تازہ تر ین

سینئر سے رائے لوں گا لیکن فیصلہ میں ہی کروں گا، بابر اعظم

قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہا کہ دورہ نیوزی لینڈ کے دوران وہ سینئر کھلاڑیوں سے ضرور رائے اور مشورہ لیں گے لیکن حتمی فیصلہ وہ خود کریں گے۔

دورہ نیوزی لینڈ کے لیے قومی ٹیم کی روانگی سے قبل لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بابر اعظم نے کہا کہ نیوزی لینڈ کے خلاف ہمارے اعدادوشمار بہت اچھے ہیں، ہم نے نیوزی لینڈ اور نیوزی لینڈ سے باہر دونوں جگہ ان کے خلاف اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، کوشش یہی ہے کہ اچھی کارکردگی دکھائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چیلنجز زندگی میں آتے رہتے اور ان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ابھی نیا چیلنج اور ذمے داری ملی ہے لیکن مجھ پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنی کرکٹ سے لطف اندوز ہوتا ہے، میری وائٹ بال کرکٹ میں بہتری آئی ہے، کوشش یہی ہے کہ جو سیکھا ہے اس کا استعمال کروں۔

انہوں نے کہا کہ سرفراز بھائی کی زیر قیادت کافی کچھ سیکھا، انہوں نے کافی کچھ سکھایا، اظہر بھائی کے ساتھ بھی کافی مزہ آیا، جب ہم سینئرز کے ساتھ کھیلتے ہیں تو کافی کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے اور ہم میدان میں آنے والے معاملات پر ان سے گفتگو کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ بھی سیکھا ہے اس پر عملدرآمد کی کوشش کررہا ہوں اور جب بھی سینئرز کی ضرورت پڑی تو ان سے سیکھوں گا اور رائے لوں گا البتہ آخر میں فیصلہ جو مجھے سمجھ آئے گا وہ میں ہی کروں گا۔

بابر نے کہا کہ میری بیٹنگ پر کوئی دباؤ نہیں ہے، کوشش یہ ہوتی ہے کہ آگے آ کر کارکردگی دکھاؤں اور چیلنج لیتے ہوئے ذمے داری لے کر کھیلوں، پریشر میں کھیلنے کا مزہ بھی آتا ہے اور لطف اندوز ہوتے ہوئے 100فیصد کارکردگی دکھانے کی کوشش کرتا ہوں۔

ٹیم میں گروپنگ کے خوف کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر قومی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں، یہ ٹیم نوجوان ہے اور ان میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم بحیثیت ٹیم ایک گروپ ہیں، یہ نہیں کہ دو گروپ کہیں بیٹھے ہیں اور دو گروپ کہیں، اس ٹیم میں ایسا کوئی بھی لڑکا نہں ہے، سب دل سے ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں اور کارکردگی سے خوش ہوتے ہیں، یہ نوجوان اور سینئرز پر مشتمل ایک بہترین ٹیم ہے اور کوشش ہوتی ہے کہ ایک طرح ہی رہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں بابر نے کہا کہ جب بھی ہم باہر جاتے ہیں تو چیلنج تو ہوتا ہی ہے، نیوزی لینڈ کی ٹیم اچھی ہے لیکن ہماری ٹیم کے حوصلے بلند ہیں، ہم انگلینڈ میں اچھی کارکردگی دکھا کر آرہے ہیں، بدقسمتی سے ہم وہاں ایک میچ ہار گئے لیکن انفرادی کارکردگی بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں میں اچھی رہی۔

بابر اعظم نے کہا کہ سب سے اہم چیز کھلاڑی کو اعتماد دینا ہوتا ہے جس کی مثال میں ہوں کیونکہ میں ٹیسٹ کرکٹ میں جدوجہد کررہا تھا لیکن ٹیم کی سپورٹ تھی خصوصاً میں مکی آرتھر کا شکرگزار ہوں جنہوں نے مجھے سپورٹ کیا اور انہوں نے کہا کہ تھا کہ بابر کو جتنا کھلاؤ گے اتنا اچھا کرے گا اور دیکھیں وقت کے ساتھ بہتری آتی رہی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی چیز کو آسان نہیں لے سکتے، چیلنج لینا پڑتا ہے اور کوئی بھی چیز آسان نہیں ہوتی، دونوں ٹیموں کا موازنہ کیا جائے تو ہماری ٹیم بھی اچھی ہے اور ہم پر کوئی دباؤ نہیں ہے لہٰذا اچھی کارکردگی دکھائیں گے۔

بابر اعظم نے کہا کہ ہمارا ہدف یہی ہوتا ہے کہ ہر ملک میں اسکور کریں، آسٹریلیا انگلینڈ سب جگہ اسکور کرنا ٹارگٹ ہوتا ہے اور نیوزی لینڈ کے لیے بھی یہی تیاری کی ہے اور اسی سوچ کے ساتھ میدان میں اتروں گا۔

ایک اور سوال کے جواب میں قومی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے مجھے مکمل اعتماد دیا ہے کہ میں ان کے ‘لانگ ٹرم پلان’ کا حصہ ہوں، مجھ پر پی سی بی کی طرف سے کوئی دباؤ نہیں ہے کہ سیریز ہار گئے تو کیا ہو گا، انہوں نے مجھے مکمل آزادی دی ہے۔

بابر اعظم نے مزید کہا کہ ہم سب بہتری کے خواہاں ہیں اور کبھی بھی یہ نہیں ہوتا کہ پوری ٹیم پرفارم کرے بلکہ کبھی کچھ کھلاڑی نہیں کرتے اور کبھی کچھ کر جاتے ہیں، سب سے اہم چیز یہ ہے کہ ہم کھلاڑیوں کو سپورٹ کرے۔

انہوں نے کہا کہ جو پرفارم کررہا ہوتا ہے اسے تو سپورٹ کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن جو پرفارم نہیں کرتے تو اسے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، اس کو سپورٹ کرنا اس لیے ضروری ہوتا ہے تاکہ اگلے میچ سے قبل اس میں اعتماد آ جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ہدف ہر جگہ جیتنا ہوتا ہے، نتائج ہمارے ہاتھ میں نہیں ہیں، ہمارے ہاتھ میں محنت ہے، وہ ہم دل لگا کر کرتے ہیں اور نتائج اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔

پاکستان کی ٹیم 23نومبر کو نیوزی لینڈ رونہ ہو گی جہاں 14 دن قرنطینہ میں رہنے کے بعد پاکستان کی ٹیم تین ٹی20 اور دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلے گی۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved