لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں، تبصروں پر مشتمل پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اور کالم نگار توصیف احمد خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں این آر او کیس چل رہا ہے عدلیہ اگر کرپٹ عناصر پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئی تو یہ ملک کے لئے بڑی کامیابی ہو گی، این آر او میں مجرموں کو چھوڑنے والوں کو پکڑا جانا چاہئے۔ بلوچستان کو جس طرح نظر انداز کیا جا رہا ہے اچھا نہیں ہے وہاں کے عوام پر توجہ دینی چاہئے ان کی محرومیوں کو دور کیا جانا ضروری ہے۔ ”الیکٹیبلز“ کے بعد تو نئے پاکستان بارے سوچنا محال ہی لگتا ہے۔ ایون فیلڈ مقدمہ کی فیصلہ بھی آن پہنچا ہے، نوازشریف، مریم نواز واپس نہیں آئیں گے، شہباز شریف میں اتنی اہلیت نہیں کہ پارٹی کو چلا سکیں دوسرا ان کے گرد نیب کا گھیرا بھی تنگ ہوتا جا رہا ہے ن لیگ اب بھی ذہانت سے سیاست کرے تو ووٹ بینک میں اضافہ کر سکتی ہے۔ معروف کالم نگار اعجاز حفیظ خان نے کہا کہ پاکستان سے کرپشن ختم ہو جائے تو یہاں بیرون ملک سے ریکارڈ سرمایہ کاری ہو سکتی ہے۔ این آر او سے سب سے زیادہ متحدہ مستفید ہوئی ن لیگ والوں نے بھی فائدہ اٹھایا، بیرون ممالک اثاثے رکھنے والوں کی تفصیلات سامنے آنی چاہئیں قوم کرپٹ افراد کا محاسبہ چاہتی ہے۔ نوازشریف کو اس حال تک پہنچانے میں قوم پرستوں کا بھی ہاتھ ہے، اچکزئی، بزنجو سب کمال ہیں، سیاسی رہنماﺅں کو بلوچستان کا دورہ کرنا چاہئے، بڑے سیاسی رہنماﺅں کا کراچی میں الیکشن لڑنا خوش آئند ہے۔ نوازشریف فیصلے کے بعد ہی سہی واپس آئیں گے۔ شہباز شریف کا مستقبل داﺅ پر ہے، نوازشریف اپنے حالات کے خود ذمہ دار ہیں۔ سینئر صحافی میاں حبیب نے کہا کہ بدقسمتی ہے کہ یہاں بڑے بڑے کیسز پہ ”مٹی پاﺅ“ فارمولا استعمال کیا جاتا ہے این آر او بھی اسی طرح جرائم پر پردہ ڈالنا تھا، بیرون ممالک اثاثے رکھنے والوں کو سامنے لانا چاہئے، عدلیہ بالکل ٹھیک چل رہی ہے، احتساب کا سلسلہ ٹھیک چل رہا ہے۔ قوم بھی کرپٹ افراد کے خلاف سخت کارروائی چاہتی ہے۔ کراچی میں سیاسی تسلط ختم ہو رہا ہے، اندرون سندھ بہتری آئی ہے کراچی میں امن میں فوج نے اہم کردار ادا کیا، نام نہاد سیاسی مافیا نے کراچی کو برباد کیا، بلوچستان کو آج بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے کسی سیاسی جماعت نے وہاں انتخابی کمپئن نہیں رکھی۔ ووٹر باشور ہو گیا ہے آج سیاسی رہنماﺅں سے سوالات پوچھے جاتے ہیں نوازشریف واپس نہ آئے تو ان کی سیاست دفن ہو جائے گی۔ شہباز شریف گومگو کا شکار ہیں، کبھی نواز بیانیہ کے حق اور کبھی خلاف بات کرتے ہیں، شہباز شریف سے نیب والوں نے سخت سوالات کئے، سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ سینئر صحافی ضمیر آفاقی نے کہا کہ آج کی ایمنسٹی سکیم بھی این آر او کی ہی ایک شکل ہے، فوجی حکومتیں خود کو مضبوط بنانے کے لئے بھی سیاستدانوں کو کرپٹ کرتی ہیں، عدالت کا غیر مکی اثاثوں کے حوالے سے ایکشن لینا خوش آئند ہے تاہم لوٹی دولت واپس لانا مشکل کام ہے۔ پاکستان میں جان بوجھ کر ایسی پالیسیاں بنائی جاتی ہیں کہ غیر ملکی سرمایہ کار ادھر کا رخ نہ کریں، نظام انصاف بہت کمزور ہے، زرداری کو بھی تو عدالتوں نے ہی بری کیا ہے۔ کراچی کا ووٹر ابہام کا شکار ہے، بلاول کے دورہ لیاری پر عوام کا ردعمل غیر معمولی تھا، تحریک انصاف کو کراچی میں بڑی محنت کرنا ہو گی۔ نوازشریف مریم نواز الیکشن سے پہلے وطن واپس آ جائیں گے واپس نہ آئے تو پارٹی کو شدید نقصان ہو گا نوازشریف فیصلہ کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں۔






































