لاہور (خصوصی رپورٹ) محکمہ خوراک پنجاب کی طرف سے گندم کی خریداری میں کروڑوں روپے کا فراڈ منظر عام پر آگیا، سرکاری گودام سے 94کروڑ 90 لاکھ روپے کی گندم غائب ہونے کابھی انکشاف ہوا۔ جبکہ 1لاکھ 19ہزار باردانہ خالی تھا لیکن ریکارڈ میں گندم ظاہر کی گئی، اس کے علاوہ 28 ہزار 126 باردانہ گودام میں موجود ہی نہیں۔ لیکن ریکارڈ میں موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق 2013ءسے 2015 ءتک گندم خریداری کا بوگس ریکارڈ مرتب کیا گیا، محکمہ فوڈ معاملے کی تحقیقات کے بجائے ریکارڈ درست کرنے کی کوششوں میں لگ گیا، آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے خصوصی آڈٹ رپورٹ پنجاب حکومت کو ارسال کر دی، جس میں ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کی سفارش کی گئی۔ معلوم ہوا کہ صوبائی وزیر ملک ندیم کامران نے ان برسوں کے دوران ٹیلی فون کر کے اپنے حلقے کے افراد کو نوازا جبکہ گندم خریداری سکینڈل کے حوالے سے متعدد بار وزیراعلیٰ شہبازشریف کو بھی آگاہ کیا گیا لیکن متعلقہ افسروں اور حکومتی عہدیداروں کیخلاف کارروائی کرنے کے بجائے معاملات کو دبایا جاتارہا۔بتایاگیاکہ گندم خریداری کیلئے پنجاب حکومت ہر سال 130ارب روپے رکھتی ہے لیکن اس معاملے میں کوئی شفافیت نہیں ہوتی،گھپلوں کے حوالے سے سپیشل برانچ، انٹیلی جنس بیوروسمیت دیگر اداروں اورافسروں نے متعدد اجلاسوں میں وزیراعلی کو رپورٹس بھی دیں تاہم سیاسی دباﺅکے باعث خاموشی ہی اختیار کی گئی۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق گندم غائب ہونے پرصوبائی محکمہ فوڈ اور دیگر متعلقہ افسروں سے بھی پوچھاگیا لیکن انہوں نے کوئی بھی جواب نہیں دیا۔ ادھرمحکمہ خوراک کے حکام نے تصدیق کی کہ انہیں آڈٹ رپورٹ ملی گئی ہے اورآئندہ اجلاس میں اسکاجائزہ لیاجائیگا، تاہم اس حوالے سے مزیدبات چیت سے گریزکیا۔




































