تازہ تر ین

سپریم کورٹ کا بھاشا اور مہمند ڈیم بنانے کا فیصلہ تاریخ ساز : ضیا شاہد ، نواز شریف کی خواہش پر فیصلہ موخر نہیں ہو سکتا ، قانون میں اسکی گنجائش نہیں لطیف کھوسہ ، چینل ۵ کے لائیو پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ یہ ایک اچھا فیصلہ ہے اور پاکستان کے لئے ایک تاریخ ساز دن ہے پچھلے 12,10 برس سے سن رہا تھا کہ کالا باغ ڈیم نہیں بنتا اس پر صوبوں کا اتفاق نہیں ہے تو پھر بھاشا ڈیم بنائیں گے لیکن 5 سال نوازشریف کی حکومت کو گزر گئے اس سے پچھلے 5 سال یوسف رصا گیلانی اور پرویز مشرف کے دور میں یہی کہا گیا تھا کہ اگر کالا باغ اگر متنازعہ ہے تو بھاشا ڈیم ضرور بنائیں گے۔ پچھلے 18 سال سے میں نے تو اس کے بارے میں ٹھوس فیصلہ یا حتمی اعلان نہیں سنا۔ مجھے بہت خوشی ہوئی ہے میں تین بجے سپریم کورٹ گیا تھا سپریم کورٹ میں میں نے اپنا کیس جو انڈس واٹر ٹریٹی کے حوالے کیا ہوا ہے کہ انڈیا جو ہے ستلاج اور راوی میں سو فیصد پانی بند نہیں کر سکتا لیکن اس کی باری ہی نہیں آئی کیونکہ آج پورا وقت جو ہے کالا باغ اور بڑے پانی کے ذخائر پر خرچ ہو گیا مجھے کوئی افسوس نہیں ہوا میں سمجھتا ہوں کہ یہ بڑا کام تھا جو آج طے ہو گیا اور سپریم کورٹ کے حکم کا مطلب یہ ہے کہ اب کوئی رکاوٹ نہیں رہی اور کوئی پس و پیش نہیں کی جا سکتی۔ کل سے آپ سمجھ لیجئے کہ ہماری وزارت آبی وسائل جو وفاقی وزارت ہے اور جو ہماری مالیات کے شعبے ہیں وہ اس پر اپنا کام فوری طور پر شروعکر دیں گے کیونکہ اب یہ عدالت کا فیصلہ ہے اب یہ سیاستدانوں کے اعلانات نہیں ہیں اور ہم نے پہلے ہی 18 سال ضائع کر دیئے ہیں۔ اگر کام شروع ہو جاتا ہے تو 10 سال لگتے تھے اور 6 سال پہلے یہ ڈیم مکمل ہو چکا ہوتا۔ اب اگرکام شروع کیا جائے اور زیادہ خوبصورت بات یہ ہے کہ کہا جا رہا تھا کہ کمرہ عدالت میں کہ شاید سپریم کورٹ اس سلسلے میں یہ جو مقامی طور پر اور اپنے طور پر پاکستان میں فنڈز کی جنریشن کے بھی کوئی آرڈر کرنے والی ہے۔ اگرچہ تفصیلی حکم میں یہ ساری چیزیں آئیں گی لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستانی قوم بجا طور پر امید کرتی ہے کہ مجھے بھی اگر ہمارے دفتر کے سارے لوگوں کو آپ ایک ہزار کہہ رہے ہیں پانچ 10 ہزار ایک لاکھ کہا جائے تو میں فوراً جمع کرا دوں اس لئے یہ ایک بڑا منصوبہ شروع ہوتا نظر آ رہا ہے اس میں میں بتاتا چلوں کہ ایک بڑی رکاوٹ یہ تھی کہ جب بھاشا ڈیم کا اعلان ہوا تو انڈیا نے اس پر اعتراض کیا تھا کہ یہ متنازعہ علاقے میں ہے اور اس زمانے میں مجھے یاد ہے کہ ایشین ڈویلپمنٹ بنک نے اور ورلڈ بینک نے بھی اس پر پس و پیش کا اظہار کیا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے چیف جسٹس صاحب نے دیگر جج صاحبان کی مدد سے ایک طریقہ کار وضع کر دیا ہے کہ ہم چاہے کوئی بینک یا کوئی غیر ملکی ادارہ ڈونیشن دینے والی کمپنی، قرضہ دینے والا ادارہ دیتا ہے یا نہیں دیتا ہم جیسے آپ نے کہا تھا بچوں سے لے کر بڑے تک پیسے جمع کریں گے اور اپنے وسائل سے بڑے پروجیکٹ کو شروع کریں گے۔ ضیا شاہد نے کہا ہے کہ نوازشریف نے اچھی بات کہی ہے ایک ذمہ دار سیاستدان کی حیثیت سے ان کا فرض بنتا ہے کہ عدالت جو فیصلہ کرے اس کا سامنا کریں ماہرین قانون کہتے ہیں کہ عدالت جو فیصلہ کر چکی ہے مقررہ تاریخ کو محفوظ فیصلہ وہ سنایا جائے گا اگر نوازشریف یا محترمہ مریم نواز تشریف لائیں یا نہ لائیں عدم موجودگی میں بھی فیصلہ سنا سکتی ہے۔ اگر نوازشریف کی خواہش ہے ان کی آمد پر یہ فیصلہ سنایا جائے تو اس کا اطلاق جس کورٹ پر ہوتا ہے یہ اس کی مرضی ہے کہ ان کی بات مانے یا نہ مانے۔ جہاں تک کلثوم نواز کی صحت کا تعلق ہے۔ میرا خیال ہے کہ عدالتیں یہ تو شاید کر سکتی ہے کہ ہفتہ دو ہفتے اور موخر کر دیں لیکن تا حکم ثانی یا بفرض دو مہینے 4 مہینے اگر رکنا پڑے تو عدالتیں زیادہ دیر موخر نہیں کر سکتیں۔سب لوگ اس کے منتظر ہیں۔ عام خیال ہے اور آج سپریم کورٹ میں زیادہ تر یہی بحث رہی اور جو لوگ وہاں تھے اکثر لوگوں کا خیال تھا کہ نوازشریف نے جواب میں جو کچھ کہا ہے وہ عدالتوں کو مطمئن نہیں کر سکے چنانچہ ایک ہی لفظ مجھے کئی لوگوں سے سنائی دیا کہ ان کی منی ٹریل جو انہوں نے دی تھی وہ عدالت کو بظاہر مطمئن نہیں کر سکی اس لئے دو تین لوگوں کا خیال تھا کہ فیصلہ یقینی طور پر نواز شریف کے خلاف آئے گا۔ شاید یہی وہ گونج ہے جس کو سنتے ہوئے نوازشریف نے کہا ہے کہ میں نے اس کی گونج سن لی ہے اللہ کرے میری تو دعا ہے وہ بری ہو جائیں لیکن لگتا نہیں ہے۔ میں نے جس بندے سے پوچھا اس نے یہا کہا کہ ان حالات میں کسی بھی عدالت کے لئے نوازشریف کو جو دلائل انہوں نے دیئے ہیں، جو ثبوت دیئے ہیں قطری خط سے شروع ہو کر اور یکے بعد دیگرے جتنے موقف انہوں نے تبدیل کئے ہیں جتنے ان کے صاحبزادوں، صاحبزادی نے تبدیل کئے ہیں جتنے اسحق ڈار نے تبدیل کئے ہیں اس سے لگتا ہے کہ شاید ان کے لئے کسی بھی عدالت کے لئے صاف بری کرنا مشکل ہو گا۔ سیاست بند مٹھی کی طرح ہوتی ہے یہ بھی ہو سکتا ہے پورا ملک ان کے حق میں کھڑا ہو اور ان کی جماعت ٹوٹ پھوٹ رہی ہے لوگ آدھے سے زیادہ پنجاب میں ان کی پارٹی سے نکل کر جا چکے ہیں اس سے گلتا نہیں۔ پنجاب میں ان کا مضبوط گڑھ تھا شہباز شریف دس سال سے وزیراعلیٰ تھے اور ان کی گرفت حکومت پر کافی مضبوط تھی اور جنوبی پنجاب تو سارا ان کا ساتھ چھوڑ چکا۔ دو سال پہلے جو ان کی پوزیشن تھی نوازشریف اور مسلم لیگ ن کی پنجاب میں تھی بقیہ صوبوں میں وہ نہیں ہیں۔ میں جن لوگوں کا ذکر کر رہا تھا جن میں ماہرین قانون بھی تھے ان میں کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ نوازشریف کو دس سال سزا ہو جائے گی۔ شاید مریم نواز کو 5 سال ہو جائے۔ سزا ان کو بھی ہو گی۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ شاید سزا کم ہو۔ لیکن کسی نے یہ نہیںکہا کہ وہ بری ہو جائیں گے۔ ضروری نہیں ہے کہ صحیح ہو۔ یہ لوگوں کی رائے تھی۔ضیا شاہد نے کہا کہ آئینی طور پر صدر ممنون حسین کو یہ حق حاصل ہے کہ سزا معاف کر سکتے ہیں لیکن اگر صدر صاحب ان کی سزا معاف کر دیں گے تو اس وقت ملک میں جو فضا ہے اس کے بعد وہ صدر رہیں۔آخر انہوں نے گھر والوں نے، ان کے ساتھیوں نے ان کے پہرے داروں نے اسی ماحول اور معاشرے میں رہنا ہے اور اس سٹیج پر میرے خیال میں اتنا بڑا بولڈ فیصلہ کرنا ممنون حسین کے لئے کافی مشکل ہو گا۔ البتہ وہ آئینی طور پر معاف کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چودھری نثار کوئی دن نہیں گزرتا جب نواز شریف کے خلاف کوئی بات نہ کریں۔ اب کہتے ہیںکہ فیصلہ آئے گا تو نواز شریف کے ساتھ اختلافات بتاﺅں گا۔ ڈان لیکس اور وہ بات کہ 3 لوگوں کو پتہ ہے انڈیا ملکی سلامتی کے خلاف کیا منصوبہ بنا چکا ہے پھر وہ خاموش ہیں۔ چودھری نثار کی کوئی بات کلیئر نہیں، پہلے خود کھل کر سامنے آئیں۔ پہلے ان کو خود اپنے بارے میں فیصلہ کرنا ہے کہ کیا نئی مسلم لیگ بنانا چاہتے ہیں، کتنے لوگ ہیں۔ سڑی ہوئی باتیں نہ کریں کہ برادری میرے ساتھ ہے۔ کوئی بھی برادری کسی ایک سیاسی جماعت کے ساتھ نہیں ہوتی۔لطیف کھوسہ نے کہا ہے نوازشریف نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ بات کی ہے ابھی تک کوئی درخواست ان کی جانب سے یا وکیل کے توسط سے عدالت میں پیش نہیں کی گئی اور دوسری بات یہ ہے کہ ایسی کوئی درخواست کی بھی جائے تو بھی اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے نہ عدالت نے انہیں پروسیڈنگز کو قانون اور آئین کے مطابق ریگولیٹ کرنا ہوتا ہے اور اس میں کوئی ایسی گنجائش نہیں ہے کہ ملزم کی خواہش پر فیصلہ سنایا جائے یا اس کی موجودگی کے لئے عدالت بے بس ہو کر منتظر جائے ان کی آمد تک سزا کا انتظار کرے یہ ایسا نہیںہو سکتا کہ فیصلہ موحر کر دیا جائے جو سنانے لائق ہو چکا ہو کیونکہ دونوں فریقین اپنی سیر حاصل بحث کر چکے ہوں۔ پھر باقی ملزمان بھی سارے کہیں گے کہ جب تک ہم موجود نہ ہوں ہمارے خلاف یا حق میں فیصلہ نہ سنایا جائے۔ کابینہ کی جانب سے جب تک ایڈوائس نہیں جائے گی تو تب صدر پاکستان کو آرٹیکل کے تحت کوئی احتیار نہیں ہے کہ وہ اس پر سزا کی معافی یا تحفیف نہیں کر سکتے جب کابینہ کے فیصلے کے بعد وزیراعظم ایڈوائس نہیں دیں گے۔صدر پاکستان جب وزیراعظم کی طرف سے ایڈوائس نہ جائے۔ عدالت جب اعلان کر دیتی ہے کہ فیصلہ فلاں تاریخ کو سنایا جائے گا تو عام طور پر موخر نہیں ہو سکتا۔ جن کے بارے فیصلہ ہو ضروری نہیں ہوتا کہ وہ عدالت میں موجود ہوں۔ شاید نوازشریف کی موخر کرنے کی خواہش پوری نہ ہو۔ نیب کا فیصلہ ہے۔ لیکن سیاسی طور پر یہ ایک بہتر فیصلہ ہے کیونکہ کہا جاتا تھا کہ جس کو پکڑا جاتا ہے جیسے چودھری نثار کے مقابلے میں جو صاحب تھے تو ایک دم کہا گیا کہ چودھری نثار کو کامیاب کرانے کی سازش ہو رہی ہے۔ 25 تاریخ کون سی دور ہے لہٰذا اگر اس کے بعد فیصلہ سنا دیئے جائیں اکٹھے البتہ نیب کو اپنی کارکردگی بارے سوچنا پڑے گا اب لوگ کھلم کھلا باتیں کرنے لگے کہ احد چیمہ تو کسی الیکشن میں نہیں کھڑا ہو رہا اس سے لے کر 26 بندے جو ہیں جن کے ان کے ساتھ نام آئے تھے وہ بھی کسی الیکشن میں حصہ نہیں رہے۔ نیب کو اپنی کارروائیوں کو تیز کرنا چاہئے۔ ہر چیز لٹکی ہوئی ہے۔چودھری نثار کوئی دن ایسا نہیں گزرتا ان کے خلاف کوئی نہ کوئی بات ثبوت کے طور پر سامنے نہ آ جائے۔ چودھری نثار نے اب کون سی بات ہے یہ ایک بڑی شاطرانہ، بڑی سیاسی مکاری کی بات ہے کہ میں پہلے دیکھ لوں کہ نوازشریف کا فیصلہ کیا آتا ہے پھر اختلافات سامنے لاﺅں گا۔ اگر ان کو سزا ہوئی میں تگڑا ہو کر بتاﺅں گا۔ اللہ کے بندے سچ تو بول میں نے پہلے بھی کئی دفعہ کہا کہ یہ اعلیٰ حضرات ڈان لیکس بارے چپ ہیں۔ انہوں نے خود فرمایا کہ 3 بندوں کو پتہ ہے کہ انڈیا پاکستان کی سلامتی کے خلاف کیا منصوبہ بنا چکا ہے دو وردی والے ہیں ایک اپنے بارے میں۔ کسی بات کے جواب میں یہ کچھ کہنے کی بجائے انتظار کرتے ہیں کہ پہلے فلاں بندہ پھانسی چڑھ جائے پھر میں تگڑا ہو جاﺅں گا۔ ان کی کوئی بات کلیئر نہیں کہ وہ نوازشریف کے ساتھ ہیں یا ان کے مخالف ہیں۔

 


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain