اسلام آباد (آئی این پی) چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار نے کہا کہ والد کے امیر یا غریب ہونے سے فرق نہیں پڑتا‘ ٹیکس کی ادائیگی کے بعد رقم تحفہ کرنے میں کوئی حرج نہیں‘ ابھی تک ہمیں ٹرسٹ ڈیڈ نہیں دی گئی‘ بینک ریکارسے ثابت ہوگیا کہ منی لانڈرنگ نہیں ہوئی‘ درخواست گزار کا کیس بیرون ملک گھر ظاہر نہ کرنے کا تھا‘ جہانگیر ترین کیس میں صرف ایمانداری کا جائزہ لے رہے ہیں‘ جہانگیر ترین کے جواب میں بے ایمانی نظر نہیں آئی‘ پانامہ کیس میں بھی بینی فیشل مالک کا معاملہ سامنے آیا تھا‘ جسٹس عمر عطاءبندیال نے کہا کہ جہانگیر ترین نے ویلتھ گوشواروں میں ٹرسٹ کو ظاہر نہیں کیا بچوں کے گوشوارے اثاثوں میں ظاہر کرنے ہوتے ہیں‘ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ شائننگ ویو کی تمام دستاویزات بھی دکھائیں۔ بدھ کو سپریم کورٹ میں جہانگیر ترین نااہلی کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ جسٹس عمر عطاءبندیال نے سوال کیا کہ قرض کی ادائیگی کس نے اور کیسے کی؟ وکیل سکندر بشیر نے ہا کہ جہانگیر ترین نے ادائیگی کیلئے رقم پاکستان سے بھجوائی تھی جہانگیر ترین رقم آف شور کمپنی کو منتقل کرتے تھے۔ بیرون ملک جائیداد سے کوئی آمدن نہیں ہورہی۔ جسٹس فیصل عرب نے سوال کیا کہ کیا ہائیڈ ہاﺅس اثاثہ نہیں ہے؟ وکیل نے کہا کہ قانونی طور پر ہائیڈ ہاﺅس جہانگیر ترین کا اثاثہ نہیں تمام ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ عدالت کو دے چکے ہیں۔ دوران سماعت جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیر نے پینے کے لئے پانی منگوایا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سکندر بشیر صاحب کبھی نارمل موڈ میں بھی رہا کریں ہر وقت ٹینشن میں کیوں رہتے ہیں۔ مجھے دیکھیں اس منصب پر آنے کے بعد کتنی تبدیلی لانی پڑی۔ وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ کوشش کرتا ہوں مگر آپ کی عدالت میں ہر چیز کو آسان نہیں لے سکتا۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ شائننگ ویو تو تمام رقم ملنے کی تمام دستاویزات بھی دکھائیں وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ شائننگ ویو کے اکاﺅنٹ کی تفصیلات فی الحال موجود نہیں ہیں عدالت حکم دے تو ریکارڈ منگوایا جاسکتا ہے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے سوال کیا کہ کیا ادائیگیوں کو ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کیا گیا۔ وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ ٹیکس گوشواروں میں تمام ادائیگیاں ظاہر کی گئی ہیں۔ چیف جسٹس نے وکیل اکرم شیخ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کو جہانگیر ترین کے بینک ریکارڈ پر اعتراض ہے۔ حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ رقم کس کو منتقل ہوئی یہ نہیں بتایا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بینک ریکارڈ سے ثابت ہوگیا کہ منی لانڈرنگ نہیں ہوئی۔ جہانگیر ترین کے اکاﺅنٹ سے رقم شائننگ ویو کو منتقل ہوئی ہوگی۔ وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ رقم ٹرسٹ کے بغیر آف شور کمپنی کو بھجوائی گئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست گزار کا کیس بیرون ملک گھر ظاہر نہ کرنا تھا۔ جہانگیر ترین کے مطابق گھر ان کا نہیں آف شور کمپنی کا ہے۔ وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ لندن میں جہانگیر ترین کا گھر بے نامی ہے چیف جسٹس نے کہا کہ اگر بے نامی ہو بھی تو فرق نہیں پڑتا۔ سوال یہ ہے کہ جائیداد کی خریداری میں بے ایمانی تو نہیں ہوئی۔ بے نامی جائیداد کا مالک بے نامی دار ہی ہوتا ہے رقم دینے والا نہیں بے نامی ٹرانزیکشنز کو پاکستان میں قانونی تحفظ حاصل ہے۔ باپ بیٹے کو زمین فروخت کرے تو یہ ٹرانزیکشن فراڈ ہوتی ہے۔





































