Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • اہلیہ نے آج تک میرے لیے چائے کا ایک کپ نہیں بنایا، انوپم کھیر
    • مومنہ اقبال کے ثاقب چدھڑ کی اہلیہ سے تعلق کی حقیقت سامنے آ گئی
    • ایران نے افزودہ یورینیم سے متعلق دوٹوک جواب دیدیا
    • ٹرمپ کا ناکہ بندی کھولنے اور معاہدے کے نکات طے پانے کا اعلان؛ ایران کا ردعمل بھی آگیا
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان
    • کراچی کے قریب کھلے سمندر حادثہ، 2 جہاز ٹکرا گئے
    • حمل کی مسلسل نگرانی کرنے والا الٹراساؤنڈ پیچ متعارف، جسے پہنا بھی جاسکتا ہے
    • گوشت کھانے والوں اور لمبی عمر کے درمیان تعلق پر نئی تحقیق، ماہرین بھی حیران
    • علی خامنہ ای کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ، برطانوی اخبار کا دعویٰ
    • وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کےلیے تیار، اہم خدوخال سامنے آگئے
    • بھارت کے 15 سالہ کرکٹر ویبھوو سوریا ونشی نے کرس گیل کا ریکارڈ توڑ دیا
    • کیا پاکستان کو ٹھیک کیا جاسکتا ہے؟
    • پٹرول کی قیمتوں میں 20 روپے فی لٹر سے زائد کمی کا امکان
    • پٹرول اور ڈیزل کتنا سستا ہو رہا ہے؟ عوام کیلیے بڑی خوشخبری آ گئی
    • بابراعظم اور شوبز اسٹارز کا عید پر دلکش انداز سوشل میڈیا پر وائرل
    • حب؛ تیز رفتار موٹر سائیکلیں آپس میں ٹکرا گئیں، 3دوست جاں بحق
    • امریکی انتظامیہ ٹرمپ کی تصویر والا 250 ڈالر کا نوٹ لانے کی کوششیں کرنے لگی: امریکی اخبار
    • رومانیہ میں ڈرون گرنے کے بعد نیٹو ممالک نے روس پر تنقید کی۔
    • بھارت :انتہاپسند ہندؤوں کا مسلمانوں کوعیدکی نماز کیلئے عوامی مقامات دینے سے انکار، اجتماعات کیخلاف دھمکیاں
    • کرن جوہر نے شاہ رخ خان،کرینہ سمیت کئی بالی وڈ شخصیات کو ان فالو کردیا، وجہ کیا بتائی؟
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    فضل الرحمن کے کارنامے بے نقاب ہر دور حکومت میں وارے نیارے ”خبریں“ کے حسنین اخلاق کی چونکا دینے والی رپورٹ

    By Daily Khabrainجنوری 11, 2019
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    لاہور(رپورٹ:حسنین اخلاق)ایم ایم اے ختم ہونے کے بعد اپوزیشن اتحاد کو جمع کرنے میں مشغول مولانا فضل الرحمن کیااسلامی ،نظریاتی یا ذاتی مفادات کی سیاست میں مصروف ہیں؟۔پی پی پی اور ن لیگ کے رہنماءبھی جے یو آئی سربراہ کی مفاداتی سیاست سےائف ہونے لگے۔ان رہنماﺅں کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن جو کہ پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علماءاسلام (ف) گروپ کے مرکزی امیر اور صوبہ خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ مولانا مفتی محمود کے صاحبزادے ہیں۔ وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت، پی پی پی کے بھی اتحادی رہے جبکہ ان حکومتوں میں بطور رکن قومی اسمبلی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں۔2018 کے الیکشن میں مولانا کو شکست ہوئی اور وہ سخت تنقید کر رہے ہیں جس کے بعد وہ قومی اداروں پر سخت تنقید میں مصروف ہوچکے ہیں۔چیرمین شپ کے مزے ختم ہوئے تو مولانا فضل الرحمان سے سرکاری رہائش گاہ چھن گئی، مولانا نے تیرہ سال بعد منسٹراینکلیو کا بنگلا نمبر بائیس خالی کر کے بوریا بستر سمیٹا،اور اب تبدیلی نے مولانا فضل الرحمان کی سیٹ ہی نہیں چھینی انھیں بے گھر بھی کردیا سرکاری آشیانہ چھن گیا۔مولانا اسی پاکستان کی قومی اسمبلی میں کئی برس رکن رہے، ان کے بزرگوں نے جس کی مخالفت کی تھی۔ اسی پاکستان سے انواع و اقسام کی مراعات حاصل کیں۔ کشمیر کمیٹی کے صدر رہے۔ جبکہ مولانا کے قریبی عزیزوںنے کس طرح اس ریاست پاکستان سے بھرپور فوائد اٹھائے، موجودہ اسمبلی میںفضل الرحمن صاحب نے قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کے لیے اپنے ہی صاحبزادے اسد محمود کو نامزد کر دیا تو حیرت کیسی؟متحدہ مجلس عمل کا دور اقتدار توسب کو یاد ہی ہو گا جب یہ سب اکابرین کے پی کے میں نفاذ اسلام کی جدوجہد میں مصروف تھے۔مولانا کے چھوٹے بھائی ضیاءالرحمن متحدہ مجلس عمل کے دور اقتدارکے دنوں پی ٹی سی ایل میں اسسٹنٹ انجینئر تھے۔مارچ 2005ءمیں اچانک وزیر اعلیٰ کے حکم پر انہیں افغان ریفیوجیز کمیشن میں پراجیکٹ ڈائریکٹر لگا دیا گیا۔یہ سب اتنی عجلت میں کیا گیا کہ پہلے سے موجود پراجیکٹ ڈائریکٹر فیاض درانی کو ان کے منصب سے الگ کیے بغیر مولانا کے بھائی کو یہاں تعینات کر دیا گیا۔۔مذکورہ افسر پوچھتا ہی رہ گیا کہ جو سیٹ خالی ہی نہیں اس پر کسی کو کیسے تعینات کر دیا گیا۔دو سال بعدانہیں شاید یہ محکمہ کچھ زیادہ ہی پسند آگیا۔چنانچہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی نے ایک خصوصی سمری تیار کی ،اکتوبر 2007 ءمیںگورنر علی محمد جان اورکزئی نے اس سمری کو منظور کر لیا اور یوں ایک اسسٹنٹ انجینئر کو سپیشل کیس کے طور پر صوبائی سول سروس کا حصہ بنا دیا گیا اور انہیں اسی افغان ریفیوجیز کمیشن میں ایڈیشنل کمشنر لگا دیا گیا۔2013ءمیں مرکز میں مسلم لیگ ن کی حکومت بنی تو جے یو آئی اس حکومت کا حصہ بن گئی۔درانی صاحب نے وزیر کا حلف اٹھا لیا۔ 25 فروری 2014ءکو ایک نیا نوٹیفیکیشن جاری ہوا اور انکی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن کے سپرد کر دی گئیں۔اور انہیں ڈی سی او خوشاب بنا دیا گیا۔ ایک اسسٹنٹ انجینئر مقابلے کا امتحان دیے بغیر سول سروس کا حصہ بھی بن گیا اور ڈی سی او بھی لگ گیا۔اپریل 2016ءمیں ان کی خدمات سیفران کے حوالے کر دی گئیں اور سیفران نے انہیں کمشنر افغان ریفیوجیز کے عہدے پر تعینات کر دیا۔ یہ گریڈ 20 کی پوسٹ تھی جو مولانا کے بھائی کی خدمت میں پیش کر دی گئی جبکہ اس سیٹ پرپہلے سے تعینات افسر محمد عباس نے سی ایس ایس کر رکھا تھاجس نے اٹلی سے ریفیوجی لاءکورس کر رکھا ہے ، آ کسفورڈ یونیورسٹی سے ’ فورسڈ مائیگریشن‘ کا سمر سکول اٹینڈ کیا ہوا ہے۔ان کے بھائی مولانا عطاءالرحمن پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں وفاقی وزیر بنا دیے گئے۔2008ءسے 2010ءتک وہ وزیر سیاحت رہے۔1988میں انہیں مولانا سمیع الحق کی مخالفت کے باوجود مرکزی الیکشن کمیشن تعینات کرکے پارٹی انتخاب کروائے گئے۔وہ جے یو آئی کے پی کے ، کے جوائنٹ سیکرٹری بھی رہے۔ 2002ئٓ میں یہ پارٹی کے ڈپٹی الیکشن کمشنر بنے ، اس کے بعد انہیں کے پی کے جماعت کا نائب امیر بھی بنا دیا گیا۔2003 ءاور 2008ءمیں علمائے اسلام کی جمعیت میں کوئی اس قابل نظر نہ آ یا چنانچہ اس بھاری ذمہ داری کے لیے ایک بار پھر انہی کو چنا گیا۔2013ءکے انتخابات میں مولانا فضل الرحمن نے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان اور لکی مروت سے قومی اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ضمنی الیکشن کا مرحلہ آیا تو ایک بار پھر نظر انتخاب اپنے ہی بھائی پر پڑی اور انہیں لکی مروت این اے 27 سے ٹکٹ دیا گیایہ الگ بات کہ وہ ہار گئے۔سینیٹ کے انتخابات کا مر حلہ آیا تو مولانا نے ان کو ایک بار پھر اقتدار کے ایوانوں تک لا پہنچایا اور سینیٹر بنوا دیا۔ اس وقت مولانا عطا الرحمن سینیٹر ہیں۔انکے ایک اوربھائی مولانا لطف الرحمن ہیں۔کے پی میں تحریک انصاف کی حکومت بنی تو قائد حزب اختلاف کے لیے بھی علمائے اسلام کی جمعیت میں مولانا فضل الرحمن کے بھائی جان کے علاوہ کوئی بندہ نہ ملا چنانچہ مولانا لطف الرحمن اپوزیشن لیڈر قرار پائے۔ایک اور مثال حاجی غلام علی صاحب کی ہے جو مولانا کے سمدھی ہیں اور سینیٹر بھی رہ چکے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کے اپنے صاحبزادے کو ڈپٹی سپیکر کے عہدے کے لیے نامزد کرنے پر مجلس عمل میں تناﺅ ہے اور سراج الحق سمیت کچھ رہنما اس سے خفا ہیں۔ اس لئے جہاں ایم ایم اے میں شامل قائدین جے یوآئی سربراہ سے اپنے خاندان کو نوازنے کے حوالے سے ناراض ہوکر مذہبی جماعتوں کے اتحاد سے الگ ہورہے ہیں وہیں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے اہم رہنماءبھی کسی ایسے اتحاد کا حصہ بننے کو تیار نہیں ہیں جس میں مولانا فضل الرحمن کو اہم ذمہ داری دی جائے۔

    Daily Khabrain

    Keep Reading

    کراچی کے قریب کھلے سمندر حادثہ، 2 جہاز ٹکرا گئے

    وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کےلیے تیار، اہم خدوخال سامنے آگئے

    پٹرول کی قیمتوں میں 20 روپے فی لٹر سے زائد کمی کا امکان

    تازہ ترین

    کراچی کے قریب کھلے سمندر حادثہ، 2 جہاز ٹکرا گئے

    وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کےلیے تیار، اہم خدوخال سامنے آگئے

    پٹرول اور ڈیزل کتنا سستا ہو رہا ہے؟ عوام کیلیے بڑی خوشخبری آ گئی

    حب؛ تیز رفتار موٹر سائیکلیں آپس میں ٹکرا گئیں، 3دوست جاں بحق

    بھارت :انتہاپسند ہندؤوں کا مسلمانوں کوعیدکی نماز کیلئے عوامی مقامات دینے سے انکار، اجتماعات کیخلاف دھمکیاں

    Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.