تازہ تر ین

سانحہ ماڈل ٹاﺅن : کس قانون کے تحت انکوائری رپورٹ کی معلومات نہیں دی جا رہیں

لاہور(خصوصی نامہ نگار) لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی انکوائری ٹربیونل رپورٹ کی معلومات کے لئے دائر درخواست پر پنجاب حکومت سے بارہ ستمبر کو جواب طلب کر لیا۔ جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے متاثرین سانحہ ماڈل ٹاﺅن قیصر اقبال، امجد اقبال اور محمد ادریس سمیت گیارہ افراد کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی درخواست گزاروں کی جانب سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ، ہوم سیکرٹری اور چیف کمشنر انفارمیشن سمیت دیگر کو فریق بناتے ہوئے مو¿قف اختیار کیا گیا کہ ماڈل ٹان انکوائری رپورٹ منظر عام پر آنے سے ذمہ داروں کا تعین ہو گا، انکوائری رپورٹ منظرعام پر لاکر مقتولین کے ورثا کو جلد انصاف کی فراہمی کا عمل ممکن بنایا جا سکتا ہے درخواست میں کہا گیا کہ معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت کسی شہری کو بھی معلومات کی فراہمی سے نہیں روکا جا سکتا، انفارمیشن کمشنر کی عدم تعیناتی کی بنا پر سانحہ ماڈل ٹان کی رپورٹ فراہم نہیں کی جا رہی، انصاف کی فراہمی میں تاخیر آئین کے خلاف ہے، ماڈل ٹان عدالتی انکوائری رپورٹ منظر عام پر لانے کی متعدد درخواستیں ہائیکورٹ میں پہلے سے ہی زیر سماعت ہیں۔ فل بنچ نے کئی ماہ سے ان درخواستوں پر سماعت نہیں کی اظہر صدیق ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ یہ درخواست ورثا کی طرف سے دائر کی گئی ہے اور اس کا پہلی درخواستوں سے کوئی تعلق نہیں درخواست گزاروں کے وکیل نے استدعا کی کہ عدالت سانحہ ماڈل ٹان کے عدالتی ٹربیونل کی رپورٹ درخواست گزاروں کو فراہم کرنے کا حکم دے عدالت نے پنجاب حکومت سے 12 ستمبر کو جواب طلب کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ عوامی دستاویزات کی معلومات شہریوں کا حق ہے، کس قانون کے تحت سانحہ ماڈل ٹان کی انکوائری رپورٹ کی معلومات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں؟۔


اہم خبریں





   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain