیوں میں لے کر آئے ہیں اب ان میں بڑے پیمانے پر صفائی کی ضرورت ہے اور یہ اس طرح ممکن ہے جب مسلم لیگ ن سمیت کوئی پارٹی کسی کرپٹ، چور اچکے اور عوام کا خون چوسنے والے شخص کو آئندہ انتخابات میں ٹکٹ جاری نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے سعودی عرب میں آ کر اعلان کیا کہ تمام اسلامی ملک ایران کو تنہا کر دیں قطر ایک چھوٹا سا ملک ہے۔ اس کی فوج بھی چھوٹی سی ہے۔ اس نے کیسے دنیا کی اتنی بڑی طاقت کے خلاف سر اٹھایا ہے۔اس سوال کے جواب میں لندن سے شمع جونیجو نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قطر کے معاملے میں بہت بڑی ڈویلپمنٹ ہوئی ہے۔ ابھی ریاض سمٹ ہوئی ہے۔ اس میں بھی امیر قطر نے شرکت کی ہے۔ قطر ایران جیسا کوئی ملک نہیں ہے۔ سعودیہ نے جو مسلم نیٹو قائم کیا ہے۔ اس میں سعودیہ کی اپنی فوج 4 لاکھ سے زیادہ ہے۔ دوسرے ممالک کی فوج بھی شامل ہے جبکہ قطر کے پاس فوج 11 ہزار سے بھی کم ہے لیکن ان کے پاس تیل کا ہولڈ ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے طالبان کا دفتر بھی کھولا اس کے علاوہ حماس سے بھی بات کرتے ہیں۔ ایران کے منتخب ہونے والے نئے صدر کی پالیسی ہے کہ وہ کسی قسم کی متنازع بحث میں نہیں الجھتے۔ اب سعودیہ کا اپنی چودھراہٹ کی فکر ہے کہ سارے ملک ان کے تھلے لگ جائیں۔ قطر دنیا کا سب سے امیر ملک ہے۔ ان کی گیس کا ذخیرہ سب سے بڑا ہے۔ امریکہ کا سب سے بڑا آئی ٹی ادارہ ”سیٹ کام“بھی قطر میں ہے۔ قطر ایئرویز، دنیا میں سب سے بڑی جہاز کمپنی ہے۔ الجزیرہ چینل اس کا ہے۔ مڈل ایسٹ میں بھی لوگ سعودی عرب کی بجائے قطر کی طرف دیکھتے ہیں۔ قطر نے سعودی عرب کی طرح اپنے پیسے کو ضائع نہیں کیا بلکہ سمجھداری سے انویسٹ کیا ہے۔ ریاض سمٹ کے بعد قطر نے ایران جا کر ایرانی نو منتخب صدر کو مبارکباد دی اور امریکی، سعودی چودھراہٹ کو چیلنج کیا۔ ایران اور سعودی عرب کا جھگڑا، شیعہ سنی کا تھا۔ یہاں سعودی عرب اور قطر دونوں سنی ممالک ہیں ان کے بارڈر بھی ملتے ہیں۔ قطر کو سب سے زیادہ خطرہ اب اس بات کا ہے کہ کہیں سعودی عرب اس پر حملہ نہ کر دے، اگر سعودی عرب اس پر حملہ کرتا ہے تویہ جنگ کسی کے کنٹرول میں نہیں آ سکے گی اور خطے پر اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے۔
وزیراعظم صاحب ! آپ کے اعلان خوش آئند مگر اچھی باتوں پر عمل کب ہو گا
