لاہور(شہزاد فراموش)شوبز سے وابستہ افراد انتخابات میں مصروف ہیں اور گزشتہ پورے ہفتے میںشوبز کی معمول کی گہما گہمی الیکشن کی گہما گہمی میں تبدیل ہو کر رہ گئی جس وجہ سے تھیٹر اور سینماﺅں میں شائقین کی تعداد آٹے میں نمک کے برابررہی۔دوسری طرف فیشن انڈسٹری بھی بالکل چپ رہی اورکسی بھی فیشن شو کی خبر سنائی نہیں دی ۔مختلف فنکار اپنے اپنے امیدواروں اور اپنی اپنی پارٹیوں کیساتھ منسلک ہو چکے ہیں اور انتخابی مہم زوروں پر رہی ۔ابھی جو صورتحال ہے اس میں زیادہ تر گلوکاروں ‘ اداکاروں اور ماڈلز کا جھکاﺅپی ٹی آئی کی دکھائی دیتا ہے ۔بہت سے فنکار جو کل تک ن لیگ کے بینر تلے نواز شریف کے نعرے لگایا کرتے تھے اب ان کی ہمدردیا ں اور نعرے عمران خان کیساتھ ہیں ۔شوبز سے وابستہ افراد کا الیکشن بخار کافی تیز رہا اور اس میں گلوکار ابرارالحق اور جواد احمد بھی انتخابات لڑنے اکھاڑے میں اتر چکے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی نے کراچی سے تین اداکار میدان میں اتارے ہیں۔گلوکار اور سیاستدان ابرار الحق نے گزشتہ انتخابات میں بھی قسمت آزمائی پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے کی تھی تاہم انہیں اس وقت کامیابی نصیب نہ ہو سکی تھی لیکن اس بار ان کی پوزیشن بہت مضبوط دکھائی دے رہی ہے اور وہ عمران خان کی پارٹی تحریک انصاف ہی سے وابستہ ہےں اور الیکشن میں حصہ لیا ہے۔فنکاروں کا سیاسی میدان میں کودنا اچھا عمل ہے ۔ ابرار الحق کو پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے نارووال سے قومی اسمبلی کا ٹکٹ دیا گیاہے۔ وہ این اے 78سے ن لیگ کے امیدواراحسن اقبال سے مقابلہ کررہے ہیں۔سب سے دلچسپی کی بات ان انتخابات میں یہ بھی ہے کہ گلوکار جواد احمد جو تعلیم یافتہ فیملی سے تعلق رکھتے ہیں اور کروڑوں دلوں پر اپنی آواز کے جادو سے حکومت کر رہے ہیں وہ اس بار اپنی پارٹی ” برابری پارٹی“ کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں کود پڑے ہیں اور گلوکار جواد احمد تو وزارت عظمیٰ کے تین امیدواروں کے خلاف انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں ۔انہوں نے برابری پارٹی کے ٹکٹ پر لاہور کے این اے 131 اور 132 پرعمران خان اور شہباز شریف کے خلاف اور کراچی کے این 146 میںبلاول کے مقابلہ میں الیکشن لڑنے کا اعلان کیا اور پورے زور سے سب کیخلاف میدان میں اترے ہیں۔کراچی میں پیپلز پارٹی نے بھی تین اداکاروں کو ٹکٹ دیا ہوا ہے اور وہ بھی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان میں این اے 256سے سینئر اداکار ساجد حسن ، پی ایس 101 سے ایوب کھوسو اور پی ایس 94 سے گل ِرعنا تیر کے نشان پر انتخاب لڑرہی ہیں۔اداکار ہ فضیلہ قاضی کے شوہر اور ٹی وی آرٹسٹ قیصر نظامانی نے بھی کراچی کے علاقہ ڈیفنس سے الیکشن لڑنے کا پروگرام بنایا تھا تاہم انہوں نے حصہ نہیں لیا لیکن وہ پیپلز پارٹی کے بہت بڑے سپورٹر ہیں۔یاد رہے اس سے قبل معروف اداکار قوی خان ، کنول نعمان ، طارق عزیز ، عنایت حسین بھٹی اور مصطفیٰ قریشی بھی عام انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں۔یہ رواج نیا نہیں ہے جب کوئی اداکار عروج پر پہنچ جاتاہے تو انتخابات میں جیت کر عوام کی خدمت کیلئے حکومت میں آتا ہے ۔بھارت میں بھی ماضی میں بہت سے نامور فنکاروں نے انتخابات لڑے اور کامیاب ہو کر جنتا کی خدمت کی ۔ ان میں اداکار دلیپ کمار‘ سنیل دت‘ دھرمیندر‘ ہیما مالنی‘ جیا پرادھا‘ گووندا‘ امیتابھ بچن‘ چندر چور سنگھ اور دیگر بہت سے نامور اداکاروں نے حصہ لیا۔ اسی طرح بہت سے پاکستانی اداکار اور گلوکار اور ماڈلز انتخابات میں اپنی اپنی پارٹیوں میں بٹ گئے ہیں۔شوبز کا کام ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے ہر کسی کا یہی نغرہ ہے کہ اس کی پارٹی الیکشن جیت کر ملک اور عوام کی خدمت کرے گی ۔ اداکار حمزہ علی عباسی ‘ اداکارہ ہنی شہزادی ‘ گلوکارہ شاہدہ منی ‘ اداکارہ میگھا‘ فیشن آئیکون ڈولی ‘کاشف ‘ عمران عباس ‘ فواد خان‘ ماہرہ خان‘ بشریٰ انصاری‘ مہوش حیات ‘ افتخار ٹھاکر‘ دانش تیمور‘ عائزہ خان‘ ہمایوں سعید‘عارف لوہار‘ انور رفیع‘ راشد محمود‘ ندا چودھری‘ سنہری خان‘ نگار چودھری‘ آشا چودھری‘ نسیم وکی ‘ طاہر انجم‘ گلفام‘ اکرم اداس ‘ راگنی‘ فہد مصطفےٰ‘شفق علی‘ مظہر راہی‘ جوجی علی خان‘ احمد نواز‘قاسم سلیم‘ ساحر حسن ‘زاہد اقبال‘ عینی طاہرہ‘ حنا ملک‘ ماہیر سیال اور بہت سے فنکار اپنی اپنی پارٹیوں کو جتوانے میں لگے ہوئے ہیں ۔ نتائج کیا آتے ہیں یہ کسی کو معلوم نہیں لیکن اللہ سے دعا ہے کہ جو بھی آئے وہ ملک اور عوام کا خیر خواہ ہو۔ادھر سینیٹ قائمہ کمیٹی میں بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ پاک فوج کا الیکشن سے کوئی تعلق نہیں۔ آرمی صرف امن و امان کی صورتحال بہتر رکھنے کے لئے کام کر رہی ہے۔ آرمڈ فورسز ہمیشہ سول اداروں کو سپورٹ دیتی رہی ہے۔آج 3لاکھ71ہزار فوجی اہلکار پولنگ سٹیشنز پر تعینات بھی ہوں گے۔انتخابات سے متعلق پوچھے گئے سوالات پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گلوکارہ شاہدہ منی نے کہا کہ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کو ایسے حکمران نوازے جو اس ملک کو صحیح معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن کرسکیں ۔اداکارہ میگھا نے کہا کہ اللہ کرے آج انتخابات خیریت سے ہوں ۔ اور خیریت ہی سے ہوں گے کیونکہ ہمارے فوجی جوانوں کی نگرانی میں کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ دھاندلی ہوئی ہے ۔انتخابات شفاف ہوں گے۔فیشن آئیکون ڈولی نے کہا کہ سوشل میڈیا پر تمام پارٹیوں نے اپنے اپنے محاذ گرم کئے ہوئے ہیں لیکن یہ یاد رکھیں کہ سوشل میڈیا سب کچھ نہیں ہے یہ ہمارے ملک کا صرف 15فیصد ہے۔اس لئے حقائق جاننے کیلئے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے انکار نہیں۔میری دعا ہے کہ اللہ ہمارے ملک اور عوام کیلئے جو اچھا ہے وہ کردے۔






































