اسلام آباد(آئی این پی)قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیرخارجہ خواجہ آصف ،سابق وزیر مملکت رانا افضل،سابق صوبائی وزیر رانا مشہود،سابق ایم این اے رائے منصب کے خلاف مقدمات کو الیکشن تک موخر کرتے ہوئے کسی بھی سیاستدان کو 25جولائی تک گرفتار نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ بلین ٹری سونامی پراجیکٹ خیبر پختونخوہ کے افسران/اہلکاران کے ، احد چیمہ سابق ڈی جی پنجاب لینڈ ڈویلیپمنٹ کمپنی ،شاہد شفیق عالم فریدی چیف ایگزیکٹو آفیسر بسم اللہ انجنئیرنگ ، میسرز لاہور کاسا ڈویلیپرز کے مالکان اور انتظامیہ، لاہور ڈویلیپمنٹ اتھارٹی کے افسران /اہلکاران اور دیگر ،سابق ڈی جی کوئٹہ ڈویلپمنٹ نور احمد پرکانی کے خلاف بدعنوانی کار یفرنس دائرکرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس چئیرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال کی زیرصدارت اسلام آبادمیں ہوا جس میں اس بات کو واضح کرلیا گیا ہے کہ تمام شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریاں اورانویسٹی گیشن مبینہ الزامات کی بنیاد پر شروع کی گئی ہیں جوکہ حتمی نہیں۔ نیب تمام متعلقہ افراد سے بھی قانو ن کے مطابق ان کا مو¿قف معلوم کرے گا تاکہ انصاف کے تمام تقاضے پورے کئے جا سکیں جس کے خلاف ریفرنس دائر کیا جائے ان کے مقدمات قومی خزانے کوتقریبا 660ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے پنجاب سپورٹس بورڈ اور یوتھ فیسٹیول کی انتظامیہ اور دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دی جس میں قومی خزانے کو 1739ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ سابق آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کاریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی۔ قومی خزانے کو 16کروڑ 25لاکھ روپے کا نقصان پہنچا۔ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے سٹیٹ بینک سٹاف کو آپریٹو ہاﺅسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ ، محکمہ مال کراچی کے افسران/اہلکاران اور دیگر کے خلاف انویسٹی گیشن کی منظوری دی۔ ملزمان پرمبینہ طور پر غیرقانونی طور پر سرکاری زمین پر سٹیٹ بینک سٹاف کو آپریٹو ہاﺅسنگ سوسائٹی قائم کرنے کا الزام ہے۔ جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے سندھ سوشل ریلیف فنڈکے افسران/اہلکاران کے خلاف انکوائری کی منظوری دی۔ پروگرام منیجر ایچ آئی سی /اےڈز کنٹرول پروگرام محکمہ صحت حکومت سندھ ڈاکٹر محمد یونس چاچڑاور دیگرکے خلاف انکوائری کی منظوری دی۔ سیکرٹری ہیلتھ حکومت سندھ اور دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دی۔ملزمان پرمبینہ طور پر اختیارات کے ناجائز استعمال ،ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اورایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ٹھیکوںمیں خردبرد کا الزام ہے۔ سردار بیگم ڈینٹل کالج پشاور کی انتظامیہ اور دیگر کے خلاف عدم ثبوت کی بنیاد پر انکوائری بند کرنے کی منظوری دی گئی۔ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے الراضی میڈیکل کالج کے خلاف انکوائری کرنے کی منظوری دی۔ ملزمان پرمبینہ طور پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور طلبہ و طالبات کو داخلوں کے نام پر دھوکہ دینے کا الزام ہے۔ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے سابق چیف ایگزیکٹوفاٹا ڈویلیپمنٹ اتھارٹی اور دیگر کے خلاف کیس چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کو بھجوانے کی منظوری دی تاکہ وہ قانون کے مطابق مبینہ طور پر 414غیر قانونی بھرتیوں کے معاملہ کی مزید جانچ پڑتال کریں۔ محکمہ صحت خیبر پختونخواہ کے افسران /اہلکاران اور دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دی۔ بلین ٹری سونامی پراجیکٹ خیبر پختونخوہ کے افسران/اہلکاران کے خلاف انکوائری کی منظوری دی۔ اس میں قومی خزانے کو مبینہ طور پر 19 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔ سابق منیجنگ ڈائیریکٹر واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی کوئٹہ حامد لطیف رانا اوردیگر کے خلاف ضمنی ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی۔ ملزمان پرمبینہ طور پرآمدن سے زائد اثاثہ بنانے کاالزام ہے۔ جس سے قومی خزانے کو 354.9ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نے ریفرنس نمبر 5/2008 اسٹیٹ ورسز حفیظ الرحمان کی34.375ملین روپے کی پلی بارگین کی درخواست منظور کرلی۔ سابق آئی جی پنجاب کی طرف سے نیب کو وہاڑی پولیس کے سرکاری فنڈز میں خرد برد اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے کیس میں ملوث پولیس افسران اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں سابق وزیرخارجہ خواجہ آصف ،سابق وزیر مملکت رانا افضل،سابق صوبائی وزیر رانا مشہود،سابق ایم این اے رائے منصب کے مقدمات کا بغور جائزہ لیا گیا اوران کے خلاف مقدمات کو الیکشن تک موخر کیا گیا تاکہ مذکورہ افراد الیکشن میں بھرپور حصہ لے سکیں۔مذکورہ مقدمات کی مذید تحقیقات الیکشن کے بعد ہوں گی اور الیکشن میں حصہ لینے والے کسی سیاستدان کو 25جولائی 2018تک گرفتار نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ نیب مزید واضح کرنا چاہتا ہے کہ اس کا سیاست یا الیکشن سے کوئی تعلق نہیں اور اسی بنیاد پر مذکورہ مقدمات کو 25جولائی 2018تک موخر کیا گیا ہے ۔ چئیرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب افسران ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کو اپنی قومی ذمہ داری سمجھتے ہیں جس کیلئے وہ بلا تفریق بدعنوان عناسر کے خلاف اپنی بہترین صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے کرپشن فری پاکستان کے لیے بھر پور کاوشےں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام شکایات کی جانچ پڑتال ، انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز کو قانون، میرٹ، شفافیت اور ٹھوس شوائد کی بنیا د پر منطقی انجام تک پہنچائی جائیں۔ نیب کسی سے انتقامی کارروائی پر یقین نہیں رکھتا بلکہ نیب ©©” احتساب سب کے لیے©©©©© “ کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے ۔ نیب کی پہلی اور آخری وابستگی پاکستان اور پاکستان کی عوام سے ہے ۔ نیب افسران اپنے فرائض پوری ایمانداری ، دیانت ، میرٹ، شفافیت اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سرانجام دیں اس سلسلہ میں کوئی کوتاہی برداشت نہیںکی جائے گی۔






































