اسلام آباد (ویب ڈیسک) اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ آرٹیکل 62، 63 ختم نہیں ہوسکتا، ان قوانین میں تبدیلی کا مقصد کی کو بچانا ہے، اس طریقے سے آئین میں ترمیم نہیں ہونےدیں گے۔ قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ن لیگ نے 18ویں ترمیم کے موقع پر آصف زرداری کو پھنسانے کے لیے ضیا الحق کی ترامیم کو ختم کرنے کی مخالفت کی تھی لیکن اللہ کی قدرت ہے کہ وہ خود اس میں پھنس گئے، اللہ کہتا ہے میں سب کو بخش دونگا لیکن منافق کو نہیں بخشوں گا، میں نواز شریف کو منافق نہیں کہتا لیکن ان کی نیتوں میں فرق ہے۔ خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 62 اور 63 ختم نہیں ہو سکتا، ان قوانین میں تبدیلی کا مقصد کسی کو بچانا ہے، حکومت نواز شریف کو بچانے کے لیے ترمیم کرنا چاہتی ہے، پیپلزپارٹی کسی شخصیت کو بچانے کے لیے ایسا ہر گز نہیں کرے گی۔ امریکہ کی جانب سے دیئے گئے بیان پر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ہماری وزارت خارجہ اس معاملے کو ہینڈل کرنے میں نا کام ہو گیا ہے، وزارت خارجہ کی ً اب کے مار کے دیکھا ً والی پالیسی ہے جسکی ہم مذمت کرتے ہیں، انکا کہنا تھا کہ امریکی صدر کو منہ توڑ جواب دینے پر میں بطور اپوزیشن لیڈر چین کا شکر گزار ہوں،چین کے اس اقدام سے پاک چین دوستی مذید مستحکم ہو گی، آج پوری پاکستانی قوم میں چین کی محبت میں اضافہ ہوا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ پرویز رشید کے مطالبے کی تائید کرتا ہوں کہ ڈان لیکس کی رپورٹ بپلک کرنی چاہیئے ہے۔






































