ساہےوال (احسن امےن سے) ساہےوال مےں گھرےلو ملازمہ پر مبےنہ زےادتی کے بعد قتل کے لواحقےن کی مدد کے لئے خبرےں ٹےم متا ثرہ خاندان کے گھر پہنچ گئی متاثرہ خاندان نے خبرےں ٹےم کی داد رسی کے لئے آنے پر ضےاءشاہد چےف اےڈےٹر روزنامہ خبرےں کو ڈھےروں دعائےں۔ خبرےں ٹےم کو متاثرہ خاندان کے لوگوں نے بتاےا کہ ہم نے پولےس کی طرف سے بے ےارو مددگار ہونے کے بعد روزنامہ خبرےں کی ہےلپ لائن پر رابطہ کےا تو خبرےں ٹےم ہمارے گھر پہنچ گئی جس پر ہم خبرےں اخبار کے شکر گزار ہےں۔ منظور احمد کی بےوی رضےہ بی بی، محمد طاہر، محمد اقبال اور محمد شعبان اور رمضان چک نمبر 89/6.Rساہےوال نے بتاےا کہ اےک طرف تو ہماری نابالغ بےٹی کو مبےنہ زےادتی کے بعد قتل کر دےا الٹا با اثر ملزمان نے ہمارے خلاف 195کی کاروائی کے لئے در خواست دے دی پولےس فرےد ٹاﺅن ہمےں تحفظ اور انصاف فراہم کر نے کی بجائے با اثر ملزمان سے ساز باز ہو گئی ہے ہمےں صرف انصاف فراہم کےا جائے پولےس نے تا حال ہمارا مقدمہ درج نہےں کےا ملزمان کھلے عام پھر رہے ہےں۔ قتل ہونے والی ثناءبی بی کے چچا محمد شعبان اور والدہ رضےہ بی بی نے بتاےا کہ ہم تھانے پرچہ درج کروانے گئے تو ہماری کسی نے کوئی داد رسی نہ کی الٹا ہمےں ےہ کہ کر تھانے سے چلتا کےا کہ بچی کا والد منظور ہمےں لکھ کر دے گےا ہے کہ مےں کوئی کاروائی نہےں کر وانا چاہتا انہوں نے کہا کہ پھر ہم نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاےا علاقہ مجسٹرےٹ کو تحرےری درخواست دی اور عدالت نے ثناءبی بی کا پوسٹ مارٹم کا حکم دےا جس دن پوسٹ مارٹم ہونا تھا اس دن سےنئر عدالت مےں ثناءکے والد منظور احمد نے درخواست دے کر پوسٹ مارٹم رکوالےا اور اس کی 9تارےخ ڈال دی۔ انہوں نے کہا کہ ہم غرےب، بے سہارا اور لاچار خاندان ہےں ہماری بچی کے ساتھ بڑا ظلم اور زےادتی ہوئی ثناءبی بی کی والدہ رضےہ بی بی نے بتاےا کہ مےرے خاوند نے پہلے مےری 15سالہ مسرت بی بی کو اپنے کسی رشتہ دار کو چالےس ہزار روپے مےں فروخت کر دے اور بعد مےں انہوں نے مسرت کی شادی حسن سے کر دی اب مےرے سابقہ خاوند منظور احمد نے مجھے محمد رفےق کو اےک لاکھ دس ہزار روپے مےں فروخت کر دےا اور نہ ہی مجھے طلاق دےتا تھا مےں نے عدالت کے تھرو طلاق لے کر رفےق سے شادی کر لی جس سے مےری دو بےٹےاں ہےں انہوں نے بتاےا کہ مےرا خاوند انتہائی لالچی انسان ہے اس مےں انسانےت نام کی کوئی چےز نہےں اس نے مزےد بتاےا کہ مےری سابقہ ساس جو آنکھون سے نابےنا تھی قتل ہونے والی ثناءبی بی کو مےں نے کام کاج کے لئے اس کے سپرد کےا ہوا تھا جب وہ فوت ہو گئی تو مےرے سابقہ خاوند نے اپنی اس بچی کو جعفر نامی شخص کے گھر ملازمت کے لئے رکھوا دےا وہ اس کو اےک ہزار روپے ماہانہ خرچہ دےتے تھے انہوں نے کہا کہ مےری بچی کے ساتھ انتائی ظلم اور ستم کےا گےا ہے اگر جعفر نے مےری بےٹی کو قتل نہےں کےا اور اس کے ساتھ مبےنہ زےادتی نہےں ہوئی تو قبر کشائی کےوں نہےں کروانے دےتے انہوں نے کہا کہ اگر ہمےں انصاف فراہم نہ کےا گےا تو ہم وزےر اعلیٰ ہاﺅس کے سامنے بچوں سمےت خود سوزی کر لےں گے جس کی تمام تر ذمہ داری ساہےوال پولےس انتظامےہ پر ہوگی جبکہ لڑکی کے حقےقی والد منظور احمد نے تحرےری طور پر علاقہ مجسٹرےٹ کو درخواست تحرےر کی کہ مےں اپنی دختر مسماة ثناءبی بی کا کوئی پوسٹ مارٹم نہےں کروانا چاہتا اور نہ ہی اس کے ساتھ کسی نے زےادتی کی ہے اور نہ ہی اس کو قتل کےا گےا ےہ قدرت الہیٰ سے فوت ہوئی ہے مےرے رشتہ دار شعبان وغےرہ لالچی ہےں لالچ مےں آکر درخواست بازی کر رہے ہےں اور نہ ہی مےری ان سے کوئی بول چال ہے مےں کسی بھی صورت اپنی بےٹی کی لاش کی بے حرمتی نہےں چاہتا اور درخواست مےں اس نے مزےد لکھا کہ شعبان ولد جعفر علی کو خارج فرماےا جائے اور قبر کی اجازت نہ دی جائے جس پر عدالت نے قبر کشائی روک دی اور 9تارےخ کو طلب کےا ہے۔ محمد منظور کی سابقہ بےوی رضےہ بی بی جو ثناءبی بی کی پہلی والدہ ہے اس نے بتاےا کہ با اثر ملزمان ہمےں مقدمے کی پےروی سے روکنے کے لئے الٹا ہمارے خلاف جعلی جھوٹے مقدمے بنانے کے لئے تھانہ سول لائن مےں درخواست دے رہے ہےں تاکہ مقدمے کی پےروی سے ہم باز آجائےں جبکہ جعفر کے بےٹے مون نے بھی علاقہ مجسٹرےٹ کو اےک درخواست گزری ہے کہ رضےہ بی بی، محمد قبال، محمد شعبان اور محمد طاہر نے مےرے والد کے خلاف اےک جھوٹی درخواست دائر کی ہے صرف ہم سے رقم ہتھےانے کے لئے مےرے بوڑھے والدےن کو ناجائز تنگ کےا جارہا ہے اور مقدمے مےں پھنسانے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ محمد طاہر، محمد اقبال اور محمد شعبان نے عدالت مےں تحرےری بےان دےا ہے کہ ثناءبی بی متوفی کا والد اور الزام علےہ نے پولےس سے ساز باز ہونے کی بنا پر ثناءکا پوسٹ مارٹم نہ ہونے دےا ہماری بچی کے ساتھ زےادتی ہوئی اور بعد مےں اس کو قتل کر دےا گےا اسکی قبر کشائی ہونی چاہئے جبکہ پولےس کی طرف سے ےہ موقف اکتےار کےا جارہا ہے کہ لڑکی کے والد منظور احمد نے لاش وصول کرنے کے بعد لاش کو دفنا دےا ارو تھانے مےں ےہ تحرےر دی کہ مےں کوئی کاروائی نہےں کر وانا چاہتا مےری بچی حادثاتی طور پر جاں بحق ہوئی ہے لےکن اس کے باوجود پولےس کا کہنا ہے کہ قانونی تقاضے پورے کئے جائےں گے اور جھوٹ کو جھوٹ ثابت کےا جائے گا اب ےہ لوگ عدالت مےں چلے گئے ہےں عدالت جو حکم کرے گی اس کے مطابق کاروائی کرےں گے اور قانون کے مطابق ملزمان کو سزا دی جائے گی۔






































