گوجرانوالا(ویب ڈیسک): مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے آپ کہتے ہیں سارے ادارے ایک پیج پر ہیں لہٰذا عمران خان یاد رکھیں صفحہ پلٹتے دیر نہيں لگتی۔
گوجرانوالا میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ حساب کتاب صرف عوام کو کرنا ہے، آٹا بھی چوری ہوتا ہے اور مارکیٹ سے غائب ہوتا ہے، پہلے غائب کردو اور پھر قیمتیں بڑھاکر مارکیٹ میں لے آؤ ، یہ ہمیں سسیلین مافیا کہتے تھے، اب پتا چلا ہے مافیا کیا ہوتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے مارے عوام کا مقدمہ لے کر آئی ہوں، میں آج تاجروں کا مقدمہ لے کر آئی ہوں، ووٹ کو عزت نہیں ملتی تو عوام کا وہ حال ہو تا ہے جو آج سب کا ہو رہا ہے، آج کاروبار کو تالے نہیں لگے ہوئے؟
مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے مزید کہا کہ میں آج آپ کے پاس میڈیا کی زبان بندی کا مقدمہ لے کر آئی ہوں ، آج میڈیا کو جکڑا ہوا ہے اس لیے تمہاری کرپشن کی بات نہیں ہوتی، جو لوگ سچائی کے ساتھ چلتے تھے انہیں نوکریوں سے نکلوادیا گیا، لیڈی ہیلتھ ورکرز اسلام آباد کی سڑکوں پر رل رہی ہیں، ان کا مقدمہ لے کر آئی ہوں۔
مریم نواز کا کہنا تھاکہ کسی کو حق نہیں کہ وہ آپ کے منتخب نمائندے کو نکالے، نواز شریف کی کرپشن میں سے تو اقاما نکل آیا، آئین چوری کا مقدمہ اور ووٹ چوری کا مقدمہ سمجھ آتا ہے یا نہیں، آپ کے ووٹوں سے حکومت آنی اور جانی چاہیے۔
(ویب ڈیسک)امریکی وزیر خارجہ نے ترکی پر آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان نگورنو کاراباخ تنازع کو بھڑکانے کا الزام لگادیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارےکو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومیو نےکہا کہ نگورنو کاراباخ تنازع پر ترکی نے آذربائیجان کو وسائل فراہم کرکے جھڑپوں کو مزید بدترین کردیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نےکہا کہ اس معاملے پر ایک سفارتی حل کی ضرورت تھی، بجائے اس کے کوئی تیسرا ملک اپنی طاقت پر اس سرزمین پر آئے جہاں پہلے ہی صورتحال انتہائی دگرگوں ہے۔
دوسری جانب ترکی نے الزام عائد کیا ہےکہ آرمینیا آذربائیجان کے علاقے پر غیر قانونی قبضہ جمائے بیٹھا ہے جس کے بعد آرمینیا نے بھی ترکی پر الزام لگایا کہ انقرہ نگورنو کاراباخ کے معاملے پر آذربائیجان کو فوجی مہم جوئی پر اکسا رہا ہے جس سے آرمینیا کے عام شہریوں کی زندگی خطرے میں آگئی ہے۔
دوسری جانب غیر ملکی میڈیا کےمطابق آذربائیجان اور آرمینین افواج کے درمیان جمعہ کے روز بھی نگورنو کاراباخ پر جھڑپیں ہوئیں جس سے دونوں ملکوں کے درمیان تین ہفتوں سے جاری جنگ کے کم ہونے کے امکانات فی الحال رد ہوگئے ہیں۔
لاہور(ویب ڈیسک): وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ عوام نے ابو بچاؤ کرپشن چھپاؤ تحریک سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا۔
پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے حزب اختلاف کے جلسے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک ارب 3 کروڑ روپے خرچ کرنے کے باوجود سیاسی لکی ایرانی سرکس ناکام ہو گیا اور حزب اختلاف کی 11 جماعتیں مل کر بھی 8 ہزار سے زائد لوگ اکھٹے کرنے میں ناکام ہو گئیں۔
انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان سے فی اپوزیشن پارٹی 700 لوگ بنتے ہیں جبکہ اس سے زیادہ لوگ تو وزیر اعظم عمران خان نے امریکہ میں اکٹھے کر لیے تھے۔
فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ اسٹیڈیم کا خالی ہونا عوام کی طرف سے ابو بچاؤ کرپشن چھپاؤ تحریک سے لاتعلقی کا اظہار ہے اور کرپٹ ٹولے کو عوام کا لوٹا ہوا پیسہ واپس کرنے کی طرف گامزن ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے جلسے کی راہ میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی گئی جبکہ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں تمام مائیکرو اور میکرو معاشی اشاریے بہتری کی طرف جا رہے ہیں۔
گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حزب اختلاف کی تحریک سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ چاہتا ہوں کہ یہ لوگ ہر روز جلسہ کریں۔ حزب اختلاف عوام کے سامنے بے نقاب ہو رہی ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مہنگائی پر جلد قابو پالیں گے جبکہ ملکی مسائل کے ذمہ دار سابق حکمران ہیں اور یہ لوگ کرپشن اور لوٹی ہوئی دولت بچانے کے لیے نکلے ہیں
(ویب ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے خلاف بننے والے اپوزیشن کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں اپنی پہلی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کیا۔
اپوزیشن کی 11 جماعتوں کے اس اتحاد میں بڑی اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، جمعیت علمائے اسلام (ف) سمیت دیگر جماعتیں شامل ہیں اور اپوزیشن کے جلسے کو موجودہ حکومت کو گھر بھیجنے کے حوالے سے سنگ بنیاد کے طور پر دیکھا گیا۔
مریم نواز قافلے کے ہمراہ رات تقریباً ساڑھے 9 بجے گوجرانوالہ کے جناح اسٹیڈیم پہنچیں، بلاول بھٹو زرداری کا قافلہ تقریباً 10 بجے جلسہ گاہ پہنچا جبکہ مولانا فضل الرحمٰن کی آمد رات ساڑھے 11 بجے ہوئی۔
شام کو 6 بجے کے بعد کیے گئے اپنے ٹوئٹ میں مریم نواز نے کہا تھا کہ وہ گوجرانوالہ کے لیے دوپہر 2 بجے روانہ ہوئی تھیں اور اب تک لاہور کے باہر شاہدرہ پہنچی ہیں۔
جلسے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم اورنگزیب اور ایک پولیس افسر کے درمیان جلسہ گاہ میں داخل ہونے کے معاملے پر تلخ جملوں کا تبادلہ بھی دیکھنے میں آیا۔
جلسے سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ کچھ لوگوں کی خواہش ہے کہ میری آواز عوام تک نہ پہنچے اور ان کی آواز مجھ تک نہ پہنچے، لیکن وہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں لوگوں کے گھروں کے چولہے بجھ چکے ہیں، لوگ بےروزگار ہوگئے ہیں، گیس اور بجلی کے بل ادا کرنا لوگوں کے بس میں نہیں رہا حتیٰ کہ ادویات بھی لوگوں کی پہنچ سے باہر ہوچکی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے عوام کو مار دیا ہے، نہ جانے کس بے شرمی سے یہ لوگ میڈیا پر آکر اِدھر اُدھر کی کہانیاں سناتے ہیں، یہ کس کا قصور ہے؟ عمران خان نیازی کا یہ انہیں لانے والوں کا؟ اصل قصوروار کون ہے؟ عوام کا ووٹ کس نے چوری کیا، انتخابات میں کس نے دھاندلی کی؟ جو ووٹ آپ نے ڈالا تھا وہ کسی اور کے ڈبے میں کیسے پہنچ گیا؟ رات کے اندھیرے میں آر ٹی ایس کس نے بند کیا؟ نتائج کیوں روکے رکھے گئے؟ اور ہاری ہوئی پی ٹی آئی کو کس نے جتوایا؟ عوام کے ووٹ کی امانت میں کس نے خیانت کی؟ کس نے سلیکٹڈ حکومت بنانے کے لیے ہارس ٹریڈنگ کا بازار دوبارہ کس نے گرم کیا؟
نواز شریف نے کہا کہ اب اصل قصورواروں کو سامنے لانے میں نہیں ڈریں گے، ہم گائے بھینسیں نہیں ہیں، باضمیر لوگ ہیں اور اپنا ضمیر کبھی نہیں بیچیں گے، عوام کو اس کے ساتھ ظلم کرنے والوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑا ہونا ہوگا۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیوں ایک آمر عدالت سے سزا ملنے کے باوجود ملک سے باہر جانے میں کامیاب ہوجاتا ہے کہ جبکہ مجھ سمیت سیاسی رہنماؤں کو تکالیف دی جاتی ہیں، کیوں منتخب وزرائے اعظم کو پانچ سالہ مدت پوری نہیں کرنے دی جاتی۔
سابق وزیر اعظم نے خود پر غداری کے الزام سے متعلق کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب آمروں نے عوامی رہنماؤں پر یہ الزام لگایا ہے کیونکہ وہ آئین و قانون کی بات کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پھر محب وطن کون ہیں؟ وہ جنہوں نے آئین کو تباہ کیا یا وہ جنہوں نے ملک کو دو ٹکروں میں تقسیم کردیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیوں لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کے خلاف اثاثوں سے متعلق کوئی کیس نہیں بنایا گیا، نیب کو ان کے خلاف الزامات کی تحقیقات کرنی چاہیے، وہ الزامات کے باوجود سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین کے طور پر کیسے کام کر سکتے ہیں۔
نواز شریف نے نیب پر یکطرفہ احتساب اور صرف اپوزیشن کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’’ملک کی دو متوازی حکومتوں کا کون ذمہ دار ہے؟ جسٹس قاضی فائز عیسی اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ جو ہوا اس کا کون ذمہ دار ہے؟ صحافیوں کو اغوا کرکے ان پر تشدد کرنے کا کون ذمہ دار ہے؟
انہوں نے اپنی تقریر میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید پر بھی سنگین الزامات لگائے۔
انہوں نے ڈی جی آئی ایس آئی پر الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ آپ کے ہاتھوں سے ہوا ہے، آپ کو نواز شریف کو غدار کہنا ہے ضرور کہیے، اشتہاری کہنا ہے ضرور کہیے، نواز شریف کے اثاثے جائیداد ضبط کرنا ہے ضرور کریں، جھوٹے مقدمات بنوانے ہیں بنوائیے لیکن نواز شریف مظلوم عوام کی آواز بنتا رہے گا، نواز شریف عوام کو ان کے ووٹ کی عزت دلوا کر رہے گا‘‘۔
سابق وزیراعظم نے اپنے خطاب کے اختتام پر بلاول بھٹو، مریم نواز، فضل الرحمٰن اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے نام لیتے ہوئے کہا کہ یہ سب ووٹ کو عزت دلواکر رہیں گے۔
انہوں نے جلسے میں موجود لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’کیا گوجرانوالہ کے عوام تم اس جدوجہد میں میرا ساتھ دو گے؟ کیا تم میڈیا کا ساتھ دو گے؟ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ دونوں ہاتھ کھڑے کر کے وعدہ کرو کیا تم نواز شریف کا ساتھ دو گے؟‘‘
سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے جلسے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج گوجرانوالہ نےمیدان مار لیا ہے، جتنے لوگ اسٹیڈیم میں موجود ہیں اس سے دو گنا باہر ہیں، یہ جمہوریت اور پاکستان کی فتح ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج ملک میں مہنگائی کیسے ہوگئی، ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے، جواب دیں آج چینی 110 روپے اور آٹا 75 روپے فی کلو کیسے ہوگیا، آج عمران خان کو لانے والوں کو بھی نواز شریف یاد آتا ہے، آج سب کو نواز شریف یاد آتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت ناکام ہوچکی ہے، کیونکہ اس کی بنیاد کھوکھلی تھی، عوام ووٹ کی صورت میں امانت دیتے ہیں اس میں خیانت نہیں ہونی چاہیے، آج ہم سب کا بیانیہ صرف یہ ہے کہ ووٹ کو عزت دو جبکہ آج ایک آزاد الیکشن ہی ملک کو بچا سکتا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آج قومی فریضےکا آغاز کر رہے ہیں، آج ملک کی تمام اپوزیشن جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہوئی ہیں اور عوامی طاقت سے حکومت کو ہٹا کر دم لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، عمران خان کی حکومت کا مزید متحمل نہیں ہوسکتا، ملک میں کوئی بھی موجودہ حکومت سے خوش نہیں، حکومت کے دن گنے جاچکے ہیں اور حکومت مہینے میں نہیں دنوں میں جائے گی۔
سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما راجہ پرویز اشرف کا خطاب میں کہنا تھا کہ وہ شخص لیڈر نہیں ہو سکتا جو جھوٹ بولے، مہنگائی نے ہماری کمر توڑ دی، بےروزگاری نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا لیکن یہ ہر بات کا الزام پچھلی حکومتوں پر لگاتےہیں، آپ نے 2سالوں میں کیا کیا؟ اس حکومت نے سوا 2 سال میں پاکستان کے عوام کو اذیت دی۔
انہوں نے کہا کہ ان سے کہتا ہوں اتنا ظلم کرو جتنا برداشت کر سکو، بہت جلد نیا سورج طلوع ہونے والا ہے جبکہ پاکستان کو بچانا ہے تو حکومت کو ہٹانا ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما افتخار حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت نے ملک کا دیوالیہ نکال دیا مہنگائی کو آسمان تک پہنچا دیا ہے، آج سارا پاکستان حکومت کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو راستہ دیا گیا اور آج ہمارے راستے روکےگئے لیکن نہ کنٹینر، نہ پولیس اور نہ ہی جبر ہمیں روک سکتا ہے جبکہ لاہور میں جلسے کی باری نہیں آئے گی اس سے پہلے ہی حکومت کا کام ہوجائے گا۔
اپوزیشن تحریک کے پہلے پاور شو سے احسن اقبال، لطیف کھوسہ، محمود اچکزئی اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔
مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز، جاتی امرا لاہور سے ایک قافلے کی صورت میں گوجرانوالہ کے لیے روانہ ہوئیں۔
گوجرانوالہ روانگنی سے قبل انہوں نے جاتی امرا میں دعا بھی کی جبکہ وہاں بکروں کا صدقہ بھی دیا گیا، جس کے بعد وہ قافلے کی صورت میں گوجرانوالہ کے لیے روانہ ہوئیں۔
اس موقع پر انہوں نے پارٹی کارکنوں سے مختصر خطاب میں کہا کہ آج آپ لوگ نواز شریف اور 22 کروڑ عوام کے حقوق کی جدوجہد کے لیے میدان میں اترے ہیں تو میں آپ کو سلام پیش کرتی ہوں۔
انہوں نے کہا کہ آج یہ جو ’جعلی حکومت‘ کے خاتمے کی شروعات ہیں۔
دوسری جانب گوجرانوالہ میں پی ڈی ایم کے پہلے جسے سے قبل لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ اور پاکستان ڈیموکریٹک موومٹ (پی ڈی ایم) کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم عہدوں کے لیے نہیں بلکہ مقصد کے لیے پی ڈی ایم کا حصہ ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ اپوزیشن پی ڈی ایم کے بینر تلے لوگوں کے ووٹ کی عزت بحال کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کا یہ اتحاد ان حکمرانوں کی کشتی کو غرق آب کرنے کے لیے سنگ میل ثابت ہو گا، ہماری کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں لیکن یہ محسوس ہونا چاہیے کہ پاکستان، پاکستانیوں کا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مغربی آقاؤں کا نہیں، پاکستان عالمی اسٹیبلشمنٹ کی حکمرانی کے لیے معرض وجود میں نہیں آیا تھا، دنیا میں سازشیں ہوتی ہیں، اپنی مرضی کی حکومتیں قوموں پر مسلط کی جاتی ہیں، اپنے ایجنڈے کی تکمیل کرائی جاتی ہے اور آج بھی آپ نے دیکھا کہ ان دو سالوں میں اگر کوئی قانون سازی ہوئی ہے اور 11 سے 12 قوانین بنے ہیں تو وہ بھی ایف اے ٹی ایف کی شرائط کے تحت بنے ہیں۔
پارلیمنٹ کی بالادستی اور خودمختاری کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا، بل پر باقاعدہ اس کے اغراض و مقاصد لکھے جاتے ہیں، اس کا موضوع لکھا جاتا ہے جس میں صراحت کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر قانون سازی ہو رہی ہے، اگر ہم نے یہ لکھنا ہے تو اس پارلیمنٹ کی نفی خود پارلیمنٹ کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری دلیل مضبوط ہے کہ یہ پارلیمنٹ معتبر پارلیمنٹ نہیں ہے، یہ عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ نہیں ہے، یہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں اور دباؤ کے تحت لائی گئی پارلیمنٹ ہے اور آج بھی ان کے ایجنڈے پر قانون سازی کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے حکمرانوں کی حکمرانی کا خاتمہ کرنے کے لیے ملک کی تمام سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر ہیں اور آج سب متحد ہو کر گوجرانوالہ میں قوم سے مخاطب ہوں گے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ آج پوری اپوزیشن متحد ہے اور یہ تاثر ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ کوئی بھی سیاسی قوت کسی مفاہمت کے انتظار میں ہے یا وہ کسی سیاسی مفاہمت سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے اور عام آدمی کے ووٹ کو دوبارہ عوام تک پہنچانے کے لیے پوری طرح متحد ہیں۔
علاوہ ازیں لالہ موسیٰ میں جلسے سے قبل بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور عہدیداروں کو حراساں کیا جارہا ہے اور ان پر مقدمہ بنا کر گرفتار کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ جو وزیر اعظم کہتے تھے کہ احتجاج کرنے والوں کو کنٹینرز اور کھانا دیں گے، انہوں نے ہمارے راستوں میں ہی کنٹینرز رکھ دیے ہیں، وزیر اعظم بھوک، بیروزگاری کو قید نہیں کرسکتے اور آج گوجرانوالہ میں عوام کا سمندر آپ کو جواب دے گا کہ سلیکٹڈ کے جانے کا وقت آچکا ہے۔
عوام کو دعوت دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کا حصہ بنیں اور 70 سال سے جمہوریت کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو جواب دیں کہ پاکستان کے وام غلام نہیں آزاد شہری ہیں۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ 2020 غیر جمہوری کوششیں جاری ہیں، ایک جلسہ برداشت نہیں ہوتا، گلگت بلتستان میں قبل از وقت دھاندلی کا آغاز کردیا گیا ہے، میں حکومت کو خبردار کرتا ہوں کہ وہاں دھاندلی ہوئی اسے بالکل برداشت نہیں کریں گے۔
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ، 20 ستمبر کو اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد تشکیل پانے والا 11 سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہے جو رواں ماہ سے شروع ہونے والے ’ایکشن پلان‘ کے تحت 3 مرحلے پر حکومت مخالف تحریک چلانے کے ذریعے حکومت کا اقتدار ختم کرنے کی کوشش کرے گی۔
ایکشن پلان کے تحت پی ڈی ایم نے رواں ماہ سے ملک گیر عوامی جلسوں، احتجاجی مظاہروں، دسمبر میں ریلیوں اور جنوری 2021 میں اسلام آباد کی طرف ایک ’فیصلہ کن لانگ مارچ‘ کرنا ہے۔
مولانا فضل الرحمن پی ڈی ایم کے پہلے صدر ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف سینئر نائب صدر ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے شاہد خاقان عباسی اس کے سیکرٹری جنرل ہیں۔
بہاولپور: پاکستان میں پہلی بار قومی ٹرائیتھلون 2020ء مقابلے ہفتہ سے شروع ہونگے۔ ٹرائیتھلون مقابلے 17 اکتوبر سے 20 اکتوبر تک بہاولپور میں منعقد ہوں گے۔
ان مقابلوں کا مقصد بہاولپور میں تفریحی اور صحتمندانہ سرگرمیاں بحال کرنا ہے۔ تین روزہ ٹرائتھلون 2020ء مقابلوں میں تین ایونٹس منعقد ہوں گے۔ ایونٹس میں تین سو میٹر تیراکی کے مقابلے، 20 کلومیٹر سائیکلنگ کے مقابلے ہوں گے جبکہ 10 کلومیٹر دوڑ بھی ان مقابلوں کا حصہ ہوگی۔
ان مقابلوں میں یونیورسٹیز، کالجز اور مدارس کے طلبہ، مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد، سرکاری ملازمین، محکمہ پولیس، پاکستان رینجرز اور پاک فوج کے کھلاڑی بھی مقابلوں میں حصہ لیں گے۔ اس کے علاوہ ملک بھر سے پیشہ وارانہ ایتھلیٹس کو بھی مقابلوں میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
اسلام آباد: دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے بھارت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کا انحصار بھارت پر ہے اور وہ اس مقصد کے لیے سازگار ماحول تیار کرے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ہفتہ وار بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سازگار ماحول کی تیاری کے لیے بھارت اپنے غیرقانونی اور یکطرفہ اقدامات ختم کرے، کشمیری عوام کے خلاف ریاستی دہشت گردی کا خاتمہ کرے اور اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازع کے حل پر رضامندی ظاہر کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ہندوستان ہے جس نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست 2019 کو اپنے غیرقانونی اور یکطرفہ اقدامات اور متشدد بیانات سے فضا کو خراب کردیا ہے، ہم مستقل کہہ رہے ہیں کہ بھارت جموں و کشمیر کے آبادیاتی تناسب کو بدلنے کی کوشش کر رہا ہے جو بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، چوتھے جنیوا کنونشن اور انسان اقدار کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ آبادیاتی تناسب میں تبدیلیوں کو فوری طور پر روکا جائے اور اس عمل کو واپس لیا جائے، پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کشمیری عوام کو بنیادی آزادی اور حق خودارادیت نہ دینے کے عمل کو اجاگر کرتا رہے گا۔
پاک چین تعلقات کے خلاف بھارتی پروپیگنڈے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان اور چین ایک وسیع البنیاد، طویل المیعاد موسمی حکمت عملی پر مبنی تعاون پر مبنی شراکت میں شامل ہوگئے ہیں، ہمارا تعاون علاقائی امن و استحکام کی ضمانت ہے، ہم نے مشکل اوقات اور بنیادی قومی معاملات پر ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دیرینہ اور قریبی پاک چین دوستی کے خلاف بھارت کے بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈے کی شدید مذمت کرتا ہے۔
ترجمان زاہد حفیظ نے کہا کہ یہ پروپیگنڈا ہندوستانی حکومت کے پاکستان کے خلاف جنونی رویے اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوششوں کا مظہر ہے، عالمی برادری اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ آر ایس ایس-بی جے پی حکومت کی سیاسی موقع پرستی خطے کے امن، استحکام اور سلامتی کو درہم برہم کررہی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ پروپیگنڈے کو فروغ دینے کے بجائے، بھارت کو پاکستان مخالف بیانات کے بجائے اپنی اصلاح کی ضرورت ہے، ہندوستان کو اپنی پالیسیوں پر توجہ دینی چاہیے جو علاقائی امن و استحکام کو متاثر کررہی ہیں۔
رواں ماہ کے آخر میں ایک ورچوئل اجلاس میں پاکستان کی گرے لسٹ کی حیثیت سے متعلق فیصلہ کرنے کے لیے تیار فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پر 2018 سے عمل درآمد کر رہا ہے اور اس نے اس سلسلے میں اہم پیشرفت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف نے ایکشن پلان میں متعدد شعبوں میں پاکستان کے سیاسی عزائم اور ہماری طرف سے کی گئی پیشرفت کو بھی تسلیم کیا ہے، ہم ایکشن پلان کی تکمیل کے لیے پرعزم ہیں اور اس جانب بڑھ رہے ہیں، ہم مستقل اس عمل میں مصروف ہیں۔
ہندوستان میں 11 پاکستانی ہندو شہریوں کی اموات کے سلسلے میں کسی پیشرفت کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارتی حکام کو اطلاع دی ہے کہ سوگوار کنبے کے ساتھ انصاف اور بھارت میں موجود دیگر پاکستانی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے بھارتی حکومت کی جانب سے اس بدقسمتی واقعے کے بارے میں مکمل شفاف تحقیقات انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ چونکہ جودھ پور واقعے کے شکار افراد پاکستانی شہری تھے لہٰذا حکومت پاکستان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ اس بات سے پوری طرح آگاہ ہو کہ ہندوستان میں یہ لوگ کن حالات میں مرے، بھارتی فریق سے اس معاملے کی ایک جامع تحقیقات، سوگوار خاندان کے زندہ بچ جانے والے رکن کو نئی دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن تک رسائی کی فراہمی، ایف آئی آر اور ابتدائی تفتیشی رپورٹ کی کاپیاں شیئر کرنے اور بلا کسی تاخیر ہلاک ہونے والے افراد کے پوسٹ مارٹم کے دوران ہائی کمیشن کو رسائی دے۔
دریں اثنا ایک سینئر ہندوستانی سفارتکار کو جمعرات کے روز دفتر خارجہ طلب کیا گیا تاکہ 14 اکتوبر 2020 کو لائن آف کنٹرول پر قابض بھارتی افواج کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزیوں پر احتجاج ریکارڈ کرایا جا سکے جہاں مذکورہ واقعے میں دو عام شہری زخمی ہو گئے تھے۔
ایل او سی کے جندروٹ سیکٹر میں بھارتی قابض فوج کی بلااشتعال فائرنگ کی وجہ سے 25 سالہ سفیان اور 28 سالہ محمد رفاقت زخمی ہو گئے تھے۔
قابض بھارتی افواج کی جانب سے عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ اس طرح کی بے وقوفانہ حرکتیں 2003 کے سیز فائر معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہیں اور یہ تمام انسانیت سوز اصولوں اور پیشہ ورانہ فوجی طرز عمل کے بھی خلاف ہیں۔
ہندوستانی فریق سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ 2003 کے سیز فائر معاہدے کا احترام کریں، سیز فائر کے ایسے اور اس جیسی دیگر خلاف ورزیوں کے واقعات کی تحقیقات کریں جبکہ کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری کے ساتھ امن برقرار رکھیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ اپوزیشن کا جلسہ شادی کے ولیمے جیسا ہوگا۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر فیصل جاوید نے اپوزیشن کے جلسے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اپوزیشن کے جلسہ سے کوئی پریشانی نہیں بلکہ حکومت اپوزیشن کے جلسہ سے لطف اندوز ہورہی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نے کہا کہ اپوزیشن جو نمبر ڈائل کررہی ہے وہ عوامی خدمت میں مصروف ہے تین سال انتظار کریں لیکن اپوزیشن کے جلسہ کی اچھی بات یہ ہے کرسیاں ایس او پیز کے مطابق رکھی ہیں۔
سینیٹر فیصل جاوید نے یہ بھی کہا کہ گیارہ پارٹیاں بمقابلہ ایک عمران خان ہے، شاہ محمود قریشی کے زریعے 34 نکات پر مشتمل مفاہمتی آرڈیننس بھیجا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر فیصل جاوید نے مزید کہا کہ اپوزیشن کرسیوں کے نیچے سے این آر او ڈھونڈ رہے ہیں اور اگرعمران خان آج این آراو پر مان جائیں جلسوں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
بلوچستان میں کوسٹل ہائی وے پر اورماڑہ کے قریب دہشت گردی کا نشانہ بننے والے 14 شہداء کی اجتماعی نمازجنازہ لسبیلہ کےعلاقے حب میں ادا کردی گئی۔
نماز جنازہ کے بعد میتیں آبائی علاقوں کی طرف روانہ کردی گئیں۔ وزیراعظم نے سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی شہادت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ روز دہشت گردی کے دو بزدلانہ واقعات میں 20 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ پوری قوم اپنی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ہے، غم زدہ خاندانوں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہارکرتے ہیں۔
پولیس کے مطابق گوادر کے علاقے اورماڑہ میں کوسٹل ہائی وے پر او جی ڈی سی ایل کے قافلے پردہشت گرد انہ حملےکامقدمہ تا حال در ج نہیں ہوسکا ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی والے علا قے سےشواہد اکٹھے کررہے ہیں۔
ویب ڈیسک : حیدرآباد ہائی وے پر ایک بڑا حادثہ پیش آیا ہے جس میں دو ٹرالر آپس میں ٹکرا گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق لونی کوٹ ایم نائن موٹروے پر دو ٹرالر آپس میں ٹکرا گئے ہیں جس کے نتیجے میں ایک ٹرالر الٹ گیا ہے اور ہائی وے پر ٹریفک بھی معطل کردیا گیا ہے۔
ایک الٹ جانے والے ٹرالر میں ڈرائیور اور کنڈیکٹر پھنس گئے ہیں جبکہ حادثے کا شکار ٹرالر سے عملے کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں اور دوسری جانب ایم نائن پر موٹروے پولیس ٹریفک بحال کرنے میں مصروف ہیں۔
حادثے کے حوالے سے ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کے شکار ٹرالر میں دبے ڈرائیور اور کلینر جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ دونوں کی لاشیں نکال کر کوٹری تعلقہ اسپتال منتقل کردیں گئی ہیں۔
ریسکیو حکام نے بتایا ہے کہ جاں بحق ڈرائیور کی شناخت شیراز جبکہ کلینر کی شناخت عرفان کے طور ہوئی ہے جبکہ حادثے میں ایک ٹرالر کا ڈرائیور زخمی ہوا ہے۔
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے اپوزیش رہنماوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سارےڈاکواکھٹےہو کر اینآراومانگ رہے ہیں۔
اسلام آباد میں نسٹ یونیورسٹی میں کارڈیک اسٹنٹ کی تیاری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اینآراودیناآسانہےلیکنملککیتباہیہے۔اینآراودےدوںتوزندگیآسانہوجائےگی،ہمبھیپارلیمنٹمیںچارسالآرامسےتقریریںکریںگے،بہتریکاراستہآساننہیںہوتا ، لیکنمشکلفیصلےہیآپکوآگےلےکرجاتےہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان غلط سمت میں نکلا ہوا تھا اور ہم اس کو درست سمت میں گامزن کریں گے۔ قومیں طے کرتی ہیں کہ جاناکدھر ہے، لیکن ہمارا وژن دھند لا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک پاکستان کی ایکسپورٹ نہیں بڑھے گی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ 60 کی دہائی میں ہماری ایکسپورٹ بڑھ رہی تھی لیکن70 میں ایک کنفیوذ مائنڈ سیٹ اقتدار میں آگیا اور پاکستان کی انڈسٹریلائزیشن کو چوک کردیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جو ملک نیوکلیئر ٹیکنالوجی بنا سکتا ہے وہ کچھ بھی بنا سکتا ہے لیکن ہمارے ادارے آپس میں منسلک نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہی قوم ترقی کرتی ہے جو ایکسپورٹ کرتی ہے۔ ہم نے حکومتی اداروں کو بتانا ہے کہ ان کی مدد کریں جو پیسہ کمانا چاہتے ہیں۔
ہمارے ملک میں منافع کمانے کو جرم سمجھا جاتا ہے اور رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں۔ ہم اس سوچ کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں نئے کاروباری افراد کو سہولیات دی جائیں۔ تبدیلی دماغ کے استعمال سے آتی ہے۔
عمران خان نے کہا کہ مقامی سطح پرکارڈیک اسٹنٹ کی تیاری اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماراسب سے بڑا مسئلہ بیرون ملک سے اشیا کی مانگ تھی یہی وجہ ہے کہ ہرکچھ عرصے بہت ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے۔ ہمارا یہ فیصلہ کہ اپنے ملک میں اشیا تیار کریں گے، کامیاب ثابت ہوگا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا جب تک ہم اپنی ایکسپورٹ نہیں بڑھائیں گے آئی ایم ایف سے قرضے لینے کی ضرورت پیش آتی رہے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری نہیں ہوگی توملک آگےکیسےبڑھےگا۔ کوئی ملک ملائیشیا کی طرح صرف ربڑاور ٹین بیچ کرترقی نہیں کرسکتا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ چین نے ایکسپورٹ کوبڑھایا اور ان کا ملک ترقی کرتا گیا۔ ملکی ترقی کےلیےڈالر آنے چاہیے نہ کہ باہرجانے چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بہتری کا راستہ آسان نہیں ہوتا۔ مشکل فیصلے انسان کو کامیاب کرتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے اداروں میں باہمی تعاون کا فقدان ہے۔