کراچی(صباح نیوز)چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کالا باغ ڈیم بنانے سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے کہ پانی کی قلت کے خاتمے کا تہیہ کر لیا ، اب سپریم کورٹ ڈیمز بنانے سے متعلق آگے بڑھے گی اور اپنا کردار ادا کرے گی، آپ سب خطرہ محسوس نہ کریں، ہم کالا باغ ڈیم پر بات نہیں کر رہے، ہم چاہ رہے ہیں کہ پانی کے مسائل پر بات ہو اور پانی بحران پر قابو پایا جاسکے، ہم نے پرویز مشرف کو آنے کو کہا تو اس کا بھی سب کو خطرہ ہو رہا ہے، پرویز مشرف سے کسی کو کیا خطرہ ہوسکتا ہے، پرویز مشرف آئے اور قانون کا سامنا کرے، کسی کے لیے خطرے کی بات نہیں ہونی چاہیے، ہم کوئی اےسا حکم جاری نہےں کرےں گے جو کسی بھی فرےق کے خلاف ہو ےا کسی صوبہ کے خلاف ہو،سپریم کورٹ وفاق کی عدالت ہے، ہم جوڑنے کے لیے بیٹھے ہیں توڑنے کے لیے نہیں بیٹھے، ریفرنڈم عدالت نہیں وفاقی حکومت کراسکتی ہے، ہمارے لیے آئین سپریم ہے اور آئین کا احترام سب کو کرنا چاہیے۔ہفتہ کوسپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں لارجر بینچ نے کالا باغ ڈیم بنانے سے متعلق بیرسٹر ظفر اللہ خان کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ اس وقت پاکستان میں بحث کالا باغ ڈیم کی نہیں کر رہے، ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ پانی کی قلت کیسے ختم ہوگی۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ معلوم ہے آئندہ وقتوں میں پانی کی اہمیت کیا ہوگی لیکن 4 بھائی جس پر متفق نہیں تو پھر متبادل کیا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ہم نے پانی کی قلت کے خاتمے کا تہیہ کر لیا ہے، اب سپریم کورٹ ڈیمز بنانے سے متعلق آگے بڑھے گی اور کردار ادا کرے گی، عید کے بعد سپریم کورٹ کا لا اینڈ جسٹس ڈیپارٹمنٹ سیمینار کرائے گا، ماہرین تجاویز دیں بیٹھ کر ایس او پیز بنائیں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ایک ٹیم بنا دیتے ہیں جس میں اعتزاز احسن اور دیگر ماہرین کی خدمات لیں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ بتایا جائے ملک میں ڈیمز کس طرح بنائے جائیں، آپ سفارشات دیں ہم پارلیمنٹ سے سفارش کریں گے۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ قانون بنانے کی صلاحیت ملک میں ختم ہو چکی ہے، لا اینڈ جسٹس کمیشن کے ذریعے قانون بنا کر پارلیمنٹ کو سفارش کی جاسکتی ہے، قوم اختیار دے تو سپریم کورٹ اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں خود نمائی کرنے والے لوگ نہیں چاہییں، سیمینار کے ذریعے پہلا قدم اٹھائیں گے جس کا آغاز کراچی اور سندھ سے کریں گے۔دوران سماعت سابق چیئرمین واپڈا ظفر محمود عدالت میں پیش ہوئے جن سے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ بتائیں پانی کی قلت کیسے پوری کریں جس پر انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم بنانے پر لوگوں کو مکمل آگاہی نہیں اور اسی تنازع کے بعد واپڈا کی چیئرمین شپ سے استعفیٰ دیا تھا۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ سب خطرہ محسوس نہ کریں، ہم کالا باغ ڈیم پر بات نہیں کر رہے، ہم چاہ رہے ہیں کہ پانی کے مسائل پر بات ہو اور پانی بحران پر قابو پایا جاسکے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے کل پرویز مشرف کو آنے کو کہا تو اس کا بھی سب کو خطرہ ہو رہا ہے، پرویز مشرف سے کسی کو کیا خطرہ ہوسکتا ہے، پرویز مشرف آئے اور قانون کا سامنا کرے، کسی کے لیے خطرے کی بات نہیں ہونی چاہیے،لوگوں سے ان کو کےا معاملہ ہے قانون سب کے لےے اےک ہے لہذا سابق صدر بھی پاکستان آ کر قانون کا سامنا کر سکتے ہےں، چےف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم کوئی اےسا حکم جاری نہےں کرےں گے جو کسی بھی فرےق کے خلاف ہو ےا کسی صوبہ کے خلاف ہو ۔ایڈووکیٹ مجیب پیرزادہ نے کہا کہ پانی کے بحران اور قلت پر کسی کو اعتراض نہیں لیکن کالا باغ ڈیم کا نام جہاں آتا ہے تو تنازع کھڑا ہو جاتا ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ وعدہ کرتا ہوں سپریم کورٹ کوئی ایسا حکم نہیں دے گی جس سے کوئی فریق متاثر ہو، جہاں تنازع ہو اور 4 بھائی متفق نہیں تو متبادل حل نکالیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ہم آنے والی نسل کو اچھا مستقبل دے کر جائیں گے جس پر ایڈووکیٹ مجیب پیرزادہ نے کہا کہ پوری قوم آپ کے ساتھ ہے اچھے فیصلوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ سپریم کورٹ وفاق کی عدالت ہے، ہم جوڑنے کے لیے بیٹھے ہیں توڑنے کے لیے نہیں بیٹھے۔سماعت کے دوران پیپلز پارٹی کے رہنما تاج حیدر نے کہا کہ پانی کی قلت پر قابو پانے کے کئی حل موجود ہیں اور کئی منصوبے ہیں جس میں سمندر کا پانی میٹھا بنانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ یہ منصوبے تو کاغذ پر تھے ہم نے نوٹس لیا تو کام شروع ہوا۔درخواست گزار بیرسٹر ظفراللہ نے عدالت سے استدعا کی کہ کالا باغ ڈیم بنانے کے لیے ریفرنڈم کرایا جائے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ریفرنڈم عدالت نہیں وفاقی حکومت کراسکتی ہے، ہمارے لیے آئین سپریم ہے اور آئین کا احترام سب کو کرنا چاہیے۔سپریم کورٹ نے کالا باغ ڈیم سے متعلق درخواست پر سماعت ملتوی کردی جب کہ آئندہ سماعت پر شمس الملک سے بریفنگ لی جائےگی۔





































