امریکا کا امارات کو ایف 35 لڑاکا طیارے فروخت کرنے کا فیصلہ

(ویب ڈیسک)امریکا نے متحدہ عرب امارات ( یو اے ای) کو ایف 35 لڑاکا طیارے فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

عرب خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس نے متحدہ عرب امارات کو طیارے فروخت کرنے سے متعلق کانگریس کو آگاہ کردیا جس میں وائٹ ہاؤس نے کانگریس کی خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ کو بتایا کہ امریکا متحدہ عرب امارات کو 50 ایف 35 طیارے فروخت کرے گا۔

خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ ڈیموکریٹک کانگریس رکن ایلیٹ اینجل نے امریکی حکومت کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت کا یہ اقدام خلیج میں عسکری توازن کو تبدیل کرے گا اور اس سے اسرائیلی عسکری برتری پر بھی فرق پڑے گا۔

خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ نے کانگریس سے مطالبہ کیا کہ طیاروں کی فروخت کا بغور جائزہ لیا جائے کیونکہ ایف 35 جاسوسی کی سطح پر ایک گیم چینجر ہے اور جلد بازی میں طیاروں کی فروخت کسی کے مفاد میں نہیں ہے جب کہ یو اے ای کو طیاروں کی فروخت میں یقینی بنایا جائے کہ اسرائیل کی معیاری فوجی برتری برقرار رہے۔

گستاخانہ خاکوں پر فرانسیسی صدر کا رویہ نفاق پیدا کرنے والا ہے، صدر مملکت

عید میلاد النبی ﷺ کی مناسبت سے منعقدہ رحمت للعالمین قومی کانفرنس کے موقع پر صدر مملکت نے کہا کہ ہمیں انسانیت کا درس دینے والے مغربی ممالک کا طرز عمل یہ ہے کہ 100 مہاجرین کو بھی برداشت کرنے سے انکاری ہیں اور انہیں سمندر میں ڈوبنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دوسری جانب ایک مسلمان کا کردار یہ ہے کہ 35 لاکھ مہاجرین کو قبول کرنے پر آج تک کسی سیاسی رہنما نے یہ نہیں کہا کہ انہیں واپس بھیجا جائے اور وہ ہمیں انسانیت سکھانے آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یورپ کے 16 ممالک میں خدا یا نبی کے انکار سے بڑا یہ قانون بنایا گیا کہ ہولوکاسٹ (یہودیوں کے قتل عام) کا انکار کرنے پر تو فوجداری مقدمہ چلایا جائے گا اور سزا ہوگی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سارے یہودیوں کو قتل کیا گیا اس لیے اگر کوئی انکار کرے تو انہیں تکلیف پہنچتی ہے، ہم مانتے ہیں اس بات کو، لیکن مسلمانوں کی تکلیف کا تمہیں احساس نہیں جبکہ ریاست کی بنیاد پر یہ کام ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں مذمت کرتا ہوں کہ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر جو رویہ اپنایا اس سے وہ خود اپنے ملک میں نفاق پیدا کررہے ہیں۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ دنیا بدل گئی ہے اب دنیا کا حال یہ ہے کہ عالمی فورمز میں اخلاقیات اور انسانی اقدار پر نہیں بلکہ تجارت اور پیسے کی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے ہیں جیسا کہ کشمیر کے معاملے پر ہوا جن ممالک کے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات تھے ان کا جھکاؤ اسی کی طرف تھا اس میں اسلامی دنیا کے ممالک بھی شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت دنیائے اسلام ایک قیادت کی تلاش میں ہے اور عمران خان نے پہلی مرتبہ اقوامِ متحدہ میں ناموس رسالت کے حوالے سے تقریر کر کے یہ واضح کیا کہ گستاخانہ حرکات مسلمانوں کے لیے تکلیف دہ ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ مسلمان ایک ابھرتی ہوئی اور آگے بڑھنے والی قوم ہے لیکن اس کا کردار ائمہ، منبر اور محراب کے بغیر ممکن نہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نبی ﷺ کے اس راستے پر چلنے کی کوشش کریں جس کا تعین خود رسول اکرم ﷺ نے کیا اور مسجد میں بیٹھ کر تمام مسائل حل کیے جاتے تھے۔

صدر مملکت عارف علوی نے کہا کہ مسجد منبر اور محراب ایسی چیزیں ہیں جو رسول ﷺ کے زمانے میں مرکز تھے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس میں پاکستانیوں نے کیا کیا جبکہ بھارت، جہاں ہمارے جیسے لوگ ہی بستے ہیں ان کے مقابلے کورونا کو شکست دی اور دنیا اب کہتی ہیں کہ پاکستان سے سیکھو۔

انہوں نے کہا کہ میرے مطابق علمائے کرام کے ساتھ مل کر ہم نے جو طے کیا تھا کہ مساجد کھلی رکھی جائیں گی، اللہ سے لو لگائے رکھیں گے، معافی مانگتے رہیں گے، نماز تراویح کی ادائیگی جاری رکھی شاید اس لیے اللہ پاک کو ہم پر رحم آیا۔

صدر مملکت نے کہا کہ نبی ﷺ نے جس قدر غریب کی فکر کی وہ اشرافیہ والے اور قانونی کے اعتبار سے خواتین اور کمزوروں کے استحصال والے عرب معاشرے میں سب سے بڑی تبدیلی تھی، انہوں نے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لوگوں کو اپنے گھر کا کھانا دے دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ غریب کا احساس معاشرے میں سب سے بڑی تبدیلی ہے جو نبی ﷺ لے کر آئے اور کورونا کے دوران پاکستانیوں نے بھی اس پر عمل کیا، مخیر حضرات کے علاوہ حکومت نے بھی احساس پروگرام کے تحت غریبوں کی فکر کی تو اللہ پاک نے ہماری فکر کی اور دنیا نے پھر یہ منظر ملاحظہ کیا۔

ایاز صادق نے غیر ذمہ دارانہ بات کی لیکن ان کی حب الوطنی پر شک نہیں: شاہ محمود

اسلام آباد(ویب ڈیسک): وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ایاز صادق نے بالکل غیر ذمہ دارانہ بات کی لیکن ان کی حب الوطنی پر شک نہیں کرسکتا۔

جیونیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’ہمیں کچھ اطلاعات تھیں کہ بھارت کو پاکستان کے ہاتھوں جو شکست ہوئی اور پاکستانی ائیرفورس کے منہ توڑ جواب پر ندامت اٹھانا پڑی اس کی بوکھلاہٹ میں بھارت کوئی جارحانہ حرکت کرسکتا ہے، اس پر پارلیمنٹ اور پارلیمانی قیادت کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا گیا‘

انہوں نے کہا کہ ’اس حوالے سے ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں سینئر قیادت تھی اور میں بھی موجود تھا ہم نے پارلیمانی رہنماؤں کو اعتماد میں لیا، وزیراعظم نے اس میٹنگ میں آنا تھا لیکن وہ ایک اہم انٹرنیشنل کال کے انتظار میں تھے اور اس میں تاخیر کی وجہ سے میٹنگ میں نہیں آسکے‘۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’ایاز صادق نے جو گفتگو کی وہ بالکل غیر ذمہ دارانہ ہے،  ان کی حب الوطنی پر شک نہیں کرسکتا لیکن ایاز صادق جوش خطابت میں بہہ گئے اور  وہ کہہ دیا جس کا فائدہ آج بھارت اٹھانے کی کوشش کررہا ہے، پاکستانی کے بیانیے اور کامیابی کو بھارت نیچا دکھانے کی کوشش کررہا ہے جب کہ بھارت یہاں سے دم دبا کر بھاگا تھا‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ’ پاکستان نے ابھی نندن کو رہا کرنے کا مدبرانہ فیصلہ کیا اور یہ فیصلہ اس میٹنگ کے بعد ہوا، پاکستان کے فیصلے کو دنیا نے سراہا، عمران خان نے معاملات کو ڈی فیوز کیا اور صورتحال کو بڑھنے سے روکا‘۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’حیران ہوں کہ ایاز صادق نے کنفیوژن میں بات کی، یقین نہیں آرہا کہ انہوں نے کس بنیاد پر یہ بات کی، اس کا سر پاؤں دکھائی نہیں دے رہا، ہم نے اعتماد میں لینے کے لیے اجلاس بلایا تھا اور حیران ہوں کہ کیا رنگ دے دیا گیا‘۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ’بھارتی حرکت سے ہمیں کوئی پریشانی نہیں تھی اور ہم پوری طرح سے تیار تھے، اگر بھارت کوئی جارحیت کرتا تو جو جوابی کارروائی ہم نے کرنا تھی اس پر سیاسی اور عسکری قیادت میں مکمل مطابقت تھی، اس میں کوئی شک و شبہ نہیں تھا لیکن ضرورت محسوس کی گئی کہ نازک صورتحال پر قیادت کو اعتماد میں لیا جائے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت ہمارے بہت ذمہ دار اور سینئر لوگ اپنے ذاتی مفادات کے تابع ہوئے ہیں، وہ حکومت اور ریاست کے مفادات میں فرق نہیں کر پارہے، انہیں اندازہ نہیں ان کے بیانیے سے کیا وہ حکومت کو یا ریاست کے مفادات کو ٹھیس پہنچا رہے ہیں۔

ملک بھر میں جشن ولادت با سعادت ﷺ عقیدت و احترام کیساتھ منایا جا رہا ہے

(ویب ڈیسک)نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادت کی مناسبت سے ملک بھر میں 12 ربیع الاول مذہبی جوش و جذبے اور عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔

آج دن کا آغاز نماز فجر کے بعد نبی اکرم ﷺ پر درود و سلام کی محافل سے ہوا اور ملکی سلامتی و خوشحالی اور امن و امان کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 31 جب کہ صوبائی دارالحکومتوں میں 21، 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔

جشن عید میلاد النبی کے موقع پر لاہور کینٹ یادگار شہداء پر پاک فوج کے چاک و چوبند دستے نے دن کا آغاز 21 توپوں کی سلامی دے کر کیا۔

اس موقع پر فضا پاک فوج کے جوانوں کے پرجوش نعروں نعرے تکبیر اللہ اکبر سے گونج اٹھی، تقریب میں پاک فوج کے اعلی افسران نے بھی شرکت کی۔

جشن ولادت با سعادت کے موقع پر ملک بھر کے گلی کوچوں، سڑکوں، شاہراہوں اور بازاروں کو انتہائی خوبصورتی کے ساتھ سجایا گیا ہے اور شہر شہر قریہ قریہ نبی مہربان ﷺ کی شان میں قصیدے پڑھے جا رہے ہیں۔

کراچی میں نیو میمن مسجد سے نشتر پارک تک جلوس نکالا جائے گا

ملک بھر کی طرح کراچی میں بھی جشنِ ولادت باسعادت حضرت محمد ﷺ کے موقع پر جلوس نکالے جائیں گے، مرکزی جلوس سمیت شہر بھر میں نکلنے والے جلوسوں کی سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

شہر بھر میں مساجد، عمارتیں اور شاہراہیں برقی قمقموں سے سجائی گئی ہیں، عاشقان رسول ﷺ کی جانب سے محافل میلاد منقعد کی جا رہی ہیں۔

جشن عید میلادالنبی ﷺ کا مرکزی جلوس جماعت اہلسنت، سنی تحریک اور انجمن نوجوان اسلام کے تحت ایم اے جناح روڈ نیو میمن مسجد سے نشتر پارک تک نکالا جائے گا، جلوس بولٹن مارکیٹ، ریڈیو پاکستان اور نمائش چورنگی سے ہوتا ہوا نشتر پارک پر اختتام پزیر ہو گا۔ جلوس کے اختتام پر نشترک پارک میں عید میلادالنبی کانفرنس منقعد ہو گی جس سے علمائے کرام خطاب کریں گے۔

سیکیورٹی کے سخت انتظامات

مرکزی جلوس کے راستوں اور گزرگاہوں کی سکیورٹی کے لیے 5 ہزار کے قریب اہلکاروں سمیت ایس آئی یو کے ماہر نشانہ باز بھی تعینات ہیں۔

جلوس کے موقع پر ایم اے جناح روڈ کے اطراف کی تمام گلیاں کنٹینر لگا کر بند کر دی گئی ہیں، جلوس کی گزرگاہ میں آنے والی دکانوں کو بھی سیل کیا گیا ہے جب کہ رات گئے سندھ حکومت نے صوبے بھر میں دفعہ 144 کے تحت موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر ایک روز کی پابندی بھی عائد کر دی ہے۔

متبادل ٹریفک روٹس

جشن عید میلاد النبی ﷺ کے جلوس کے موقع پر ٹریفک کی روانی بحال رکھنے کے لیے ٹریفک پولیس کی جانب سے متبادل راستے بھی فراہم کیے گئے ہیں۔

حیدرآباد میں بھی جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔

حیدر آباد میں بھی عید کا سماں

حیدرآباد شہر کی گلی محلوں سمیت بازاروں، شاہراہوں اور سرکاری عمارتوں کو برقی قمقموں سے منور کر دیا گیا ہے، جگہ جگہ میلاد کی محفلیں بھی سجائی جا رہی ہیں۔

گوجرانوالہ میں 100 من کھیر کی دیگ

گوجرانوالہ میں بھی جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر شہر بھر کی مساجد اور گلی محلوں کو خوبصورتی کے ساتھ سجایا گیا ہے، شہر بھر میں عید کا سماں ہے جب کہ رات گئے عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے ریلیاں بھی نکالی گئیں۔

گوجرانوالہ کے علاقے ونیہ والا میں 100 من کھیر کی دیگ بھی تیار کی جا رہی ہے جسے جلوسوں کے شرکاء کو کھلایا جائے گا۔

63 من وزنی کیک

چنیوٹ میں جشن ولادت با سعادت کے موقع پر 63 من وزنی کیک کاٹا گیا جب کہ ملتان میں جامعہ مسجد بہار مدینہ کی جانب سے سورج میانی میں میلاد ریلی کا انعقاد کیا گیا جس میں خانہ کعبہ اورمسجد نبوی ﷺ کے ماڈلزکی زیارتیں بھی رکھی گئیں۔

نارووال میں بھی نذو نیاز

نارووال کی تحصیل شکر گڑھ میں جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤقف پر شہر بھر کی گلیوں اور بازاروں کو سجایا گیا ہے، مساجد میں حمد و نعت کی محافل سجائی جا رہی ہیں اور نذر و نیاز کا تیاریاں بھی عروج پر ہیں۔

آزاد کشمیر میں بھی شہریوں نے شہر بھر کو رنگ برنگی برقی قمقموں سے سجایا ہے جب کہ میر پور میں مرکزی میلاد کمیٹی کی جانب سے شہر کی مرکزی شاہراہوں پر چراغاں کا اہتمام کیا گیا ہے۔

سیاسی بیان بازی سے فوج میں شدید غصہ،قومی سلامتی کے معاملات اور تاریخ مسخ کی گئی:ترجمان پاک فوج

(ویب ڈیسک)پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار  کا کہنا ہے کہ کل ایک ایسا بیان دیا گیا جس میں تاریخ کو مسخ کرنے کی بات کی گئی۔

راولپنڈی میں پرس بریفنگ دیتے ہوئے میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ آج کی پریس کانفرنس کا ون پوائنٹ ایجنڈا ریکارڈ کی درستگی ہے، گزشتہ روز ایک بیان دیا گیا جس میں تاریخ کو مسخ کرنے کی بات کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ایسے منفی بیانیے کے قومی سلامتی پر براہ راست منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، منفی بیانیہ بھارت کی شکست اور ہزیمت کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پلوامہ واقعے کے بعد بھارت نے 26 جنوری کو ناصرف منہ کی کھائی بلکہ پوری دنیا میں ہزیمت بھی اٹھائی، دشمن کے جہاز جو بارود پاکستان کے عوام پر گرانے آئے تھے وہ خالی پہاڑوں پر پھینک کر چلے گئے۔

ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ افواج پاکستان کے چوکنا رسپانس نے دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا، پاکستان نے اعلانیہ ہندوستان کو دن کی روشنی میں جواب دیا، دشمن کے 2 جہاز گرائے، پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کیا گیا، اللہ کی نصرت سے ہمیں ہندوستان کے خلاف واضح فتح نصیب ہوئی اور پوری قوم کا سر فخر سے بلند ہوا، پاکستان کی فتح کو دنیا بھر میں تسلیم کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی رہائی کو کسی اور چیز سے جوڑنا انتہائی گمراہ کن ہے، یہ چیز کسی بھی پاکستانی کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ابھی نندن کو جینیوا کنونشن کے تحت رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا، پاکستان کے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ایک موقع دیتے ہوئے ابھی نندن کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا، پاکستان کے ابھی نندن کے رہا کرنے کے فیصلے کو پوری دنیا نے سراہا۔

کورونا وائرس کے دوران خدمات سرانجام دینے پر علی ظفر کیلئے ’شان پاکستان‘ ایوارڈ

کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران لوگوں کی مالی مدد کرنے پر پاکستانی گلوکار و اداکار علی ظفر کو حکومت پاکستان کی جانب سے شانِ پاکستان ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔

گورنر ہاؤس لاہور میں ’شان پاکستان’ ایوارڈ کی تقریب منعقد ہوئی تھی جس میں کورونا وائرس کی وبا کے دوران ملک میں خدمات سرانجام دینے والوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں اعزازات سے نوازا گیا تھا۔

تقریب میں صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی، گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔

مزید پڑھیں: علی ظفر’ نمل نالج سٹی’ کے سفیر مقرر

اس موقع پر ملک میں کورونا وائرس کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والے ڈاکٹرز، طبی عملے، این جی اوز کے ہیروز سمیت سیکیورٹی و حکومتی اداروں کو خراج تحسین پیش کیا۔

تقریب کے دوران صدر مملکت نے گورنر ہاؤس میں بنائی گئی کورونا ہیروز وال کا افتتاح بھی کیا۔

مذکورہ تقریب میں کورونا وائرس کی عالمی وبا کا مقابلہ کرتے ہوئے بھرپور خدمات سرانجام دینے والی 38 شخصیات کو اعزازات سے بھی نوازا گیا۔

اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق تقریب میں کورونا وائرس سے شہید ہونے والے نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مصطفی کمال، سروسز ہسپتال کے شہید پروفیسر حافظ مقصود احمد، ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال کے ایم ایس شہید ڈاکٹر معصود قصری سمیت دیگر شہید ڈاکٹرز کو بھی شانِ پاکستان ایوارڈ سے نوازا گیا جو ان کے اہلخانہ نے وصول کیا۔

علاوہ ازیں حکومت کی جانب سے بزنس کیمونٹی کے گوہر اعجاز، انوار اے غنی، میاں طلعت محمود، میاں انجم نثار اور میاں احسن کو بھی ایوارڈ دیا گیا۔

تقریب میں اخوت کے چیئرمین ڈاکٹر امجد ثاقب، الخدمت فاونڈیشن کے محمد عبدالشکور اور المائدہ ٹرسٹ کے محمد علی سمیت دیگر شعبوں میں وبا کے خلاف خدمات سرانجام دینے والوں کو بھی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: سول ایوارڈ کیلئے نامزدگی پر علی ظفر کا خوشی کا اظہار

اس موقع پر حکومت پاکستان نے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے نافذ کردہ لاک ڈاؤن میں خدمات سرانجام دینے والے گلوکار علی ظفر کی فلاحی تنظیم علی ظفر فاؤنڈیشن کے کردار کا بھی اعتراف کیا۔

ابھی نندن سے متعلق بیان کو بھارتی میڈیا توڑ مروڑ کر پیش کررہا ہے، ایاز صادق

سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما ایاز صادق نے قومی اسمبلی میں اپنے دیے گئے متنازع بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میرا اشارہ سول لیڈر شپ کی کمزوری کی جانب تھا، بھارتی میڈیا بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کررہا ہے۔

پارٹی ترجمان کی جانب سے جاری وضاحتی ویڈیو میں ایاز صادق نے بھارتی پائلٹ کی رہائی سے متعلق بیان کے حوالے سے کہا کہ ابھی نندن کو چھوڑنے کے حوالے سے وزیر اعظم نے پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس بلایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمانی لیڈروں کو بلاکر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بریفنگ دی، عمران خان کے پاس اتنی ہمت نہیں تھی،ان کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں اور ماتھے پر پسینہ تھا۔

سابق اسپیکر قومی اسمبلی کے مطابق عمران خان نے یہ نہیں بتایا کہ وہ یہ کس کے کہنے اور کس کے دباؤ میں تھے تاہم شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ ہم ابھی نندن کو واپس کرنا چاہتے ہیں۔

سردار ایاز صادق نے کہا کہ سول لیڈرشپ کا یہ فیصلہ تھا جو شاید جلد بازی میں کیا گیا، ہماری رائے یہ تھی کہ ذرا سا انتظار کرلیتے تو اچھا ہوتا۔

رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ ابھی نندن کو چھوڑنے کے فیصلے میں سول لیڈرشپ اور عمران خان کی کمزوری نظر ائی، میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹا کر بتایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی نندن کا حملہ ناکام ہوا اور جہاز گرادیا گیا وہ دن پاکستان کی فتح کا دن تھا۔

ایاز صادق کا مزید کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی نے پارلیمانی میٹنگ میں کہا کہ ہمیں ابھی نندن کو قومی سلامتی کے باعث واپس بھجوانا ہے، ہم فوری واپسی کے مخالف تھے مگر قومی سلامتی کی خاطر یہ فیصلہ ہوا تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کے رہنما ایاز صادق نے قومی اسمبلی میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ حکومت نے گھٹنے ٹیک کر بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو واپس بھارت بھیجا۔

انہوں نے کہا تھا کہ اجلاس میں وزیر اعظم نے آنے سے انکار کردیا تھا مگر آرمی چیف اس میں شریک تھے، پسینے میں شرابور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ خدا کے واسطے ابھی نندن کو واپس جانے دیں جبکہ بھارت آج رات 9 بجے حملہ کر رہا ہے۔

سابق اسپیکر قومی اسمبلی کے بیان پر بھارتی میڈیا نے خوب واویلا مچایا اور بھارتی پائلٹ کی رہائی کو اپنی فتح سے تعبیر کیے جارہا تھا۔

دوسری جانب پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین نے ایاز صادق کے اس بیان پر شدید ردِ عمل دیا اور ان کے خلاف ہیش ٹیگز ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ رہے۔

سکول کھلے ہیں لیکن کچھ نہیں پتہ کے دوبارہ کب بند ہو جائیں: سعید غنی

کراچی:  وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کورونا کے باعث تعلیم کو نقصان ہوا، سکول بند رہے، سکول کھلے ہیں لیکن کچھ نہیں پتہ کے دوبارہ کب بند ہو جائیں۔

وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے طلبہ میں مفت ٹیبلیٹس کی تقسیم کی تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ بہت سے علاقوں میں انٹرنیٹ اور سہولیات نہیں مگر 6 فیصد علاقوں میں سب ہے، سکول بند ہوئے تو ٹیبلیٹس کے ذریعے بچے گھر بیٹھ کر آن لائن پڑھ سکیں گے۔

سعید غنی کا کہنا تھا 30 سے زائد نئے سکولوں میں بھی تعلیم کا سلسلہ جلد شروع کیا جائیگا، جو این جی اوز ہمارے ساتھ تعلیم کیلئے کام کرنا چاہیں وہ آگے بڑھیں۔

دوسری جانب نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق کورونا وائرس سے مزید 16 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 6 ہزار 775 ہوگئی۔ پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 3 لاکھ 31 ہزار 108 ہوگئی۔

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 908 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں ایک لاکھ 3 ہزار 587، سندھ میں ایک لاکھ 44 ہزار 765، خیبر پختونخوا میں 39 ہزار 277، بلوچستان میں 15 ہزار 576، گلگت بلتستان میں 4 ہزار 211، اسلام آباد میں 19 ہزار 454 جبکہ آزاد کشمیر میں 3 ہزار 938 کیسز رپورٹ ہوئے۔

ملک بھر میں اب تک 43 لاکھ 76 ہزار 604 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 29 ہزار 449 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 3 لاکھ 12 ہزار 638 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ 624 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 16 افراد جاں بحق ہوئے جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 6 ہزار 775 ہوگئی۔ پنجاب میں 2 ہزار 347، سندھ میں 2 ہزار 611، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 273، اسلام آباد میں 215، بلوچستان میں 149، گلگت بلتستان میں 92 اور آزاد کشمیر میں 88 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

70 روز بعد کورونا مثبت ہونے کی شرح 3 فیصد بڑھ گئی: اسد عم

اسلام آباد: (دنیا نیوز) اسد عمر نے کہا ہے کہ 70 روز بعد کورونا کیسز کی شرح 3 فیصد بڑھ گئی ہے، این سی او سی نے کچھ عوامی سرگرمیوں پر پابندیاں سخت کی ہیں، کورونا مزید پھیلنے سے روکنے کیلئے احتیاط ضروری ہے۔

دوسری جانب نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق کورونا وائرس سے مزید 16 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 6 ہزار 775 ہوگئی۔ پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 3 لاکھ 31 ہزار 108 ہوگئی۔

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 908 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں ایک لاکھ 3 ہزار 587، سندھ میں ایک لاکھ 44 ہزار 765، خیبر پختونخوا میں 39 ہزار 277، بلوچستان میں 15 ہزار 576، گلگت بلتستان میں 4 ہزار 211، اسلام آباد میں 19 ہزار 454 جبکہ آزاد کشمیر میں 3 ہزار 938 کیسز رپورٹ ہوئے۔

ملک بھر میں اب تک 43 لاکھ 76 ہزار 604 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 29 ہزار 449 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 3 لاکھ 12 ہزار 638 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ 624 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 16 افراد جاں بحق ہوئے جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 6 ہزار 775 ہوگئی۔ پنجاب میں 2 ہزار 347، سندھ میں 2 ہزار 611، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 273، اسلام آباد میں 215، بلوچستان میں 149، گلگت بلتستان میں 92 اور آزاد کشمیر میں 88 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

پوری قوم دشمن کیخلاف متحد ہے: وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پوری پاکستانی قوم دشمن کے خلاف متحد ہے۔

وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔

وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور ملکی سیکیورٹی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ایف سی اہلکاروں پر حملہ بزدلانہ فعل تھا اور اس سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہو سکتے۔

عمران خان نے پاک فوج، ایف سی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو مادر وطن کے دفاع کے لیے قربانیاں دینے پر خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔

وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ پاک فوج وطن کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہے اور پوری قوم دشمن کے خلاف متحد ہے۔