لاہور(سوسائٹی رپورٹر) محنت کش کی جوان بچی اغوائ، پولیس ملزمان سے مل گئی، باپ پر صلح کیلئے دباو¿، پیسوں کی ڈیمانڈ ، پولیس مرکزی ملزم کو گرفتار کرنے سے گریزاں، تفصیلات کے مطابق ٹھوکر بائی پاس گوپے رائے کے رہائشی محنت کش عبدالغفار کی 19سالہ بیٹی فرزانہ کو سابق ہمسایہ زین شاہ اور اس کی بیوی ثمرہ بی بی نے زبردستی اغواءکرلیا، تھانہ چوہنگ میں رپورٹ کرنے کے بااجود تفتیشی نے مرکزی ملزم زین شاہ کی بیوی ثمرہ بی بی کو گرفتار کرکے پیسے لیکر چھوڑ دیا ، جبکہ مرکزی ملزم زین شاہ کو گرفتار کرنے سے گریزاں ہے، جبکہ زین شاہ کا ٹیلیفون نمبر بھی چل رہاہے، جس سے وہ مدعی کو دھمکیاں دے رہاہے، جبکہ پولس روائتی بے حسی کا مظاہرہ کررہی ہے ، تفتیشی اے ایس آئی عابد مدعی سے پیسوں کا مطالبہ کررہاہے ، مدعی عبدالغفار نے اپنی بیوی کیساتھ سوسائٹی فار ہیومن رائٹس لاہور سرکل میاں عبدالسلام ، سیکرٹری جنر ل ملک آفتاب سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم غریب محنت کش لوگ ہیں ، پولیس ہماری بیٹی کو برآمد کرنے میں بالکل تعاون نہیں کررہی، جبکہ ملزم زین شاہ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ اس سے قبل بھی دو خواتین کو زبردستی اغواءکرکے نکاح کرچکا ہے ، وہ اپنے سیل فون سے مدعی پارٹی کو دھمکیاں دے رہاہے، اغواءشدہ بچی فرزانہ کے والد عبدالغفار نے حکومت پنجاب اور چیف جسٹس سے اپیل کی ہے کہ میری بچی کو ملزمان کے چنگل سے آزاد کروایا جائے ، تفتیشی عابد سے رابطہ کرنے پر اسکا کہنا تھا کہ ملزمان کو گرفتار کرنے کی کوشش جاری ہے جلد گرفتار کرلیا جائیگا۔
