تازہ تر ین

اپوزیشن بجٹ روک کر غیر جمہوری عمل کو راستہ نہ دکھائے :معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کے طور پر شہباز شریف جو بھی مناسب سمجھیں ان کو حق حاصل ہے کہ جو چاہیں کہیں البتہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہتر فیصلہ ہے کہ ایوان میں ایک دوسرے کو پوری بات کرنے کا موقع دیا جائے اور میرا خیال ہے کہ شہباز شریف کی طرف سے اور باقی لیڈروں کی طرف سے جو دھمکیاں دی گئیں اس کے نتیجے میں جو دھمکی عمران خان صاحب کی طرف سے آئی کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے میں سمجھتا ہوں کہ اس کے نتیجے میں دونوں طرف یہ احساس پیدا ہوا کہ ایک دوسرے کو بات کرنے کا موقع دیا جائے۔ یہ بہتر فیصلہ ہوا۔ البتہ ایک بات بڑی غور لب ہے کہ وہ یہ کہ آج بھی شہباز شریف صاحب نے وہی کہا کہ ہم بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے اب سوال یہ ہے کہ بجٹ پاس نہ ہونے کا مطلب ہے کہ حکومت گر جائے گی حکومت اگر گر جائے گی تو ان ہا?س تبدیلی بھی آ سکتی ہے لیکن یہ دیکھ لینا چاہئے کہ اس قسم کے حالات پیدا ہوں تو پاکستان جیسے ملکوں میں جس کی تاریخ میں طویل ترین مارشل لا ادوار رہے ہیں دس سال ایک، 11 سال ایک اور 9 سال تو پھر اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ کوئی غیر جمہوری عمل بھی سامنے آ سکتا ہے میں یہ سمجھتا ہو ںکہ اس سلسلے میں جہاں ایک بہتر فیصلہ کیا ہے دوسرا بہتر فیصلہ بھی اپوزیشن کو کر لینا چاہئے کہ اس قسم کی باتوں سے کہ ہم بجٹ نہیں پاس ہونے دیں گے اس قسم کی باتوں سے غیر جمہوری راستوں کا خود تعین کر رہے ہیں۔ضیا شاہد نے کہا ہے کہ بجٹ پاس ہو گا یا نہیں یہ تو آنے والا وقت بتائے گا لیکن ایک بات واضح ہے کہ یہ جو اتنا ہنگامہ کیا جا رہا تھا کہ اگر اختر مینگل کے 4 ووٹ حکومتی پارٹی کے ساتھ نہ رہے تو حکومت ٹوٹ جائے گی ہم نے جو تجزیہ چھاپا ہے اس کی اب تک تو تردید نہیں ہوئی ہو بھی کیسے سکتی ہے کہ سینٹ سے لئے ہوئے اعداد و شمار ہیں۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارے ہاں طویل تقریر کرنی اچھی بات ہے اور اس کو صبر سے سننا بھی اچھی بات ہے لیکن بجٹ تقریر میں تو پھر اپنی تعریف کی بجائے بجٹ پر تنقید ہونی چاہئے بجٹ کی بہت چیزیں تھیں جن پر تنقید کی جا سکتی تھی لیکن شہباز شریف صاحب نے شاید اسے مناسب نہیں سمجھا پہلے بھی شہباز شریف پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے بلکہ اپوزیشن حلقوں سے بھی کہ وہ اپنی اور اپنی حکومت کی تعریفیں کرتے رہتے ہیں اس کے علاوہ وہ اصل موضوع پر بات نہیں کرتے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ بجٹ تقریر جو حماد اظہر صاحب نے کی تھی ظاہر ہے کہ وزیراعظم وزیرخزانہ ہیں لیکن اب لیڈر آف اپوزیشن کی تقریر کے بعد اس بات کا تقاضا موجود ہے کہ اپوزیشن اور حکومت بجٹ کو موضوع بنائیں۔ مریم نواز نے کہا ہے کہ سعد رفیق کے پروڈکشن ا??رڈر اس کے لئے نہیں ہو رہے کہ سعد رفیق نے وزیراعظم کو الیکشن میں ہرایا ہے اور اس بات کا تعلق نیب کی گرفتاری پر ہے سعد رفیق پر الزامات ہیں جس پر جواب دے رہے ہیں اور یقینا ان کے بھائی پر بھی الزامات ہیں اس کا وہ عدالت میں جواب دیں گے میں نہیں سمجھتا کہ اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ انہوں نے الیکشن میں عمران خان کو ہرایا تھا۔ عمران خان پچھلی دفعہ بھی 5,4 حلقوں سے کھڑے ہوئے تھے تو میں نہیں سمجھتا کہ جو جو شخص عمران خان سے جیتا ہے عمران خان اس سے ساری عمر بدلہ لیتے رہیں گے۔ معلوم ہوتا ہے کچھ گرد بیٹھ رہی ہے آج جس طرح قومی اسمبلی میں تقریریں ہوئیں اور آئندہ بھی اس کی توقع ہے میرا خیال ہے کہ فریقین کو ایک دوسرے کو قبول کرنا پڑے گا اور لگتا ہے کہ معمول کی کارروائی شروع ہو جائے گی۔ پنجاب اسمبلی میں ابھی بجٹ پر بحث شروع ہونی ہے مجھے ا±مید ہے کہ اب ایک دوسرے کی بات سنی جائے گی اور بات کہنے کا موقع بھی ملے گا اپوزیشن کو بھی بات کرنے کا موقع ملنا چاہئے اور حکومتی ارکان کو بھی اپنی بات کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔ اسمبلیاں اس لئے ہوتی ہیں کہ ان میں اظہار خیانل ہو اس لئے نہیں ہوئیں کہ ایک دوسرے کو بات ہی نہ کر دی جائے۔ عمران خان کی طرف سے یہ بیان کہ کسی بھی محکمے میں کرپشن برداشت نہیں کی جائے گی۔ ضیا شاہد نے کہا کہ یہ اچھی پالیسی ہے اور اگر وہ اس پر قائم رہے تو اس کے اچھے اثرات برآمد ہوں گے فوری طور پر ہو سکتا ہے اس کا کوئی ردعمل زیادہ اچھا نہ ہو لیکن آخر کار کرپشن کا خاتمہ ملک کو صحیح پٹڑی پر ڈال دے گا۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں 13 نکاری ایجنڈے پر غور کیا گیا کہ 40 ہزار روپے کے انعامی بانڈ کو لازماً رجسٹر کروانا ہو گا ضیا شاہد نے کہا کہ رجسٹریشن نہ ہو تو جس کا بھی بانڈ نکلتا تھا وہ اس کا بانڈ ٹیکس کاٹنے کے بعد 25 لاکھ ایک کروڑ سے کٹ جاتا تھا اس لئے جس کا بانڈ نکلتا تھا فوراً بلیک منی والے لینے جاتے تھے اور وہ ان سے پورے ایک کروڑ کا خرید لیتے تھے اور کالے دھن والے 25 لاکھ کٹوا کر کالا دھن سفید کر لیتے تھے اب رجسٹریشن ہو گی تو پھر میرا خیال ہے اس کو بلیک منی والے استعمال نہیں کر سکیں گے۔ یہ ایک لحاظ سے اچھی اصلاحی تجویز ہے۔ مریم نواز نے کراچی سے احتجاجی مہم کا آغاز اور پہلا جلسہ کراچی میں کرنے کا اعلان کیا ہے ضیا شاہد نے کہا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ ن لیگ صرف پنجاب کی حد تک ہے اس لئے اس تاثر کو ختم کرنے کے لئے کراچی میں جلسہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ لیکن وہاں لیگ ن یا مریم نواز پذیرائی نہیں ملے گی وہ اپنا شوق پورا کر لیں۔ بلاول جلسہ کریں مریم نواز یہ عوامی رابطہ مہم ہے یہ الیکشن کی تیاری نہیں ہے۔ ن لیگ کو کراچی اور پیپلزپارٹی کو لاہور میں کوئی پذیرائی نہیں ملے گی۔ اسحق ڈار لندن میں ہوم آفس میں 4 گھنٹے تک موجود رہے ہیں وہاں ان کا سیاسی پناہ کے لئے دوسرا انٹرویو ہے۔ ضیا شاہد نے کہا ہے کہ فی الحال کوئی دعویٰ نہیں کیا یہ تو وقت ہی بتا سکتا ہے لیکن مشکل ہے۔ چیف جسٹس کے کہنے میں کافی وزن ہے کہ اسمبلیوں میں گزشتہ دنوں یہی کچھ ہوتا رہا ہے اور خدا کا شکر ہے ایک مشکل تو ختم ہوئی اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی رسم شروع ہو جائے تو یہ ایک بہتر صورت حال ہو گی۔ لیکن بجٹ کے معاملہ میں بجٹ پر بات کی جائے۔ معیشت پر بات کی جائے۔چیف جسٹس پاکستان کی باتوں میں وزن ہے ایوانوں میں وہی کچھ نظر آ رہا ہے جس کی بات انہوں نے کی تاہم اب کچھ بہتری نظر آنے لگی ہے حکومتی اور اپوزیشن ارکان ایک دوسرے کی بات سننے لگے ہیں۔ بجٹ اجلاس میں صرف معاشی مسائل پر بات کی جانی چاہئے ادھر ادھر کی باتیں اور سابق حکوومتوں کے موازنے نہیں کرنے چاہئیں مقبوضہ کشمیر میں جس طرح قتل عام جاری ہے بیگناہ کشمیریوں کے خون سے جس طرح ہاتھ رنگے جا رہے ہیں یہ نسل کشی کی ہی ایک صورت ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی نے یہ معاملہ وہاں اٹھایا ہے بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کئی طریقوں سے کی جا رہی ہے ”خبریں“ میں اس معاملے کو اٹھانے پر دن بھر لوگوں کی فون کالز کا تانتا بندھا رہا، لوگ سخت ردعمل اور افسوس کا اظہار کرتےے رہے۔ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس پر پاکستان میں ردعمل برھتا جائے گا کیونکہ اسے سنجیدہ معاملات پر خاموشی نہیں رہ سکتی۔ مختلف تنظیموں کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آئے گا بھارت کے ناپاک عزاز پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔ اقوام متحدہ کی مقبوضہ کشمیر میں ظلم پر خاموشی کی ایک وجہ غیر مسلم ممالک کی بے حسی بھی ہے۔ بھارت کا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعوے کو امریکہ تسلیم کرتا ہے اس سے باقی دنیا بھی متاثر ہوتی ہے، حالانکہ وہاں اصل صورتحال یہ ہے کہ 22 کروڑ مسلمانوں کا ایک نمائندہ بھی منتخب نہیں ہونے دیا گیا، یہ رویہ بھی جمہوریت کی نفی ہے، بھارت کے آئین میں سیکولر ازم صرف لفظ کی حد تک ہی رہ گیا ہے۔ کانگریس کی حکومت میں تو مسلمانوں کو کچھ نشستیں اور ایک آدھ وزارت دے دی جاتی تھی اب بی جے پی حکومت نے تو کھلم کھلا کہہ دیا ہے کہ مسلم ووٹوں کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ بھارت ایک طرف تو او آئی سی میں نمائندگی کے لئے پہنچ جاتا ہے کہ ہمارے یہاں 22 کروڑ مسلمان ہیں دوسری جانب برملا کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے ووٹروں کی ضرورت نہیں ہے بھارت کے اس منافقانہ رویے بارے پاکستان میں آگہی بڑھ رہی ہے اور لوگ جان رہے ہیں کہ وہاں مسلمانوں کے ساتھ کیا ناروا رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved