تازہ تر ین

تاجروں اور صنعت کاروں سے حکومت کی معاشی ہم آہنگی خوش آئند ہے:سیف الرحمان ، ٹیکس دینے والے ماضی میں رشوت لینے والوں سے لوگ خود کو الگ کرلیتے تھے:میاں حبیب ، تاجر طبقہ 200 فیصد سیاسی،حکومت ان کو فکس ٹیکس کا اعتماد نہیں دے سکتی:اعجاز حفیظ ، سابقہ حکمران تاجروں سے پارٹی فنڈ لے کر مزے اڑاتے رہے: اشرف عاصمی ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار“ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگوکرتے ہوئے تجزیہ کار اشرف عاصمی نے کہا ہے کہ سابقہ حکمران تاجروں سے پارٹی فنڈز لیکر مزے اڑاتے رہے ہیں۔ تاجروں کی ہڑتالیں وقتی ہیںمگر ایف بی آر کے نچلے طبقے کی بہتری تک ٹیکس کلچر فروغ نہیں پا سکتا۔ٹیکس کلچر کے فروغ میں عوام کو عمران خان کو سپورٹ کرنا چاہئے مگر حکومت غریبوں کو بھرکس نہ نکالے۔نیب اور عدالتیں قانون کے مطابق لیگی قیادت کے خلاف کاروائی کر رہی ہے مگر یہ لوگ شور مچاکر سمجھ رہے ہیں کہ عوام کو ایک مرتبہ پھر بے وقوف بنا پائیں گے۔ انہیں شرم آنی چاہئے کہ چور ، ڈاکو، لٹیرا اور قومی مجرم ہوتے ہوئے وکٹری کا نشان بناتے ہیں۔ آئی ایم ایف قرض سے پاکستان کی معیثت میں بہتری آئے گی۔عمران خان کو تاجروں کی ہڑتال سے بلیک میل ہونے کی بجائے عوام میں شامل ہوکر انہیں اعتماد میں لینا چاہئے۔ نواز شریف کو بچانے کے لیے مریم نواز آخری حد تک چلی گئی ہیں۔ مریم نے اداروں کو بدنام کر کے انتہائی ناپختگی کا ثبوت دیا ہے۔ وہ خود کو بے نظیر سمجھ رہی ہیں مگر تختہ دار پرلٹکنے والے اور تھے انہیں تو کھانے کی فکر پڑی رہتی ہے۔ جج ارشد ملک فارغ ہو جائیں گے کیونکہ ن لیگ نے عوام کو کنفیوز کر دیا ہے۔ن لیگ نے بچوں کے کھیلنے کی جگہ پر قبضہ کر کے ذاتی جاگیر بنایا تھا جو قانونی جرم کیساتھ سماجی المیہ ہے۔ میزبان کالم نگارمیاں حبیب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے تاجروں اور صنعتکاروں کو اعتماد میں لیا ہے ، کراچی کے صنعتکارحکومت کا ساتھ دیتے ہوئے ملکی معیثت کی بحالی میں کردار ادا کریں گے۔ حکومت ٹیکس دینے اور نہ دینے والوں میں تمیز کریں۔ ٹیکس دینے والوں کو حکومت عزت دے تاکہ گھوڑے اور گدھے کا فرق واضح ہو سکے۔ ماضی میں رشوت لینے والوں سے کوئی رشتہ نہیں کرتا تھا مگر اب رشوت خوری کو فخر سمجھا جاتا ہے۔لیگی سیاستدان اپنے جرائم کو سیاسی رنگ دیتے ہوئے اپنے جرم پر فخر کرتے ہیں۔تجزیہ کار میاں سیف الرحمان نے کہا ہے کہ تاجروں اور صنعتکاروں کیساتھ حکومت کی معاشی ہم آہنگی خوش آئند ہے۔ آئی ایم ایف کرائے پر پیسہ بیچتا ہے اور بدلے میں امریکی شرائط پر عمل درآمد چاہتا ہے۔ مریم نواز جیسے پگڑیا ں اچھالنے والے عناصر پاکستان میں فعال ہوگئے ہیں۔حکومتی اداروں کو ان پر نظر رکھنی چاہئے۔مریم نواز کے پاس ٹرسٹ ڈیڈ کے دفاع میں کچھ نہیں ہے مگر شاید وہ ایسی مزید ویڈیو ٹیپ پیش کریں جسکے زعم میں وہ احتساب عدالت کو للکار رہی ہیں۔ قتل ہونے والے نجی ٹی وی کے صحافی کو رقم بنانے کے لیے حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے تھا۔ سابق حکومتی لیڈرز نے قوم کو رہنما اصول دینے کی بجائے بے راہروی کی جانب گامزن کر کے لوٹ مار کا نظام رائج کیا۔ کالم نگار اعجاز حفیظ نے کہا ہے کہ پاکستان کا تاجر طبقہ 200فیصد سیاسی ہے حکومت انکو فکس ٹیکس کا اعتماد نہیں دے سکتی۔ تاجروں کی ہڑتالیں کھیل کا حصہ ہیں۔تاجروں کو حکمران بنانے کا خمیازہ پاکستان بھگت رہا ہے۔ حمزہ شہباز درست فرماتے ہیں انہوں نے دھیلے کی نہیں ، اربوں کھربوں کی کرپشن کی ہے۔ ن لیگ کشتی ڈوبنے سے پہلے بوجھ اتار رہی ہے۔ دکھ ہوتا ہے جب ہم قرضہ ملنے پر جشن مناتے ہیں۔قیادت کی نیت ٹھیک ہو تو معیثت بہتر ہو سکتی ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved