تازہ تر ین

روس اور چین نے تجارت میں ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کر دیا

رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں دونوں ملکوں کے درمیان ڈالر میں تجارت کا حجم پہلی مرتبہ 50 فیصد سے بھی کم ریکارڈ کیا گیا

چین(ویب ڈیسک ) روس اور چین نے تجارت میں ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق کئی برسوں تک ڈالرز میں تجارت نہ کرنے پر مذاکرات کے بعد اب لگتا ہےکہ چین اور روس نے اس مقصد کی جانب ٹھوس اقدامات کرنا شروع کر دیے ہیں۔رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں دونوں ملکوں کے درمیان ڈالر میں تجارت کا حجم پہلی مرتبہ 50 فیصد سے بھی کم ریکارڈ کیا گیا۔اس حوالے سے غیر ملکی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ صورت حال کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور چار سال قبل کا تجارتی حجم دیکھنا ضروری ہے جو 90 فیصد سے زیادہ حد تک ڈالرز میں کیا جاتا تھا۔یہ حجم اب کم ہوکر 46 فیصد ہوگیا ہے۔2018 میں حجم 75 فیصد تک تھا۔ڈالر کی تجارت میں سے 54 فیصد حصہ چین کا یوآن ادا کر رہا ہے۔جو 17 فیصد ہے۔جب کہ یورو میں 30 فیصد تک کاروبار کیا جاتا رہا ہے۔

روس کی کرنسی روبل میں 7 فیصد تک کاروبار ہوتا رہا۔بین الاقوامی تجارت میں ڈالر کے کم ترین کردار کا ذمہ دار چین اور امریکہ کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی کو قرار دیا جاسکتا ہے ۔دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اس سال انتہائی خراب سطح پر آ چکے ہیں اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے شہروں میں قونصل خانے بھی بند کر دئے ہیں۔ چین کے شہر سر چینگ ڈو میں امریکی قونصل خانہ باضابطہ طور پر بند کر دیا گیا ہے۔امریکی قونصل خانے کی عمارت پر لگا امریکی پرچم بھی نیچے کر دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ امریکی قونصل خانے کے اعتراف میں چینی پولیس کی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔مطلقہ چینی حکام نے قونصل خانے کے اندر داخل ہو کر کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ چینی حکام نے چینگڈو میں امریکی سفارتی عملے کے قونصلیٹ چھوڑنے کے بعد عمارت کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ چینی حکومت نے گزشتہ ہفتے امریکہ کی جانب سے ہیوسٹن میں چینی قونصلیٹ بند کرنے کے جواب میں چینگڈو شہر میں امریکی قونصلیٹ بند کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved