Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • سیکرٹری متروکہ وقف املاک بورڈ ناصر مشتاق بابا گورونانک دیوجی کے 557 ویں جنم دن کے سلسلہ میں منعقدہ انتظامی اجلاس کی صدارت کررہے ہیں ‘ ڈپٹی سیکرٹری سادات شہباز خان’ ڈپٹی سیکرٹری سید فراز عباس اور دیگر افسران موجود ہیں۔
    • جیلوں میں گنجائش سے 90 فیصد زیادہ قیدی 75 فیسد انصاف کے منتظر
    • وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا نواحی شہر بھارہ کہو ڈرگ مافیا کے نرغے میں
    • راولپنڈی ٹریفک پولیس کا ماحولیاتی آلودگی اور سموگ پیدا کرنیوالی گاڑیوں کیخلاف بڑے پیمانے پر کاروائی کا فیصلہ
    • پشاور اسکول حادثہ، جاپانی سفیر کا بچوں اور استاد کی اموات پر اظہارِ تعزیت
    • چیئرمین سی ڈی اے کا اسلام آباد میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ
    • معصوم بچوں کے جانی نقصان پر دل رنجیدہ ہے: سر دار ایاز صادق
    • ملک نصیر کی زیر نگرانی ایس آئی مبین کی پولیس ٹیم کے ہمراہ کارروائی
    • ٹی ایم یو سی کے کلاس آف 2026 کے گریجویٹس کے اعزاز میں تقریب
    • شہباز لغاری کا گلشنِ حدید میں ایک خاندان کے مبینہ اجتماعی خودکشی کے واقعے پر تشویش کا اظہار
    • کراچی میں گرمی کی شدت برقرار، پارہ 39 ڈگری تک جانے کا امکان
    • اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نئی رپورٹ جاری کرے،پاکستان
    • آازاد کشمیر کی داخلی خود اختیاری تشخیص کو کوئی خطرہ نہیں طارق فاروق
    • ڈکیتی کی واردات اور شہری کا موٹر سائیکل چوری پولیس نے ایف ائی ار درج کر لی
    • تھانہ جاتلی کے علاقے دیوی داتا میں سی سی ڈی پولیس کا مبینہ مقابلہ
    • ورلڈ بینک کا واسا لاہور کے ترقیاتی منصوبوں میں تعاون بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار
    • موٹر سائیکل سوار 3 ملزمان کی پولیسپارٹی پر فائرنگ، فائرنگ کے دوران زخمیملزم سمیت دو ملزمان گرفتار، ساتھی فرار
    • راولپنڈی پولیس کی کارروائیاں 5 افراد کو حراست میں لے کر چرس اور شراب برآمد کر لی
    • گنجمنڈی پولیس کی کارروائی، ایک روز قبل ذاتی رنجش پر ساتھیوں کے ہمراہ تشدد کرکے دو شہریوں کو زخمی کرنے والا ملزم گرفتار
    • گھریلو تنازعے پر 45 سالہ مشتاق نامی شخص نے اپنی بیوی کو گلا دبا کر قتل کرکے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    چاند کے قدرتی وسائل پر کس کا حق ہے؟

    By Daily Khabrainجنوری 27, 2019
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    لاہور (ویب ڈیسک ) کچھ کاروباری کمپنیاں آج کل نادر معدنیات کی تلاش میں چاند پر کان کنی کے بارے میں سوچ رہی ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چاند کے ان قدرتی وسائل پر حق کس کا ہے اور کیسے؟
    چاند پر پہلے انسانی قدم کو تقریباً 50 برس گزر چکے ہیں، نیل ا?رمسٹرانگ کا وہ ’پہلا چھوٹا سا قدم‘ جسے انھوں نے ’انسانیت کے لیے ایک بہت بڑی چھلانگ‘ کہا تھا۔ اس تاریخی قدم کے تھوڑی دیر بعد ہی نیل ا?رمسٹرانگ کے ہمسفر بز ایڈرن بھی اس پرسکون سمندر‘ میں قدم رکھ چکے تھے۔
    چاند گاڑی ایگل کی سیڑھیوں سے اترتے ہوئے جب بز ایڈرن نے چاند کی دور دور تک خالی سطح پر نظر دوڑائی تو اسے ایک ’شاندار ویرانی‘ سے تعبیر کیا تھا۔ جولائی سنہ 1969 کے اِس اپالو 11 مشن کے بعد سے چاند انسانی ہاتھوں سے زیادہ تر دور ہی رہا اور سنہ 1972 کے بعد کوئی انسان وہاں نہیں اترالیکن اب صورت حال تبدیل ہو سکتی ہے کیونکہ اب کئی ایک کمپنیاں نہ صرف چاند کی سطح کے بارے میں مزید کھوج لگانے میں دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں بلکہ اسے کھود کر وہاں سے سونا، پلاٹینم اور الیٹکرونکس میں استعمال ہونے والی دیگر معدنیات نکالنے کا بھی سوچ رہی ہیں۔
    پچھلے ہی ماہ چینی ماہرین نے چاند کے اس حصے پر اپنا خلائی مشن اتارا جو ہمیں زمین سے دکھائی نہیں دیتا اور وہاں کپاس کا بیج اگانے میں بھی کامیاب ہو گئے۔ لگتا ہے اب چین وہاں ایک تحقیقی مرکز بھی قائم کر دے گا۔ اس کے علاوہ ایک جاپانی کپمنی ’ا?ئی سپیس‘ زمین اور چاند کے درمیان ا?مد و رفت کے لیے ایک پلیٹ فارم تعمیر کرنے کے علاوہ چاند پر پانی کی تلاش کا کام شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
    ایسے میں کیا کوئی قوانین یا اصول موجود ہیں جن کے اطلاق سے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ایڈرن کی ’شاندار ویرانی‘ اپنی جگہ پر قائم رہے؟
    مغرب اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کے دنوں سے خلا میں چھان بین اور خلائی اجسام پر پائے جانے والے ممکنہ قدرتی وسائل پر حق کے حوالے سے بحث ہوتی رہی ہے۔ اقوام متحدہ نے سنہ 1967 میں امریکہ، برطانیہ اور سوویت یونین سے ایک ایسے معاہدے پر دستخط کروائے جب امریکہ کا خلائی ادارہ ناسا چاند پر انسانی مشن بھیجنے کی تیاری کر رہا تھا۔ اقوام متحدہ میں ہونے والے اس معاہدے کو ‘ا?و?ٹر سپیس ٹریٹی’ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس معاہدے میں واضح کیا گیا کہ کوئی بھی ملک چاند یا دوسرے خلائی اجسام پر موجودگی کی بنیاد پر اس کی ملکیت اور حاکمیت کا دعوی نہیں کر سکتا۔
    خلا سے متعلق کمپنی ایلڈن ایڈوائزر کی ڈائریکٹر جان ویلر کہتی ہیں ‘ا?و?ٹرسپیس ٹریٹی’ کو خلا کا میگنا کارٹا بھی گردانا جا سکتا ہے۔ جان ویلر کہتی ہیں ‘چاند پر جھنڈا لہرانا، جیسے نیل ا?رمسٹرانگ اور اس کے جانشینوں نے کیا، بے معنی عمل ہے کیونکہ ایسے کرنے سے کسی فرد، کمپنی یا ملک کو اس خلائی جسم کے مالکانہ حقوق نہیں مل جاتے۔’
    لیکن سنہ 1969 میں عملی لحاظ سے یہ بات اتنے معنی نہیں رکھتی تھی کہ چاند کی زمین کی ملکیت یا اس پر کان کنی کا حق کس کے پاس ہے اور کس کے پاس نہیں۔ تاہم جوں جوں ٹیکنالوجی میں ترقی ہوئی ہے چاند کے ممکنہ وسائل سے منافع کمانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ اب بھی یہ بات ہے تو مستقبل بعید کی لیکن اس کے امکانات بہرحال زیادہ ہوتے جا رہے ہیں۔اسی خیال کے پیش نظر اقوام متحدہ نے ’میثاقِ قمر‘ کے نام سے ایک معاہدہ جاری کیا تھا جس کا مقصد چاند اور دیگر ا?سمانی اجسام پر مختلف ممالک کی سرگرمیوں کو قانونی دائرے میں رکھنا ہے۔ اس معاہدے کے مطابق خلائی وسائل کے لیے ضروری ہے کہ انھیں پ?ر امن مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے اور ہر ملک کے لیے ضروری ہے کہ وہ اقوام متحدہ کو بتائے کہ وہ خلا میں کس جگہ کوئی سٹیشن تعمیر کرنا چاہتا ہے اور کیوں کرنا چاہتا ہے۔
    معاہدے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’چاند اور اس کے قدرتی وسائل انسانیت کا مشترکہ اثاثہ ہیں‘ اور ایک ایسا بین الاقوامی معاہدہ ہونا چاہیے جس کا اطلاق اس وقت شروع ہو جانا چاہیے جب ’ اس قسم کے وسائل سے فائدہ اٹھانا ممکن نطر ا?نے لگے۔‘ لیکن ’میثاق قمر‘ میں مسئلہ یہ ہے کہ ابھی تک اس پر صرف 11 ممالک نے دستخط کیے ہیں۔ فرانس اور انڈیا نے بھی دستخط کر دیے ہیں لیکن خلائی میدان کے بڑے کھلاڑیوں، مثلاً چین، امریکہ اور روس نے اس پر دستخط نہیں کیے اور نہ ہی برطانیہ نے ایسا کیا ہے۔
    قطع نظر اس کے، مِس ویلر کہتی ہیں کہ معاہدے میں طے کردہ اصولوں پر عمل درا?مد کرانا ا?سان نہیں ہے کیونکہ مختلف ممالک ایسی مختلف دستاویزات کو قانون میں شامل کرتے رہتے ہیں اور یہ یقینی بنانا ان ممالک کا کام ہے کہ ان کے شہری اور ا?ن کی کمپنیاں ان اصولوں کی پابندی کریں۔ سپیس لا جریدے کی سابقہ ایڈیٹر انچیف پروفیسر جان ایرین اس خیال سے متفق ہیں کہ خلا سے متعلق عالمی معاہدوں پر عمل درا?مد کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی ہے۔ وہ کہتی ہیں ’ان معاہدوں پر عمل درا?مد سیاست، معیشت اور عوامی رائے کا ایک پیچیدہ سا مرکب ہے۔‘
    خلائی اجسام میں کسی فرد یا ملک کی ملکیت اور حاکمیت کو نہ ماننے سے متعلق ان معاہدوں کو حالیہ برسوں میں کئی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ امریکہ نے سنہ 2015 میں’ کمرشل سپیس لانچ کمپیٹٹو ایکٹ’ نامی قانون منظور کیا جس میں شہریوں کے ایسے وسائل پر ان کے حق کو تسلیم کیا گیا جو انھوں نے کسی چھوٹے سیارے پر کان کنی کے ذریعے حاصل کیے ہوں۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      انسانی مزدوروں کا مستقبل خطرے میں؟ شیاؤمی کا ہیومنائیڈ روبوٹ 98 فیصد کامیاب

      "گلیکسی اَن پیکڈ ڈیوائسز لانچ سے پہلے لیک ہو گئیں۔”

      لاہور میں ٹریفک کی نگرانی کے لیے اے آئی سے چلنے والا ڈرون سسٹم متعارف کروا دیا گیا۔

      تازہ ترین

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      ریاض حملے کے بعد حوثیوں کی نئی دھمکی، سعودی ایئرپورٹس استعمال نہ کرنے کی وارننگ

      * رابطوں کے باوجود پی ٹی آئی کی خاموشی، محسن نقوی کے اہم انکشافات

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.