‘دی لائن کنگ ‘ کے چاہنے والوں کیلئے خوشخبری

امریکا کے فلم اسٹوڈیو والٹ ڈزنی نے اپنی فلم ‘دی لائن کنگ ‘ کا سیکوئل بنانے کا اعلان کر دیا۔

دی لائن کنگ پہلی مرتبہ 1994 میں کارٹون فلم کے طور پر ریلیز کی گئی لیکن گزشتہ سال یعنی 2019 میں اسے ایک حقیقی فلم کے طور پر ریلیز کیا گیا۔

اطلاعات ہیں سیکوئل 2019 میں ریلیز ہونے والی فلم کا ہی اگلا حصہ ہو گی جب کہ اس کی ہدایات آسکر ایوارڈ یافتہ بیری جینکنس دیں گے۔

2019 میں ‘دی لائن کنگ’ نے عالمی باکس آفس پر 1.7 بلین کی کمائی کی تھی۔

والٹ ڈزنی نے ابھی تک ‘دی لائن کنگ’ کے سیکوئل کی ریلیز کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا ہے جس کی بنیادی وجہ کورونا وائرس کی عالمی وبا اور بیری جینکنس کا مصروف شیڈول بتایا جاتا ہے۔

پارٹی کو پارٹی رہنے دیں، خاندانی جاگیر نہ بنائیں، معطل ن لیگی جلیل شرقپوری

مسلم لیگ ن سے نکالے گئے رکن پنجاب اسمبلی جلیل شرقپوری کا کہنا ہےکہ نواز شریف کی بات سے اختلاف کیا ہے کوئی آئین تو نہیں توڑا۔

خیال رہے کہ ن لیگی رکن پنجاب اسمبلی جلیل شرقپوری نے پارٹی قائد نواز شریف کی اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں کی گئی تقریر پر تنقید کی تھی جس پر  انہیں مسلم لیگ ن پنجاب کے جنرل سیکرٹری اویس لغاری کی طرف سے شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

جیو نیوز نے جلیل شرقپوری کو شوکاز نوٹس کی کاپی حاصل کرلی ہے، شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہےکہ آپ نے 26 ستمبر کو پارٹی پالیسی کے خلاف بیان دیا، آپ کی پارٹی کی بنیادی رکنیت معطل کی جاتی ہے، اور ہدایت کی جاتی ہے کہ 7 یوم میں اپنا بیان جمع کرائیں۔

جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے جلیل شرقپوری کا کہنا تھا کہ پارٹی کی طرف سے مبہم نوٹس جاری کیا گیا ہے، وہ ایسے نوٹس کو نہیں مانتے،  غلطی نہیں بتائی گئی، صرف نوٹس جاری کر دیا گیا، پارٹی کی طرف سے جاری نوٹس کی کوئی قانونی اور اخلاقی حیثیت نہیں ہے۔

 ان کا کہنا تھاکہ سب سے پہلے انہیں بتایا جائے کہ ان کی غلطی کیا ہے، نواز شریف کی بات سے اختلاف کیا ہےکوئی آئین نہیں توڑا، پارٹی کو پارٹی رہنے دیں، خاندانی جاگیر نہ بنائیں،  پارٹی میں مختلف آراءکے لوگ ہوتے ہیں ہرکسی کی رائے کا احترام ہونا چاہیے، مسلم لیگ ن ایک پارٹی ہے نہ کہ خاندانی لمیٹڈ کمپنی۔

علاوہ ازیں 3ماہ کے دوران پارٹی قیادت کی اجازت کے بغیر دو مرتبہ وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کرنے پر جلیل شرقپوری کے علاوہ دیگر 4 ن لیگی ارکان کی پارٹی رکنیت ختم کردی ہے اور صوبائی اسمبلی سے رکنیت ختم کرنےکے لیے الیکشن کمیشن سے رابطہ کرنےکافیصلہ کیاگیا ہے۔

ان ارکان میں اشرف انصاری، جلیل شرقپوری، فیصل نیازی، نشاط ڈاہا اور مولوی غیاث الدین شامل ہیں۔

بابری مسجد کے جانبدارانہ فیصلے سے بھارت بے نقاب ہوگیا، دفتر خارجہ

ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایک فراڈ عدالت کے جانب دارانہ فیصلے نے بھارت کو بے نقاب کردیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ دنیا میں سب سے بڑی جمہوریت آج بے نقاب ہو چکی ہے، گذشتہ روز ایک فراڈ عدالت کے ذریعہ بابری مسجد کیس میں ایک جانبدارنہ فیصلے نے بھارت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت پر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں اور ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت و سیکیورٹی یقینی بنانے پر زور دیتا ہے

ان کا کہنا تھا کہ بابری مسجد کیس میں تمام ملزمان کو رہا کر دیا گیا جو کہ شرم ناک ہے، آج بھارت میں نہ تو جمہوریت ہے نہ ہی اس کی عدالتیں آزاد ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ بابری مسجد کیس کے حوالے سے بھارتی عدالت کا فیصلہ ہندو توا نظریے کے تحت کیا گیا اور بھارت میں ہندوتوا نظریے کے تحت ہی حکومت چلائی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی عدالت کے فیصلے کو نہ تو بھارت کے عوام، نہ ہی پاکستان اور نہ ہی عالمی برادری تسلیم کرتی ہے۔

بھارتی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کی ہمسایے سب سے پہلے کی پالیسی کا وجود ہی نہیں ہے بلکہ ان کی پالیسیاں چانکیہ ڈاکٹرائن کے تحت چلائی جا رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسیاں منی لانڈرنگ اور مالی جرائم میں ملوث ہیں اور بھارت دہشت گردی کا ریاستی پشتی بان ہے، اسی طرح انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے بھارت کی پوزیشن دنیا بھر میں ابتر ہے۔

بھارت میں پاکستانی ہندووں کی پراسرار ہلاکت سے متعلق انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنا پاکستان ہندو کونسل کا حق ہے، 11 پاکستانی ہندوں کے قتل کا جونہی علم ہوا، پاکستان نے بھارت سے فوری رابطہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاندان کے سربراہ کی بیٹی شیریمتی مکھی نے اس معاملے میں را کے ملوث ہونے کی بات کی اور ہم اس کو بھرپور انداز میں اٹھاتے رہیں گے۔

زاہد حفیظ چوہدری کا کہنا تھا کہ بھارتی جاسوس کمانڈر کلبھوشن یادیو کی اہلیہ اور والد سے ملاقات کی پیش کش اب بھی موجود ہے تاہم پاکستانی پیش کش کا اب تک بھارت کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

ہفتہ وار بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کووڈ-19 کے باعث قرضوں کی معافی اور علاقائی امن پر بات کی۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم معصوم کشمیریوں پر پیلٹ گنز کے استعمال کو اجاگر کیا اور اسلاموفوبیا کے معاملے پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دیا۔

مقبوضہ کشمیر کی صورت حال سے آگاہ کرتے انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالات مزید ابتر ہو رہے ہیں اور وہاں محاصرے کو 428 روز ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں مقبوضہ جموں و کشمیر میں مزید 6 نہتے کشمیری شہید ہوئے۔

ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بابر قادری کی نامعلوم افراد کے ہاتھوں شہادت کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔

لائن آف کنٹرول پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 24، 28 اور 30 ستمبر کو بھارتی قابض افواج کی جانب سے ایل او سی پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی۔

منگھو پیر کی یوسی 8 میں 22 کورونا کیسز کی تصدیق، مائیکرو سمارٹ لاک ڈاؤن کا آغاز

کراچی: (ویب ڈیسک) کراچی میں کورونا کیسز میں نمایاں اضافہ، ضلع غربی منگھو پیر کی یوسی 8 کے 2 اپارٹمنٹ میں 22 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی، جس کے بعد ڈپٹی کمشنر ویسٹ نے دو ہفتے کے لئے متاثرہ یوسی میں مائکرو سمارٹ لاک ڈاؤن لگا دیا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق یو سی آٹھ کے سمامہ ولاز اور صائمہ سٹی میں کیسز بڑھنے کے وجہ سے مائکرو سمارٹ لاک ڈاوُن لگایا گیا، مائکرو سمارٹ لاک ڈاوُن کے تحت متاثرہ علاقے میں ہوم ڈلیوریز پر پابندی عائد ہوگی، علاقے میں آنے جانے والے ہر شخص کو ماسک پہنا لازمی ہوگا جبکہ نجی ٹرانسپورٹ، ڈبل سواری اور عوامی اجتماعات پر پابندی ہوگی۔ ضلع جنوبی میں بھی انتظامیہ حرکت میں آئی اور 9 ریسٹورنٹس کو سیل کر دیا۔

دوسری جانب کمشنر کراچی سہیل راجپوت کی سربراہی میں اجلاس ہوا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ خلاف ورزی کرنے والے ریسٹورنٹس اور میرج ہالز کو کم از کم تین دن بند کیا جائے گا، سکولوں میں کورونا ٹیسٹنگ میں اضافہ کیا جائے، خلاف ورزی کرنے والے سکولوں کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے گا۔

 خیال رہے کورونا وائرس سے 5 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 6 ہزار 484 ہوگئی۔ پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 3 لاکھ 12 ہزار 806 ہوگئی۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 543 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں 99 ہزار 479، سندھ میں ایک لاکھ 37 ہزار 106، خیبر پختونخوا میں 37 ہزار 811، بلوچستان میں 15 ہزار 281، گلگت بلتستان میں 3 ہزار 787، اسلام آباد میں 16 ہزار 611 جبکہ آزاد کشمیر میں 2 ہزار 731 کیسز رپورٹ ہوئے۔

ملک بھر میں اب تک 35 لاکھ 48 ہزار 476 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 34 ہزار 239 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 2 لاکھ 97 ہزار 497 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ 490 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 5 افراد جاں بحق ہوئے جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 6 ہزار 484 ہوگئی۔ پنجاب میں 2 ہزار 235، سندھ میں 2 ہزار 499، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 260، اسلام آباد میں 182، بلوچستان میں 146، گلگت بلتستان میں 88 اور آزاد کشمیر میں 74 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

خاموش نہیں رہ سکتا، کوئی مجھے چپ کرانے کی کوشش بھی نہ کرے: نواز شریف

سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں خاموش نہیں رہ سکتا، کوئی مجھے چپ کرانے کی کوشش بھی نہ کرے۔

لندن سے مسلم لیگ ن کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے ڈھائی سال بعد آپ سے ملوایا۔

ان کا کہنا تھا کہ چاروں طرف نگاہ ڈالتا ہوں تو دل بہت غمگین ہوتا ہے، ہم کیا تھے کہاں جا رہے تھے، اب کہاں ہیں، کدھر جا رہےہیں؟

انہوں نے مزید کہا کہ 2018 تک لوگ خوشحال تھے، ہم نے محنت کرکے پاکستان کا نقشہ بدل دیا، زبانی جمع خرچ نہیں کر رہا، لفاظی نہیں ہے، آپ نے ہمارے کام اور حکومت کا مشاہدہ کیا، اللہ کے فضل و کرم سے ہم نے ہر سیکٹر میں کارنامے انجام دیے۔

نواز شریف نے کہا کہ اللہ نے تین چار سالوں میں ہم سے کئی منصوبے لگوا دیے، ہمارے دور میں بجلی آگئی، دہشت گردی ختم ہو گئی، معیشت آسمان پر چلی گئی، قوم کی دعائیں ہمارے ساتھ تھیں اور تیزی سے کام ہو رہا تھا، گیس کے منصوبے لگ رہے تھے جو اپنی مثال آپ تھے۔

’آج 170 پر ہے، ڈالر مہنگا ہو گیا ہے، روپیہ مٹی میں مل گیا ہے‘

انہوں نے کہا کہ اکانومی چل پڑی تھی اور گروتھ ریٹ 5 اعشاریہ 8 تھا، آج گروتھ ریٹ منفی میں چلا گیا ہے، ہمارے زمانے میں ایک ڈالر 100 روپے کے لگ بھگ تھا،  آج 170 پر ہے، ڈالر مہنگا ہو گیا ہے، روپیہ مٹی میں مل گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ  سلیکٹڈ نے ملک کو تباہ و برباد کر دیا ہے،  آج یہ حالات پیدا ہوگئے ہیں کہ لوگ روٹی کھاتے ہیں تو سالن کے پیسے نہیں ہوتے، پانی کے ساتھ روٹی کھاتے ہیں،  غریبوں سے پوچھیں وہ آٹا خریدیں یا بجلی اور گیس کا بل ادا کریں، غریب روٹی کھائیں گے یا دوائیں خریدیں گے جو ان کی پہنچ سے باہر ہیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں کیا ریاست مدینہ ایسی ہوتی ہے؟ ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں ہے، یہ سلیکٹڈ وزیراعظم ہے۔

’نواز شریف اس مٹی کا نہیں بنا ہوا جو دہرے معیار پر خاموش رہے‘

انہوں نے مزید کہا کہ میں خاموش نہیں رہ سکتا، کوئی مجھے چپ کرانے کی کوشش بھی نہ کرے، نواز شریف اس مٹی کا نہیں بنا ہوا جو دہرے معیار پر خاموش رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو گوشت تو دور کی بات، پلاؤ سال میں ایک بار نصیب ہوتا ہو گا، 30 ہزار روپے ایک طرف رکھیں، دوسری طرف ضروریات زندگی رکھیں، 30 ہزار روپے ختم ہو جائیں گے، ضروریات زندگی پوری نہیں ہوں گی، لوگ کیا کریں گے، بھیک مانگیں گے، قرضے لیں گے، سلیکٹڈ وزیراعظم سے پوچھیں چینی 50 روپے سے 100 روپے کلو کیسے ہو گئی، آج عوام کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔

(ن) لیگ کا وزیراعلیٰ پنجاب سے ملنے والے 5 ارکان کو پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ

لاہور(ویب ڈیسک): مسلم لیگ (ن) نے پارٹی نظم وضبط کی خلاف ورزی کرنے والے 5 ارکان کو پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ کرلیا۔

جیونیوز کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے عثمان بزدار سے ملاقات کرنے والے پارٹی کے 5 ارکان کو پارٹی سے نکالنےکا فیصلہ کرلیا ہے جس کا اعلان پارٹی کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے قیادت کی منظوری کے بعد کیا۔

نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر پارٹی سے نکالے جانے والے اراکین پنجاب اسمبلی میں اشرف انصاری، جلیل شرقپوری، فیصل نیازی، نشاط ڈاہا اور مولوی غیاث الدین شامل ہیں۔

پانچوں ارکان اسمبلی کے خلاف کارروائی (ن) لیگ پنجاب کے صدر رانا ثنااللہ کے دستخطوں سے عمل میں آئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نکالےگئے 5 ارکان کی پنجاب اسمبلی سے رکنیت ختم کرنے کیلئے پارٹی الیکشن کمیشن سے رابطہ کرے گی۔

اس کے علاوہ مسلم لیگ (ن)ٰ نے ایف اے ٹی ایف کی ووٹنگ میں غیرحاضر پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کو بھی شوکاز نوٹس جاری کیے ہیں جو راجا ظفر الحق کے دستخط سے جاری ہوئے۔

جن ارکان کو شوکاز نوٹس جاری ہوئے ان میں راحیلہ مگسی، کلثوم پروین، دلاور خان اور شمیم آفریدی شامل ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کا کہنا ہےکہ شوکاز کی کارروائی کے بعد اگلے مرحلے کا فیصلہ ہوگا۔

واضح رہےکہ مسلم لیگ (ن) کے 6 ارکان پنجاب اسمبلی نے قیادت کو مطلع کیے بغیر 2 جولائی کو وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کی تھی جن میں میاں جلیل احمد شرقپوری، چوہدری اشرف علی انصاری، نشاط احمد ڈاہا ، غیاث الدین، اظہر عباس اور محمد فیصل خان نیازی شامل تھے۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی جلیل شرقپوری نے اے پی سی میں اپنے پارٹی قائد نوازشریف کی تقریر پرتنقید کی تھی اور اسے قومی مفاد کے خلاف قرار دیا تھا جس پر پارٹی نے ان کی رکنیت معطل کردی تھی۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں کی مسلح افواج اور ایجنسیوں سے ملاقاتوں پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔

آرمینیا کا آذربائیجان کے ساتھ امن مذاکرات سے انکار

(ویب ڈیسک)آرمینیا کی جانب سے نگورنوکاراباخ کے معاملے پر روس کی زیر نگرانی آذربائیجان کے ساتھ امن مذاکرات سے انکار کردیا ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق آرمینیا نے باور کرایا ہے کہ وہ نگورنو کاراباخ کی خودمختاری سرکاری طور پر تسلیم کرنے پر غور کررہا ہے۔

روسی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آرمینی وزیراعظم نکول باشینیان نے کہا کہ روس کی نگرانی میں باکوحکومت کے ساتھ بات چیت کا خیال قبل از وقت ہے۔

پاشینیان کے مطابق  شدید لڑائی کے جاری رہتے ہوئے آرمینیا، آذربائیجان اور روس کے درمیان سربراہ اجلاس کی باتیں نامناسب ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کے لیے فضا اور حالات موزوں ہونے چاہییں۔ روسی خبر رساں ایجنسیوں نے آرمینیائی وزیر اعظم کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان کا ملک نگورنو کاراباخ میں امن فوج بھیجے جانے پر غور نہیں کر رہا ہے۔

اسی دوران آرمینیا کی خبر رساں ایجنسی نے پاشینیان کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ ان کا ملک نگورنو کاراباخ کے ساتھ ایک سیاسی عسکری اتحاد تشکیل دینے کا سوچ رہا ہے۔

دوسری جانب سلامتی کونسل نے نگورنو کاراباخ کے حوالے سے جھڑپوں پر منگل کی شام اپنے اجلاس میں گہری تشویش کا اظہار کیا۔ سلامتی کونسل نے دونوں ممالک سے فوری طور پر جنگ بندی پر عمل اور مذاکرات شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔

 سلامتی کونسل کے ارکان نے آرمینیا اور آذربائیجان سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس کی اپیل کی حمایت کی، جس میں سیکرٹری جنرل نے کہا تھا کہ وہ نگورنوکراباخ کے خطے میں فوری طور پر جنگ بندی پر عمل کریں اور بغیر کسی تاخیر کے مذاکرات کا آغاز کریں۔

وائس ایڈمرل امجد خان نیازی پاک بحریہ کے نئے سربراہ نامزد

پاک بحریہ کے موجودہ سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی 6 اکتوبر کو ریٹائر ہوجائیں گے جن کی جگہ ایڈمرل امجد خان نیازی منصب سنبھالیں گے۔

حکومت کی جانب سے باضابطہ تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کرنا ابھی باقی ہے تاہم وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور ڈاکٹر شہباز گل نے تصدیق کردی کہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی کے جانشین کے طور پر ایڈمرل امجد خان نیازی کو نامزد کیا گیا ہے۔

پاک بحریہ کے ترجمان نے کہا کہ کمان کی تبدیلی کا انعقاد بدھ (7 اکتوبر) کو ہوگا۔

پاک بحریہ کی کمان سنبھالنے سے پہلے اس وقت بحیثیت وائس چیف آف نیول اسٹاف (آپریشنز) اپنے فرائض انجام دینے والے وائس ایڈمرل امجد خان نیازی کو ایڈمرل کے عہدے پر ترقی دی جائے گی۔

وائس ایڈمرل امجد خان نیازی نے 1985 میں پاک بحریہ کی آپریشنز برانچ میں کمیشن حاصل کیا تھا اور پاکستان نیول اکیڈمی میں ابتدائی تربیت حاصل کرنے کے بعد اعزازی شمشیر بھی جیتی تھی۔

انہوں نے مختلف کمانڈ اور اسٹاف عہدوں ہر اپنے فرائض انجام دیے، کمانڈ میں ان کی تعیناتی جہاں ہوئی ان میں پاکستان فلیٹ کمانڈر، پی این ایس بدر اور پی این ایس طارق کے کمانڈنگ آفیسر، 18 ڈسٹرائیر کمانڈر، کمانڈنٹ پی این ایس بہادر اور کمانڈنٹ پاکستان نیوی وار کالج/کمانڈر سینٹرل پنجاب لاہور شامل ہیں۔

ان کی سابق تعیناتیوں میں چیف آف نیول اسٹاف کے پرنسپل سیکریٹری، ایف-22 پی مشن چائنا کے سربراہ، ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف (ٹریننگ اینڈ ایویلوایشن) اور ڈائریکٹر جنرل آف نیول انٹیلیجنس شامل ہے۔

وہ آرمی کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ اور نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہیں جبکہ بیجنگ کی یونیورسٹی آف ایروناٹکس اینڈ ایسٹروناٹکس سے انڈر واٹر اکوسٹکس میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔

وائس ایڈمرل امجد خان نیازی کو ستارہ امتیاز (فوجی) اور ستارہ بسالت بھی مل چکا ہے جبکہ انہیں حکومت فرانس نے فرانسیسی اعزاز چیولیئر (نائٹ) سے بھی نوازا تھا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کا کہنا تھا کہ موجودہ چیف آف نیول اسٹاف نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے الوداعی ملاقات کے لیے جنرل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ’آرمی چیف نے طویل اور شاندار کیریئر کے دوران قوم کے لیے خدمات پر چیف آف نیول اسٹاف کا شکریہ ادا کیا۔

نواز شریف کی ہدایت پر مریم کا پنجاب بھر میں جلسوں کا فیصلہ

لاہور (ویب ڈیسک): سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف کی ہدایت پر ان کی صاحبزادی اور ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز پنجاب بھر میں جلسے کریں گی۔

ذرائع کے مطابق مریم نواز نے پنجاب بھر میں جلسے کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور پہلا جلسہ 16 اکتوبر کو گوجرانولہ میں ہوگا۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں لاہور ہائیکورٹ سے منی لانڈرنگ کیس میں عبوری ضمانت خارج ہونے کے بعد نیب نے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کو گرفتار کرلیا ہے۔

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد پاکستان مسلم لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے بھی ہنگامی پریس کانفرنس میں کہا کہ شہباز شریف کی گرفتاری کسی جرم کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے بھائی کے ساتھ کھڑے ہونے کی وجہ سے ہوئی۔

مریم نواز نے کہا کہ نوازشریف کی تقریر اور آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلوں پر عملدرآمد ہوگا، تحریک چلے گی اور بھرپور طریقے سے چلے گی، نوازشریف جلد وطن واپس آکر اپوزیشن کی تحریک کی قیادت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز کے بیانیے کا بوجھ ہر ایک نہیں اٹھا سکتا، شہباز شریف اپنے بھائی کے ساتھ کھڑا رہے گا، ن لیگ میں سےش نہیں نکلے گی، ایسی باتیں ش لیگ نکالنے میں ناکامی کی چیخیں ہیں۔

اس کے علاوہ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے بھی 11 اکتوبر کو کوئٹہ میں حکومت کے خلاف جلسہ عام کرنے کا اعلان کیا ہے۔

علی ظفر کی شکایت پر دائر مقدمے میں عفت عمر کی عبوری ضمانت منظور

(ویب ڈیسک)لاہور کی سیشن کورٹ نےگلوکار و اداکار علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر چلنے والی مذموم مہم میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر دائر کیے گئے مقدمے میں اداکارہ عفت عمر کی ضمانت منظور کرلی۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ نے 28 ستمبر کو علی ظفر کے خلاف مذموم مہم میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر گلوکارہ میشا شفیع اور دیگر 8 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 کے سیکشن (1) 20 اور پاکستان پینل کوڈ کے آر/ڈبلیو 109 کے تحت میشا شفیع، اداکارہ و میزبان عفت عمر، لینیٰ غنی، فریحہ ایوب، ماہم جاوید، علی گل، حزیم الزمان خان، حمنہ رضا اور سید فیضان رضا کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

ایڈیشنل سیشن جج حامد حسین نے 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض اداکارہ عفت عمر کی درخواست ضمانت منظور کی۔

اس کے ساتھ ہی لاہور کی سیشن کورٹ نے 12 اکتوبر تک ایف آئی اے کو عفت عمر کی گرفتاری سے روک دیا۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر وفاقی تحقیقاتی ادارے سے اداکارہ کے خلاف دائر کردہ مقدمے کا مکمل ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔

خیال رہے کہ نومبر 2018 میں علی ظفر نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں شکایت درج کروائی تھی جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس ان کے خلاف ‘توہین آمیز اور دھمکی آمیز مواد’ پوسٹ کررہے ہیں۔

انہوں نے اپنے دعوے کی حمایت میں ٹوئٹر اور فیس بک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی فراہم کی تھیں۔

علی ظفر نے الزام لگایا تھا کہ اپریل 2018 میں میشا شفیع کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزام سے ہفتوں قبل کئی جعلی اکاؤنٹس نے گلوکار کے خلاف مذموم مہم کا آغاز کیا تھا۔

گلوکار و اداکار نے کہا تھا کہ ان میں سے اکثر جعلی اکاؤنٹس مبینہ طور پر میشا شفیع سے منسلک تھے۔

انہوں نے دستاویزی ‘شواہد’ کے ساتھ ایف آئی اے کو بتایا تھا کہ’ نیہا سہگل (nehasaigol1@) کے نام سے ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ نے ایک سال میں مجھ سمیت میرے اہل خانہ کے خلاف 3 ہزار توہین آمیز ٹوئٹس کیے جبکہ یہ اکاؤنٹ میشا شفیع کے جنسی ہراسانی کے الزامات سے 50 روز قبل بنایا گیا تھا’۔

دسمبر 2019 میں میشا شفیع اپنے وکلا کی ٹیم کے ساتھ ایف آئی میں پیش ہوئی تھیں۔

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ میشا شفیع علی ظفر کے خلاف اپنے (جنسی ہراسانی کے) الزام کی حمایت میں کوئی گواہ پیش کرنے میں ناکام ہوگئی تھیں۔

ایف آئی آر کے مطابق لینیٰ غنی کو بھی طلب کیا گیا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئی اور تحریری جواب ارسال کیا تھا جس پر عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا تھا۔

مزید کہا گیا تھا کہ لینیٰ غنی 19 اپریل 2018 کو شکایت کنندہ کے خلاف ٹوئٹر پر توہین آمیز مواد پوسٹ کرنے میں ملوث تھیں۔

ایف آئی آر کے مطابق فریحہ ایوب اور ماہم جاوید کو بھی چار مرتبہ طلب کیا گیا تھا لیکن وہ انکوائری میں شامل نہیں ہوئیں۔

اداکارہ و میزبان عفت عمر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں پیش ہوئی تھیں لیکن انہوں نے اپنا بیان ریکارڈ نہیں کروایا تھا اور وقت دینے کی درخواست کی تھی لیکن متعدد درخواستوں کے باوجود انہوں نے اپنا بیان ریکارڈ نہیں کروایا۔