تازہ تر ین

ایمازون کے بانی نے خلائی کا لونیوںکا نقشہ پیش کر ڈالا

واشنگٹن (ویب ڈیسک ) ایمازون کے بانی جیف بیزوز دنیا کے امیر ترین شخص ہیں اور اب وہ زمین کے مدار میں تیرنے والی خلائی کالونیاں تعمیر کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔گزشتہ روز واشنگٹن ڈی سی میں چاند تک انسانوں کے لیے جانے والے بلیو مون لینڈر کو متعارف کراتے ہوئے جیف بیزوز نے اپنے اس عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان خلائی رہائشی بستیوں میں پورا سال موسم ایک جیسا اچھا رہے گا۔بلیو مون لینڈر کو جیف بیزوز کی راکٹ کمپنی بلیو اوریجن نے تیار کیا ہے جو پہلے سائنسی سامان چاند تک لے جائے گا جبکہ 2024 میں انسانوں کو وہاں پہنچانے کا کام کرے گا۔اس ایونٹ کے دوران جیف بیزوز نے کہا کہ وہ دس کھرب افراد کو خلا میں او نیل کالونیوں میں بسانے کا عزم رکھتے ہیں۔اونیل کالونیاں ایسی خلائی ٹیکنالوجی ہے جس میں انسانی زندگی خلائی ماحول میں پھل پھول سکے گی۔یہ کالونیاں خلا میں اسپیننگ سلینڈرز کی شکل کی ہوں گی جن میں کشش ثقل ہوگی جبکہ یہ زمین کے گرد چکر لگاتے ہوئے لوگوں اور پودوں کو رہنے کا موقع فراہم کریں گی۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ان کالونیوں میں زمین جیسی کشش ثقل نہیں ہوگی بلکہ کچھ جگہوں پر صفر کشش ثقل ہوگی جہاں آپ کود اڑ سکیں گے جبکہ کچھ مقامات کو نیشنل پارکس بنایا جائے گا۔ان سلینڈرز کو پرنسٹن یونیورسٹی کے سائنسدان جیراڈ او نیل کا نام دیا گیا ہے جنہوں نے 1976 میں کہا تھا کہ دیگر سیارے ممکنہ طور پر انسانوں کے قیام کے لیے بہتر مقامات ثابت نہیں ہوں گے۔جیف بیزوز کے منصوبے کے مطابق ان خلائی کالونیوں میں قیام زمین جتنا آسان ہوگا جبکہ درجہ حرارت امریکی ریاست ہوائی جیسا ہوگا، جہاں بارش نہیں ہوگی، زلزلہ نہیں آئے گا اور لوگ وہاں ضرور رہنا پسند کریں گے۔جیف بیزوز کے مطابق کچھ کالونیاں زمین کے کچھ شہروں کی نقل ہوں گی جبکہ کچھ بالکل نئی طرز کی تعمیرات کی حامل ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ یہ کالونیاں بہت خوبصورت ہوں گی اور لوگ ہنسی خوشی وہاں رہنے جائیں گے اور چونکہ یہ زمین کے قریب ہوں گی تو جب دل کرے گا تو واپس بھی آجائیں گے۔تاہم جیف بیزوز کا کہنا تھا کہ او نیل کالونیاں مستقل کی نسلیں تعمیر کریں گی کیونکہ اس وقت ان کی تعمیر کے لیے درکار ٹیکنالوجی دستیاب نہیں مگر انہوں نے اس مقصد کے لیے انفراسٹرکچر کی تعمیر کا وعدہ کیا، جس کا آغاز بلیومون لینڈر سے ہوگا۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved