Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • میونسپل کارپوریشن راولپنڈی کے علاقے بی بلاک سیٹلائٹ فائون میں غیر قانونی تعمیرات کا منظر۔
    • کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے پْرعزم ہیں، سینیٹر نیلوفر بختیار
    • اسلام آباد: صدر استحکام پاکستان پارٹی ،سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس ،حاجی نواز رضا، افضل بٹ، عامر محبوب ، سردار فارم ہائوس میں سینئر صحافیوں ،اینکرپرسنز کے اعزاز میں تقریب سے خطاب کر رہے ہیں۔
    • مضبوط ‘ خوشحال پاکستان کے3 نکاتی ایجنڈے پر سب کو مل بیٹھ کر بات کرنا ہوگی:طارق فضل
    • مسلہ کشمیر پر صحافت کا کردار ستائش حل کیلئے ملکر اقام عالم جھنجھوڑنا ہو گا سردار تنویر الیاس
    • ڈائریکٹر جنرل سی سی آر اے میجر جنرل ظفر اللہ خان ہلا ل امتیاز اور وائس چانسلر بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی ڈاکٹر قمر الزمان کی موجودگی میں دونوں اداروں کے نمائندگان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر رہے ہیں ۔
    • فرانس’ سفارتخانہ میں یوم سیاہ کشمیر کی تقریب’ کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی
    • راولپنڈی میں غیر قانونی تعمیرات کا نہ رکنے والا سلسلہ بدستور جاری
    • وفاقی سرکاری ملازمین، لاہور کے رہائشیوں کیلئے اہم خوشخبری
    • ایس پی صدر انعم شیر کا تھانہ مندرہ اور تھانہ گوجرخان کا سرپرائز وزٹ
    • لاہور ہائیکورٹ:سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل اعوان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست’ ریکارڈ سمیت 3 نومبر کو طلب
    • ایس ایس پی آپریشنز ملک طارق محبوب پولیس لائنز ہیڈ کوارٹرز میں کھلی کچہری کے دوران شہریوں کے مسائل سن کر احکامات جاری کرتے ہوئے ۔
    • پاکستان کی آئی ٹی برآمدات ستمبر 2026 میں 435ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، بیرسٹر دانیال چوہدری
    • خانپور میں مقیم افغان باشندوں کے انخلا کی حتمی ڈیڈ لائن قریب
    • رحیم آباد میڈین اور سروس روڈ کی گرین بیلٹس میں پودے لگانیکا کام مکمل
    • تھانہ سول لائن کے مشہور حنا جاوید قتل کیس میں مزید خوفناک تفصیلات سامنے آئی
    • ایس ایس پی آپریشنز کی پولیس لائنز ہیڈکوارٹرز میں کھلی کچہری
    • اسسٹنٹ کمشنر تلہ گنگ سورٹھ مبشر کا شہر کے مختلف پٹرول پمپس کا دورہ
    • سیکریٹری اور کنٹرولر کی پوسٹوں پر مستقل تعیناتیوں کی منظوری
    • قومی ادار صحت اور آئیوڈین گلوبل نیٹ ورک کے زیر اہتمام اجلاس
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    حفاظتی ہدایات کو نظرانداز کرنا کورونا کیسز میں اضافہ کرسکتا ہے، ماہرین صحت

    By Daily Khabrainاگست 16, 2020
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    کراچی(ویب ڈیسک):ملک جیسے ہی مہینوں کے لاک ڈاؤن کے بعد کھلا بڑی تعداد میں لوگ بغیر فیس ماسک اور اس وہم کے کہ کووڈ 19 کی وبا ختم ہوگئی ہے گھروں سے باہر نکل آئے، ملک بھر میں یوم آزادی کا جشن اس بات کے ثبوت کے لیے کافی تھا کہ شہریوں نے احتیاطی تدابیر اور سماجی فاصلے کو ہوا میں اڑادیا۔

    تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ احتیاطی تدابیر کو بھولنا انفیکشن کی شرح میں اضافے کا باعث بنے گا، ساتھ ہی انہوں نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ فیس ماسک پہنیں، خاص طور پر اس صورتحال میں جہاں سماجی دوری ممکن نہ ہو کیونکہ عوام کی یہ لاپرواہی ایک اور اسپائک (بلندی) کا سبب بن سکتی ہے۔

     ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ 31 مئی کو ملک میں رش والے مقامات، مساجد، بازاروں، شاپنگ مالز اور بسز، ٹرین اور ہوائی جہازوں سمیت پبلک ٹرانسپورٹ میں فیس ماسکس پہننا لازمی قرار دیا گیا تھا۔

    جولائی میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے ایک اجلاس میں اس بات پر زور دیا کہ عوام کی جانب سے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) پر عمل کے ساتھ ماسکس پہننا ہی ملک میں کووڈ 19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے واحد اقدامات تھے۔

    تاہم شہر کی مرکزی مارکیٹوں کے دورے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یا تو مشورے کو سنا نہیں گیا یا اسے بھولا دیا گیا۔ لوگ بغیر کسی فیس ماسک کے ایک دوسرے کے ارد گرد رش والی جگہوں پر موجود ہیں، کچھ دکانداروں کے پاس سرجیکل یا کپڑے کے ماسک تو ہیں لیکن وہ ایک کان پر لٹکے ہوئے ہیں یا تھوڑی کے نیچے ہیں۔

    یہی نہیں بلکہ سرکاری اور نجی اداروں میں بھی صورتحال مختلف نہیں ہے، اگرچہ وہاں داخلے کے لیے ماسکس ضروری ہے لیکن ایک مرتبہ اندر جانے کے بعد یہ ماسک اکثر ڈیکس پر چھوڑدیا جاتا ہے۔

    لاہور، پشاور، کوئٹہ اور دیگر شہروں سے ذرائع کی جانب سے یہی صورتحال کے بارے میں بیان کیا گیا۔

    زیادہ تر کی جانب سے یہ کہا جاتا ہے کہ بہت گرمی ہے اور ماسک پہننے سے بے چینی ہوتی ہے، بہت سے لوگ محسوس کرتے ہیں کہ وبا خبر ہوچکی ہے جبکہ مزید یہ سمجھتے ہیں کہ ‘کورونا وائرس ایک دھوکے سے زیادہ کچھ نہیں’۔

    کوئٹہ کے فاطمہ جناح ہسپتال کے شعبہ طب دق اور امراض سینہ کی سربراہ ڈاکٹر شیریں خان کا کہنا تھا کہ ‘شکر ہے کیسز نیچے گئے ہیں لیکن لوگوں کو ماسک پہننے اور ایس او پیز پر عمل کرنے کی ضرورت ہے، عیدالاضحیٰ کے دوران لوگ آپس میں ملے ہیں اور اس کا اثر آئندہ ہفتے میں واضح ہوگا، (مزید یہ کہ) محرم الحرام آرہا ہے اور یہ خراب رویہ صورتحال کو مزید خراب کردے گا’۔

    ڈاکٹر شیریں خان جنہیں 14 بلوچستان میں کورونا وائرس کے خلاف کی جانب والی کوششوں پر ستارہ امتیاز کے لیے نامزد کیا گیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ مربوط جواب اور پابندیوں کی وجہ سے کووڈ 19 کے کیسز میں کمی آنا شروع ہئی لیکن اگر لوگ لاپرواہی کریں گے تو ایک بلندی کا امکان ہے۔

    کچھ اسی طرح کے خیالات کا اظہار لاہور کے میو ہسپتال میں کووڈ 19 کے فوکل پرسن ڈاکٹر محمد عادل کی جانب سے کیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ کیسز نیچے گئے ہیں لیکن ‘خطرہ نہیں’ گیا، ساتھ ہی انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ عوامی مقامات پر لوگ ماسک لازمی پہنیں،اس کے ساتھ ہاتھوں کو بھی صاف رکھیں، ماسک تحفظ کی ایک اضافی پرت فراہم کرتے ہیں۔

    ان کے بقول لوگ لاشعوری طور پر اپنی ناک اور منہ کو چھوتے ہیں، لہٰذا ماسک پہننے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنی ناک اور منہ کو براہ راست نہیں چھوسکتے۔

    کس طرح کے ماسکس؟

    ڈاکٹر شیریں خان اور ڈاکٹر عادل دونوں نے یہ مشورہ دیا کہ سرجیکل ماسکس بہتر ہے لیکن کپڑے کا ماسک بھی ٹھیک ہے، ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ لوگوں کو این 95 ماسکس کو طبے عملے کے لیے چھوڑ دینا چاہیے۔

    اس حوالے سے میڈیکل مائیکروبائیولوجی اور انفیکشیس ڈیزیز سوسائٹی پاکستان (ایم ایم آئی ڈی ایس پی) نے ڈان کو بتایا کہ ماسکس تھوک اور سانس کے ذریعے نکلنے والے ذرات کو دوسروں تک پہنچنے سے روکتے ہیں، ماسک کو پہننے والے دیگر لوگوں کے ان ذرات سے محفوظ رہتے ہیں، لہٰذا کووڈ 19 جیسے انفیکشن کو ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہونے سے روکا جاسکتا ہے اور اس کے لیے ماسک کا استعمال وائرس کی منتقلی روکنے کا مؤثر دریعہ ہے۔

    سوسائٹی کا کہنا تھا کہ بچے بھی جب باہر جائیں اور جب اسکول دوبارہ کھلیں تو انہیں بھی کپڑے کا ماسکس پہنچا چاہیے، یہ انہیں محفوظ رکھے گا اور وائرس کو گھرتک لانے سے روکنے میں مدد دے گا۔

    تاہم ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کپڑے کے ماسکس کے ساتھ ساتھ، اچھی طرح ہاتھوں کو صاف رکھنے کی عادت بھی ڈالنی چاہیے۔

    باہر کھانا اور گھومنا

    خیبرپختونخوا کے ٹورازم سیکریٹری عابد مجید کہتے ہیں کہ ملک کے شمالی علاقوں میں سیاح بڑی تعداد میں آرہے ہیں لیکن ‘ایک سخت پالیسی، ماسک نہیں تو رکنا نہیں (نو ماسک نو اسٹے) پر عمل درآمد کیا جارہا ہے’۔

    خیال رہے کہ گزشتہ ماہ تک عابد مجید خیبرپختونخوا کا محکمہ امداد اور بحالی کی سربراہی کر رہے تھے جو کووڈ 19 پر کام کررہا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ صوبے میں ‘ماسک آن’ پالیسی پر سختی سے عمل کرایا جائے تاکہ مقامی آبادی اور سیاح محفوظ رہ سکیں۔

    ماہرین صحت کہتے ہیں کہ سفر اور باہر کھانے کے دوران ماسکس اور سماجی دوری بہت زیادہ ضروری ہے۔

    ایم ایم آئی ڈی ایس پی کا یہ بھی کہنا تھا کہ سماجی دوری کے ساتھ کھلے مقامات ٹھیک ہیں لیکن بند مقامات خطرے کو بڑھادیتے ہیں، اگر ایک متاثرہ شخص ایئرکنڈیشنڈ ریسٹورینٹ میں طویل وقت کے لیے رکتا ہے تو دیگر کے متاثر ہونے کا اصل خطرہ ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ٹیک اوے اور ڈیلوری ابھی بھی بہتر انتخاب ہے اور اگر کسی ہوٹل میں رکتے ہیں تو اپنے کمرے یا کھلی جگہ پر کھانا کھانے کا انتخاب کریں۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      سعودیہ جانیوالے مسافروں کیلئے لازمی ویکسی نیشن کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع

      پانی ہماری ریڈلائن، روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      تازہ ترین

      سعودیہ جانیوالے مسافروں کیلئے لازمی ویکسی نیشن کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع

      پانی ہماری ریڈلائن، روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.