اسلام آباد (ویب ڈیسک)دنیا کی سب سے اونچی چوٹی ماﺅنٹ ایورسٹ سر کرنے والی واحد پاکستانی خاتون کوہ پیماءثمینہ بیگ نے اپنی نظریں اب کے ٹو سر کرنے پر جمالیں۔ وہ کہتی ہیں کہ کوہ پیمائی میں کے ٹو سر کرنا سب سے مشکل ہے اور وہ جلد اس کو سر کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔گلگت بلتستان کی گاﺅں شمشال سے تعلق رکھنے والی ثمینہ بیگ نے 2013 میں ماو¿نٹ ایورسٹ سر کیا تھا، وہ یہ کارنامہ انجام دینے والی پاکستان کی واحد خاتون کوہ پیماءہیں۔ثمینہ بیگ نے کہا کہ کے ٹو کی چوٹی سرکرنا سب سے مشکل ہے اور وہ ان کا اگلا ہدف ہے جس کیلئے وہ تیاریاں کررہی ہیں۔ثمینہ نے بتایا کہ 2013 میں ان کے ماﺅنٹ ایورسٹ سر کرنے کے بعد سے اب تک بہت سی خواتین کوہ پیمائی کی جانب آچکی ہیں تاہم اس کھیل کو مناسب سرپرستی اب تک نہیں مل سکی، کئی خواتین کوہ پیماﺅں نے ملک میں سات سات ہزار فٹ کی چوٹیاں سر کی ہیں جوکہ کافی حوصلہ افزا بات ہے۔کوہ پیماءنے انکشاف کیا کہ گزشتہ برس انہوں نے پاکستانی خواتین ماﺅنٹینیئرز کا ایک گروپ تیار کیا تھا اور ان کی بھرپور ٹریننگ بھی کی تھی، پلان تھا کہ پاکستان کی خواتین کی پہلی ٹیم ماو¿نٹ ایورسٹ لے جائی جائے لیکن نہ حکومت اور نہ ہی پرائیوٹ سیکٹرز نے ان کی سپورٹ کی جس کی وجہ سے پلان تاخیر کا شکار ہوا۔ثمینہ بیگ نے کہا کہ انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور جلد خواتین ٹیم کو لے کر ایورسٹ جائیں گی۔
ماﺅنٹ ایورسٹ سر کرنے والی واحد پاکستانی خاتون نے ‘کے ٹو’ کو ہدف بنالیا
