لاہور (خصوصی رپورٹ) دینی جماعتوں نے انتخابی اصلاحاتی بل کی ختم نبوت شق میں ترمیم کے حوالے سے بھرپور تحریک چلانے کا فیصلہ کر لیا۔ تمام دینی جماعتوں سے رابطوں کا آغاز کر دیا گیا۔ حکومت پر دباﺅ بڑھانے کیلئے صدر مملکت ممنون حسین‘ وزیر قانون زاہد حامد اور چیئرمین قائمہ کمیٹی کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جائے گا۔ ختم نبوت شق میں ترمیم کرنے والے ذمہ داران کے خلاف حتمی کارروائی تک تحریک جاری رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں سے بھی رابطے کئے جائیں گے۔ عوامی حلقوں میں تین بڑی مذہبی جماعتوں کے سربراہوں کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمن‘ سراج الحق اور پروفیسر ساجد میر کے معزز ایوان زیریں اور ایوان بالا کے ممبر ہوتے ہوئے بھی وہ حکومت سے ختم نبوت کے حوالے سے بھرپور مقدمہ نہ لڑ سکے اور حکومت کو شق میں ترمیم سے نہ روک سکے جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔ دریں اثناءختم نبوت قانون کے حوالے سے کئی اہم انکشافات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ختم نبوت کے قانون میں ترمیم کے حوالے سے وزیر قانون کے ساتھ اہم ترین خاتون وزیر بھی نہ صرف آگاہ تھی بلکہ اس نے تین غیرملکی سفیروں کو بھی بتایا تھا کہ ہم اس قانون میں ترمیم کر رہے ہیں۔ ترمیم کے حوالے سے جان بوجھ کر چند ایسے حکومتی ذمہ داران جن کے حوالے سے یہ جانتے تھے کہ یہ کمپرومائز نہیں کریں گے ان کو معاملے سے لاتعلق رکھا گیا۔ اسی وجہ سے اب ان اہم ترین وزراءنے اس معاملے میں واضح طور پر آنے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ بھی اہم انکشاف سامنے آیا ہے کہ دو غیرملکی معروف ترین این جی اوز کے پاس بھی یہ مسودہ میڈیا اور اراکین اسمبلی کے پاس جانے سے پہلے موجود تھا۔ اس کو ٹائپنگ کی غلطی کہنا نہ صرف جھوٹ ہے بلکہ کچھ لوگوں کو بچانے کی کوشش ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اہم ترین ثبوت حاصل کر لئے ہیں جس میں یہ سب کچھ موجود ہے کہ اس ترمیم کو کرتے وقت کون کون رابطے میں تھا اور کس کس کی مشاورت شامل تھی اور کس کس کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔ اسی لئے ذمہ داران کا تعین کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور چند دنوں میں تعین نہ ہونے پر باقاعدہ اہم ثبوتوں کے ساتھ اس کو سامنے لایا جائے گا۔ علاوہ ازیں جے یو آئی (ف)، حقوق اہلنست محاذ، سنی تحریک ، تحریک لبیک یا رسول اللہ ، تحریک حرمت رسول، جماعت الدعوة سمیت دیگر مذہبی وسیاسی جماعتوں نے قومی اسمبلی میں حلف نامہ اور 7بی سی کی بحالی پر ریلیوں اور مظاہروں کا اہتمام کیا گیا جبکہ مساجد میں جمعہ کے اجتماعات میں قرار دادیں منظور کی گئیں جن میں حلف نامہ کی بحالی کے اقدام کو مستحسن قرار دیا اور مطالبہ کیا گیا کہ وزیراعظم شاہدخاقان عباسی اس سازش کی تحقیقات کرائیں اور تمام کرداروں کو بے نقاب کرکے انہیں قرار واقعی سزادیں۔ جامع مسجد رحمانیہ میں خطاب کرتے ہوئے مولانا امجدخان نے کہا کہ حلف نامہ کے الفاظ حذف کرنے کے پیچھے بڑی سازش ہے جسے بے نقاب کرنا موجودہ اور سابق وزیراعظم کی ذمہ داری ہے، عقیدہ ختم نبوت اور قانون ناموس رسالت کے تحفظ کیلئے ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے پوری قوم تیار ہے، عقیدہ ختم نبوت کیلئے کام کرنیوالے ہی شاعت رسول کے حقدار بنیں گے۔ حقوق اہلسنت محاذ کے زیراہتمام مسلم مسجد لاہور کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر نعرے درج تھے ہم عظمت رسول کے پاسبان ہیں پاسبان ، وزیرقانون زاہدحامد کو برطرف کرکے گرفتار کیا جائے۔ علاوہ ازیں جمعیت علماءپاکستان (نورانی ) کے مرکزی میڈیا کوآرڈنیٹر ڈاکٹر محمد یونس دانش نے کہا کہ ہے ختم نبوت کے حلف نامہ کوپھر سے دستور کا حصہ بنانے جانے کے ضمن میں آج قوم نے جمعیت علماءپاکستان کی اپیل پر یوم ختم نبوت منا یا ملک بھر کی مساجد میں علماءکرام نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور اس قانون کےخلاف ہر دور میں ہونے والی استعماری قوتوں کی سازشوں کو بے نقاب کرتے ہوئے قوم کو جاگتے رہنے اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کےلئے ہمہ وقت تیار رہنے پر زور دیاملک بھر کی مساجد میں جمعیت علماءپاکستان (نورانی) کی اپیل پر علماءکرام نے ختم نبوت کے قانون میں حلف کی ترمیم کےخلاف ایک قرار دادمنظور کی جس میں کہا گیا کہ حکومت نے مذکورہ قانون میں تبدیلی کر کے ملک کی نظریاتی سرحدوں پر حملہ کیا جسے قوم نے اپنے بروقت احتجاج سے ناکام بنایا اور حکومت کو پسپائی پر مجبور کردیا جو اہل ایمان کی فتح اور مغربی استعماری قوتوں کےلئے واضح پیغام ہے کہ پاکستان کے غیور عوام سب کچھ برداشت کرسکتے ہیں لیکن عقیدہ ختم نبوت پرکوئی کمپرومائز نہیں کیا جاسکتاعقیدہ ختم نبوت ایمان کا بنیادی جزہے اہل ایمان اس کے تحفظ کےلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے لہٰذا حکومت اس ضمن میں ہونے والی سازش کو بے نقاب کرے اور وفاقی وزیر زاہد حامدسمیت اس سازش کے پردے میں چھپے ہوئے ذمہ داروں کوبے نقاب کرکے فوری طور پر برطرف کیا جائے ۔جے یو پی (نورانی) و ملی یکجہتی کونسل کے صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے نماز جمعہ کے بہت بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حلف نامہ کی تبدیلی ڈان لیکس سے بھی زیادہ اہم معاملہ ہے کیونکہ اس سازش کے ذریعہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کو ڈھانے اور ملک کی اسلامی حیثیت کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس پرقوم نے بروقت ایکشن لے کر ایمان پر حملہ کی سازش کو ناکام بنادیا اور حکومت کوختم نبوت کے حلف نامہ میں کی جانے والی ترمیم کو واپس لینے پر مجبور کردیا یہ اہل حق کی فتح ہے اور قوم کی بیداری نے ثابت کردیا ہے کہ اس ملک میں کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیںبن سکتا قوم حکومت کے سیکولر اور لبرل ایجنڈے کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دے گئی انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی صفوں میں ملک دشمن قوتوں کے ایجنٹ موجود ہیں جو پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کو منہدم کرنے کی ساز شیں کررہے ہیں پاک فوج نے جس جرا¿ت کے ساتھ ملک دشمن قوتوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کے ذریعے بے مثال قربانیاں دے کر ملک میں قیام امن کو ممکن بنایا ہے اس پر قوم فوج کے کردار کو سرہاتی ہے ۔ الیکشن بل میں حلف کی جگہ قرار کرنے کا لفظ شامل کرنا اسی سازش کا حصہ ہے۔ جمعیت علماءاسلام (ف)نے بھی ملک بھر یوم تشکر منایا ۔ جامع مسجد رحمانیہ میں خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد امجد خان نے کہا کہ حلف نامہ حذف کرنے کے پیچھے ایک بڑی سازش ہے۔ مجلس وحدت مسلمین، جمعیت علمائے پاکستان نیازی اور اتحاد امت مصطفی کے زیراہتمام لاہور پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ جماعت اہل سنت کے زیر اہتمام ملک گیر ” یوم ختم نبوت“ منایاگیا۔




































