نامعلوم افراد کی فائرنگ سے اہم رہنماء جاں بحق

کوئٹہ(ویب ڈیسک) ارباب کرم خان روڈ پر ہونے والی فائرنگ سے بلوچ نیشنل پارٹی مستونگ کے رہنما ملک نوید دہوار اپنے محافظ سمیت جاں بحق ہوگئے۔ کوئٹہ کے علاقے ارباب کرم خان روڈ پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے بلوچ نیشنل پارٹی کے رہنما ملک نوید دہوار اپنے محافظ سمیت جاں بحق ہوگئے ہیں۔پولیس نے بتایا کہ ملک نوید دہوار بلوچستان کے علاقے مستونگ میں بلوچ نیشل پارٹی کے رہنما ہیں اور آج صبح کوئٹہ میں موجود اپنی رہائش گاہ سے شوروم پر جارہے تھے کہ ارباب کرم خان روڈ پر موٹرسائیکل پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ملک نوید اور ان کا محافظ شدید زخمی ہوگئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری جائے حادثہ پر پہنچ گئی تاہم ملک نوید دہوار اور ان کا محافظ موقع پر ہی دم توڑ چکے تھے۔ دونوں افراد کی لاشیں سول اسپتال کوئٹہ منتقل کردی گئی ہیں جب کہ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

خبردار،ہوشیار! اے ٹی ایم مشین استعمال کرنے والوں کیلئے بُری خبر

لاہور (خصوصی رپورٹ) صوبائی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں جعلی نوٹوں کی بھرمار ہے جبکہ ملکی و غیر ملکی مالیاتی اداروں اور اے ٹی ایم مشینوں سے بھی جعلی کرنسی برآمد ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس اور بینک کے عملے کی ملی بھگت سے شہرمیں جعلی کرنسی کا کاروبار عروج پر ہے، عیدالفطر سے ایک ماہ قبل افغانستان سے کروڑوں روپے کی جعلی کرنسی پنجاب لائی گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جعلی کرنسی کے سمگلروں کے افغانستان اور علاقہ غیر کے سمگلروں کے ساتھ گہرے مراسم ہیں، ان افراد کے بعض پولیس و کسٹم افسروں سے بھی مراسم بتائے جاتے ہیں، یہ گینگ طویل عرصہ سے پورے ملک میں جعلی کرنسی کا کاروبار کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق سمگلرز ایک کروڑ مالیتی جعلی نوٹ بیس لاکھ روپے کے عوض دیتے ہیں۔ ذرائع کا مزید کہناہے کہ جعلی کرنسی کی پہچان کرنا انتہائی مشکل ہے یہاں تک کہ اگر جعلی نوٹوں کومشین میں بھی چیک کرنے کیلئے ڈال دیا جائے تو مشین بھی اوکے کی تصدیق کرتی ہے۔

واسا ملازمین کیلئے خوشخبری،تنخواہوں میں اضافہ

لاہور ((خصوصی رپورٹ)ایم ڈی واسا نے واسا ملازمین کے لئے خصوصی پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔ اس پیکیج کے تحت سینٹری ورکرز اور سیور مینوں کی تنخواہ میں 5 ہزار روپے ماہانہ اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تنخواہ کے ساتھ ساتھ ہر ماہ سینٹری ورکرز اور سیور مینوں کو 5 ہزار اضافی رسک الانس دیا جائے گا جبکہ تمام ملازمین کو ڈرائی یونیفارم الگ سے دی جائے گی۔ تمام افسروں کی جدید خطوط پر ٹرینگ کی جائے گی جس کا آغاز آج سے کیا جا رہاہے۔ تفصیلات کے مطابق واسا ملازمین کے لئے واسا کی تاریخ کی سب سے بڑی خوشخبری کا ایم ڈی نے اعلان کر دیا ہے جس کے تحت واسا کے سینٹری ورکرز اور سیورمینوں کو خطرناکی سپیشل رسک الانس دیا جائے گا۔ ہر ماہ ملازمین کی تنخواہ میں 5 ہزار فی کس کے حساب سے اضافی سپیشل رسک الانس دیا جائے گا۔ اسی طرح واسا درجہ چہارم کے ملازمین کی 10 فیصد تنخواہ میں اضافہ کے ساتھ 5 ہزار مزید رسک الانس کی صورت میں تنخواہ میں اضافہ کیا جا رہا ہے جس کے لئے ایم ڈی واسا زاہد عزیز نے اس الانس کی منظوری دیتے ہوئے سمری تیار کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ سمری کے لئے ڈائریکٹر فنانس میاں منیر اور ڈائریکٹر ایڈمن محمود احمد بھٹی کو ٹاسک ایم ڈی نے سونپ دیا ہے جو سمری تیار کر کے ایم ڈی کو ایک ہفتہ کے اندر پیش کریں گے جو ایم ڈی منظوری کے لئے 9 جولائی کو ایل ڈی اے اتھارٹی کے ہونے والے اجلاس میں پیش کر کے فائنل منظوری لیں گے۔ اس اہم خبر کے ساتھ ہی واسا کے 8 ہزار سینٹری ورکرز اور سیور مینوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انہوں نے ایم ڈی واسا کی اس غریب اور ملازم دوستی جیسے اقدام کو واسا کی تاریخ کا سب سے بڑا ملازم دوست اقدام قرار دے دیا ہے اور ایم ڈی کو زبرست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اس حوالے سے واسا کی سی بی اے یونین کے صدر فاروق چودھری اور سیکرٹری جنرل شاہد چودھری نے کہا ہے کہ ایم ڈی نے سینٹری ورکرز کے لئے 5 ہزار سپیشل رسک پیکج جاری کر کے ایک تاریخی فیصلہ کیا ہے جس پر ہم ایم ڈی زاہد عزیز کے مشکور ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ایم ڈی واسا نے واسا کے زیر زمین درجنوں فٹ گہرے سیوریج سسٹم سمیت دیگر نالوں ، گٹروں کی صفائی کرنے والے سیور مینوں اور سینٹری ورکرز کے لئے خطرناکی کے نام سے خصوصی سپیشل پیکج دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ جس کے تحت ہر سینٹری ورکز اور سیور مین کو تنخواہ کے علاوہ 5 ہزار ماہوار رسک الانس دیا جائے گا۔ دوسری طرف واسا کے سینٹری ورکرز اور سیور مین کے لئے ڈرائی یونیفارم دی جائے گی۔ یہ یونیفارم گندے پانی یا بارش میں کام کرتے وقت استعمال کی جائے گی یہ یونیفارم بھی پاکستان میں پہلی مرتبہ لاہور واسا میں دی جائے گی۔ اس وردی کے پہننے سے واسا ملازم کے کپڑے نہ گندے ہونگے اور نہ ہی ان پر پانی اثر کرے گا۔ دریں اثنا ایم ڈی نے آج سے واسا کے تمام ایکسئین اور ایس ڈی اوز کی تربیت کا کام بھی شروع کر دیا ہے۔ اس کے تحت آج سے ٹریننگ کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ ٹریننگ پنجاب میونسپل ڈویلپمنٹ ایجنسی دے گی۔ آج پہلا سیشن ایم ڈی واسا میں ہو گا۔ ٹریننگ ورکشاپ سے واسا ملتان کے سابق ایم ڈی عاشق چودھری خطاب کریں گے۔ آج کے سیشن میں ایم ڈی لاہور زاہد عزیز مہمان خصوصی ہونگے۔ اس حوالے سے ایم ڈی واسا زاہد عزیز نے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ واسا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ واسا کے ملازمین اور افسروں کو خصوصی حوصلہ افزائی الانسز دئیے جا رہے ہیں۔ تمام افسروں کی تربیت کا آغاز آج سے کیا جا رہا ہے جبکہ ملازمین کو تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈرائی یونیفارم دی جا رہی ہے۔ سپیشل رسک الانس کی مد میں 5 ہزار فی کس ملازم دیا جا رہا ہے۔ ایم ڈی نے کہا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے شب و روز ایک کرنے والے ملازمین کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جبکہ کام چوروں اور ڈنگ ٹپاپالیسی پر کام کرنے والے افسروں کے لئے محکمہ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ کام کرنے والوں کو سینے سے لگایا جائے گا جبکہ کام چوروں کو کیک آٹ کیا جائے گا جس کے لئے فہرستیں تیار کر لی گئی ہیں۔

سزا یافتہ چینی کمپنی کو 6شہروں کی سکیورٹی دینے کا پلان،ذمہ دارکون؟

لاہور (خصوصی رپورٹ) پنجاب حکومت کی طرف سے دارالحکومت لاہور کے بعد صوبہ کے دیگر 6 بڑے شہروں سرگودھا، راولپنڈی، گوجرانوالہ، ملتان، فیصل آباد اور بہاولپور میں بھی 40 ارب روپے لاگت کے سیف سٹی منصوبے شروع کرنے کا نیا مرحلہ شروع ہوگیا، جبکہ ذرائع کی تحقیقات اورمتعلقہ حکام سے انٹرویوزکے دوران انکشاف ہوا کہ ٹھیکوں میں شفافیت اور ایمانداری کی دعویدار پنجاب سیف سٹی اتھارٹی نے ایک ایسی چینی کمپنی زیڈ ٹی ای کو بھی پیشکش جمع کرانے کی اجازت دیدی جسے امریکہ میں تجارتی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر بعض سخت پابندیوں اورجرمانے کا سامنا کرنا پڑا، اس کمپنی نے سیف سٹی اتھارٹی کو دنیا کے کسی ملک میں تجارتی پابندی اور بلیک لسٹ نہ ہونے کا مبینہ طور پر جعلی سرٹیفکیٹ بھی جمع کرا دیاکہ جس سے اسلام آباد میں چینی سفارتخانہ کے کمرشل قونصلر نے بھی لاعلمی ظاہرکی۔ معلوم ہواکہ پنجاب کے 6بڑے شہروں میں کیمروں کی تنصیب ،ٹریفک کا نظام بہتر بنانے اور سٹریٹ کرائم روکنے کے علاوہ پولیس اور تھانہ کلچر تبدیل کرنے کے لحاظ سے شروع کردہ اپنی نوعیت کے اس اہم ترین منصوبہ کیلئے پنجاب حکومت نے سپلائر کریڈٹ طریقہ کار تحت 35 کروڑ ڈالر کا غیر ملکی قرض لینے کا فیصلہ کیاجبکہ خواہشمند 14 کمپنیوں میں سے 9 کو 8 جولائی 2017 تک اپنی پیشکشیں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی،ان 9 کمپنیوں میں چین کی زیڈ ٹی ای کارپوریشن بھی شامل ہے جس کو امریکہ میں تجارتی قوانین کی خلاف ورزی پر مجرم قرار دیکر اسی سال مارچ میں 89 کروڑ 23 لاکھ 60 ہزار ڈالر کا کریمنل اور سول جرمانہ عائد کیا گیا جبکہ7 برسوں کیلئے کمپنی پر مختلف تجارتی پابندیاں بھی لگا دی گئیں،امریکہ کے محکمہ انصاف کیساتھ طے پانیوالے معاہدے کا اعتراف زیڈ ٹی ای کے صدر دفتر شین زن سے جاری کی گئی ایک پریس ریلیز میں بھی 7 مارچ 2017 کو کیا گیا،کمپنی کے چیئرمین ڈاکٹر ژا شن منگ نے اپنے بیان میں کہاتھاکہ امریکی محکمہ انصاف سے کئے گئے معاہدے کے تحت ہم اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں اور آئندہ کمپنی کے معاملات شفاف طور پر چلائے جائیں گے۔ دستیاب دستاویزات کے مطابق ناروے کے بینک نے بھی سنگین کرپشن کے الزامات کے تحت گزشتہ برس زیڈ ٹی ای کو گلوبل پنشن فنڈ میں سرمایہ کاری کرنیوالی کمپنیوں کی فہرست سے خارج کردیا تھا۔ ادھر پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے بڈنگ ڈاکیومنٹس کی شق3.4کے مطابق سیف سٹی کے منصوبوں میں ایسی کوئی کمپنی نا صرف حصہ نہیں لے سکتی بلکہ اس پر غور ہی نہیں کیا جائیگا،جو پاکستان یا دنیا کسی بھی ملک کے علاوہ بین الاقوامی اداروں،عالمی بینک،آئی ایم ایف ،اقوام متحدہ وغیرہ سے کاروبار کیلئے نا اہل یا بلیک لسٹ ہوچکی ہو، دوسری جانب زیڈ ٹی ای پر امریکہ نے آزادانہ تجارت بند کر رکھی اور اس پر کاروبار کیلئے پیشگی اجازت ، آڈٹ رپورٹس کی معمول سے ہٹ کر فراہمی سمیت کڑی پابندیاں لگی ہوئی ہیں۔اسکے علاوہ جن دیگر 8 کمپنیوں کو پیشکشیں جمع کرانے کی اجازت دی گئی، ان میں نوکیا، میٹرولا، حئی سن، ہواوے ، سی ای ٹی سی ،ایف سی آئی ایسل،ایس اے این اور آئرن کرٹن شامل ہیں،جن کے درمیان پنجاب کے 6 شہروں میں ٹھیکے کا مقابلہ ہے ، لیکن زیڈ ٹی ای کو غیر معمولی طور پر ٹھیکے کی کارروائی میں حصہ لینے کی اجازت دینا اس بات کا اشارہ ہے کہ نون لیگ حکومت کی کوئی طاقتور شخصیت اسکی سفارشی بنی ہوئی ہے ۔اس سلسلہ میں سیف سٹی اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈی آئی جی پولیس علی عامر سے رابطہ کیا گیا تو انکا کہنا تھا کہ زیڈ ٹی ای کی طرف سے چائنہ چیمبر آف کامرس کاکلیئرنس سرٹیفکیٹ چینی سفارتخانہ کی مہر کیساتھ اتھارٹی کو جمع کرایا گیا،اب اسکی تصدیق کی جارہی ہے اور کمپنی کے امریکہ یاکسی دوسرے ملک میں بلیک لسٹ یا نااہل ہونے کی تحقیقات بھی لیگل شعبہ کررہا ہے ،زیڈ ٹی ای پر الزامات ثابت ہوگئے تو اتھارٹی کے پاس اختیار ہے کہ وہ کسی بھی سٹیج پراسے ٹھیکے کے عمل سے باہر کردے ۔مزیدبرآں صحافتی اقدار اورذرائع کی غیرجانبداری برقرار رکھنے کیلئے زیڈ ٹی ای کے صدر دفتر شین زن چین سے بھی رابطہ کیا گیا،جس کے حکم پر کمپنی کے پاکستان میں مقیم ڈپٹی چیف ایگزیکٹو آفیسر مسٹر ایلیکس نے لاہور میں اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہزیڈ ٹی ای کی طرف سے اتھارٹی کو جمع کرایا گیا سرٹیفکیٹ چینی سفارتخانہ سے تصدیق شدہ ہے ،تاہم یہ نہیں بتایاجا سکتاکہ سفارتخانے کے اکنامک اور کمرشل قونصلر کی طرف سے اسکی تصدیق کیوں نہیں کی گئی۔ انکا دعوی تھا کہ امریکہ سمیت دنیا کے کسی بھی ملک میں زیڈ ٹی ای بلیک لسٹ نہیں۔یادرہے کہ ذرائع نے گزشتہ برس سیف سٹی کے پہلے مرحلہ میں ہی خبر بریک کردی تھی کہ زیڈ ٹی ای کو امریکہ میں وہاں سے چین میں استعمال کے بہانے درآمد کئے گئے ٹیلی کمیونی کیشن آلات اپنی 4 ذیلی کمپنیوں کے ذریعے ایران کو ری ایکسپورٹ کرنے کے الزامات کا سامنا ہے ،چنانچہ امریکی حکومت زیڈ ٹی ای کی اس حرکت کو اپنی قومی سلامتی کیلئے خطرہ اور دہشتگردی کی معاونت کے مترادف خیال کررہی ہے ،یہ آلات ایرن کو اس وقت درآمد کئے گئے جب اس پر اقوام متحدہ کی پابندیاں عائد تھیں۔

آسمان گرا نہ زمین پھٹی،جائیداد کی خاطر بیٹوں کا باپ کیساتھ شرمناک اقدام

فیصل آباد (رپورٹ:یونس چوہدری، تصاویر: کاوش علی) خون سفید ہو گیا، کروڑوں روپے کی جائیداد تھیانے کی خاطر فیصل آباد گلبرگ کے علاقہ میں بدبخت بیٹوں نے ساتھیوں کی مدد سے گن پوائنٹ پر حقیقی باپ کو اغواءکر کے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ باپ کی داڑھی و مونچھیں مونڈ ڈالی، اس کے سر اور کولہوں پر تین سو چھتر مارے۔ 20لاکھ سے زائد کی رقم اور لاکھوں مالیت کے 25تولے زیورات لوٹ لیے۔ پانچ لاکھ روپے تاوان وصول کیا اور بیٹوں نے اپنے والد کو کئی یوم تک حبس بےجا میں رکھا جبکہ اپنے سگے بیٹوں اور دیگر خونیں رشتوں کے بے پناہ ظلم و تشدد کا شکار ہونےوالے 56سالہ شخص کا کہنا ہے کہ مجھے مار کر کروڑوں کی جائیداد پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے مجھے پاگل قرار دے رہے ہیں میری بیوی تقریباً ڈیڑھ سال قبل انتقال کر گئی اور میرے تینوں بیٹے اور دو بیٹیاں میری دوسری شادی میں رکاوٹ بن گئے ہیں میرے اوپر جینے کےلئے زمین تنگ کر دی گئی ہے اللہ کے بعد میرا کوئی سہارا نہیں واقعہ کا مقدمہ درج، یہ بات گورونانک پورہ کے رہائشی مختار احمد ولد چوہدری شہاب الدین نے ”روزنامہ خبریں“ کو بتائی۔ اس نے بتایا کہ میرا گڈز کا کاروبار ہے ڈیڑھ سال قبل میری بیوی بشیراں بی بی فوت ہو گئی میں نے مریم نامی خاتون سے دوسری شادی کر لی اور بچوں کے کہنے پر تھوڑے عرصہ بعد اسے طلاق دےدی۔ اس نے بتایا کہ رمضان المبارک 14جون کو مجھے اغواءکر کے تقریباً 14یوم تک قید رکھا گیا میری ہمشیرہ نے مجھے رہائی دلوائی جس کے بعد 30جون کو پھر میرے بیٹوں امتیاز، شعیب مختار نے اپنے ساتھیوں کا مران عرف کامی، فہدگجر، یونس اور ساجد کی مدد سے اسلحہ کے زور پر گھر سے مجھے اغواءکر لیا مانانوالہ لےجا کر کمرے میں بند کر کے مجھے ڈنڈوں سوٹوں اور چھتروں سے بےہمانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور مجھے رسیوں سے باندھ کر قید میں رکھا گیا اور میری داڑھی مونڈ ڈالی۔ اس نے بتایا کہ میرے بیٹے جائیداد ہڑپ کرنے کی خاطر مجھے پاگل قرار دے رہے ہیں اور مجھے پاگل خانہ میں داخل کروائے رکھا۔ میرے بیٹے کروڑوں کی پراپرٹی کے لالچی ہو گئے ہیں۔ میں نے میڈیکولیگل حاصل کر کے تھانہ گلبرگ پولیس کو مقدمہ کے اندراج کےلئے درخواست دی جس پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے دو بندے گرفتار کر لیے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں اس نے بتایا کہ میرے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں اور میر ے ساتھ ایسا واقعہ پانچ بار ہو چکا ہے۔ میرے خونیں رشتے میری جان و مال کے دشمن بن گئے ہیں میری جان کو خطرہ ہے اس امر پر بدبخت بیٹوں اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھوں اغواءکے بعد ظلم و ستم کا نشانہ بننے والے باپ نے وزیراعظم، وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب،آر پی او اور سی پی او فیصل آباد سے خبریں کی وساطت سے مطالبہ کیا ہے کہ نوٹس لےکر ملزمان کو گرفتار کر کے منطقی انجام تک پہنچا کر انصاف و تحفظ فراہم کیا جائے۔

”فوج اور ججوں کا احتساب“، وفاق اور صوبائی حکومت آمنے سامنے

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ )پارلیمانی کمیٹی برائے احتساب قانون میں قومی احتساب کمیشن کے دائرہ کار اتفاق نہ ہو سکا اپوزیشن جماعتوں نے عسکری اداروں اور عدلیہ کے بھی مجوزہ قومی احتساب کمیشن کے دائرہ کارمیں لانے کا مطالبہ کردیا جبکہ سندھ اسمبلی کی جانب سے نیب قانون کو حذف کرنے کے معاملے پر وفاق اور صوبہ آمنے سامنے آگئے وفاق کی جانب سے واضح کر دیا گیا ہے کہ آئین کے تحت گورنر سندھ دس دنوں میں صوبائی بل کو نظر ثانی کے لیے حکومت کو واپس بھجوا سکتے ہیں صوبائی بل کالعدم قراردلوانے کو انتباہ بھی کردیا گیا پارلیمانی کمیٹی نے مجموعی طور پر بشمول پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین سینیٹ نے سندھ میں نیب قانون منسوخ ہونے پر گہری تشویش کا اظہا رکیا ہے اور سندھ پر آئین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر دیا اس امر کا اظہار وزیر قانون و انصاف و کمیٹی کے چیئرمین زاہد حامد نے کمیٹی اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا قومی احتساب کمیشن کی زد میںآنیوالے عوامی و سرکاری عہدیداروں کا تعین ہو سکا ہے نا کمیشن کے دائرہ کار پر پیشرفت ہو سکی ہے اپوزیشن جماعتوں نے نئے احتساب قانون کا اطلاق عسکری اداروں اور عدلیہ پر بھی کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے جس پر کمیشن کے دائرہ اختیار پر کوئی اتفاق رائے نہ ہو سکا اس سے متعلق سیکشنز کی خواندگی التواءکا شکار ہو گئی مجوزہ قانون کی دیگر تمام 51سیکشنز کا جائزہ مکمل کر لیا گیا ہے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے زاہد حامد نے کہا کہ مجوزہ احتساب قانون کی پہلی خواندگی مکمل ہو گئی ہے قانون کے 53سیکشنز ہیں دو سیکشنز کا جائزہ رہ گیا ہے ان میں پبلک ہولڈرز کی تعین اور بدعنوانی و بدعنوان عمل کی تشریح کرنا رہ گئی ہے باقی تمام سیکشنز پر مکمل اتفاق رائے ہے کمیٹی نے مجموعی طور پر اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ سندھ میں نیب قانون کو حذف کرنے کا قانون آئینی طو رپر غلط ہوا ہے یہ کنکرنٹ لسٹ کا معاملہ ہے اور سندھ حکومت نے آئین کی شق 143کی خلاف ورزی کی ہے فیڈرل قانون کو کوئی صوبہ نہیں چھیڑ سکتا پارلیمینٹ کے اختیار میں مداخلت کی کوشش کی گئی ہے اس حوالے سے سندھ حکومت آئین کی شق 142-Bکو پڑھ لیں کنکرنٹ لسٹ کا ہی ادراک ہو جائے گا ۔

وزیراعظم نواز شریف کی تاجک صدر سے ملاقات, اہم خبر سامنے آگئی

دوشنبے(آئی این پی) وزیراعظم محمد نواز شریف اور تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے مشترکہ پریس کانفرنس کی صدر امام علی رحمان نے کہا محمد نواز کے دورے سے دوطرفہ تعلقات میں وسعت آئے گی پاکستان اور تاجکستان کے قریبی تعلقات ہیں وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ صدر امام علی کی دعوت پر تاجکستان کے دورے پر خوشی ہوئی پاکستان اور تاجکستان تاریخی اور ثقافتی رشتوں میں بندھے ہیں دورہ دونوں ملکوں کے تعلقات کی 25سالگرہ سے مطابقت رکھتا ہے دونوں ممالک کا بہت سے مسائل پر یکساں موقف ہے یقین رکھتے ہیں کہ علاقائی اور عالمی مسائل مذاکرات کے ذریعے حل ہونے چاہیے انہوں نے مزید کہا کہ ملاقات میں سڑک ،ریل اور فضائی رابطوں کی اہمیت پر بھی بات ہوئی ،دوطرفہ تجارت کا فروغ مربوط علاقائی روابط رکھنے کے لیے ضروری ہے مختلف منصوبوں کی جلد تکمیل دونوں ملکوں کے تعلقات میں اہم سنگے میل ثابت ہوگی گزشتہ ماہ دوشنبے میں پاکستان تاجکستان بزنس اورم بھی قائم کیا گیاتھا پاکستان دوشنبے میں سفارتخانے میں جلد الگ کمرشل سیکشن بھی کھولے گا ۔بدھ کو وزیراعظم محمد نواز شریف اور تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے ون ٹو ون ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے کہا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف کے دورے سے دوطرفہ تعلقات میں وسعت آئے گی۔ پاکستان اور تاجکستان کے قریبی تعلقات ہیں ۔اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ صدر امام علی رحمان کی دعوت پر تاجکستان کے دورے پر خوشی ہوئی ہے۔ گرم جوشی سے استقبال اور مہمان نوازی پر شکرگزار ہوں ۔ تاجکستان میں سیاسی استحکام ،سماجی ہم آہنگی اور اقتصادی ترقی متاثر کن ہے۔ صدر رحمان کی قیادت میں ترقی کا حصول قابل تعریف ہے۔ پاکستان اور تاجکستان تاریخی اور ثقافتی رشتوں میں بندھے ہیں۔ قریبی تعاون اور اعلیٰ سطح پر تبادلوں کے تسلسل سے تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلے ملکوں میں شامل ہے جس نے تاجکستان کی آزادی کو تسلیم کیا ۔دورہ دونوں ملکوں کے تعلقات 25ویں سالگرہ سے مطابقت رکھتا ہے۔ دوطرفہ تعلقات کی سالگرہ پر تاجکستان کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ 2014سے میرا تاجکستان کا یہ چوتھا دورہ ہے۔ نومبر 2015 سے پاکستان کے دو مرتبہ دورے پر صدر امام علی خان کا شکر گزار ہوں۔ اعلیٰ سطح دوروں کا تسلسل دونوں ملکوں کے تعلقات کی اہمیت کا عکاس ہیں۔ ہم تاجکستان سے دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کا بہت سے مسائل پر یکساں موقف ہے۔ یقین رکھتے ہیں کہ علاقائی اور عالمی مسائل مذاکرات کے ذریعے حل ہونے چاہیں۔وزیراعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ جمہوریت کو آگے بڑھنا اور ترقی کا عمل جاری رہنا چاہئے، اور ہر وزیراعظم کو پانچ سال پورے کرنے چاہئیں، نجی ٹی وی کے مطابق تاجکستان پہنچنے پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ ہر وزیراعظم کو 5سال پورے کرنے چاہئیں، جمہوریت کو آگے بڑھنا اور ترقی کا عمل جاری رہنا چاہئے، سیاسی اتار چڑھاو¿ سے سٹاک ایکسچینج میں ہزاروں پوائنٹس کا گراف آیا لہٰذا ایسی صورتحال نہیں ہونی چاہئے اور حالات ٹھیک رہنے چاہئیں۔

پھنسانے کی سازش ہوئی تو کس کا سہارا لینگے؟ مریم نواز نے بچ نکلنے کا راستہ بتادیا

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی ) وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی صاحبزادی مریم نوازشریف نے کہا ہے کہ نوازشریف کی بیٹی کو اس کی کمزوری سمجھنے والے نوازشریف کی بیٹی کو انشاءاللہ اس کی طاقت پائیں گے۔ آج مجھے احساس ہوا کہ ان کے پاس کچھ نہیں ہے، یہ جے آئی ٹی لگا کر الزام ڈھونڈ رہے ہیں، ہم نے پہلے ہی منی ٹریل دے دی ہے، اگر نوازشریف کے خلاف سازش کرو گے تو وہ پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ واپس آئے گا، جب نوازشریف کے خلاف سازش ہوتی ہے وہ پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ واپس آتا ہے، اب اگر اس کے خلاف سازش سے باز نہیں آئے تو وہ چوتھی اور اور پانچویں دفعہ بھی وزیراعظم بنے گا، روک سکتے ہو تو روک لو، پانامہ کیس میں جن لوگوں نے ہم پر آف شور کمپنیوں کا مقدمہ کیا ہے، ان کی اپنی آف شور کمپنیاں ہیں مگر کیونکہ پاناما لیکس میں نام نہیں اس لئے ان کی آف شور کمپنیاں حلال ہیں، باقیوں کی حرام ہیں، نوازشریف واحد لیڈر ہے جس پر قوم اعتماد کرتی ہے ، لوگوں کو پتہ ہے وہ خود جھکے گا اور نہ اپنے ووٹ کو جھکنے دے گا وہ آئین، قانون اور سویلین بالادستی کے لئے کھڑا ہے اور کھڑا رہے گا، ان کو اس نہج پر نہ لے جا¶ کہ جو راز اس کے سینے میں دفن ہیں اور جو سازشیں اس کے خلاف ہو رہی ہیں وہ عوام کو بتانے پر مجبور ہو جائے یہ پہلا نہیں ہمارا پانچواں احتساب ہے۔ ایک خاندان کا کتنا احتساب کرو گے۔ان خیالات کا اظہار مریم نواز شریف نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے ایک گھنٹہ 55 منٹ پر محیط پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کیا ان کا کہنا تھا کہ میں اپنی بہنوں، بھائیوں، بزرگوں اور ما¶ں اور اپنے ساتھیوں، (ن) لیگی کارکنوں اور میڈیا کا شکریہ ادا کرتی ہوں جو اتنی دیر سے میرے انتظار میں کھڑے ہیں اور پورے پاکستان سے مسلم لیگ کے کارکن، بھائی، بہنیں، مائیں اور بزرگ جو مجھ سے اظہار یکجہتی کے لئے آئے ہیں۔ میں ان کی تہہ دل سے شکرگزار ہوں جنہوں نے مجھے لاتعداد پیغامات بھیجے اور دعائیں موصول ہوئیں، حمایت کے پیغامات ملے میں سب کی شکرگزار ہوں۔ یہ جذبہ اور خلوص مجھے ہمیشہ یاد رہے گا۔ جے آئی ٹی میں دو گھنٹے کی پیشی کے بعد آرہی ہوں جو کچھ انہوں نے مجھ سے پوچھا میں نے اس کا جواب دیا اور اپنے والد اور چچا کے بعد اپنے بھائیوں کی پے در پے پیشیوں کے بعد آج باوجود اس کے کہ سپریم کورٹ کے حکم میں میرا نام نہیں تھا مجھ پر درخواست گزار نے جو بھی الزامات لگائے وزیراعظم کے زیرکفالت ہونے یا بینیفیشل مالک ہونے کا وہ کوئی بھی الزام ثابت نہیں کر سکے، میں آج پاکستان کی بیٹی ہونے کی حیثیت سے ایک موجودہ وزیراعظم کی بیٹی ہونے کی حیثیت سے اور اس انسان کی بیٹی ہونے کی حیثیت سے جس نے ہمیشہ آئین اور قانون کی پاسداری کی ہے۔ میں نے آج وہ قرض اتار دیا جو مجھ پر واجب بھی نہیں تھا۔ جب مجھ سے جے آئی ٹی والوں نے سب سوال کر لئے تو میں نے ان سے کہا کہ آپ نے مجھ سے بہت سے سوال کئے اور میں نے کوشش کی میں آپ کے سوالوں کے ایمانداری کیساتھ جواب دوں مگر ایک سوال میرا بھی ہے۔ کیا میں کر سکتی ہوں انہوں نے کہا کہ آپ پوچھیں۔ میں نے کہا کہ آپ مجھے مہربانی کر کے یہ بتائیں کہ ہم پر الزام کیا ہے اور ان کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا۔ یہ دنیا کی شاید پہلی جے آئی ٹی ہے دنیا میں پہلے الزام لگتا ہے جے آئی ٹی اس کے بعد بنتی ہے۔ یہ پہلی جے آئی ٹی ہے جو پہلے بن گئی ہے اور ڈھونڈ رہی ہے کہ ان پر الزام کیا لگائیں۔ یہی سوال میرے بھائیوں نے پوچھا تھا اس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے وزیراعظم نوازشریف کے لئے اس سے زیادہ فخر کی اور کیا بات ہو سکتی ہے کہ الزام لگانے والوں کو ان کے لئے جو الزامات ملے ان کے ذاتی کاروبار سے متعلق تھے۔ ان دہائیوں سے متعلق تھے جن میں وزیراعظم نوازشریف کا سیاست سے دور کا تعلق نہیں تھا یا زمانہ طالب علمی کے حوالے سے سوالات تھے یا میرے دادا مرحوم کے حوالے سے سوالات ہیں۔ وزیراعظم کے لئے یہ فخر کی بات ہے کہ وہ دو دفعہ وزیراعلیٰ رہے۔ تیسری دفعہ وہ وزیراعظم ہیں، الزام لگانے کے لئے ان تینوں ادوار کی ایک بات بھی نہیں ہے۔ پاکستان میں جتنے بھی بڑے بڑے منصوبے ہیں چاہے وہ موٹروے ہو، سی پیک ہو، بجلی کے منصوبے ہوں یا کچھ بھی ہو اس پر مسلم لیگ (ن) کی مہر ہے۔ نوازشریف کی مہر ہے، ان سب منصوبوں میں ایک پائی کی کرپشن تو دور کی بات وہ کبھی الزام بھی نہیں لگا سکے۔ اس سے زیادہ مسلم لیگ (ن) کے لئے ایک خاندان کے لئے وزیراعظم کے لئے ملک کے لئے اس سے زیادہ فخر کی بات اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ رہی بات خاندانی کاروبار کی تو یہ بات جان لینی چاہئے کہ 60 کی دہائی میں یا 70 کی دہائی میں یا 80 کی دہائی میں فیملی کے جو بھی کاروبار اور لین دین تھے اس سے متعلق سوال گھوم پھر رہے ہیں اور پبلک کا ایک پیسہ سرکاری پیسہ اس میں ملوث ہو تو اس کا جواب دینا تو بنتا ہے مگر آپس کے کاروبار کے معاملات ذاتی کاروبار اور ایک خاندان کے نجی کاروبار سے متعلق نہ سوال پوچھنا بنتا ہے اور نہ جواب دینا بنتا ہے۔ ایک پیسے کی کرپشن، ایک پیسے کی کک بیک، ایک پیسے کی کوئی اناملی، ایک پیسے کی کوئی کمیشن یا منی لانڈرنگ ہے تو سامنے لا¶ لیکن سامنے اس لئے نہیں آ سکی کہ اس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ ہمارے ذمہ عوام کا کوئی پیسہ واجب الادا نہیں ہے اور جن کے اوپر عوام کے پیسہ کی خوردبرد کے کیسز ہیں جن پر عوام کے پیسے کی لین دین کے کیسز ہیں انہوں نے عدالت سے حکم امتناعی لئے ہوئے ہیں اور جو 70، 80 سے کاروبار فیملی ہے وہ اپنے اثاثوں کو درست ثابت کر سکتی ہے۔ ہم اپنے اثاثوں کو ثابت کر رہے ہیں اور جواب بھی دے رہے ہیں لیکن کیا مجھے اس بات کا جواب ملے گا جن کا سوائے دوسرے لوگوں کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے رکھنے کے مانگ تانگ کے گزارے کے جن لوگوں کا کوئی کاروبار نہیں ہے جن کا کوئی ذریعے آمدن نہیں ہے ان سے سوال کیوں نہیں پوچھا جا رہا۔ اگر کوئی شخص یہ کہتا کہ میں ان کو رلا¶ں گا تو وہ یہ سن لے کہ جھکانے اور اور رلانے کی طاقت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی انسان کو یہ طاقت نہیں دی کسی انسان کی یہ طاقت نہیں کسی انسان کی وہ اوقات نہیں کہ وہ کسی کو جھکائے یا رلائے۔ ہم حکمران ہیں ہمارا حکمران خاندان سے تعلق ہے تو حکمران اور حکمرانی کا احتساب اللہ تعالیٰ کے دربار میں بہت کڑا ہوتا ہے۔ ہم جواب دہ ہیں۔ جواب دے چکے ہیں اور بار بار دے چکے ہیں۔ یہ پہلا نہیں ہمارا پانچواں احتساب ہے۔ پانچ مہینے سپریم کورٹ میں کیس چلا۔ اب 70 دن جے آئی ٹی کو ہو گئے۔ ہم تو جواب دے رہے ہیں۔ یہ ہماری مدد ہو گئی ہے جو حکمران ہونے کے حساب آخرت میں دینا تھا اس کے بوجھ کچھ ہلکا ہوا۔ مگر مجھے اس انسان کی دنیا اور آخرت سے خوف آتا ہے جس نے اپنے اوپر جھوٹ، بہانوں اور جھوٹے الزامات جو اس نے 20 کروڑ عوام کے سامنے لگائے ہیں اتنا بوجھ لادیں کہ اگلی دنیا میں تو کیا اس دنیا میں بھی حساب نہ دے سکے۔ پاناما لیکس پہلی لیکس نہیں جس میں مجھے ملوث کیا گیا۔ ایک ڈان لیکس بھی آئی تھی۔ اس میں بھی مجھے ملوث کیا گیا تھا۔ وجہ ایک ہی ہے باپ کو بیٹی کا نام استعمال کر کے دبا¶ میں لانا، سب جانتے ہیں اسلامی اور مشرقی روایات میں بیٹی والدین اور خصوصی اپنے والد کے دل کا نرم ترین اور حساس ترین حصہ ہوتی ہے۔ نرم ترین حصہ اگر والد کے دل میں ہو تو وہ فاطمة الزہرہ کی طرح ہوتی ہے اگر وہ علم اٹھا کر میدان میں آ جائے تو وہ بی بی زینب کی طرح ہوتی ہے۔ نوازشریف کی بیٹی کو اس کی کمزوری سمجھنے والے نوازشریف کی بیٹی کو انشاءاللہ اس کی طاقت پائیں گے اگر کسی کا یہ خیال ہے کہ بیٹیوں کو ملوث کر کے اس طرح نوازشریف کو کسی امتحان سے دوچار کرینگے تو وہ سن لیں کہ میں وزیراعظم نوازشریف کی بیٹی ہوں اس شخص کی بیٹی ہوں جس نے مجھے حق کے لئے کھڑا ہونا سکھایا اس شخص کی بیٹی ہوں جس نے مجھے یہ ترغیب دی کہ جھوٹ کے آگے ظلم کے آگے سر نہیں جھکانا مگر یہ وہ لوگ نہیں سمجھ نہیں سکتے جن کو بیٹیوں کی قدر نہیں ہے جن کو بیٹیوں کی تکریم کا پتہ نہیں جن کو خاندانی اقدار کا پتہ نہیں شاید وہ یہ باتیں کبھی سمجھ نہیں سکیں گے۔ میں ہر اس بیٹی سے مخاطب ہوں جو اپنے والد سے محبت کرتی ہے اور ہر اس والد سے مخاطب ہوں جو اپنی بیٹی سے محبت کرتا ہے کہ اگر آپ نوازشریف کی بیٹی کو اس لئے نشانہ بنائیں گے کہ وہ نوازشریف کی بیٹی ہے تو وہ اس کا جواب اس لئے دے گی کہ وہ اس لئے واپس لڑے گی کیونکہ وہ نوازشریف کی بیٹی ہے اگر کسی کا یہ زعم ہے کہ ہمیں تو حاضر ہونا تھا ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں تھا تو ہمارے پاس بھی بہت راستے تھے۔ ہم بھی تکنیکی وجوہات کا سہارا لے کر استثنیٰ کا سہارا لے کر جو نوازشریف کو بطور وزیراعظم حاصل تھی ہم بھی اقتدار کے ایوانوں میں چھپ سکتے تھے۔ ہم بھی کمر درد کا بہانہ بنا کر گاڑی کو ہسپتال کی طرف موڑ سکتے تھے۔ ہم بھی عدالت سے اشتہاری ہو کر نتھیا گلی کے سرکاری ریسٹ ہا¶س میں جا کر چھپ سکتے تھے۔ ہم بھی یہ کر سکتے تھے مگر ہم نے حساب دیا ہے اور دے رہے ہیں۔ ہم نے تین نسلوں کا حساب دیا اور بار بار دیا اور یہ یاد رکھو کہ آئین اور قانون کی حفاظت اور پاسداری کے بدلے میں نوازشریف نے جو وار اپنے دل پر لئے ہیں جس احتساب کی بھٹی میں سے وہ گزر کر آیا ہے جس طرح نے مردانہ وار شیر دل انسان کی طرح احتساب کا سامنا ہے اور بار بار کیا ہے۔ بے رحمانہ احتساب کا سامنا کیا ہے۔ وہ یہ احتساب اور زخم اپنے سینے پر سجا کر تمغوں کی طرح 2018ءمیں عوام کے پاس جائیں گے۔ اس دن سے خوف کھا¶ جب نوازشریف اپنی کہانی عوام کے پاس لے کر جائے گا۔ اس کو اس نہج پر مت لے کر جا¶ کہ جو راز اس کے سینے میں دفن ہیں جو سازشیں اس کے خلاف ہو رہی ہیں۔ وہ عوام کو بتانے پر مجبور ہو جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سازشیں بھی نوازشریف کے خلاف اس لئے ہوتی ہیں کہ سازش کرنے والوں کو پتہ ہے وہ محب وطن انسان ہے۔ وہ سازش جھیل جائے گا۔ برداشت کر جائے گا مگر وہ وطن کی خاطر زبان نہیں کھولے گا۔ وہ وطن کی خاطر چپ سادھ کر رہے گا مگر میں سیاسی مخالفین کو بتانا جاہتی ہوں کہ عوام نوازشریف کی طاقت ہیں۔ عوام کو اتنا اعتبار ہے سیاستدان اور لیڈر اور بھی ہیں مگر نوازشریف وہ واحد لیڈر ہے جس پر قوم اعتبار کرتی ہے جس کا لوگوں کو پتہ ہے نہ وہ خود جھکے گا اور اپنے ووٹ کو جھکنے دے گا اور وہ آئین، قانون اور سویلین بالادستی کے لئے کھڑا ہے۔ کھڑا رہے گا۔ اس کے علاوہ کسی بھی لیڈر میں اتنی ہمت نہیں کہ کسی بھی غیرقانونی اور غیرآئینی قدم کے سامنے دیوار بن کر کھڑا ہو جائے ان کا کہنا تھا۔

”بھٹو خاندان کی طرح مریم نواز، وزیراعظم کی سیاسی جانشین ہیں“ نامورتجزیہ کار ضیاشاہد کی چینل ۵ کے مقبول پروگرام میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ 5 جولائی کی اصل حیثیت برقرار ہے، اس دن جمہوریت پر شب خون مارا گیا۔ جنرل ضیا نے ذوالفقار بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹا۔ چشم دید گواہ ہوں کہ اس وقت پاکستان قومی اتحاد جس کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے والد مفتی محمود تھے، انہوں نے الیکشن میں دھاندلی کے خلاف تحریک چلائی۔ جس کے نتیجے میں سعودی عرب کی کوششوں سے دونوں طرف مذاکرات کئے گئے۔ اس وقت خبریں بھی شائع ہوئی تھیں کہ ”اتفاق رائے ہو گیا بھٹو نے کہا کہ جن سیٹوں پر دھاندلی کا الزام لگاتے ہو ان پر دوبارہ انتخابات کرانے کو تیار ہوں۔“ پھر آج تک صیغہ راز میں ہے کہ اچانک ذوالفقار علی بھٹو مذاکرات کو نامکمل چھوڑ کر 7 ملکوں کے دورے پر چلے گئے۔ بھٹو سے کچھ لوگوں نے جنرل ضیا کے بغاوت کر جانے کے خدشے کا اظہار بھی کیا تھا جس پر انہوں نے کہا کہ ”یہ بندر“ بھٹو کی واپسی پر ضیاءالحق نے حکومت پر قبضہ کر لیا کیونکہ معاہدے کی تفصیل و تکمیل نہیں ہوئی تھی، دوبارہ انتخابات کی تاریخ نہیں آئی تھی اسی دوران ضیاءالحق نے حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ جس کے بعد طویل مارشل لاءکا دور شروع ہوا۔ مریم نواز کو وزیراعظم کی بیٹی ہونے کی وجہ سے میڈیا نے 5 جولائی سے زیادہ اہمیت دی۔ مریم نواز کی پیشی بھٹو کی حکومت کو بزور قوت ختم کرنے اور مارشل لاءکے نفاذ سے بڑا واقعہ نہیں ہے۔ مریم نواز 3,2 بار اپنا بیان تبدیل کر چکی تھی جس کی وجہ سے جے آئی ٹی نے بلایا تھا۔ پہلے ان کا نام ”مریم صفدر“ ہوتا تھا پھر خبریں آئیں کہ لندن میں قیام کے دوران انہوں نے سفارتخانے سے رجوع کر کے اپنا نام تبدیل کر کے ”مریم نواز“ رکھ لیا ہے۔ اس زمانے میں یہ بھی مشہور تھا کہ ان کے اپنے شوہر کے ساتھ تعلقات زیادہ اچھے نہیں رہے۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف کی سیاست سے اتفاق یا اختلاف ہو سکتا ہے لیکن ان کی بیٹی کی عزت کرتا ہوں۔ سب بیٹیوں کا بہت عزت و احترام کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کی سیاسی پوزیشن ایسی ہے جیسی بے نظیر کی اپنے گھر میں تھی۔ ان کے بھی مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو دو بھائی تھے لیکن ذوالفقار بھٹو نے ہمیشہ اپنی بیٹی کو اپنا سیاسی وارث سمجھا۔ وزارت خارجہ میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے طور پر محترمہ کو تربیت دلوائی اور ہر غیر ملکی دورے پر اپنی بیٹی کو ساتھ لے کر جاتے تھے کبھی بھی کسی بیٹے کو ساتھ لے کر نہیں گئے۔ پھر مرتضیٰ بھٹو نے جو راستہ اختیار کیا دہشتگردانہ کارروائیوں کو فروغ دیا، خود جہاز اغوا کر کے کابل بھی پہنچایا اسی سلسلے میں کچھ عرصہ کابل میں بھی رہے ان کے دوست راجہ انور بھی سرکردہ رہنما تھا جنہوں نے مرتضیٰ سے اختلاف کے بعد ان کے بارے میں کتاب لکھی جس کا اُردو میں ترجمہ ”دہشتگرد شہزادہ“ کے نام سے ہوا۔ بھٹو کی طرح نوازشریف نے بھی اپنے صاحبزادوں کے بجائے صاحبزادی کو اپنا سیاسی وارث رکھا۔ حسین نواز کافی عرصہ یہاں رہے، جاتی امراءمیں میڈیکل یونیورسٹی و ہسپتال ان کی نگرانی میں بنا لیکن نوازشریف نے کبھی ان کو سیاسی وارث کے طور پر پروموٹ نہیں کیا۔ خود مریم نواز نے مجھے بتایا تھا کہ ”میں والد کے سب سے زیادہ قریب ہوں، وہ میرے ساتھ تمام معاملات زیر بحث لاتے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ نوازشریف اپنے بعد مریم نواز کو وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں۔ سیاسی وارث کے طور پر مریم نواز کے لئے نوازشریف آئیڈیل ہیں۔ وہ والد کے اقتدار کی روشنی میں خود کو وزیراعظم دیکھ رہی ہیں۔ خاندان و پارٹی میں اس کی مخالفت موجود ہے لیکن نوازشریف نے کبھی نہیں چھپایا کہ وہ مریم نواز کو آگے لانا چاہتے ہیں۔ جوڈیشل اکیڈمی کے باہر مریم کی میڈیا سے گفتگو کو اس انداز میں لینا چاہئے کہ وہ والد سے والہانہ پیار کرتی ہیں اور سیاسی جانشین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شریف خاندان اوار نون لیگی رہنماﺅں سے گزارش ہے کہ صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے عدالتی فیصلے کا انتظار کریں، جے آئی ٹی پر تنقید اور ان کے خلاف دھمکی آمیز رویہ مناسب نہیں۔ جے آئی ٹی میں عدالت کے نامزد سرکاری اہلکار ہیں جن کو مخصوص سوالات کے جوابات حاصل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ شریف فیملی جے آئی ٹی کے پیچھے ڈنڈا لے کر یوں پڑی ہے جیسے سارا ظلم یہ ہے۔ نوازشریف اتنی معصومیت سے کہتے ہیں کہ میں نے جے آئی ٹی سے پوچھا کہ ”پوچھنا کیا چاہتے ہو“ ایسے بیانات نہیں دینا چاہئیں ساری دنیا جانتی ہے کہ وہ کیا پوچھنا چاہتے ہیں۔ نوازشریف ان کے صاحبزادوں اور صاحبزادی نے جو طرز عمل اختیار کر رکھا ہے وہ مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی معاملہ بگڑ جاتا تھا تو پیپلزپارٹی دور میں رحمان ملک اور نون لیگ کے دور میں اسحاق ڈار کو معاملہ سلجھانے والا سمجھا جاتا ہے۔ اسحاق ڈار پڑھے لکھے، شائستہ و ٹھنڈے دل و دماغ کے آدمی ہیں لیکن چند روز قبل جب ان کو جے آئی ٹی پر گرجتے و برستے دیکھا تو اپنے کانوںپر یقین نہیں آیا۔ ڈار صاحب اس میں کیا قیامت آ گئی وہ آپ سے سوال پوچھیں گے آپ جواب دے دیں اور پھر عدالتی فیصلے کا انتظار کریں۔ اسی ملک میں میں نے شاہی قلعہ میں 3 دن مار کھائی اور 14 دن گزارے وہاں ایک منٹ گزارنا بڑا مشکل تھا لیکن میں نے کبھی بھٹو پر تنقید نہیں کی، اس کو بنیاد بنا کر کسی کو گالی نہیں دی، کسی کے خلاف قلم نہیں اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر کی بھی خواہش تھی اب زرداری نے بھی کہنا شروع کر دیا ہے کہ آصفہ سیاست کو آگے بڑھائے گی۔ بلاول سے زیادہ پرامید نہیں یا پھر آپس میں خیالات نہیں ملتے۔ بلاول تھوڑا جذباتی جبکہ زرداری مفاہمت، جوڑ توڑ کی سیاست اور مطلب و فائدے کے لئے مخالف سے بھی مذاکرات کی پالیسی پر عملدرآمد کرتے ہیں اور کرتے آئے ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری نے کہا ہے کہ مریم نواز سرکاری افسر نہیں، پیشی پر آنے کے لئے اتنا پروٹوکول اور ایس پی کا سلیوٹ مارنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ وہ بحیثیت ملزم پیشی کے لئے آتی تھیں۔ پورا اسلام آباد لاک ڈاﺅن کر دیا گیا۔ شریف خاندان کو پہلی بار منی لانڈرنگ کیس کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان بنی گالہ میں ہیں جس کو گرفتار کرنا ہے کر لے۔ الیکشن کمیشن میں اپنا جواب جمع کرا دیا ہے اب فیصلہ انہوں نے کرنا ہے۔ ایک ہی کیس عدالت عظمیٰ اور الیکشن کمیشن دونوں جگہ پر چل رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے بنچ تشکیل دیدیا ہے 11 تاریخ کو سماعت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کبھی اقتدار میں رہے نہ ہی کبھی قومی خزانہ ان کی دسترس میں رہا۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ وہ کرکٹ کھیلتے تھے، انہوہں نے لندن میں کرکٹ کھیلی وہاں سے پیسے ملے تو اپارٹمنٹ خرید لیا پھر اس کو فروخت کر کے پیسہ پاکستان لے آئے۔ ان کی تعریف کرنے کے بجائے الٹا ان پر کیس ڈال دیا۔ انہوں نے کہا کہ نون لیگ کنفیوژ ہے، ان کو جے آئی ٹی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنانے کا نقصان پہنچنا شروع ہو چکا ہے۔ مریم نواز کی پیشی پر سینئر رہنما چودھری نثار، پرویز رشید، ظفر الحق، رانا تنویر وغیرہ میں سے کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ طلال چودھری، دانیال عزیز کا سٹیٹس الگ ہے وہ لیڈر شپ کی نمائندگی نہیں کر سکتے۔ پیپلزپارٹی کے رہنما نوید چودھری نے کہا ہے کہ بے نظیر کے ساتھ مریم نواز کا موازنہ کرنا ہی غلط ہے۔ محترمہ وزیراعظم رہیں اور اس کے بعد بھی بچوں کے ساتھ جے آئی ٹیز اور عدالتوں میں پیش ہوتی رہیں۔ مریم نواز کی پیشی نون لیگ کی انتخابی مہم دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی سے جو باہر آتا ہے پوچھے گئے سوالات کے بجائے الٹا اپنا سوال بتاتا ہے کہ میں نے یہ کہا۔ یہ جے آئی ٹی سے سوال کر ہی نہیں سکتے۔ پانامہ لیکس کے ذریعے الزام تو پہلے ہی لگ چکا ہے۔ مریم نواز کے بیانات میں تضادات کا سوال ہے۔ نون لیگ نے فیصلے سے پہلے ہی شور مچا رکھا ہے۔ ان کے ساتھ اتنا ظلم ہو رہا ہے کہ مریم نواز 13 گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ پیشی کے لئے آتی ہیں۔ خاتون ایس پی مریم نواز کو پینسل اٹھا کر دیتی ہے۔ حکمران شہنشاہ بنے بیٹھے ہیں۔

فلم میوزک انڈسٹری 25 سال مکمل ہونے پر آئیفا ایوارڈز میں جشن پر خوشی ہے

ممبئی(شوبز ڈیسک) بالی وڈ موسیقار کمپوزر اے آر رحمان نے کہا ہے کہ انہیں بہت خوشی ہے کہ آئیفا ایوارڈز میں ان کے فلم میوزک انڈسٹری میں 25 سال مکمل ہونے کا جشن منایا جا رہا ہے ۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق میوزک کمپوزر اے آر رحمان نے کہا ہے کہ انہیں بہت خوشی ہے کہ آئیفا ایوارڈز میں ان کے فلم میوزک انڈسٹری میں 25 سال مکمل ہونے کا جشن منایا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ انہیں بہت اچھا لگ رہا ہے کہ میں لندن میں پرفارم کر رہا ہوں اور پھر آئیفا جا رہا ہوں اور ہم اس پر گذشتہ 4 سالوں سے کام کر رہے ہیں۔ ،وہ بہت سے آئیفا ایوارڈز میں نہیں گئے کیونکہ وہ اپنے دیگر پراجیکٹس میں مصروف تھے۔انہوں نے کہا کہ آئیفا ایوارڈز کے ساتھ بہت سی خوبصورت یادیں وابستہ ہیں، جب فلم اور میوزک انڈسٹری کے لوگ ایک جگہ اکھٹے ہوتے ہیں تو انہیں بہت خوشی ہوتی ہے۔