لاہور (خصوصی رپورٹ) صوبائی دارالحکومت میں چیمپنئز ٹرافی کے شروع ہوتے ہی لاہور پولیس کے آشیرباد سے سو سے زائد چھوٹے ، بڑے بکیوں اور جواریوں نے اپنامکروہ دھندا شروع کر دیا ہے۔ اربوں روپے کا جواءکرکٹ میچوں پر ہونے لگا، متعلقہ تھانوں کے ایس ایچ اوز جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی کرتے ہوئے افسران کو سب اچھاکی رپورٹ پیش کرنے لگے، شہر کے مختلف علاقوںمیں جواریے سرگرم ہوگئے ہیں ان علاقوں میں سرفہرست ڈیفنس، جوہرٹاﺅن، گلبرگ، اقبال ٹاﺅن، ہنجروال، ستوکتلہ، چوہنگ، شیراکوٹ، نواں کوٹ، ملت پارک، اقبال ٹاﺅن، گلشن اقبال، مسلم ٹاﺅن، ساندہ ، شاہدرہ، شفیق آباد، بادامی باغ، نولکھا، لوئر مال، ٹبی سٹی، اسلام پورہ، نیوانارکلی، شادباغ، ڈیفنس بی، فیصل ٹاﺅن، ماڈل ٹاﺅن، گجرپورہ، مغلپورہ ، قلعہ گجر سنگھ، گڑھی شاہو، ریس کورس، سول لائن، مزنگ، ہربنس پورہ، غازی آباد، شمالی چھاﺅنی، برکی، گلبرگ، غالب مارکیٹ نصیرآباد اور فیکٹری ایریا تھانوں کی حدود شامل ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ان بکیوں اور جواریوں کی پشت پناہی سیاسی شخصیات اور اعلیٰ پولیس افسران کرتے ہیںجس کی وجہ سے ان بدنام زمانہ بکیوں اور جواریوں کے خلاف آج تک کوئی بھی بڑی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاسکی ہے۔ اس حوالے سے ڈی آئی جی آپریشن لاہور کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ڈی آئی جی آپریشن لاہور ڈاکٹر حیدر اشرف نے تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز کو حکم دیا ہے کہ وہ بکیوں اور جواریوں کے خلاف کریک ڈاﺅن کریں اور ان کے خلاف مقدمات درج کریں۔
چیمپئنز ٹرافی کیلئے لاہور میں پولیس کی ملی بھگت سے اربوں کا جواء
