تازہ تر ین

غداری مقدمہ سے محا ذ آرائی بڑھے گی،وزیر اعظم تعمیری کاموں پر توجہ دیں،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں فتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ترک صدر کا دورہ پاکستان بہت اہم تھا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جو تقاریر ہوئی کہنا ہے ان کی روشنی میں آگے بڑھنے کی ضرورت تھی خاص طور پر کوالالمپور میں کانفرنس میں عمران خان صاحب نہیں گئے تھے وہ اب گئے تھے اس اعتبار سے اردوان کا پاکستان کا دورہ بہت صروری تھا۔ اس سے پاکستان اور ترکی کے درمیان نیا تعلق پیدا ہوا ہے اور ایک دوسرے کے بہت سے معاملات میں مدد کرنے کا تعلق ہے جس طرح سے 5 سو گنا سے زیادہ تجارت بڑھانے کی بات کی گئی ہے میرا خیال ہے کافی بڑا کام ہو گا۔ جس طرح پاکستان اور ترکی کے درمیان ثقافت، فلم اور ڈرامے اور باہمی تجارت ہے تو ان شعبوں میں بہت گنجائش ہے۔ اب اسلامی بلاک کے طور پر نظر آتا ہے۔ آئی ایم ایف کے پاس جانے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ کہا یہ جاتا ہے کہ یہ آخری دفعہ ہے لگتا نہیں ہے کہ یہ آئندہ بھی آئی ایم ایف سے جان چھڑا سکیں۔ مانا کہ کوئی آپشن تھا اگر ہم کوشش کریں تو ہو سکتا ہے کہ ہم واقعی طے کر لیں کہ یہ آخری دور جا رہے ہیں۔ ضیا شاہد نے کہا کہ زیادہ بہتر تو یہی ہو گا کہ اس قسم کے مقدمات نہ شروع کئے جائیں لیکن اس کے باوجود چونکہ اس کی آئین میں گنجائش موجود ہے اور مولانا فضل الرحمان جب اسلام آباد میں تقاریر کر رہے تھے اس وقت عمران خان نے کہا تھا کہ ان کے آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چلنا چاہئے۔ میرا خیال ہے کہ اس پر تلے ہوئے ہووں تو یہ مقدمہ کر سکتے ہیں اور مولانا فضل الرحمان کو اس کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ مفتی کفایت اللہ ایک سیاسی جماعت کے کارکن ہیں ان کو یہی کچھ کہنا تھا ابھی عدالتوں میں بات ہونی ہے عدالت بھی سوچ سمجھ کر ہی فیصلہ کرے گی۔ پاکستان جب سے بنا ہے اتنی مرتبہ مارشل لا لگ چکے ہیں کہ، اتنی حکومتیں ٹوٹ چکی ہیں۔ عدالتیں ان کو ویلڈ قرار دے چکی ہیں پیپلزپارٹی بھی کہہ رہی ہے کہ ہم مارچ کریں گے اور مولانا بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ دوبارہ تیاریاں کر رہے ہیں پھر کچھ نہ کچھ تو ہو کر رہے گا۔ جب کوئی دو پارٹیاں ایک ہی سمت میں حکومت کے خلاف چلتی ہیں تو پھر ان میں اشتراک عمل ہو جاتا ہے۔ مقدمے اور غداری کی باتیں بہت انتہائی باتیں ہیں لگتا نہیں ہے معاملہ یہاں تک پہنچے۔ پاکستان کی سیاست انتہائی مخالفت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت الزام ثابت کرنا بہت مشکل کام ہے، یہ جذباتی باتیں ہیں جو سیاست میں ہوتی رہتی ہیں۔ اس وقت جو ملکی حالات چل رہے ہیں وہ اتنے مشکل ہیں ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی کی سیاست ہی اس حد تک جانا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ غداری کا کوئی مقدمہ چلے گا جو لوگ یہ کہتے تھے کہ کل یا پرسوں تحریک انصاف کی حکومت ختم ہو جائے گی یا اگلے ہفتے ختم ہو جائے گی لگتا ہے کہ ان کی خوش فہمیاں وہ دیر تک برقرار نہیں رہیں گی۔ خواجہ آصف میدان میں آ گئے ملکی حالات سیٹل نہیں رہے یہاں مقدمے دائر کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ میں خواجہ آصف کی اس بات سے متفق ہوں کہ مقدمات کی باتوں سے لڑائی بڑھے گی اور زیادہ حالات خراب ہوں گے۔ اس وقت جو ماحول میں گرمی آ گئی ہے ایک دوسرے پر غداری کے مقدمات چلانے کی باتیں ہوو رہی ہیں پھر جس طریقے سے محاذآرائی کی سیاست تیز ہوتی نظر آ رہی ہے، حالات کا تقاضا ہے کہ سیاسی محاذ آرائی کی بجائے تعمیری کاموں پر توجہ دی جائے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved