حکومت سیاسی لڑائی میں افواج پاکستان کو شامل نہ کرے: ایاز صادق

مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا کہنا ہے کہ حکومت سیاسی لڑائی میں افواج پاکستان کو شامل نہ کرے۔

لاہور میں مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں ہر طرح کی بات کرنے والے اور ہر طرح کی سوچ رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری سیاسی سوچ مختلف ہو سکتی ہے لیکن پاکستان کی بات آتی ہے تو پوری پاکستان قوم یکجا ہے، ہندوستان اپنے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکے گا۔

سابق اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا میری بات پر اختلاف ہو سکتا ہے مگر سیاسی بات کو جو رنگ دینے کی کوشش کی گئی اس سے پاکستان کے بیانیے کو تو فائدہ نہیں ہوا بلکہ ہندوستان کے بیانیے کو فائدہ پہنچایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے جو بیان دیا وہ حکومت سے متعلق تھا لیکن ان لوگوں نے میرے بیان کو افواج پاکستان سے نتھی کرنے کی کوشش کی وہ دیکھی اور سنی جا سکتی ہے، میں اپنے مؤقف پر آج بھی قائم ہوں یہ ان لوگوں نے ایسا کر کے پاکستان کی کوئی خدمت نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا ہمیں اس سلیکٹڈ حکومت سے شدید اختلاف ہے اور رہے گا لیکن نہ ہی مجھے اور نہ کسی اور کو حق ہے کہ وہ مجھے غدار کہے۔

سردار ایاز صادق نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس نالائق حکومت کے بارے میں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ جو لڑائی لڑنی ہے وہ ضرور لڑیں، لیکن اس لڑائی میں فوج کو شامل نہ کریں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بینر اور پوسٹر اس مؤقف کی خدمت نہیں جو پاکستان کا ؤمقف ہے، ان لوگوں نے ہندوستانی میڈیا کے ہاتھوں پر کھیل کر پاکستان کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے پاس بے شمار راز ہیں، میں قومی سلامتی کمیٹی کو ہیڈ کرتا رہا ہوں، لیکن ہم سیاسی لوگ ہیں، کبھی بھی پاکستان مخالف بات نہیں کریں گے اور جب بھی پاکستان کی بات ہو گی تو اختلافات کے باوجود ہم سب ایک ہیں۔

کورونا: صوبے تیاری مکمل رکھیں، مزید سخت اقدامات کیے جاسکتے ہیں، این سی او سی

اسلام آباد: نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر نے ملک میں کورونا کے بڑھتے کیسز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کی موجودہ صورتحال میں اضافےکی صورت میں مزید سخت اقدمات کیے جاسکتے ہیں۔

ملک میں کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی جانب سے اجلاس بلایا گیا جس میں تمام صوبوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

این سی او سی نے ملک میں عالمی وبا کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

این سی او سی نے تمام صوبوں کو اسپتالوں میں ضروری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانےکی ہدایات کرتے ہوئے کہا کہ صوبے اسپتالوں میں موجودہ طبی سہولیات کاجائزہ لیں اور انتظامی تیاری مکمل رکھیں۔

نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر نے اجلاس میں  تمام صوبوں میں ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔

این سی او سی کا کہناہے کہ صلاحیت میں اضافے کے لیے فوری طور پر ضروری اقدامات کیے جائیں، کورونا کی موجودہ صورتحال میں اضافےکی صورت میں مزید سخت اقدمات کیے جاسکتے ہیں۔

پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال

خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر بتدریج شروع ہو چکی ہے اور گزشتہ تین روز سے ملک میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح مسلسل تین فیصد سے زائد رپورٹ ہورہی ہے۔

پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 21688 ٹیسٹ کیے گئے جن میں 807 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی جب کہ مزید 11 افراد وائرس سے انتقال کرگئے۔

ملک بھر میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 3 لاکھ 32 ہزار سے زائد ہے جب کہ وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 6 ہزار 800 سے تجاوز کر چکی ہے۔

پاکستان کا ترکی میں زلزلے سے جانی نقصان پر دکھ اور افسوس کا اظہار

پاکستان نے ترکی کے صوبے ازمیر میں شدید زلزلے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ترکی میں زلزلے سے قیمتی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ مشکل گھڑی میں حکومت اورعوام کی ہمدردیاں ترک عوام کے ساتھ ہیں اور غمزدہ لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت کرتے ہیں۔

دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ترک صوبے ازمیر میں شدید زلزلےکا سن کر گہرا دکھ اور افسوس ہوا، پاکستانی عوام اپنے ترک بھائیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے عوام کی نیک تمنائیں اور دعائیں متاثرین کے ساتھ ہیں۔

خیال رہے کہ بحیرہ ایجیئن میں آنے والے  7.0 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں ترکی کے ساحلی شہر ازمیر میں متعدد عمارتیں منہدم ہوگئیں جبکہ اب تک 12 افراد کے ہلاک اور 500 سے زائد کے زخمی ہونے کے اطلاعات ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق زلزلے کا مرکز ازمیر صوبے سے سمندر کی طرف 17 کلو میٹر دور تھا اور اس کی گہرائی 16 کلو میٹر تھی جبکہ امریکی جیولوجیکل سروے نے زلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر بتائی ہے اور مرکز ترکی کے ساحل سے سمندر کی جانب 33.5 کلومیٹر دور بتایا ہے۔

امریکا کا خطے میں بھارت کو اہمیت دینے کا عمل خامیوں پر مبنی ہے، وزیراعظم

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ بھارت چین، بنگلادیش، سری لنکا اور پاکستان کے لیے خطرہ ہے جبکہ امریکا کا خطے میں نئی دہلی کو اہمیت دینے کا عمل خامیوں پر مبنی ہے۔

جرمن جریدے ’دیر اسپیگل‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ بھارت نازی ازم سے متاثر فسطائی ملک بن چکا ہے، بھارتی وزیر اعظم کی جماعت کا نظریہ آر ایس ایس کا ہے اور جماعت میں کھلے عام ہٹلر کو سراہا جاتا ہے جبکہ خطے میں کشیدگی ہے جو کسی وقت بھڑک سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت چین، بنگلادیش، سری لنکا اور پاکستان کے لیے خطرہ ہے، بی جے پی بھارت میں مسلمانوں کو ختم کرنا چاہتی ہے، ہم امریکا سے بھارت کے تناظر میں مساوی رویہ دیکھنا چاہتے ہیں اور نیا صدر جو بھی ہوا امریکا کو دونوں ملکوں سے یکساں رویہ رکھنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا، چین کی وجہ سے بھارت کو اہمیت دیتا ہے لیکن خطے میں بھارت کو اہمیت دینے کا امریکی طرز عمل خامیوں پر مبنی ہے، جبکہ ہمیں کشمیر پر امریکا سے دونوں ملکوں کے ساتھ یکساں پالیسی کی توقع ہے۔

’جو بائیڈن رائے عامہ میں مقبول نظر آرہے ہیں‘

عمران خان نے امریکا کے اگلے صدر کے حوالے سے سوال پر کہا کہ جو بائیڈن رائے عامہ میں مقبول نظر آرہے ہیں، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ روایتی سیاستدان نہیں اور وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں، ہم بھی کافی غیر روایتی رہے ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ بھی اسی طرح کے ہیں، میں نے کئی بار مختلف سوچ اپنائی اور نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کیا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا پیش گوئی نہیں کی جاسکتی، افغانستان میں کسے اقتدار ملے پاکستان کا کوئی فیوریٹ نہیں لیکن کابل حکومت، بھارت کو وہاں سے پاکستان کے خلاف سرگرمی کی اجازت نہ دے۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان کو مذاکرات پر آمادگی میں افغان مہاجرین عنصر مددگار رہا، افغانستان کے بعد کوئی ملک وہاں امن چاہتا ہے تو وہ پاکستان ہی ہے، گلبدین حکمت یار نے افغان الیکشن میں حصہ لیا اور وہ اپنے ملک کا آئین تسلیم کرتے ہیں، جبکہ میں نے گلبدین حکمت یار سے ملاقات سے قبل عبداللہ عبداللہ سے بات چیت کی۔

’پاکستان میں آزادی اظہار رائے مغربی ممالک سے زیادہ ہے‘

وزیر اعظم نے کہا کہ انقلاب ایران کے بعد مغرب نے مسلمان ممالک میں تفریق پیدا کی جبکہ مسلم ممالک کی آزاد خیال، بنیاد پرستی کی درجہ بندی مصنوعی تھی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آزادی اظہار رائے مغربی ممالک سے زیادہ ہے، میں نے آزادی کے لفظ کا استعمال بہت محتاط انداز میں کرتا ہوں، میں نے اپنی زندگی کی دو دہائیاں برطانیہ میں گزاری، وہاں پر بہتان سے متعلق بہت زیادہ مضبوط قوانین ہیں، بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بطور وزیر اعظم مجھ پر بہت سارے بہتان لگے، انصاف کے لیے عدالت بھی گیا تاہم انصاف نہ مل سکا۔

’پاکستان، اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کر سکتا‘

مشرق وسطیٰ میں امن کے حوالے سے سوال پر عمران خان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) جب اقتدار میں آئی تو سب سے پہلے میری حکومت یمن میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے آگے بڑھی، اس کے لیے ایران سے بات بھی کی جبکہ سعودی عرب سے محمد بن سلمان سے بھی رابطہ کیا، تاہم ہم کسی پر مذاکرات کے لیے دباؤ نہیں ڈال سکتے۔

انہوں نے کہا کہ تہران اور ریاض کے درمیان جنگ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہوگی، خاص طور پر غریب ممالک کے لیے جنگ بہت خوفناک ہوگی، تیل کی قیمتیں بڑھ جائیں گی جس سے کئی ممالک کو مسائل در پیش ہوں گے۔

مختلف خلیجی ممالک کی جانب سے اسرائیل سے تعلقات بحال کرنے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ہر ملک کی اپنی خارجہ پالیسی ہے کیونکہ یہ ممالک اپنی عوام کا سوچتے ہیں تاہم پاکستان، اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کر سکتا اور اس معاملے پر ہمارا موقف بڑا واضح ہے کہ ہم اسرائیل کو اس وقت تک تسلیم نہیں کر سکتے جب تک فلسطینیوں کو ان کا حق نہیں ملتا۔

’نائن الیون میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں تھا‘

نائن الیون سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اس میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں تھا اور نائن الیون کے بعد ہمیں اپنی فوج کو جنگ میں نہیں جھونکنا چاہیے تھا، نائن الیون کے بعد امریکا نے پاکستان پر دباؤ ڈالا اور پرویز مشرف دباؤ برداشت نہ کرسکے، دوسروں کی جنگ میں شامل ہونے کی میں نے شروع دن سے مخالفت کی۔

ملک میں کورونا وائرس سے متعلق انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اسمارٹ لاک ڈاؤن کے ساتھ کورونا کا مقابلہ کیا اور ملک کی حکومت وبا کا مکمل ادراک رکھتی ہے۔

اسلام آباد میں احتجاج، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپ

اسلام آباد میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر پولیس نے شیلنگ کردی اور آنسو گیس کا استعمال کیا جس کے باعث صورت حال کشیدہ ہوگئی ہے۔ پولیس کی مزید نفری طلب کرلی گئی ہے جبکہ فائر بریگیڈ سمیت دیگر ریسکیو اداروں کو الرٹ کردیا گیا ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں مظاہرین نے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور فرانسیسی صدر کے اشتعال انگیز بیانات کے خلاف جمعہ کو مذہبی جماعتوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ پولیس نے مظاہرین کا راستہ روکنے کیلئے کنٹینر رکھ کر سڑکیں بند کردیں۔

مظاہرین جب سرینا چوک پر پہنچے تو پولیس کی رکاوٹوں کا سامنا ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ فرانسیسی سفارت خانے کے باہر احتجاج ریکارڈ کروانا چاہتے ہیں مگر پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا جس کے باعث احتجاج پرتشدد صورت اختیار کرگیا۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے شیلنگ کی اور واٹر کینن کا استعمال کیا جبکہ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔ اس دوران سڑک کے اطراف جھاڑیوں کو بھی کسی نے آگ لگا دی۔

اس وقت پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود ہے اور مزید نفری طلب کی گئی ہے جبکہ مظاہرین تاحال منتشر نہیں ہوئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو کسی صورت ریڈ زون اور ڈپلومیٹک انکلیو میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا جبکہ مظاہرین بضد ہیں کہ وہ ہر صورت فرانسیسی سفارت خانے کے باہر احتجاج ریکارڈ کروائیں گے۔

پولیس نے کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے فائر بریگیڈ سمیت دیگر ریسکیو اداروں کو بھی طلب کرلیا ہے اور صورت حال تاحال کشیدہ ہیں۔ مظاہرین شیلنگ اور آنسو گیس کے استعمال کے بعد ٹولیوں کی صورت میں بٹ کر مختلف راستوں سے منزل کی جانب جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بدلے کی منطق کے مطابق مسلمان لاکھوں فرانسیسی افراد کے قتل کا حق رکھتے ہیں، مہاتیر محمد

ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم مہاتیر محمد کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے پاس اس بات کا حق ہے کہ وہ ماضی کے ظلم پر طیش میں آئیں اور فرانس کے لاکھوں لوگوں کا قتل کردیں۔

ٹوئٹر کی جانب سے مہاتیر محمد کی اس ٹوئٹ پر فوری ایکشن لیا گیا اور ان کی یہ ٹوئٹ ہٹا دی گئی جبکہ صارفین کی طرف سے اس کی شدید مذمت کی گئی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘رائٹر’ کے مطابق مہاتیر محمد کا یہ تبصرہ طویل بلاگ کا حصہ تھا جو ٹوئٹر پر شیئر کیا گیا۔

مہاتیر محمد نے اپنی پوسٹ کا آغاز یہ کہہ کر کیا کہ بطور مسلمان انہوں نے فرانسیسی ٹیچر سیموئیل پیٹی کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دی تھی، جبکہ آزادی اظہار رائے کو دوسروں کی توہین کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ‘کسی کو قتل کرنا وہ عمل نہیں ہے جس کی بطور مسلمان میں اجازت دوں گا، لیکن چونکہ میں اظہار رائے کی آزادی پر یقین رکھتا ہوں، میں یہ نہیں سمجھتا کہ اس میں دوسروں کی توہین کرنا شامل ہے، آپ کسی کے پاس جاکر اسے صرف اس لیے بھلا بُرا نہیں کہہ سکتے کیونکہ آپ آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتے ہیں’۔

مسلم دنیا کے ممتاز رہنما کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے پاس غصہ ہونے کا حق ہے اور وہ ماضی کے جرائم کا بدلہ چاہتے ہیں۔

سابق ملائیشین وزیر اعظم نے کہا کہ فرانسیسیوں نے اپنی تاریخ میں لاکھوں لوگوں کو قتل کیا ہے جن میں سے بیشتر مسلمان تھے۔

انہوں نے کہا کہ ‘اس لیے مسلمانوں کے پاس اس بات کا حق ہے کہ وہ ماضی کے ظلم پر طیش میں آئیں اور فرانس کے لاکھوں لوگوں کا قتل کردیں، لیکن عام طور پر مسلمانوں نے آنکھ کے بدلے آنکھ کے قانون کا اطلاق نہیں کیا، وہ ایسا نہیں کرتے اور فرانسیسیوں کو بھی نہیں کرنا چاہیے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘کیونکہ آپ نے ایک مشتعل شخص کے عمل کی وجہ سے تمام مسلمانوں اور ان کے مذہب کو مورد الزام ٹھہرایا ہے، تو مسلمانوں کے پاس بھی حق ہے کہ وہ فرانسیسیوں کو سزا دیں’۔

مہاتیر محمد نے فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فوری طور پر مذہب اسلام اور مسلمانوں پر الزام لگایا۔

فرانس کے اسکول میں گستاخانہ خاکے دکھائے جانے کا دفاع کرنے پر متعدد مسلم اکثریتی ممالک نے ایمانوئیل میکرون سمیت فرانسیسی حکام پر تنقید کی تھی۔

ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ مسلم اکثریتی ملائیشیا شہریوں کی وجہ سے ایک پرامن اور مستحکم ملک ہے، یہ شہری مختلف نسلوں اور مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں اور جنہیں دوسروں کے حساس معاملات کا ادراک ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ باقی دنیا مغرب کے طور طریقوں کی نقل کرتی ہے لیکن نسلوں اور مذاہب کے درمیان ہماری اپنی اور مختلف اقدار ہیں، جسے ہمیں پائیدار بنانے کی ضرورت ہے۔

حکومت نے ایاز صادق کے خلاف کارروائی کا عندیہ دے دیا

حکومت نے ایاز صادق کے خلاف کارروائی کا عندیہ دے دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) حکومت نے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما ایاز صادق کے خلاف کارروائی کا عندیہ دے دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق وزیر اطلاعات شبلی فراز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کو کمزور کرنا ناقابل معافی جرم ہے۔اس کی سزا ایاز صادق اور ان کے حواریوں کو ضرور ملنی چاہیے۔سابق سپیکر کی کہی ہوئی بات معافی سے آگے نکل چکی ہے اب قانون اپنا راستہ لے گا اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہو گی۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نبیل گبول نے بھی سابق اسپیکر قومی اسمبلی سر دار ایاز صادق کے بھارتی پائلٹ سے متعلق دیے گئے متنازعہ بیان کی شدید مذمت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایاز صادق کو شرم آنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ن لیگ کی قیادت سے معافی کا مطالبہ کرے۔

ایاز صادق کا بیان سچا ہو ہی نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کبھی بھارت سے خوفزدہ نہیں ہوا ۔ہمیشہ بھارت ہی پاکستان سے خوفزدہ ہوا ہے۔نبیل گبول نے کہا کہ ن لیگ کو ایاز صادق کے خلاف ایکشن لینا چاہیے۔ اکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی میاں جلیل احمد شرقپوری نے کہا ہے کہ سردار ایاز صادق کے بیان پر دل بہت رنجیدہ اور دکھی ہوا ،ایاز صادق جیسے ذمہ دار آدمی کو ایسا بیانیہ نہیں دینا چاہیے تھا جس سے ملک کا وقار کم ہو اور دشمن خوش ہوا،ان کا بیان سچ ہے یا جھوٹ قابل مذمت ہے،نواز شریف ذہنی و جسمانی بیماری کا شکار ہیں ،ان کا علاج کروایا جائے، اس لیے شہباز شریف یا جو بھی بہتر ہے اس کو آگے لایا جائے۔جب کہ مسلم لیگ ق پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات خواجہ رمیض حسن نے سابق سپیکر سردار ایاز کی اسمبلی فلور پر کی جانے والی انتہائی غیر مناسب تقریر پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ حکام کے اجلاس اور ان کا ایجنڈا قومی راز، عوامی فورم پر بیان کرنا عین غداری ہے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے سیاست دان اپنے مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے ریاست کو کمزور کرنے کی گہری سازش کا حصہ بن رہے ہیں جس کی مثال گزشتہ روز اسمبلی تقریر کا بھارتی میڈیا پر بطور خصوصی نشریات نشر ہونے سے عیاں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہایاز صادق کا بیان قومی سلامتی کے لیے ناقابلِ برداشت اور قابلِ مذمت ہے.

سینئر بھارتی سفارتکار کی دفتر خارجہ طلبی، ایل او سی فائرنگ پر شدید احتجاج

اسلام آباد: دفتر خارجہ نے سینئر بھارتی سفارتکار کو طلب کرکے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بلااشتعال فائرنگ اور جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر شدید احتجاج کیا۔

بھارت نے 29 اکتوبر کو جنگ بندی معاہدے کی بلااشتعال خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔ بھارتی افواج نے نیزاپیر اور رکھ چکڑی سیکٹر میں فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو شہری زخمی ہوگئے۔ دفتر خارجہ نے سینئر بھارتی سفارتکار کو طلب کرکے واقعے پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق شہری آبادی کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا قابل مذمت ہے، یہ اقدامات 2003ء کے جنگ بندی مفاہمت کی صریحا خلاف ورزی ہے، بھارتی اقدامات پیشہ ورانہ فوجی طریقہ کار کی خلاف ورزی اور علاقائی امن و سلامتی کے لئے شدید خطرہ ہیں۔

زاہد حفیظ چوہدری کے مطابق بھارت اس طرح سے مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں سے توجہ نہیں ہٹاسکتا، سینئر بھارتی سفارتکار پر زور دیا گیا کہ ان خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرکے نتائج سے آگاہ کرے، بھارت کو کہا گیا کہ اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور مشن کو مینڈیٹ کے مطابق کام کرنے دے۔

پاک فوج کا دشمن اسلام کا دشمن، قوم ناموس رسالتؐ کیلئے مرمٹنے پر تیار: شیخ رشید

راولپنڈی: (ویب ڈیسک ) شیخ رشید نے کہا ہے کہ پاک فوج کا دشمن اسلام کا دشمن ہے، پوری قوم ناموس رسالتؐ کیلئے مرمٹنے پر تیار ہے، گستاخانہ خاکوں کی خلاف عوام گھروں سے نکل آئے۔

راولپنڈی میں وزیر ریلوے شیخ رشید نے پیر نقیب الرحمان کے ہمراہ عید میلاد النبیؐ کے مرکزی جلوس کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر شیخ رشید کا کہنا تھا پوری قوم پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے، پاک فوج کو راولپنڈی کی عوام سلام پیش کرتی ہے، پاک فوج اسلام کی فوج ہے۔

دوسری جانب حکومت نے ایاز صادق کے خلاف کارروائی کا عندیہ دے دیا۔ شبلی فراز نے کہا لیگی رہنما کی کہی ہوئی بات معافی سے آگے نکل چکی ہے، اب قانون اپنا راستہ لے گا، ریاست کو کمزور کرنا ناقابل معافی جرم ہے، اس کی سزا ایاز صادق اور ان کے حواریوں کو ضرور ملنی چاہیے، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

نبی اکرم ﷺ کی سنت پر عمل کرنے میں ہماری بہتری ہے، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے نوجوانوں کو بھی پوری طرح نبی اکرم ﷺ کی شخصیت اور عظمت کا ادراک نہیں ہے اور میں خود اس عمر میں بھی ان کے بارے میں نئی چیزیں سیکھتا ہوں۔

عید میلاد النبی ﷺ کی مناسبت سے منعقدہ رحمت للعالمین قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اللہ پاک نے قرآن میں رسول اکرم ﷺ کی سنت پر عمل کرنے کا حکم ہمارے لیے دیا تھا کیوں کہ اس سے ہمیں فائدہ ہونا ہے، اس لیے ہمیں کہا گیا کہ نبی ﷺ کی زندگی سے سیکھو کیوں کہ دنیا میں ان سے نہ کوئی عظیم انسان آیا ہے نہ آسکتا ہے جو انہوں نے حاصل کیا وہ کسی نے نہیں پایا۔

انہوں نے کہا کہ چاہے آپ مسلمان ہوں یا نہیں آپ کو یہ ماننا پڑے گا کہ جو کچھ نبی اکرم ﷺ نے کیا وہ دنیا میں نہ کسی نے کیا نہ کرسکتا ہے اور اس پر مغرب میں بھی کتابیں لکھی گئیں، دنیا کے 100 بڑے انسانوں میں سب پہلا نمبر پیغمر اسلام کو اس لیے دیا گیا کہ جو انہوں نے کیا وہ دنیا کی تاریخ کا حصہ ہے اور جتنا ہم ان کی زندگی کے بارے میں پڑھیں گے آپ کو معلوم ہوگا کہ ان کا کتنا بڑا مقام تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایک فرمان ہے کہ آخری دنیا کے لیے ایسے رہو جیسا ابھی مرنا ہے اور اِس دنیا میں ایسے رہو کہ جیسے 1000 سال زندہ رہنا ہے، اس کی گہرائی میں جائیں گے تو اندازہ ہوگا کہ آج دنیا کے متعدد مسئلے اسی وجہ سے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ اب یہ جو موسمیاتی تبدیلیاں ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان دنیا میں اپنی آئندہ نسلوں کے بارے میں سوچتے ہوئے نہیں رہ رہا، گلوبل وارمنگ کے بہت خطرناک اثرات ہیں، اگر ایسا ہی چلتا رہا تو گلیشیئر پگھلتے رہنے سے ایسا وقت آئے کہ دریاؤں میں پانی بہت کم ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ نبی آخرالزماں کی زندگی کا جتنا مطالعہ کیا جائے اس سے اندازہ ہوگا کہ ایک انسان نے ساری دنیا کو کس طرح تبدیل کیا، ان میں کیا خصوصیات تھیں کہ انہیں دیکھ دیکھ کر لوگ رہنما بن گئے۔

وزیراعظم نے ایک انگریزی کتاب ’دی عرب کونکوئیسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں بتایا گیا ہے کہ اتنے وقت میں اتنے عظیم انسان اس دنیا میں نہیں آئے، جو اٹھتا تھا عظیم انسان بن جاتا تھا کیوں کہ وہ رسول اکرم ﷺ کو دیکھ کر ہی رہنما بن گئے۔

انہوں نے کہا کہ رسول اکرم ﷺ کی زندگی سے سیکھنا چاہیئے کہ ان کا باقی مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ، خواتین کے ساتھ، غلاموں کے ساتھ کیسا رویہ تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج اقوامِ متحدہ کا چارٹر دیکھ لیں رسول اکرم ﷺ کے آخری خطبے سے ملتا ہے کیوں کہ ان کی باتیں ہمیشہ کے لیے تھیں، اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پورے ملک میں 7، 8، 9 جماعت میں بچوں کو نبی کریم ﷺ کی زندگی کے بارے میں پڑھانے کے لیے قانون منظور کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس فیصلے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے بچے نبی کریم ﷺ کی زندگی سے سیکھیں کیوں کہ ہمارے بچے پڑھتے ہیں بل گیٹس اور اسٹیو جاب کیسے کامیاب انسان بنے لیکن رسول کریم ﷺ سے زیادہ کامیاب انسان تو کوئی دنیا میں ہوا ہی نہیں نہ ہوسکتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے یونیورسٹی گریجویٹس کو بھی سیرت النبی ﷺ کی اتنی سمجھ نہیں ہے لیکن جب وہ اس بارے میں پڑھتے جائیں گے انہیں سمجھیں گے اس طرح ان کے اندر سے تبدیلی آئے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب تک ہمارے بچوں کو رسول اکرم ﷺ کی خصوصیات کی پوری طرح سمجھ نہیں آئے گی وہ باہر جا کر ٹیکنالوجی ترقی دیکھ کر متاثر ہوجائیں گے۔

فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے معاملے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ او آئی سی کے اجلاس میں بھی یہی بات کی تھی کہ مغرب میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا پر جب تک مسلمان سربراہان مملکت مل کر اقدام نہیں اٹھائیں گے اس میں اضافہ ہوتا رہے گا اور اس کا سب سے بڑا نقصان ان ممالک میں اقلیت میں رہنے والے مسلمانوں کو ہوگا۔

انہوں نے کہا اگر ہم اسلاموفوبیا کو حل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے تو یہ بیماری بڑھتی جائے گی اور جو فرانس میں ہورہا ہے یہ وہی ہے جو ہمیں لگ رہا تھا کہ ہونے والا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مغرب کے لوگ ہمارے نبی کریم ﷺ سے رشتے کو نہیں سمجھتے انہیں سمجھ آ بھی نہیں سکتی کیوں کہ مسیحی برادی کا حضرت عیسیٰ اور یہودیوں کا جو پیمبروں سے تعلق ہے اور وہ جس طرح ان کے بارے میں بات کرتے ہیں اس میں ہماری طرح ادب شامل نہیں ہوتا۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے ہم تمام پیغمبروں کا نام انتہائی ادب سے لیتے ہیں لیکن مغرب میں ایسا نہیں ہے، وہاں پیغمبروں پر مزاحیہ فلمیں بنائی جاتی ہیں، جس میں پیغمبروں کی بے حرمتی ہوتی ہے اور یہ اسے برا نہیں سمجھتے وہاں اس طرح ردِ عمل نہ آتا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ مغرب کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ ہم مسلمان کا عقیدہ اور سوچ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب سلمان رشدی نے گستاخانہ کتاب لکھی تو مسلمانوں کا رد عمل آیا، خود سلمان رشدی ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا تھا تو اسے معلوم تھا کہ ردِ عمل آئے گا لیکن مغرب کو سمجھ نہیں آیا کہ کیا ہوا ہے۔