تازہ تر ین

آئی بی کی رپورٹ نے لیا سیاستدانوں میں کھلبلی مچاکررکھ دی،نجف سیال بارے افسوسناک ،تشویشناک خبر

لاہور، اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) انٹیلی جنس بیورو کی رپورٹ نے سیاستدانوں میں کھلبلی مچا کر رکھ دی،37 افراد کا کالعدم تنظیموں سے رابطے کے انکشاف پر کئی ممالک نے انہیں ویزہ دینے سے انکار کر دیا، (ن) لیگ دیگر مسائل کی طرح ایک اور گھمبیر مسئلے میں الجھ کر رہ گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے رکن شیخ فیاض الدین نے جمعہ کے روز وقفہ سوالات کے دوران بتا یا کہ گزشتہ روز ایم این اے نجف سیال کو برین ہیمریج ہو گیا۔ انہیں پمز اسپتال لے جا یا گیا تو وہاں وینٹی لیٹر دستیاب نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ نجف سیال کا نام بھی آئی بی کی اس فہرست میں ہے جن پر دہشت گردوں سے رابطوں کا الزام ہے۔ ان پر برین ہیمریج کے حملہ کی یہی وجہ بنی ہے۔ وزیرمملکت ڈ اکٹر درشن نے کہا کہ پمز وزارت کیڈ کے ماتحت ہے میں وزیر مملکت برائے کیڈ کے نوٹس میں یہ بات لا تا ہوں۔ انٹیلی جنس بیورو سے منسوب مبینہ خط کی بنیاد پر تین ارکان پارلیمنٹ نے دعوی کیا ہے کہ مختلف ملکوں کے سفارت خانوں نے انہیں ویزے دینے سے انکار کردیا ، مبینہ خط میں 37 ارکان پارلیمنٹ پر کالعدم تنظیموں سے تعلقات کا الزام عائد کیا گیا تھا جس پر ارکان پارلیمنٹ کے وفد نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی اور الیکشن کمیشن، وزار ت خارجہ اور وزارت داخلہ کو خط لکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا حکومت تینوں اداروں کو تحریری طور پر واضح کرے کہ خط جعلی ہے ، ارکان پارلیمنٹ نے وزیراعظم سے ملاقات میں مبینہ خط کے مندرجات پر احتجاج ریکارڈ کرایا اور موقف اختیار کیا کہ ان کے سیاسی مخالفین مبینہ خط کی بنیاد پر ان کے خلاف سازش کرسکتے ہیں،وزیراعظم نے ارکان پارلیمنٹ کو یقین دہانی کرائی کہ آئی بی کے مبینہ خط سے پیدا ہونے والے تحفظات دور کئے جائیں گے ۔ملاقات کے دوران سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، وزیر قانون زاہد حامد اور انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ بھی موجود تھے ۔ ذرائع کے مطابق ارکا ن پارلیمنٹ نے کہا مبینہ خط کا معاملہ انتہائی حساس اور ان کے خلاف سازش ہے ، سیاسی مخالفین خط کی بنیاد پر انہیں نشانہ بناسکتے ہیں حتی کہ انہیں آرٹیکل 62، 63کے تحت نااہل قرار دلا کر جیل بھیجا جاسکتا ہے ، حکومت فوری نہ صرف ا س کی وضاحت کرے بلکہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داروں کا پتہ چلایا جائے کہ سازش کرنے والے کون ہیں؟ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بھی ارکان اسمبلی کے موقف کی تائید کی۔دریں اثنائآئی بی کی دہشت گردوں سے روابط کے الزام سے متعلق مبینہ لسٹ کے حوالے سے ناراض وزراءاور ارکان اسمبلی کو وزیراعظم‘ سپیکر قومی اسمبلی اور ڈی جی آئی بھی مطمئن نہ کر سکے۔ ریاض پیرزادہ کے بعد شیخ فیاض الدین نے بھی اپنی ہی حکومت کے خلاف قومی اسمبلی میں دھواں دھار تقریر کر کے ن لیگ کے اندر گروپنگ کو واضح کر دیا۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق دو روز قبل جب ریاض پیرزادہ نے اپنی ہی حکومت کے خلاف تقریر کی اور بائیکاٹ کیا تھا تو سپیکر قومی اسمبلی نے اس مبینہ لسٹ میں شامل پارلیمنٹرینز اور وزراءکو اپنے چیمبر میں بلوایا تھا وہاں ڈی جی آئی بی بھی موجود تھے‘ تاہم ارکان اسمبلی اور وزراءنے سپیکر اور ڈی جی آئی بی کی بات ماننے سے واضح طور پر نہ صرف انکار کردیا تھا بلکہ وہاں شدید کشیدہ ماحول بھی پیدا ہو گیا تھا۔ گزشتہ روز جب ن لیگ کے ایک اور رکن اسمبلی شیخ فیاض الدین نے اس معاملہ پر احتجاج کیا اور دھواں دھار تقریر کی تو وزیراعظم نے مذکورہ سب ارکان کو اپنے چیمبر میں بلوایا تو وہاں موجود ڈی جی آئی بی بار بار اپنی وضاحت پیش کرتے رہے۔ اس دوران ارکان اسمبلی نے بار بار ایک ہی سوال کیا کہ جب یہ لسٹ انگلش اخبارات میں شائع ہوئی تو اس وقت حکومت کی جانب سے کوئی وضاحت اور ایکشن کیوں نہیں ہوا۔

 


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain