اسرائیل اور ایران کے مابین اپریل میں ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کے بعد پہلی بار شدید ترین عسکری تصادم دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ تازہ ترین صورتحال اتوار (7 جون 2026) کو شروع ہوئی جو اب ایک نئے بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
واقعے کا پس منظر
-
اسرائیل کا بیروت پر حملہ: اتوار کے روز اسرائیلی فضائیہ نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے (ضاحیہ) پر اچانک بمباری کی، جس کے نتیجے میں جانی اور مالی نقصان ہوا۔
-
ایران کا جوابی انتباہ: ایران نے پہلے ہی خبردار کر رکھا تھا کہ اگر بیروت پر حملہ کیا گیا تو وہ اسے ریڈ لائن (سرخ لکیر) عبور کرنا تصور کرے گا اور اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ایران کا میزائل حملہ اور اسرائیل کا دعویٰ
بیروت پر اسرائیلی حملے کے چند گھنٹوں بعد، ایران نے اسرائیل کی طرف بیلسٹک میزائلوں کی کئی لہریں فائر کیں، جس کے بعد پورے اسرائیل (خصوصاً وسطی اور شمالی علاقوں) میں خطرے کے سائرن بج اٹھے اور لاکھوں لوگ پناہ گاہوں (Shelters) میں چلے گئے۔
-
اسرائیلی فوج (IDF) کا مؤقف: اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرین کے مطابق، ایران کی طرف سے تقریباً 10 سے 20 بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ اسرائیلی ائیر ڈیفنس سسٹم (فضائی دفاعی نظام) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ان میں سے بیشتر میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ (Intercept) کر دیا، جبکہ کچھ میزائل غیر آباد اور کھلے علاقوں میں گرے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
-
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کا بیان: ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسرائیل کے "رامات ڈیوڈ” ائیر بیس کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران نے سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے اس کا جواب دیا یا لبنان پر حملے جاری رکھے، تو اگلے 7 روز تک چوبیس گھنٹے میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔
تازہ ترین صورتحال اور عالمی ردِعمل
-
اسرائیل کی جوابی کارروائی: میزائل حملوں کے جواب میں، پیر (8 جون) کی صبح اسرائیلی فضائیہ نے مغربی اور وسطی ایران کے متعدد فوجی اہداف کو فضائی بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔
-
فضائی حدود کی بندش: حملوں کے بعد عراق نے اپنی فضائی حدود 72 گھنٹوں کے لیے جبکہ شام نے 12 گھنٹوں کے لیے بند کر دی ہیں۔
-
امریکی صدر کا بیان: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو سے فون پر بات چیت کی اور انہیں فوری طور پر مزید کشیدگی نہ بڑھانے کی تاکید کی۔ ٹرمپ نے ایران کو بھی مشورہ دیا کہ "آپ نے میزائل داغ دیے، اب بس کریں اور مذاکرات کی میز پر واپس آئیں”۔
