تازہ تر ین

ایک کے بجائے 2صوبے بنانے میں حرج نہیں مگر فیصلہ جنوبی پنجاب کی عوام کریں:ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا علم بلند کیا جس کے بعد جنوبی پنجاب اتحاد والوں نے بھی حکومت سے بات چیت کے بعد ساتھ دینے کا اعلان کیا۔ اس اتحاد کے تحریک انصاف میں شامل ہونے کی وجہ سے ہی تحریک انصاف پنجاب میں حکومت بنانے کے قابل ہوئی۔ اب جنوبی پنجاب کو ایک صوبہ بنانے کے بجائے بہاول پور کے وفاقی وزیر طاہر بشیر چیمہ نے صوبہ بہاولپور کی بات کر دی ہے اور کھل کر ن لیگ کا ساتھ دیا ہے۔ تحریک انصاف کا موقف تھا کہ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنا دیا جائے اور بہاولپور کو اس کا صدر مقام بنا دیا جائے۔ ایک تجویز یہ بھی سامنے آئی تھی کہ لودھراں کو نئے صوبے کا صدر مقام بنا دیا جائے، بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس تجویز کے پیچھے جہانگیر ترین ہیں۔ سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی سمیت بہت سے لوگ بہاولپور کو الگ صوبہ بنانے کے حق میں ہیں۔ ن لیگ نے بہاولپور کو صوبہ بنانے کی قرارداد منظور کی تھی تاہم اس کے بعد خاموشی اختیار کر لی صوبہ ایک کے بجائے دو بنانے میں کوئی حرج نہیں تاہم اس فیصلے کا اختیار وہاں کے لوگوں کو حاصل ہونا چاہئے کسی کو بھی اپنی رائے ان پر نہیں ٹھونسنی چاہئے۔ ن لیگ اور پیپلزپارٹی اس معاملے میں سیاست کر رہی ہیں وہ اس مسئلہ پر ایک متفق رائے قائم نہیں کرتی بلکہ وقت کے مطابق دیکھ کر کہ کیا ان کے مفاد میں ہے بات کرتی ہیں۔ 22 ویں آئینی ترمیم میں نشستیں بڑھانے پر تمام جماعتوں نے اتفاق رائے کیا ہے وزیراعظم نے تجویز دی ہے کہ تمام صوبے فاٹاکو حصہ دیں۔ فاٹا کو حصہ دینے کا فیصلہ این ایف سی نے کرنا ہے 3 صوبوں میں تو تحریک انصاف کی حکومت ہے چوتھے میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے اس نے بھی حمایت کی ہے اس لئے لگتا ہے کہ یہ منصوبہ بھی کامیاب ہو گا۔ فاٹا قیام پاکستان سے اب تک پسماندہ علاقہ رہا ہے اب وقت آ گیا ہے کہ ان لوگوں کی محرومیاں دور کی جائیں اور ترقی کے دھارے میں شامل کیا جائے، فاٹا کو فنڈز جاری ہوں گے تو وہاں کے عوام کی قسمت بھی کھل جائے گی انہیں خود محتاری کی حیثیت حاصل ہو گی آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر کا معاہدہ تو ہو گیا تاہم اس رقم سے تو حکومت باقی چار سال پورے نہیں کر سکتی اس لئے ابھی تو نظر یہی آتا ہے کہ آئی ایم ایف سے مزید پروگرام بھی لینا پڑیں گے۔
مریم نواز قانونی طور پر نااہل ہو چکی ہیں ان کو نائب صدر ن لیگ بنانے پر ایک ایم این اے نے عدالت میں بھی رٹ دائر کر دی ہے۔ انتخابی سیاست میں حصہ لینے کیلے میدان سب کے لئے کھلا ہے تاہم مریم نواز بارے عدالت ہی فیصلہ کرے گی کہ انہیں سیاست میں حصہ لینے کی اجازت ہے یا نہیں ہے۔ شہباز شریف کہہ رہے ہیں کہ واپس آ جائیں گے وہ اپنی بیمار پوتی کی عیادت کرنے گئے تھے جو کر چکے ہوں گے انہیں واپس آ جانا چاہئے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved