Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • بشریٰ بی بی کی اہلخانہ سے ملاقات جمعرات تک مؤخر
    • ناسا کا X-59 طیارہ آواز کی رفتار توڑنے میں کامیاب
    • جرمن چانسلر فریڈرک میرز کا ٹرمپ کو فٹبال جرسی کا تحفہ
    • انڈونیشیا کے بعض علاقوں میں 6.7 شدت کا زلزلہ محسوس کیا گیا۔
    • لاہور میں مبینہ سیلز میں بے ضابطگیوں پر ڈبل شاٹ کے آؤٹ لیٹس سیل کر دیے گئے
    • امریکی فضائیہ کا 52-B طیارہ اڑان بھرنے کے فورا بعد کیلیفورنیا میں حادثے کا شکار
    • فرانس اور برطانیہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں کی قیادت کریں گے
    • ایران جوہری ہتھیار کبھی نہی بنائے گا 300 ملین ڈالر ادائیگی کی خبرین غلط ہیں صدر ٹرمپ
    • معاہدے کے تحت جوہری معائنہ کار دوبارہ ایران واپس آئیں گے:جے ڈی وینس
    • روس کے کراسنودار علاقے میں ڈرون حملے کے بعد آئل ڈپو میں آگ بھڑک اٹھی۔
    • دپیکا پڈوکون نے کہا ہے کہ پاکستانی اداکاراؤں کی طرح خوبصورت نظر آنے کے لیے انہوں نے کبھی سرجری نہیں کروائی۔
    • بالی ووڈ اپنی پہچان کھو بیٹھا، بڑی فلمیں کامیاب نہیں ہو رہیں: ثانیہ سعید
    • فلپائن میں 6.6 شدت کے زلزلے کے بعد 5.7 ریکٹر کا آفٹر شاک
    • کیریئر نہیں، فلسطینی بچوں کا مستقبل میری ترجیح ہے:ٹام ہارڈی
    • انتخابی پولز میں نیتن یاہو کی پوزیشن کمزور,ہارنے کا خطرہ
    • مشہور گانوں کے حقوق چوری ہوئے،ابرار الحق کا قانونی کارروائی کا اعلان
    • اسرائیلی افواج کو لبنان شام اور غزہ کے سیکورٹی زون میں روکنے کا فیصلہ
    • ہیملٹن کی فراری کے ساتھ پہلی فتح، اسپینش گراں پری جیت لی
    • برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی امریکا ایران معاہدے کے بعد پابندیاں اٹھانے کے لیے تیار
    • واٹس ایپ میں ایک بہترین فیچر کا اضافہ
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے خاتمے کے بعد قتل عام کا خدشہ ہے، وزیراعظم

    By Daily Khabrainستمبر 25, 2019
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    لاہور:(ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم سے دنیا کو آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کررکھا ہے جہاں 9 لاکھ فوج تعینات ہے اور کرفیو کے خاتمے کے بعد قتل عام کا خدشہ ہے۔نیویارک میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی کے ہمرا نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ‘کیوبا کے بحران کے بعد دو جوہری طاقتیں آمنے سامنے ہوں گی جو ناقابل تصور ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘کشمیر ایک متنازع خطہ ہے، کشمیریوں کو براہ راست رائے دہی کے ذریعے اپنی خود ارادیت کا حق ہے اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ان کا حق ہے لیکن 70 برس سے ایسا نہیں ہوسکا’۔عمران خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے یک طرفہ طور پر اقدامات کیے اور اپنے ہی آئین اور قانون کے خلاف گئے اور آرٹیکل 370 کو ختم کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی حکومت نے کہا تھا کہ ہم مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت کو تبدیل کریں گے جو جنیوا کنونشن کی خلاف ورزری ہے، فورتھ جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی وار کرائم تصور کیا جاتا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ‘سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ جب کرفیو اٹھایا گیا تو کیا ہوگا، ہمیں خوف ہے کہ 9 لاکھ فوج وہاں ہے اور قتل عام ہوسکتا ہے اس لیے ہم عالمی برداری سے کہتے ہیں کہ وہ اپنا کردار ادا کرے’۔انہوں نے کہا کہ ‘میرا دوسرا خدشہ یہ ہے کہ کشمیرمیں اگر کچھ ہوا تو بھارت اس کا الزام پاکستان پر عائد کرے گا کیونکہ فروری میں ایک کشمیری لڑکے نے بھارتی فوجی قافلے پر حملہ کیا تھا جس سے پاکستان کا کوئی لینا دینا نہیں تھا لیکن بھارت نے فوری طور پر پاکستان پر الزام عائد کیا حالانکہ ہم نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ ثبوت فراہم کریں ہم کارروائی کریں گے’۔وزیراعظم نے کہا کہ ‘بھارتی طیاروں نے بمباری کی اور ہم نے ان کا پیچھا کیا اور دو طیاروں کو گرایا اور گرفتار بھارتی پائلٹ کو واپس کردیا لیکن بدقسمتی سے اس کو امن کی خاطر خیرسگالی کے طور پر نہیں لیا گیا، ہم دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی نہیں چاہتے تھے لیکن اس عمل کو کمزوری سمجھا گیا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘آج بھارت میں نسل پرست، ہندو قوم پرست اور بھارت میں دہشت گرد جماعت کے طور پر تین مرتبہ پابندی کا شکار ہونے والی پارٹی آر ایس ایس کی حکمرانی ہے، آر ایس ایس مہاتما گاندھی کے قتل کی ذمہ دار تھی، وزیراعظم نریندر مودی جو آر ایس ایس کا تاحیات رکن ہیں اور وہ گجرات میں 2 ہزار افراد کے قتل کے ذمہ دار تھے جو ان کی وزارت اعلیٰ کے دوران ہوا تھا’۔مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے عالمی رہنماو¿ں سے ہونے والی گفتگو کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ‘بھارت 6 برس میں تبدیل ہوچکا ہے، میں نے عالمی رہنماو¿ں کو خبردار کیا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ، بورس جانسن، انجیلا مرکل، فرانس کے صدر میکرن اور مسلم رہنماو¿ں سے بات کی’۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘میں نے ان سے کہا کہ یہ وقت ہے کہ عالمی برادری اپنا کردار ادا کرے اس پہلے کہ وقت نکل جائے کیونکہ کیوبا بحران کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ دو جوہری طاقتیں آمنے سامنے ہونے جارہی ہیں’۔انہوں نے کہا کہ ‘ہمارا خدشہ صحیح ہے کیونکہ بھارت کی جانب سے پہلے ہی بیانات دیے جارہی ہیں کہ کشمیر کی سرحد پر دہشت گرد پاکستان سے کشمیر میں داخل ہونے کے لیے اتنظار میں ہیں، یہ کس طرح کی ناسمجھی ہے، دہشت گردوں کو وہاں بھیج کر پاکستان کیا حاصل کرے گا سوائے پاکستان پر الزام کے اور دوسرا وہاں پر 9 لاکھ فوجی موجود ہیں اور کشمیر کے عوام پر مزید جارحیت ہوگی’۔عمران خان نے کہا کہ ‘وزیراعظم نریندر مودی نے روایتی انداز میں بات کی ہے کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ دہشت گردی کو روکے، وہ کس طرح اپنی اس بدترین ریاستی دہشت گردی کی وضاحت کریں گے، 80 لاکھ افراد 50 روز سے محصور ہیں وہ اس کی کیا وضاحت دیں گے’۔مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ جب یہاں سے واپس جاو¿ں تو میں سب کو صورت حال سے آگاو¿ں کرپاو¿ں، یہ اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کیونکہ یہ سلامتی کونسل کی قراردادیں ہیں جو کشمیریوں کو حق خود رادیت دیتی ہیں اور اس وقت جو صورت حال ہے اس پر اقوام متحدہ کی ذمہ داری بنتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں عالمی رہنماو¿ں اور خاص کر بڑے اور طاقت ور ممالک پر زور دوں گا کہ وہ بڑی مارکیٹوں سے آگے دیکھیں کیونکہ اگر یہاں کچھ غلط ہوا تو اس کے اثرات برصغیر کی سرحد سے ہٹ کر پڑیں گے اور یہ سنجیدہ مسئلہ ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ‘میں ایک دفعہ پھر دہرانا چاہتا ہوں کہ ہم نہیں جانتے ہیں کہ کرفیو ہٹنے کے بعد کیا ہوگا، میرا خوف ہے کہ وہاں 9 لاکھ فوجی موجود ہیں اور قتل عام ہوسکتا ہے’۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’80 لاکھ لوگ 50 روز سے محبوس ہیں جو غیر انسانی فعل ہے اور سلامتی کونسل اپنی قرار دادوں پر عمل درآمد کروانے میں ناکام رہی ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کی ہسپتالوں تک رسائی نہیں اور مجھے خوف ہے کہ جیسے ہی کرفیو اٹھالیا جائے گا تو وہاں خون بہے گا کیونکہ بھارت نے وہاں9 لاکھ فوجیوں کو تعینات کر رکھا ہے۔عالمی رہنماو¿ں سے مسئلہ کشمیر پر بات کرنے کے حوالے سے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ میں نے مودی سے بات کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ ہمارے مسائل ایک جیسے ہیں اور ہمارا مسئلہ غربت ہے لیکن بدقسمتیسے کوئی جواب نہیں ملا اور5 اگست کے بعد جب تک کرفیو نہیں ہٹاتے اور آرٹیکل 370 بحال نہیں کرتے اس وقت تک مذاکرات کا کوئی موقع نہیں ہے اس لیے ہم نے عالمی رہنماو¿ں سے بات کی۔وزیراعظم نے کہا کہ اگر سلامتی کونسل کو کچھ کرنا تھا تو اب وقت ہے کیونکہ کشمیر کے عوام اس لیے مشکلات کا شکار ہیں کہ سلامتی کونسل ان کو حق خود ارادیت دلانے کے اپنے فیصلے پر عمل درآمد نہیں کروا سکی ان کی 11 قرار دادیں ہیں اس لیے یہ ان کی ذمہ داری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 50 روز سے 80 لاکھ افراد محصور ہیں یہ غیر انسانی ہے اس لیے سلامتی کونسل کردار ادا کرے اور دوسری بڑی وجہ دو جوہری ہتھیاروں کے حامل ملک آمنے سامنے ہیں جو ناقابل تصور ہے اور سلامتی کونسل کو مداخلت کرنا پڑے گا۔ایک سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ ‘میں عالمی برادری سے مایوس ہوا ہوں کیونکہ اگر 80 لاکھ یورپی اس طرح 50 روز تک محصور ہوتے، یہودی محصور ہوتے یا صرف 8 امریکی محصور ہوتے تو کیا ردعمل ایسا ہی ہوتا، ابھی تک مودی پر اس محاصرے کے خاتمے کے لیے کوئی دباو¿ نہیں ڈالا گیا’۔انہوں نے کہا کہ ‘ہم دباو¿ بڑھاتے رہیں گے اور میں اقوام متحدہ کو اپنے خطاب میں بتاو¿ں گا کہ اگر قتل عام ہوا، 9 لاکھ فوجی کیا کررہے ہیں وہاں، بھارت جب پاکستان پر 500 دہشت گرد بھیجنے کا الزام دیتا ہے تو 500 دہشت گرد 9 لاکھ فوج کے سامنے کیا کریں گے، 500 دہشت گرد 9 لاکھ فوج کے ساتھ نہیں لڑ سکتے’۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت نے کشمیریوں کو کنٹرول کرنے کے لیے 9 لاکھ فوج کو وہاں تعینات کررکھا ہے، عالمی برادری کہاں ہے، عالمی قوانین کہاں ہیں اور میں خدشات کا اظہار کرچکا ہوں کہ یہ بحران کا آغاز ہے کیونکہ کرفیو ہٹنے کے بعد کیا ہوگا کچھ معلوم نہیں۔انہوں نے کہا کہ ‘اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے بعد او آئی سی کا اجلاس ہے، ہم تمام مسلم قیادت کو جمع کریں گے اس کی صرف ایک وجہ ہے کہ کشمیری مشکل میں ہیں اور وہ مسلمان ہیں اس لیے مسلم دنیا پر لازم ہے کہ وہ ایک موقف اپنائیں ورنہ اس سے بنیاد پرستی میں اضافہ ہوگا’۔عمران خان نے ترک صدر طیب اردوان کی جانب سے اپنے خطاب میں کشمیر کا ذکر کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ صدر اردوان اگلے ماہ پاکستان آرہے ہیں اور ہم تجارت اور تعلقات کو مزید بہتر کرنے کے لیے بات کریں گے۔

    Daily Khabrain

    Keep Reading

    لاہور میں مبینہ سیلز میں بے ضابطگیوں پر ڈبل شاٹ کے آؤٹ لیٹس سیل کر دیے گئے

    بالی ووڈ اپنی پہچان کھو بیٹھا، بڑی فلمیں کامیاب نہیں ہو رہیں: ثانیہ سعید

    فیفا ورلڈکپ جاپان کے مداحوں نے اسٹیڈیم میں صفائی کی روایت کو برقرار رکھا

    تازہ ترین

    فیفا ورلڈکپ جاپان کے مداحوں نے اسٹیڈیم میں صفائی کی روایت کو برقرار رکھا

    آبنائے ہرمز کھولنے سے منجمد فنڈز کی ریلیز تک، امریکہ-ایران امن معاہدے کی 14 اہم شرائط سامنے آ گئیں

    برازیل: 2 ہیلی کاپٹرٹکراگئے، معروف گلوکار اولیور ٹری سمیت 6 افراد جاں بحق

    فیفا ورلڈ کپ 2026: جرمنی نے تاریخ رقم کر دی، ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گول کرنے والی ٹیم بن گئی

    امریکہ میں طیارہ حادثہ، 12 افراد ہلاک

    Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.