تاجکستان روانگی سے قبل وزیراعظم نے بیٹی کو کیا ہدایت کی ؟،دیکھئے خبر

اسلام آباد (آئی این پی ) وزیر اعظم نواز شریف نے تاجکستان روانہ ہونے سے قبل اپنی صاحبزادی مریم نواز سے ملاقات کر کے جے آئی ٹی میں پیشی سے متعلق معاملے پر مشاورت کی ۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے تاجکستان روانہ ہونے سے قبل اپنی صاحبزادی مریم نواز سے ملاقات کی جس میں پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے حوالے سے مشاورت کی گئی ۔ نواز شریف نے مریم نواز کو جے آئی ٹی میں پیشی سے قبل اہم معاملات پر مشورے دیے اور اس موقع پر وزیر اعظم نے اپنی بیٹی کو ہدایت کی ہے کہ جے آئی ٹی میں یکساں موقف برقرار رکھنا ہے۔

عوام کیلئے بڑی خوشخبری, وزیراعلیٰ نے بڑا اعلان کردیا

لاہور (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے ایشیائی ترقیاتی بینک کے نائب صدر وینسی ژانگ (Mr. Wencai Zhang) کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی،ملاقات کے دوران پنجاب میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے جاری مختلف منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا اور توانائی،سکل ڈویلپمنٹ،اربن ٹرانسپورٹ، انفراسٹرکچر، سمال ہائیڈل ڈیمز، آبپاشی،زراعت،تعلیم اور دیگر شعبوں میں مزید تعاون بڑھانے پر اتفاق کےا گےا۔ وزےراعلیٰ شہبازشرےف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک پنجاب حکومت کا ایک اہم پارٹنر ہے -پنجاب میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے کئی شعبوں کی بہتری کے لئے کام جاری ہے -انہوںنے کہاکہ حکومت پنجاب نے جنوبی پنجاب کے سکولوں کو شمسی توانائی سے روشن کرنے کا بڑا منصوبہ ترتیب دیاہے-اس پروگرام کے تحت جنوبی پنجاب کے ہزاروں سکول رواں برس شمسی توانائی سے روشن کئے جائیں گے – ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے اجالا پروگرام میں تعاون لائق تحسین ہے اورایشیائی ترقیاتی بینک اس منصوبے کی افادیت کے پیش نظر مزیدمعاونت کرسکتا ہے-انہوںنے کہا کہ سی پیک کے تحت پنجاب میں توانائی کے منصوبوں کو ریکارڈ مدت میں مکمل کیا گیا ہے-سی پیک کا میگا پراجیکٹ 1320میگا واٹ کا ساہیوال کول پاور پلانٹ 22ماہ کی ریکارڈ مدت میں آپریشنل کیا گیا ہے جبکہ بہاولپور میں 300میگاواٹ شمسی توانائی پید ا ہورہی ہے -انہوںنے کہا کہ موجودہ حکومت اپنے وسائل سے گیس کی بنیاد پر 3600میگاواٹ کے توانائی منصوبوں کو تیزی سے مکمل کررہی ہے -ان منصوبوں کے لئے وفاقی اور پنجاب حکومت نے وسائل فراہم کئے ہیں-لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کے لئے ہر ممکن ذرائع سے توانائی کے حصول کو یقینی بنایاگیاہے-انہوںنے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک توانائی کے منصوبو ںمیں حکومت کے ساتھ تعاون کو فروغ دےکر اس چیلنج سے نمٹنے میں ہماری مدد کرسکتا ہے- وزیراعلی نے کہاکہ حکومت نے عوام کو ٹرانسپورٹ کی جدید اور عالمی معیار کی سفری سہولتیں فراہم کرنے کےلئے میٹرومنصوبے مکمل کئے ہیں-لاہور ، ملتان اور راولپنڈی اسلام آباد میں انتہائی کامیابی سے میٹروبسیں چل رہی ہیں اور لوگوں کی بڑی تعداد ان سے مستفید ہو رہی ہے- انہوںنے کہا کہ میٹروبس سروس کا دائرہ دیگربڑے شہروں تک بڑھانے کا پروگرام بنایا گیاہے-بینک اس حوالے سے بھی پنجاب حکومت کے ساتھ معاونت کر سکتا ہے- زرعی معیشت کے استحکام کے لئے 67ارب روپے کی لاگت سے دیہی سڑکوں کی تعمیر کی گئی ہے- دریں اثناءوزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف سے برطانیہ کے ہائی کمشنر تھامس ڈریو(Mr. Thomas Drew)نے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور ، پاک برطانیہ تعلقات کے فروغ اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ برطانوی ہائی کمشنر نے 1320 میگاواٹ کے ساہیوال کول پاور پراجیکٹ کی ریکارڈ مدت میں تکمیل پر وزیراعلیٰ شہبازشریف کو مبارکباد دی اور کہا کہ اتنے بڑے پیداواری گنجائش کے توانائی منصوبے کی ریکارڈ مدت میں تکمیل کا کریڈٹ آپ کو جاتا ہے اور بلاشبہ توانائی بحران کے خاتمے کیلئے آپ کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔ انہوں نے پنجاب کے عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کیلئے وزیراعلیٰ شہبازشریف کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ آپ کی قیادت میں تعلیم، صحت اور دیگر سماجی شعبوں کی بہتری کے لئے شاندار اقدامات کئے گئے ہیںاور پنجاب حکومت نے کئی شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ پنجاب حکومت کے ساتھ آنے والے وقتوں میں تعاون کو مزید فروغ دیں گے اور پنجاب حکومت کے ساتھ تعلیم، صحت ، سکل ڈویلپمنٹ اور دیگر سماجی شعبوں کی بہتری کے لئے تعاون جاری رہے گا۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کے بروقت اقدامات کے باعث آج ملک میں توانائی بحران بہت حد تک کم ہو چکا ہے اور کئی منصوبے برق رفتاری سے مکمل کئے گئے ہیں اور ان سے بجلی حاصل ہو رہی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے لیہ کے قریب ٹریفک حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کیپٹن کرنل شیر خان شہید نشان حیدر کے 18ویں یوم شہادت کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ کیپٹن کرنل شیر خان شہید نے 17ہزار فٹ کی بلندی ر پاکستان کے پرچم کوسربلند رکھنے کیلئے جان کا نذرانہ پیش کیا۔

ماروی میمن نے خاموشی توڑ دی ۔۔دیکھئے بڑی خبر

اسلام آباد(آئی این پی)بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن ووزیر مملکت ماروی میمن کچھ عرصہ سیاسی سرگرمیوں سے دور رہنے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی جے آئی ٹی کی پیشی کے موقع پر ان سے یکجہتی کیلئے منظر عام پر آ گئیں اور مسلم لیگ (ن) کی خواتین اراکین پارلیمنٹ کے ہمراہ جوڈیشل اکیڈمی کے باہر موجود تھیں۔ اس موقع پر پارٹی رہنماﺅں سے بات چیت کرتے ہوئے مار وی میمن نے کہاکہ ان کیخلاف بعض عناصر بے بنیاد پروپیگنڈا کرتے ہیں ۔ وہ مسلم لیگ(ن) کے ساتھ ہیں اور اس حوالے سے پھیلائی جانے والی افواہیں بے بنیاد ہیں۔

وزیراعظم کی صاحبزادی آبدیدہ ،وجہ کیا بنی؟

اسلام آباد (صباح نیوز) وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نوازجے آئی ٹی میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک موقع پر آبدیدہ ہوگئیں اور کچھ دیر خاموش ہوگئیں ،انہوں نے مسلسل17منٹ تک میڈیا سے گفتگو کی تاہم میڈیا کے سوالوں کا جواب دیئے بغیرشکریہ ادا کرتے ہوئے روانہ ہوگئیں ۔ان کی گفتگو کے دوران میڈیا نمائندگان متعدد بارسوال کرنے کی کوشش کرتے رہے تاہم وہ کہہ دیتیں کہ پہلے انہیں بات پوری کرلینے دیں۔

”تاریخ میں زندہ رہنے کیلئے یہ کام کرنا پڑتا ہے“

دادو(نمائندہ خبریں) پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ جولوگ تاریخ میں زندہ نہیں رہنا چاہتے ہیں وہ پھر جیل اور پاناما سے ڈرتے ہیں۔ آج وہ سیاہ دن ہے جب جمہوریت پرشب خون مارا گیا، ذوالفقار بھٹو کی حکومت پراس وقت شب خون مارا گیا جب وہ دنیا میں پاکستان کا بول بالا کررہے تھے۔مارشل لا مائنڈ سیٹ کا تسلسل نہیں ہوتاجبکہ جمہوری مائنڈ سیٹ کا تسلسل ہوتا ہے، ۔ پاکستان کی بقا کی جنگ ہم لڑتے رہیں گے۔یہ لوگ سی پیک کے منصوبے کو چوری کر کے دوسری طرف لے گئے ہیں۔ گیم چینجر کہنے والے پہلے سمجھ لیں گیم چینجر کہتے کسے ہیں۔ سی پیک گیم چینجر نہیں خطے کا چینجر ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے بدھ کو دادو میں 5جولائی کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔آصف علی زرداری نے کہا کہ آج وہ سیاہ دن ہے جب جمہوریت پرشب خون مارا گیا، ذوالفقار بھٹو کی حکومت پراس وقت شب خون مارا گیا جب وہ دنیا میں پاکستان کا بول بالا کررہے تھے، ذوالفقارعلی بھٹو نے عوامی طاقت کے ساتھ سپر پاور کو للکارا، انہیں معلوم تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والاہے۔ انہیں بیرون ملک بھجوانے کی بھی بات ہوئی لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ کہا جارہا ہے کہ 70 سال کے بعد بھی پاکستان کے ترقی نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ملک میں 40 سال ایک خاص سوچ نے حکومت کی، اس سوچ کے حامل لوگوں کی پالیسیوں میں تسلسل نہیں ہوتا۔آصف زرداری نے کہا کہ جولوگ تاریخ میں زندہ نہیں رہنا چاہتے وہ جیل اورپاناما سے ڈرتے ہیں، 2008 میں ہمیں حکومت ملی تو1973 کا آئین بحال کیا، پولیس کا ایک اے آئی ایس بھی اپنا اختیارات دینے کوتیارنہیں لیکن انہوں نے پارلیمنٹ کو اپنے اختیارات دیئے۔ وہ اگر ایسا نہ کرتے تو نواز شریف وزیراعظم نہیں صدر بن جاتے اور صدرکے خلاف کوئی ریفرنس نہیں بنتا کوئی کیس نہیں بنتا۔ انہوںنے کہا کہ عمران خان کو آئندہ الیکشن میں کوئی فائدہ نہیں ہوگا ، فائدہ ہوگا تو بس عوام کو ہوگا اور عوام پیپلز پارٹی ہے کیوںکہ کشمیر سمیت ملک بھر میں ہر جگہ پیپلز پارٹی ہے۔آصف زرداری نے کہا کہ جمہوریت خرابیوں کو دورکرتی چلتی ہے، پیپلزپارٹی نے جمہوریت کوہمیشہ مضبوط کیا۔ ملک کو بڑی جمہوریت بنانا بے نظیر بھٹو کا خواب تھا، اب وہ نہیں مگران کی سوچ ہمارے ساتھ ہے، کارکنوں کے ہاتھ میں جمہوریت کا نعرہ ہے،، آنے والی نئی نسل کو ہم قیادت فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں جمہوریت کی بقا کی جنگ لڑتے رہیں گے۔ ہم وہ کام نہیں کریں گے جو صرف 5 سال کے لیے ہوگا۔ یورپ اب امیر ہوا ہے پہلے ہمارا خطہ امیر ہوتا تھا، وہ دور واپس آئے گا۔ آنے والی یوتھ کو لیڈر شپ دے رہے ہیں۔اپنی بیٹی آصفہ زرداری سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ آصفہ سے جھگڑا چل رہا ہے، وہ کہتی ہے لیاری سے لڑوں گی میں نواب شاہ سے لڑنے کا کہتا ہوں۔آصف زرداری نے کہا کہ یہ لیپ ٹاپ یا کسی اور بہانے الیکشن جیت بھی جائیں تب بھی پیپلز پارٹی کامیاب رہے گی۔انہوں نے کہا کہ ان کو سی پیک کی سمجھ نہیںبلکہ انہوں نے تو اپنے طور پر سی پیک کو تھوڑاتبدیل کرکے اپنے طور پر چلانے کی کوشش کی ہے جبکہ سی پیک صرف گیم چینجر نہیں پورے خطے کو چینج کرے گا۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ 5جولائی 1977پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے ۔40سال قبل آج کے دن ایک آمر نے قوم کی امیدوں اور توقعات کو روند ڈالا تھا ۔وہ آمر تمام مصائب کی بنیاد بنا جن سے آج تک عوام نبرد آزما ہے ۔بدھ کو اپنے ایک بیان میں چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ انتہا پسندی، دہشتگردی، کلاشنکوف اور ڈرگ کلچر ضیا کی آمریت کا تحفہ ہیں۔ ضیا نے جمہوریت پسند، لبرل اور محب وطن لوگوں کے خلاف وحشت کو بے لگام کردیا تھا۔1977 میں جمہوریت کے خاتمے کے بعد نہتے پاکستانیوں پر بربریت کے پہاڑ گرائے گئے۔انتقامی کاروائیوں اور ریاستی دہشتگردی کا سامنا کرنے کے باوجود عوام اور خصوصا جیالے ثابت قدم رہے۔ پاکستانی عوام اور جیالوں نے جانفشانی سے جمہوریت کی جنگ لڑی۔انہوںنے کہا کہ جمہوریت اور شہید بھٹو کے مشن کی خاطر ضیا کے مظالم کا سامنا کرنے والے رہنماﺅں، کارکنان، جیالوں اورشہریوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔

عمران خان کی بیٹی بارے زبردست بیان

اسلام آباد (آئی این پی) وزیر مملکت اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ مریم نواز نے جے آئی ٹی پیشی کے موقع پر کوئی سرکاری پروٹوکول نہیں لیا، عمران خان نے تو اپنی بیٹی کوہی قبول نہیں کیا وہ بیٹوں کی عزت کیا جانیں ،عمران خان کس حیثیت میں صوبائی حکومت کاہیلی کاپٹر اور ریسٹ ہاﺅس استعمال کرتے ہیں، یہودیوں اور ہندوﺅں کی غیر ملکی فنڈنگ کاان کے پاس کوئی جواب نہیں اس لیے عدالتوں سے مفرور ہیں، بدھ کو مریم نواز کی جے آئی ٹی کے موقع پر مریم اورنگزیب نے عمران خان کے ٹویٹ کے ردعمل میںکہاکہ عمران خان بیٹیوں کی عزت کرنے والے اسی طرح بیٹیوں کے ساتھ آتے ہیں۔عمران خان جیسے لوگ جو بیٹیوں کو قبول ہی نہیں کرتے وہ صرف بیان ہی دے سکتے ہیں۔ عمران خان قوم کو جواب دیں کس حیثیت سے وزیراعلیٰ ہاﺅس میں لڈو پر سانپ سیڑھی کھیلتے ہیں۔ سانپ کون ہے عوام جانتی ہے۔ سانپ کو اقتدار کی سڑھی لڈو کھیل کرہی مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان قوم کو جواب دیں کہ صوبے کا سرکاری ہیلی کاپٹر کس حیثیت سے استعمال کرتے ہیں۔ عمران خان جوان دیں کہ عدالتوں سے کیوں مفرور ہیں۔ یہودیوں اور ہندوﺅں کی غیرملکی فنڈنگ کہاں سے آئی ۔ عمران خان جھوٹ بولنے سے باز نہیں آئے مریم نواز کسی سرکاری پروٹوکول میں جے آئی ٹی نہیں آئیں سب گھر والوں کی پرائیوٹ گاڑی تھیں۔

”اور اب حریفوں کی بہن بیٹیاں بھی “ حنیف عباسی نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا

اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی)جے آئی ٹی کی جانب سے مریم نواز کو طلب کیے جانے پر لیگی رہنما حنیف عباسی آگ بگولہ ہو گئے جن کا کہنا ہے کہ اب حریفوں کی بہن بیٹیاں بھی عدالتوں میں پیش ہونگی ۔نجی ٹی وی کے مطابق حنیف عباسی نے مریم نواز کی جے آئی ٹی میں پیشی پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ آنے والے وقت میں لوگوں کی بہنیں بھی عدالتوں میں پیش ہونگی ۔بہنیں جب پیش ہونگی تو بھائی باہر نکلیں گے اور یاد رکھیں آنے والے وقت میں لوگوں کی بہنیں بھی عدالتوں میں پیش ہونگی ۔حنیف عباسی نے کہا کہ ہم پر امن ہیں اور کارکنوں نے کوئی بھی فالتو نعرہ نہیں لگایا ، بہنیں عدالتوں میں پیش ہونگی تو بھائی اظہار یکجہتی کیلئے آئیں گے۔

وزیراعظم کے داماد برہم, جہ کیا بنی؟

اسلام آباد (نیٹ نیوز)وزیر اعظم کی صاحبزادی کی پیشی کے موقع پر ا±ن کے خاوند محمد صفدر سے زیر کفالت ہونے کے بارے میں سوال کیا گیا تو وہ غصے میں آگئے اور ا±نھوں نے سوال کرنے والے صحافی کو ہی سنا دیا کہ ’ا±نھوں نے بھی چار ماہ قبل زیر کفالت آنے کے لیے مجھے پیغام بھیجے تھے جو ابھی تک ا±ن کے پاس محفوظ ہیں‘۔اس جواب کے بعد مزکورہ صحافی غصے میں آگئے اور انھوں نے اس پر احتجاج بھی کیا لیکن دیگر صحافیوں نے اس معاملے پر ’متاثرہ صحافی‘ کے ساتھ اظہار یک جہتی نہیں دکھائی۔اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ نواز کے کارکنوں کی ایک قابل ذکر تعداد بھی موجود تھی۔جنھوں نے ہاتھوں میں مریم نواز کے حق میں بینرز بھی ا±ٹھا رکھے تھے۔ان کارکنوں کو روکنے کے لیے بھی پولیس کی اضافی نفری طلب کی گئی تھی۔ کارکنوں میں خواتین اور لڑکیوں کی بھی اچھی خاصی تعداد موجود تھی۔

مریم نواز مجرمانہ تفتیش میں پیش ہوئیں, پولیس نے سلیوٹ کیوں کیا؟

چترال (نمائندہ خبریں)تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ بادشاہت کی مثال دیکھنی ہے تو مریم نواز کی جے آئی ٹی میں پیشی دیکھ لیجیے ¾دو نمبر جمہوریت میں میرٹ کا قتل ہوتا ہے ¾ چترالی عوام نے لواری ٹنل بنانے پرجنرل مشرف کوووٹ دیا۔چترال یونیورسٹی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ جے آئی ٹی میں جوبھی پیش ہوتاہے باہرآکر میری تعریفیں کرتا ہے ¾عمران خان نے کہا کہ دو نمبر جمہوریت میں میرٹ کا قتل ہوتا ہے اور جمہوریت کے اندر لیڈر شپ میرٹ پر اوپر آتی ہے ¾ مغرب میں جمہوریت آگئی اس لیے وہ اوپر چلا گیااور جن ملکوں میں میرٹ تھا وہ اوپر گئے،جہاں بادشاہت تھی وہ نیچے آگئے۔تحریک انصاف کے چیئرمین نے کہا کہ نوازشریف کی بیٹی مریم نواز ایک عام شہری ہیں ¾کرمنل انویسٹی گیشن کےلئے مریم نوازکوبلایا گیا تھا اور انہیںپولیس سیلوٹ کررہی ہے ¾اسحاق ڈارکابیٹا20سال پہلے اسکوٹرپرگھومتاتھا ¾آج اربوں کی پراپرٹی ہے۔انہوںنے کہاکہ پانچ میں سے دوججوں نے کہہ دیا کہ نوازشریف صادق اورامین نہیں رہے جبکہ ملک میں میرٹ کا نظام رائج ہونا چاہیے تاکہ ملک اوپر جائے ¾اگر ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے اپنے دوستوں کو لے جاتا تو کامیابی نہ ملتی اور جس ملک میں میرٹ نہیں وہ پیچھے رہ جاتا ہے۔انہوںنے کہاکہ ہمیں اپنی سیاحت کو بچانا ہے جبکہ چترال یونی ورسٹی میں سیاحت کا مضمون ہونا چاہیے اور مقامی سیاحت جیسی آج ہے ایسی کبھی نہیں تھی کیونکہ غیرملکی افرادیہاں سیاحت کےلئے آرہے ہیں ¾چترال میں سیاحت کے فروغ کے کئی مواقع ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ چترالی عوام نے لواری ٹنل بنانے پرجنرل مشرف کوووٹ دیا اور کہا کہ ہم اسے سراہتے ہیں ¾ایسا ہی ماحول چترال میں دیکھا جس کی خوشی ہے۔بلتستان کے ایک تھانے گیاکبھی قتل کا کوئی مقدمہ درج نہیں ہواجبکہ گلگت بلتستان کے لوگ اپنے گھروں میں تالے نہیں لگاتے ہیں۔پی ٹی آئی کے چیئرمین نے کہا کہ ہمارا دینی فرض ہے کہ اپنے وعدوں پر قائم رہیںاور جب کوئی حکمران قوم سے وعدہ کرے تو اسے پورا کرنا چاہیے۔

جے آئی ٹی کے 55روز, الزامات بارے شریف فیملی تذبذب کا شکار

اسلام آباد (آن لائن) جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کی مسلسل55روزہ تفتیش کے بعد بھی حکمران خاندان سمجھنے سے قاصر ہے کہ اس پر الزام کس بات کا ہے اور تحقیقات کس لئے ہورہی ہیں؟۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف ان کے دونوں صاحبزادے جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد عوام کو بتایا کہ جے آئی ٹی ممبران کے سوالوں کا جواب دینے کے بعد میں نے ان سے سوال کیا کہ مجھ پر الزام کیا ہے کیا پانامہ پیپرز میں میرا نام شامل ہے ؟ ۔ وزیر اعظم کے بقول جے آئی ٹی والے جواب نہیں دے سکے ۔ 5جولائی کو مریم نواز نے اپنی پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک بار پھر ےہی سوال اٹھایا کہ جے آئی ٹی والے یہ بتانے سے قاصر ہےں کہ ہم پر الزام کےا ہے؟مرےم نواز کا کہنا ہے کہ دنےا کی واحد جے آئی ٹی ہے جو اس لئے تحقےقات کر رہی ہے کہ حکمران خاندان پر الزام لگاےا جاسکے۔حالانکہ جے آئی ٹی کو سپرےم کورٹ کی طرف سے دےا گےا مےنڈےٹ بالکل واضح ہے کہ شفاف تحقےقات کے ذرےعے سراغ لگاےا جائے کہ لندن کے مبےنہ مےئر فلےٹس کس دولت سے خرےدے گئے اورکب خرےدے گئے۔دوبئی سٹےل ملز کا پےسہ کےسے قطر گےا اور قطری شہزادے کے ساتھ کاروبار کب سے ہے؟۔سپرےم کورٹ نے حکمران خاندان سے تحقےقات کےلئے13سوالات جے آئی ٹی کو دئےے تھے اور جے آئی ٹی اب تک اپنی تفتےش انہی13سوالوں کے اِردگرد ہی کر رہی ہے۔ مرےم نواز کا نام جن کمپنےوں کے ساتھ جوڑا گےا تھا انہےں ثابت کرنا ہے کہ ان کا ان سے تعلق نہےں ہے۔ جے آئی ٹی کے سامنے حسےن نواز 6بار،حسن نواز3بار،وزےراعظم مےاں نوازشرےف،وزےراعلیٰ پنجاب اور وزےرخزانہ اسحاق ڈاراےک اےک بار پےش ہوچکے ہےں۔وزےراعظم کے کزن طارق شفےع کو دوبار جے آئی ٹی طلب کرچکی ہے جبکہ وزےراعظم کے داماد کےپٹن صفدر کو بھی اےک بار بلاےا جاچکا ہے۔حےرت کی بات ےہ ہے کہ خاندان کے اہم ترےن افراد کی جے آئی ٹی مےں پےشی کے باوجود پورا خاندان کہہ رہا ہے کہ ہمےں ےہ سمجھ نہےں آرہا ہے کہ ہم پر الزام کےا ہے؟جبکہ حسےن نواز کا کہنا ہے کہ ہم سے منی ٹرےل پوچھنے والے پہلے عمران خان کی منی ٹرےل کا سراغ لگائےں۔درحقےقت حکمران خاندان پر سب سے مرکزی الزام منی ٹرےل کا ہی ہے اور حکمران خاندان منی ٹرےل کو چھپانے کےلئے قطری شہزادے کی چھتری بھی لے چکا ہے۔دو ممبران جے آئی ٹی قطری شہزادے سے پوچھ گچھ کےلئے دوحہ جاچکے ہےں،ہوسکتا ہے کہ قطری شہزادہ بھی تمام تفتےش کے بعد ےہی کہہ دے کہ مجھے سمجھ نہےں آئی کہ مجھ پر الزام کس بات کا ہے؟ جبکہ الزام چودھوےں کے چاند کی مانند روشن ہے۔جے آئی ٹی کے پاس اب5 دن باقی بچے ہےں اور10جولائی کو رپورٹ سپرےم کورٹ مےں جمع ہونے جارہی ہے۔ےقےناً جے آئی ٹی سپرےم کورٹ مےں ےہ رپورٹ جمع کروانے والی نہےں ہے کہ60دن کی تفتےش کے بعد بھی شرےف خاندان کو الزام کی سمجھ نہےں آسکی لہٰذا عدالت الزام کی حقےقت سمجھانے کےلئے مزید وقت دے۔جے آئی ٹی عدالت مےں 60دن کی رپورٹ پےش کردے گی اور پھر عدالت کے ذرےعے سب کچھ سامنے آئے گا کہ جے آئی ٹی کے باہر کھڑے ہوکر باتےں کرنے والے جے آئی ٹی کے اندر کےا کےا انکشافات کرکے آئے ہےں۔