تازہ تر ین

لاکھوں بچوں اور ہزاروں ماﺅں کی زندگیاں بچانے والا ارزاں ٹیسٹ

آسٹریلیا(ویب ڈیسک) دنیا بھر میں خواتین ایک خوفناک کیفیت کا شکار ہوتی ہیں جس کے دوران بلڈ پریشر میں اضافہ ہوجاتا ہے اور اس سے اعضا کا ناکارہ پن لاحق ہوتا ہے حتی کہ موت بھی واقع ہوجاتی ہے۔ اس کیفیت کو ’پری ایکلیمپشیا‘ کہتے ہیں جس میں خود نومولود بچے کی جان کے لالے پڑجاتے ہیں۔اب آسٹریلیا کے ماہرین نے اس کیفیت کی پیشگوئی کرنے والا ایک کم خرچ ، سادہ اور آسان ٹیسٹ بنایا ہے جس سے دنیا بھر میں لاکھوں بچوں اور ہزاروں ماو¿ں کی زندگی ہرسال بچائی جاسکتی ہے۔ماہرین کے نزدیک حمل کے 20 ہفتے کے بعد پیشاب میں ایک پروٹین کا افراز شروع ہوجاتا ہے۔ اس سے صحت مند بلڈ پریشر رکھنے والی ماو¿ں میں فشار خون بڑھ جاتا ہے، وزن میں اضافہ ہوتا ہے، سر میں شدید درد ہوتا ہے، گردے ناکارہ ہوسکتے ہیں اور خود ماں اور بچے کو نقصان پہنچتا ہے اور موت بھی واقع ہوجاتی ہے۔ایک اندازے کے مطابق ہر سال دنیا میں 76 ہزار خواتین اور 5 لاکھ بچے اس کیفیت کے ہاتھوں مرجاتے ہیں۔ اسی لیے پری ایکلیمپشیا کو دورانِ حمل لاحق ہونے والے خوفناک ترین مرض سے تعبیر کیا جاتا ہے لیکن بروقت تشخیص اور علاج سے یہ کیفیت دور ہوسکتی ہے۔آسٹریلیا میں ایڈتھ کووان یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے دل کی کیفیت، ہاضمے میں گڑبڑ، امنیاتی نظام میں کمی و بیشی اور کمزوری یا چکر وغیرہ کو دیکھتے ہوئے ایک ٹیسٹ تیار کیا ہے۔پہلے مرحلے میں گھانا میں 600 خواتین سے سوالات کیے گئے جن میں 18 فیصد خواتین لقمہ اجل بن گئی تھیں۔ اس کے بعد ان کے خون میں میگنیشیئم اور کیلشیئم کی جانچ کی گئی اور اسی بنیاد پر مرض کی پیشگوئی کی گئی۔ اب جن خواتین میں اس کے رجحانات تھے اور خون کے ٹیسٹ سے ان کی تصدیق ہوئی۔ ان خواتین کی 61 فیصد تعداد پری ایکلیمپشیا میں مبتلا ہوئی۔مختصراً یہ کہ حاملہ خواتین سے مختلف کیفیات کے سوالات کیے جائیں اور اس کے بعد لہو میں میگنیشیئم اور کیلشیئم کے ٹیسٹ سے خواتین میں اس مرض کی پیشگوئی کرکے ان کی جانیں بچائی جاسکتی ہیں تاہم اس ٹیسٹ کو تجارتی پیمانے پر پیش کرنے میں ابھی کئی سال لگ سکتے ہیں۔`


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved