لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کالم نگار مریم ارشد نے کہا ہے کہ سپیکر اسد قیصر کو غیرجانبدار رہنا ہوگا۔ صدر کے بعد سپیکر کی سیٹ بہت اہم ہوتی ہے۔ چینل۵ کے پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسد قیصر کو ذمہ داری سے فیصلے کرنا ہوں گے جس کا تقاضا ان کا عہدہ کرتا ہے جب تک پارٹی میں مشاورت نہیں ہوگی فیصلہ کرنا مشکل ہوگا۔ اپوزیشن کا مضبوط ہونا حکومت کے لئے ضروری ہوتا ہے میرے خیال میں موجودہ اپوزیشن مضبوط نہیں میرے خیال میں یاسمین راشد کو اگر وزیراعلیٰ پنجاب بنا دیا جاتا تو بہتر ہوتا۔ کالم نگار ضمیر آفاقی نے کہا ہے کہ نومنتخب سپیکر سے عوام کو کافی تعلقات ہیں۔ ان کا کردار اس طرح کا ہونا چاہئے کہ کسی کو ان سے شکایت نہ ہو یعنی وہ اپنے عہدے سے انصاف کریں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو مضبوط اپوزیشن کا سامنا رہے گا۔ ن لیگ نے پنجاب میں اس طرح دلچسپی نہیں دکھائی جس طرح دکھانی چاہئے تھی تحریک انصاف وزیراعلیٰ پنجاب کے حوالے سے لگتا ہے کنفیوژہے۔ تحریک انصاف کے اندر گروپنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودیہ کے حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ وہ پاکستان کیساتھ تعلقات رکھے۔ کالم نگار اعجاز حفیظ نے کہا کہ ووٹ دانستہ طور پر مسترد ہوئے ہیں یہ لوگ ووٹ دینا ہی نہیں چاہتے انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اسمبلی میں آنا چاہئے آئین اور قانون سے کوئی بالاتر نہیں جب ن لیگ والے احتجاج کررہے تھے تو پیپلزپارٹی کے لوگ سیٹوں پر بیٹھے رہے اسد قیصر کافی تجربہ کار ہیں بدقسمتی سے سابق سپیکر ایاز صادق درست سمت میں نہیں تھے ایوان میں کچھ کہتے تھے اور باہر کچھ اوراب ایوان کا تقدس اسد قیصر کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ جو کہتا ہے سعودیہ وہ کرتا ہے انہوں نے کہا آصف زرداری کی سیاست کوسمجھنا بہت مشکل ہے۔ کالم نگار توصیف احمد خان نے کہا ہے کہ سپیکرز کے انتخاب سے واضح ہوگیا کس کے کتنے ووٹ ہیں مہذب ملکوں میں سب کو شخص سپیکر بننا ہے تو وہ اپنی پارٹی بھی چھوڑ دیتا ہے انہوں نے کہاکہ پنجاب کے سپیکر کے لیے میرے خیال میں پرویز الٰہی زیادہ ووٹ لیں گے اس سے قبل بھی وہ سپیکر رہے چکے ہیں۔ یمن میں جب فوج بھیجنے کی باتیں ہو رہی تھی تو عمران خان نے مخالفت کی تھی تو دوسروں کی لڑائی میں ہم فریق نہیں بنیں گے انہوں نے کہا کہ جو بھی کام ہونا ہوتا ہے شیخ رشید کو اس کا پتہ ہوتا ہے
