تازہ تر ین

ضلعی انتظامیہ سوئی رہی ، وزیر اعلیٰ خود بارش میں پھنسنے شہریوں کو نکالنے پر مجبور : معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے یہ اعداد و شمار یہی آ رہے ہیں مون سون کے دور میں 40 پچاس ملی میٹر بارش ہوتی تھی اور آج لاہور میں کچھ جگہوں پر 130 سے 140 ملی میٹر بارش ہوئی ہے اور بعض مقامات پ تو 200 سے اوپر چلی گئی ہے میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ جو قدرتی آفات ہوتی ہیں ان سے کوئی مقابلہ تو نہیں کیا جا سکتا مگر عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت اور امداد دینے کی احتیاطی تدابیر کرنی چاہئے تھیں۔ معلوم یہ ہوتا ہے ضلعی انتظامیہ نے مون سون کی تیاری ہی نہیں کی گئی۔صالحہ سعید صاحبہ جو ہیں وہ لاہور کی کمشنر ہیں ان کی انتظامی نااہلی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ اس بات کا انکصاف روزنامہ خبریں نے ہی انکشاف کیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر صالح سعید نے حکومت کی کفایت شعاری ہوا میں اڑا دی ہے جن کے پاس 7 سے لے کر 8 سرکاری گاڑیاں ذاتی استعمال میں لاتی ہیں جس میں ان کے والد اور ان کی بہن اور رشتہ دار استعمال کر رہے ہیں پٹرول کی مد میں بھی لاکھوں روپیہ اڑایا جا رہا ہے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ تازہ ترین خبر جو مجھے ملی ہے کہ چیف سیکرٹری نے ان گاڑیوں کی واپسی کا حکم دیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسی کوئی نہ کوئی بات ضرور تھی۔15 گھنٹے کی بارش سے لاہور ڈوب گیا۔ ابھی تو مون سون کا آغاز ہوا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ مون سون کی بارشیں اسی طرح چلں تو ان حالات میں آئندہ مزید احتیاط کی ضرورت ہے مون سون کا سیزن تو ابھی شروع ہی ہوا ہے۔ ابھی تو کافی آگے چلنا ہے اور موسموں میں جس طرح تبدیلی ہو رہی ہے اگر زیادہ بارشیں ہوئیں ضرورت سے یا معمول سے زیادہ بارشیں ہوئیں تو پھر شہروں کی حالت ناگفتہ بہ ہو جائے گی۔ اس سے پہلے کہ اس قسم کے حالات ہوں پہلے سے پیش بندی بہت ضروری ہے۔گزشتہ روز دن بھر جو کنٹرورسی جو چل رہی تھی مختلف چینلز پر چلیر ہی وہ سپریم کورٹ میں میں ارشد ملک کے حوالہ سے ہے اور جو کل 3 رکنی بنچ نے اس پر اظہار خیال کیا ہے اور اس صورت حال کا نوٹس لیا ہے اور اگلی تاریخ بھی مقرر کی ہے میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس پر زیادہ توجہ دینی چاہئے یہ اہم بات ہے کہ کیا جج لوگوں کو پریشرائز کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے یا خود ججوں کا کنڈکٹ جو ہے کیا ہونا چاہئے یہ بہت اہم مقدمہ ہے اس کے بہت سے انکشافات سامنے آئیں گے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس کی پروسیڈنگ چل نکلی ہے اب ہمیں اپنی مصروفات جو ہیں اس مقدمے کی پروسیڈنگ کے حوالہ سے ہی چلنی چاہئے ہمیں اپنا اظہار خیال کرنے کی بجائے عدالت جو بزرو کرتی ہے جو ابزرویشن دیتی ہے احکامات دیتی ہے اور جن باتوں کی طرف توجہ دلاتی ہے اس کو دیکھنا چاہئے۔ایک بات تو بالکل یقینی ہے کہ ایک مقدمہ جو ہے وہ عدالتوں میں چل رہا ہو اور ایک مقدمہ باہر ویڈیو کے مقابلے میں چل رہا ہو یہ صورتحال تسلیم نہیں کی جا سکتی۔ اس کو سوشل میڈیا پر ڈال کر چیمیگوئیوں میں نہیں ڈالنا چاہئے اور ایک دوسرے پر الزام تراشی نہیں ہونی چاہئے ججوں پر دبا? نہیں ڈالنا چاہئے اور اس قسم کی ساری چیزوں کا سختی سے سدباب ہونا چاہئے۔ سوشل میڈیا پر جس طرح چیزیں وائرل ہوئی ہیں اور پھر جو ان کا اثر ہوتا ہے میں سمجھتا ہوںکہ سوشل میڈیا کی ایسی چیزوں پر جو کسی مقدمے پر اثرانداز ہوتی ہوں ان کا سختی سے جائزہ لیا جائے۔ریکوڈک کیس پر تحقیق ہونی چاہئے اور سنجیدگی سے ملزم کا تعین ہونا چاہئے اور پھر ملزموں کو سزا ملنی چاہئے۔ خواجہ ا??صف کہتے ہیں معاشی بحران سے توجہ ہٹانے کے لئے شہباز شریف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ہم آخری دم تک جنگ لڑیں گے این آر او نہیں لیں گے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ شہباز شریف کا معاملہ الگ ہے معاشی بحران الگ چیز ہے۔ رانا ثنائ اللہ کے خلاف کل کیس تھا تو اگر نارکوٹک فورس نے ان کے خلاف کوئی کارروائی کی ہے تو اس کا معاشی بحران سے کیا تعلق ہے۔ معاشی بحران کے حوالے سے سٹیٹ بنک کے گورنر کی جو پریس کانفرنس آئی ہے اس میں سود میں بھی اضافہ کر دیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ آئندہ اور بھی مہنگائی ہو گی یہ ہوشربا انکشافات ہیں۔ مسلم لیگ ن اور اینٹی گورنمنٹ اس بات کو بڑی ہوا دے رہے ہیں کہ رانا ثنائ اللہ پر ظلم کیا گیا ہے یہ بات اس وقت تک کلیئر نہیں ہو سکتی جب تک اینٹی نارکوٹک والے وہ ملک کر ثبوت نہ دیں کہ وہ ان کے پاس رانا ثنائ اللہ کے خلاف کیا ثبوت ہیں۔ ابھی تک روٹی اور نان کی قیمت کا تعین نہیں ہو رہا خیبر پی کے ایک وزیر نے عمران خان کو شکایت کی ہے کہ نان 15 روپے کا ہو گیا اگر سارے فریقین کو بلا کر وزیراعلیٰ خود بات کریں تو اس کا حل نکل سکتا ہے۔ضیا شاہد نے کہا کہ کلبوشن یادیو کے فیصلے کے حوالہ سے قانون دان حضرات یہ کہتے ہیں کہ اس کا فیصلہ کوئی بائنڈنگ نہیں ہے یہ ایک اشارہ ہے کہ اس طرف بھی جایا جا سکتا ہے اس کے باوجود پاکستان کے پاس چونکہ ثبوت موجود تھے۔ یہ ایک باقاعدہ جاسوس ہے جس نے جاسوس ہونا خود تسلیم کیا ہے لہٰذا میں یہ سمجھتا ہوں کہ اسے ضرور سزا ملے گی۔ اس فیصلے سے ضرور کوئی رخ متعین ہو گا۔ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی فتح ہے افغان امن مذاکرات سے بھارت کو الگ کر دیا گیا ہے۔ بھارت کو ان مذاکرات سے الگ کرنا ضروری تھا کیونکہ انڈیا کا کوئی بارڈر افغانستان سے نہیں لگتا نہ ہی انڈیا پر افغانستان کے معاملات کا براہ راست کوئی اثر پڑتا ہے۔ یہ ایک بہت اچھا فیصلہ ہوا ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved