لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ جیپوں والوں سمیت عوام کی حکمرانی کا راستہ روکنے والے عبرت کا نشانہ بنیں گے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا میں ڈکٹیٹر نہیں ہوں کہ ڈر کر بھاگ جاو¿ں، میں ووٹ کو عزت دو کے نعرے پر عوام کے ساتھ ہوں اور قوم میرے ساتھ ہے۔ 2017 سے اب تک ہر طرح کے فیصلوں اور کارروائیوں کا سامنا ہے، سارا پاکستان ہی نہیں دنیا میرے خلاف انتقامی کارروائیوں سے آگاہ ہے، اس کے باوجود یہ فیصلہ بھی میں اسی کمرہ عدالت میں جج کے منہ سے سنا چاہتا ہوں جس میں میں نے اپنی بیٹی مریم نواز کے ساتھ پیشیاں بھگتی ہیں۔نواز شریف نے کہا کہ مجھے معلوم ہے میں نے جس مشن کا جھنڈا اٹھایا ہے، وہ کوئی آسان مشن نہیں ہے لیکن میں عوام کے حق حکمرانی کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہوں۔انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ آپریشن کے بعد ان کی اہلیہ کلثوم نواز ہوش میں آجائیں گی اور خطرے کی حالت سے باہر نکل جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ صبح ہسپتال آتا ہوں تو بیگم کو بے ہوش دیکھتا ہوں اور واپسی شام کو جاتے ہوئے اہلیہ کو بے ہوش دیکھتا ہوں،آواز دیتا ہوں کہ شاید میری آواز پر ہوش آجائے۔نواز شریف نے کہا کہ ایک سال کے اندر 100 پیشیاں بھگت چکا ہوں اور اب اس موڑ پر گھبرانا تھا تو یہ سب کیوں کرتا۔نوازشریف نے احتساب عدالت سے فیصلہ چند دن کیلئے موخر کرنے کی درخواست کردی، عوام کو گواہ بناکر کمرہ عدالت میں فیصلہ سننا چاہتا ہوں، چند روز کیلئے فیصلہ موخر ہونے سے انصاف کا تقاضا مجروح نہیں ہوگا، عوامی نمائندہ ہوں ، آکر بزدلی کا مظاہرہ ، عوام کو مایوس نہیں کرونگا، قوم ” ووٹ کو عزت دو “ کے مشن پر میرے ساتھ کھڑی ہے ، 25جولائی کو عوامی فیصلہ ملک کی تقدیر بدل دیگا، عوامی فیصلے کی گونج ابھی سے سنائی دے رہی ہے، الیکشن میں جیپوں والوں سمیت عوام راستہ روکنے والے عناصر عبرت کا نشان بن جائیں گے، اپنے وکیل کو اہلیہ کی میڈیکل رپورٹ بھجوادی ہے، جو وہ عدالت میں پیش کرکے ہماری درخواست بھی دینگے، اہلیہ کے ٹھیک ہوتے ہی فوری وطن واپس جاو¿نگا اور حالات کا مقابلہ کرونگا، فیصلہ میرے حق میں آئے یا خلاف وطن واپس ضرور جاو¿نگا، بھاگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، امید ہے کہ بیگم کلثوم آپریشن کے بعد ہوش میں آجائینگی، ونٹی لیٹر پر لٹا دیا جائیگا طبیعت بہتر ہوجائیگی، میں بڑے مشن کیلئے یہ قربانی دینے کو تیار ہوں، گھبرانے والا نہیں ہوں، ورنہ مشن کی بات ہی نہ کرتا، مشن پر چلنے والوںکو مشکلات اور مصائب برداشت کرنا پڑتے ہیں، پاکستان میں اس وقت بدترین حالات ہیں، میڈیا پر پابندیاں ہیں اسے قید کردیا گیا ہے، دنیا بھر کے میڈیا پر پاکستان کے حوالے سے ایسی خبریں آرہی ہٰں جن کو سن کر شرم آتی ہے ، یہ سب کچھ کون کررہاہے، ٹی وی ، اخبار بند کرائے جارہے ہیں، لکھنے والوں پر پابندی لگائی جارہی ہے ، ایسا کرنےوالے اپنے اداروں کیساتھ تو جو کچھ کررہے ہیں ملک کے ساتھ کیا کھلواڑ کررہے ہیں، ادارے بدنام ہورہے ہیں ، یہ بدنامی پاکستان کیلئے اچھی نہیں ہے، ادارے ان کاموں کیلئے نہیں بنائے گئے تھے جو کررہے ہیں، میں حقائق بیان کررہاہوں، پاکستان میں میڈیا کا گلہ نہیں گھونٹا جاسکتا، میڈیا کو ان عناصر کی سازش کا شکار نہیں ہونا چاہئیے، پوری قوم کو اٹھ کھڑے ہونا چاہئے کہ پاکستان ان کاموں کیلئے تو نہیں بنایا گیاتھا کہ میڈیا پر پابندی ہو، آپ کو تشدد کا نشانہ بنایا جائے، دھمکیاں دی جائیں ، ہر طرف ظلم کا دور دورہ ہو اور کسی کو انصاف میسر نہ ہو، ملک کے اربوں کھربوں لوٹنے والوں کو آزادی ہے اور جس نے کچھ نہیں کیا اسے وزیراعظم کے عہدے سے پارٹی کے عہدے سے ہٹا دیا گیا، جنوبی ایشیا میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی، میں ملک پر جان نچھاور کرنے والا ہوں، ظلم و زیادتی برداشت نہیں کرسکتا، نوازشریف نے صحافیوں کے ای سی ایل میں نام اور زرداری سے رابطہ کے سوالوں کا جواب دینے سے گریز کیا۔






































