تازہ تر ین

عمران خان ،پیر پگاڑا ملاقات تحفظات ختم،وزیر اعلی سندھ کے شکوے دور کرنیکا وعدہ

کراچی (وقائع نگار خصوصی) حکومتی اتحادی جی ڈی اے اور تحریک انصاف کے درمیان تحفظات ختم ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق پیر پگاڑا سے وزیراعظم عمران خان نے ملاقات کی اور وزیراعظم کی عمران خان کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔ پیر پگاڑا کا کہنا تھا کہ آپ ہمارے گھر آئے آپ کے لیے عزت ہے، وزیراعظم نے کہا کہ کنگری ہاﺅس کے باہر سے جب بھی گزرتا تھا یہاں آنے کیخواہش تھی، آج کنگری ہاس آیا ہوں یہ خواہش بھی پوری ہوگئی۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے علم نہیں آپ کے تحفظات کیا تھے اور نہ مجھے بتایا گیا، آپ رابطے میں رہیں تاکہ کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہماری حکومت تمام اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے جس پر پیر پگارا نے کہا کہ ہم بھی تو یہی چاہتے ہیں کہ آپ سب کو ساتھ لے کر چلیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں اور اتحادی اس بات پر متفق ہیں کہ عوام کو انصاف فراہم کیا جائے۔ پیر پگارا نے کہا کہ ہم عوام کو انصاف دلانے کے لیے آپ کے ساتھ ہیں، پہلے بھی وزرائے اعظم کنگری ہاس آئے ہم نے انہیں دل میں جگہ دی۔ وزیر اعظم عمران خان نے یقین دلایا ہے کہ حکومت جی ڈی اے سمیت اپنے اتحادیوں کو ساتھ لیکر چلے گی اور انہیں مایوس نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ یقین دہانی پیر کی شب کنگری ہاﺅس میں جی ڈی کے سربراہ پیر صاحب پگارا اور اتحاد کے دوسروں رہنماﺅں سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کرائی ۔ملاقات میں گورنر سندھ عمران اسماعیل، وفاق وزراءاسد عمر، چودھری غلام سرور، محمد میاں سومرو، فیصل واوڈا ،پیر صدرالدین شاہ، سردار علی گوہر مہر، سردار رحیم، ایاز پلیجو، حلیم عادل شیخ سمیت دیگر موجودتھے۔ملاقات میں جی ڈی اے نے وزیر اعظم عمران خان کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور تعاون کی یقین دہانی کرائی اور سندھ کی سیاسی صورتحال پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ملاقات میں دیہی سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کے اجرا، بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ زرائع کے مطابق پیر صاحب پگارا نے وزیر اعظم سے کہا کہ ہم آپکے اتحادی ہیں دیہی سندھ کی طرف بھی توجہ دی جائے۔سندھ کے نوجوان بڑی تعداد میں بے روزگار ہیں ان کی مایوسی دور کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے ادوار میں سندھ میں ہر سطح پر تباہی کی گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے پیر پگارا کو یقین دہانی کرائی کہ ہم نے کامیاب نوجوان کے نام سے پروگرام کا آغاز کیا ہے۔اپنے اتحادیوں کو مایوس نہیں کرینگے۔ اس موقع پر جی ڈی اے سیکریٹری جنرل ایاز لطیف پلیجو نے وزیر اعظم سے گفتگو کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سندھ کو صاف پانی دلوانے کے لیے وزیر اعظم کردار ادا کریں۔ عدالتی رپورٹ کے مطابق سندھ کے 18 اضلاع کے لوگ گٹرز کا غلیظ پانی پی رہے ہیں۔ سندھ کے شہر اور دیہات کچرے کے ڈھیر بنا دیے گئے ہیں۔ ارسا بھی سندھ سے پانی کی فراہمی میں انصاف نہیں کر رہی۔ اربوں روپے کی سرکاری زمینوں پر حکمرانوں کے قبضے ہیں۔ سندھ کی زراعت، گنے اور گندم کی تباہی کی ذمہ دار صوبائی حکومت ہے۔ وفاق سندھ سے گیس، بجلی اور پانی کے سلسلے میں انصاف کرے۔ ایاز لطیف پلیجو نے مزید کہا کہ سندھ میں 12سال افسروں کو صرف وزیروں کی لینڈ کروزرز کی ساتھ بہاگنا سکھایا گیا۔وفاقی حکومت سندہ کی تقسیم کی سازش کے خلاف واضع مو¿قف اختیار کرے۔بنگالیوں اور افغانوں کو شناختی کارڈ کے اجرا کا وفاق نوٹس لے۔سندھ کو وفاقی ملازمتوں میں جائز حصہ دیا جائے۔ سندھ نے جمہوریت کے لیے بے حساب قربانیاں دیں اور انعام ملا کرپشن کا۔ وزیراعظم عمران خان سندھ میں کرپشن کے خاتمے کے لیے کردار ادا کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ احساس پروگرام اور ہیلتھ کارڈز میں سندھ کو جائز حصہ دیا جائے۔الیکشن میں سندھ میں بھرپور دھاندلی کی گئی۔ مہنگائی نے غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے۔سندھ کی غربت اور پسماندگی کا احساس وفاق کو ہونا چاہئے۔ وفاقی حکومت سندھ کو وفاقی ملازمتوں کا پیکیج دے۔ وزیرِ اعظم عمران خان سے کراچی میں ممتاز کاروباری شخصیات کے وفد نے ملاقات کی۔وفد میں طارق معین الدین خان، سعید اللہ والی، علی حبیب، خالد منصور، بشیر جان محمد، طارق رفیع، بیرام آواری، انجم نثار، آغا شہاب احمد خان،حبیب اللہ ، شیخ عمر ریحان، نسیم اختر و دیگر معروف کاروباری شخصیات موجود تھیں۔ملاقات میں وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر برائے آبی وسائل محمد فیصل واڈا، وزیرِ برائے بحری امور علی زیدی، گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر بھی ملاقات میں موجودتھے۔کاروباری وفد نے وزیراعظم کوتاجروں کودرپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت معاشی ترقی اوراستحکام کے لیے بھرپوراقدامات کررہی ہے تاجربرادری کے مسائل کوبتدریج حل کیا جائے گا۔وزیر اعظم سے تاجروں کے ایک وفد نے بھی ملاقات کی۔ بی ایم جی گروپ کے چیئرمین قاسم سراج تیلی اور صدر کراچی چیمبر آف کامرس بھی ملاقات میں شامل تھے جبکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سرمایہ کاروں کے 15 رکنی وفد نے وزیر اعظم سے علیحدہ ملاقات کی جن کی سربراہی عقیل کریم ڈھیڈی کر رہے تھے۔ملاقات میں گیس کی لوڈشیڈنگ اور فیول ایڈجسٹمینٹ چارجز پر تحفظات کا اظہار کیا گیا جبکہ تاجروں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)سے مطلق شکایتوں کے انبار لگا دیے۔ وزیراعظم عمران خان کے دورہ کراچی کے موقع پروفاقی حکومت کی اہم اتحادی جماعت ایم کیو ایم پاکستان کے وفد سے وزیراعظم کی ملاقات نہیں ہوسکی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے دورے کے موقع پرایم کیوایم پاکستان کی ملاقات کا باضابطہ شیڈول طے نہیں تھا۔تحریک انصاف کی وفاقی حکومت مذاکراتی کمیٹی اورایم کیوایم پاکستان کے رہنماﺅں کے مابین جلد اسلام آباد میں ملاقات ہوگی جس میں ایم کیوایم کے مطالبات اورتحفظات کودورکرنے کے لیے اہم پیش رفت متوقع ہے ملاقات میں پیش رفت کے بعد ایم کیو ایم کا وفد وزیراعظم سے ملاقات کرے گا۔ملاقات کا شیڈول مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کے بعد طے کیے جانے کا امکان ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی صنعتکاروں اور تاجروں سے ہونے والی ملاقات میں کوئی بڑی پیشرفت نہیں ہوسکی ہے۔ بزنس کمیونٹی نے شرح سود میں کمی کو ناگزیر قرار دیا لیکن وزیراعظم نے اس حوالے سے بھی کوئی واضح اشارہ نہیں دیا۔وزیراعظم کی تاجروں و صنعتکاروں سے ہونے والی ملاقات کی اندرونی کہانی منظر عام پر آگئی ہے۔ اس ضمن میں ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم سے ہونے والی ملاقت صرف مسائل پر بات چیت تک محدود رہی البتہ ماضی کی نسبت اس مرتبہ تاجروں و صنعتکاروں کی بات چیت وزرا اور مشیران کی موجودگی میں زیادہ تحمل سے سنی گئی۔وزیراعظم سے ملاقات کرنے والوں میں سراج قاسم تیلی، عقیل کریم ڈھیڈی، آغا شہاب، میاں زاہد، خالد تواب، طارق رفیع، سعید للہ والا، بہرام ڈی آواری، حبیب للہ اور شیخ عمر ریحان شامل تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ ملاقات میں ملکی صنعتوں کو درپیش مشکلات، ٹیکس کلیکشن میں پیش آنے والی دشواریوں اور گیس ٹیرف و فیول ایڈجسٹمنٹ کے امور پر بات چیت کی گئی۔ذرائع کے مطابق تاجروں وصنعتکاروں کو انڈسٹرلائزیشن کے لیے مزید آسانیاں فراہم کرنے کی یقین دہانیاں کرائی گئیں۔ ملاقات میں تاجروں و صنعتکاروں نے کہا کہ ٹیکس کلیکشن سے قبل صنعتوں کو ریلیف دینے کی کوشش کی جائے۔ذرائع نے بتایا کہ ملاقات میں وزیراعظم اور وزرا نے تاجروں و صنعتکاروں کے مو¿قف کی تائید کی جب کہ اس دوران وفاقی مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ سے بھی سوال و جواب ہوئے۔ذرائع کے مطابق مشیر خزانہ نے یقین دہانی کرائی کہ معیشیت کی مضبوطی اور بزنس کمیونٹی کی بہتری کے لیے مزید اقدامات کیے جارہے ہیں۔تاجروں و صنعتکاروں پر مشتمل وفد کا کہنا تھا کہ ایزآف ڈاننگ بزنس سمیت دیگر امور میں مشکلات ہیں۔ تاجروں صنعتکاروں نے وزیراعظم عمران خان کی موجودگی میں واضح طور پر کہا کہ شرح سود کو کم کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے شرح سود پر شدید اعتراض کیا۔ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے شرح سود کو کم کرنے کا کوئی واضح اشارہ نہیں دیا۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved