سعودی عرب: قرنطینہ میں رکھے گئے 400 افراد کو کلیئر قرار دیا گیا

جدہ(ویب ڈیسک) سعودی عرب میں بیرون ملک سے آئے 400 افراد کو قرنطینہ سے کلیئر قرار دے کر گھروں کو بھیج دیا گیا۔ سعودی گزٹ کے مطابق ایئرپورٹس پر آئے سینکڑوں افراد کو جدہ میں 14 دن تک قرنطینہ میں رکھا گیا تھا۔ جن میں سے 400 افراد کو گزشتہ روز کورونا وائرس سے کلیئر قرار دے کر انہیں گھروں کو جانے کی اجازت دے دی گئی۔ ان تمام افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی۔جدہ میں قرنطینہ سے نکلنے والے پہلے گروپ کے واپس جاتے وقت وزارت صحت کے عہدے داروں کی جانب سے خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ ان افراد پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور انہیں تحائف بھی دیئے گئے۔قرنطینہ سے نکلنے والے ان افراد کا کہنا تھا کہ انہیں قرنطینہ میں بہترین سہولتیں دی گئیں، انہیں کسی بھی موقع پر ایسا احساس نہیں ہوا کہ وہ کسی ہسپتال جیسے مقام پر ہے۔ایئر پورٹس سے لے کر قرنطینہ میں قیام اور وہاں سے واپسی پر ان کے ساتھ عزت اور احترام والا سلوک ہوا۔ کسی نے بھی انہیں مشتبہ مریض ہونے کے اندیشے پر اچھوتوں والا برتاو نہیں کیا۔واضح رہے کہ سعودی مملکت میں 14 روز قبل بیرون ملک سے آنے والے سعودی شہریوں کو کرونا کے خطرے کے پیش نظر قرنطینہ منتقل کیا گیا تھا۔یہ شہری ان ممالک سے واپس آئے تھے جہاں پر کورونا نے وبا کی صورت اختیار کر رکھی تھی۔وزارت صحت کے مطابق مذکورہ افراد کوجدہ سے سعودیہ ایئر کی خصوصی پروازوں کے ذریعے ریاض اور دمام پہنچا دیا گیا۔قرنطینہ سے واپس گھروں کو بھیجنے سے قبل ان تمام 400 افراد کا ’کورونا وائرس ‘کا ٹیسٹ کیا گیا۔رپورٹ منفی آنے پر انہیں روانہ کر دیا گیا۔ قرنطینہ میں رکھے گئے شہریوں کی چوبیس گھنٹے کی بنیاد پر نگرانی کی جا رہی ہے۔

چودھری شجاعت کا مسلم حکمرانوں کوخانہ کعبہ، روضہ رسول پرحاضری کا مشورہ

لاہور (ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین نے مسلم حکمرانوں کو خانہ کعبہ اور روضہ رسول پر حاضری کا مشورہ دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سمیت تمام حکمران اللہ کے گھرجائیں اورگڑگڑا کرمعافی مانگیں، انشاءاللہ سب کی دعا قبول ہوجائے گی۔ انہوں نے اپنے ویڈیو بیان میں وزیراعظم عمران خان اور مسلم حکمرانوں کو مشوری دہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف روضہ رسول پر حاضری دیں۔ وزیراعظم عمران خان امت مسلمہ کے تمام لیڈرز کو بھی خانہ کعبہ اور روضہ رسول لے کر جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان سمیت تمام حکمران اللہ کے گھر جائیں اور گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں، انشاءاللہ سب کی دعائیں قبول ہوجائیں گی۔ واضح رہے پاکستان میں کورونا وائرس پھیل رہا ہے، جس کے باعث حکومت نے لاک ڈاو¿ن کررکھا ہے۔ پاکستان میں کورونا کیسز کی تعداد 1865ہوگئی ہے۔

متحدہ عرب امارات میں پٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے خوشخبری

دبئی(ویب ڈیسک) کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں اس وقت ایک نحوست کا راج تھا۔ ایک طرف لوگوں کی اموات ہو رہی ہیں تو دوسری طرف کاروبار ٹھپ ہونے سے کروڑوں گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں بھی کورونا کی وجہ سے لوگوں کی مالی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم اماراتی حکومت نے اس برے وقت میں ایک اچھی خبر سنا دی ہے۔اماراتی پٹرولیم کمپنی کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ اگلے ماہ اپریل کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کر دی ہے جس کے باعث شہریوں کے ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں خاصی کمی ہو گی۔ متحدہ عرب امارت میں اپریل کے مہینے میں سپر 98 پٹرول 1.91 درہم فی لٹر میں دستیاب ہو گا، جبکہ رواں ماہ مارچ کے مہینے میں یہ پٹرل 2.16 درہم فی لٹر میں فروخت کیا جا رہا ہے۔اس لحاظ سے سپر 98 کی قیمتوں میں 25 فلس کی کمی واقع ہوئی ہے۔ جبکہ 95 پٹرول کی قیمت 1.80 درہم فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔ رواں ماہ یہ پٹرول 2.04 درہم فی لٹر میں فروخت ہو رہا ہے، اس طرح اس کی قیمت 24فلس تک گر گئی ہے۔یکم اپریل سے ڈیزل کی فی لٹر قیمت 2.06 درہم ہو گی ، اس وقت یہ ڈیزل 2.25 درہم میں بیچا جا رہا ہے۔ یوں اس کی قیمت میں 19 فلس کی کمی ہوئی ہے۔واضح رہے کہ جنوری اور فروری کے مہینوں میں امارات میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کوئی اضافہ یا کمی نہیں کی گئی تھی۔
البتہ ڈیزل کی قیمتیں معمولی بڑھائی گئی تھیں۔ماہِ فروری کے لیے ڈیزل کی قیمت بڑھا گزشتہ ماہ کے نرخوں 2.38 درہم فی لیٹر سے بڑھا کر 2.40 درہم مقرر کر دی گئی تھی، یہی قیمت مارچ کے لیے بھی برقرار رکھی گئی تھی۔گزشتہ ماہ قطر میں 91 پٹرول 1.75 ریال میں، 95 پٹرول 1.90 ریال، جبکہ ڈیزل 1.85 ریال فی لیٹر کے حساب سے فروخت کیا گیا جبکہ عمان میں 91 پٹرول 211 پیسہ، 95 پٹرول 222اور ڈیزل 240 پیسہ فی لیٹر کے نرخوں پر بیچا گیا۔ گزشتہ ماہ بحرین میں 91 پیٹرول 140 فلس، 95 پیٹرول 200 فلس اور ڈیزل 120 فلس فی لیٹر پر فروخت کیا گیا۔جبکہ کویت میں 91 پیٹرول 85 فلس، 95 پیٹرول 105فلس اور ڈیزل 115 فلس فی لیٹر میں فروخت کیا گیا۔

سعودی عرب میں اہم عہدے دار حکومت کے خلاف ٹویٹ کرنے پر فارغ

جدہ(ویب ڈیسک) سعودی عرب میں ایک اہم حکومتی عہدے دار کو اس کے متنازعہ ٹویٹ کی بناءپر عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ سعودی ویب سائٹ سبق کے مطابق صوبہ جازان کے حکومتی ترجمان عبداللہ المدیمیغ کو ان کے عہدے سے اس بناءپر فارغ کر دیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر کورونا وائرس سے متعلق حکومتی کارکردگی پر متنازعہ بیان دیا تھا۔جس کے فوراً بعد انہیں ان کی بطور ترجمان ذمہ داریوں سے سبک دوش کر دیا گیا۔ایک اور سعودی اخبار نے بتایا ہے کہ المدیمیغ کی یہ متنازعہ ٹویٹس ڈیلیٹ کر دی گئی ہیں۔ تاہم سن نیوز نے ان ٹویٹس کی تصاویر کو محفوظ کر لیا ہے۔ایک ٹویٹ میں المدیمیغ نے ایک خاتون کی تصویر لگائی ہے جو ایک گائے کا دودھ دوہ رہی ہے۔خاتون پرلبنان اور مغرب لکھا گیا ہے جبکہ گائے پر سعودی عرب لکھا گیا ہے۔اس ٹویٹ میں المدیمیغ نے دعویٰ کیا ہے کہ مغرب یعنی امریکا اور یورپی ممالک اور لبنان سعودی عرب کو لوٹ کا مال سمجھ کر اس کا استحصال کر رہے ہیں۔ جبکہ اپنی ایک اور ٹویٹ میں المدیمیغ نے کہا ” مصر میں ہمارے ایک شہری کو اخوانی قرار دیکر گرفتار کیا ہے ، حالانکہ ہم سب اخوان ہیں“۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے والی ہے کہ سعودی حکومت مصری تنظیم الاخوان المسلمین کی سخت مخالف ہے۔سعودیہ سمیت کئی ممالک نے الاخوان کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ واضح رہے کہ دو روز قبل مدینہ مسجد میں واقع تاریخی اسلامی مسجد قبا کے خطیب کوٹویٹر اکاونٹ پر قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرنے پر عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اخبار کے مطابق مسجد قبا کے خطیب و امام صالح المغمسی نے کورونا وائرس کے سبب پیدا ہونے والی خطرناک صورت حال کے پیش نظر مطالبہ کیا تھا کہ مملکت میں موجود قیدیوں کو انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت رہا کر دیا جائے۔سعودی حکام کی جانب سے ان کے اس بیان کو اختیارات سے تجاوز تصور کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔سعودی وزارت برائے مذہبی امور کی جانب سے امام صالح المغمسی مسجد قبا کی امامت اور خطابت سے ہٹا دیا گیا ہے۔ سعودی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر عبداللطیف الشیخ نے حکم نامہ جاری کرتے ہوئے امام صالح کو خطابت اور امامت سے ہٹانے کا کہا ہے اور ان کی جگہ شیخ ڈاکٹر سلیمان الراحیلی کو مسجد قبا کا امام اور خطیب مقرر کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کو سعودی عوام کی جانب سے ایک غیر معمولی فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب: معمولی غلطی نے گھر کے 12 افراد کو کورونا کا مریض بنا دیا

جدہ(ویب ڈیسک) سعودی عرب میں کورونا وائرس کے خطرے کے باعث تمام اجتماعات اور تقریبات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ تاہم کچھ لوگ کورونا کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے خاندانی اجتماعات میں مصروف ہیں، جس کا انہیں بھاری خمیازہ بھگتنا پڑرہا ہے۔ ایسا ہی معاملہ ایک سعودی خاندان کے ساتھ پیش آیا ہے جس کی سنگین غفلت کے باعث ایک ہی گھر کے 12افراد کورونا کا شکار ہو کر ہسپتال پہنچ گئے ہیں۔ ایک سعودی نوجوان نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ وہ اور اس کے دیگر گھر والے کورونا وائرس میں مبتلا ہو گئے ہیں، جس کی وجہ ان کی معمولی غلطی تھی۔نوجوان کا کہنا تھا کہ انہوں نے حکومت کی جانب سے سماجی را بطے کو منقطع کرنے کی ہدایات پرعمل کرتے ہوئے تفریحی مقامات پر جانے چھوڑدیا تاہم خاندان کے تمام افراد ایک جگہ جمع ہونا شروع ہوگئے یہی ہماری بنیادی غلطی ثابت ہوئی جس کا خمیازہ کورونا کی شکل میں سامنے آیا۔متاثرہ نوجوان نے کا مزید کہنا تھا کہ اکثر سعودی خاندانوں میں ہفتے میں ایک یا متعدد دنوں میں پورا خاندان ایک جگہ جمع ہوتا ہے اور یہی عادت ہماری بھی تھی ، اس امر سے بے خبر ہم سب اپنے دادا کے گھر جمع ہوئے اوراس اجتماع کے بعد سب اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔اس خاندانی اجتماع کے چند دن بعد ہی والدہ کو سانس میں تکلیف اور شدید بخار ہو گیا جب انکا ٹیسٹ کرایا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ کورونا وائرس کا شکار ہوچکی ہیں۔کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ کس نے کس کو ’کووڈ 19‘ منتقل کر دیا ہے۔ بعد میں گھر کے باقی 11 افرا د بھی اس وائرس سے متاثر ہو گئے اورہم سب کو ’ قرنطینہ ‘ میں جانا پڑ گیا۔نوجوان نے لوگوں سے درخواست کی کہ اِن دنوں خصوصی احتیاط برتیں اور خانگی اجتماعات بھی روک دیں کیونکہ اس طرح آپ دوسروں کو بھی محفوظ رکھ سکتے ہیں خاص کر گھر کے بزرگوں کو جنہیں یہ وائرس بہت جلدی اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔متاثرہ شخص نے سوشل میڈیا پرجاری اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’لوگوں کو چاہئے کہ متعلقہ اداروں کی جانب سے دی گئی احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں تاکہ اس مہلک بیماری سے بچ سکیں۔

شہباز شریف نے کرونا کی آڑ میں گندا کھیل شروع کر دیا، فردوس عاشق اعوان

اسلام آباد(ویب ڈیسک) معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے اپوزیشن لیڈر کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے کورونا وائرس کی آڑ میں گند کھیل شروع کر دیا ہے۔ فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ قومی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے والے عوام دوست نہیں ہو سکتے۔ پوزیشن لیڈر اپنے آپ کوزندہ رکھنے کے لیے تنقید کرتے ہیں۔ وہ اپنی کورونا زدہ سوچ سے اجتناب کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام گندے سیاسی کھیل کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اپوزیشن لیڈر کا منفی رویہ ہماری کوششوں کو کمزور کر رہا ہے۔ شہباز شریف اپنے آپ کو قرنطینہ کریں، مثبت تجاویز دیں تو عمل کریں گے۔ بغض، عناد اور ہٹ دھرمی کی عینک اتار کر حقائق بیان کریں۔ وہ پنجاب میں دودھ کی نہریں نہیں چھوڑ کر گئے تھے۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر کو مشورہ دیا کہ وہ کورونا ریلیف فنڈ میں اپنے اثاثوں سے کچھ رقم عطیہ کرکے عوام دوست ہونے کا ثبوت دیں۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ میں بتایا کہ ملک اس وقت ایمرجنسی کی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ ہم نے حق داروں تک ان کا حق پہنچانا ہے۔ کابینہ نے 1200 ارب کے معاشی پیکج کی باضابطہ منظوری دیدی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ اجلاس میں چاروں صوبوں میں گڈزٹرانسپورٹ کھولنے کا فیصلہ ہوا۔ سندھ میں لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے گڈزٹرانسپورٹ کومسائل کا سامنا ہے۔ وزیراعظم نے رینجرز کو سندھ میں گڈز ٹرانسپورٹ کے مسائل کو حل کرنے کی خصوصی ہدایت کی۔

کورونا وائرس سے پہلے ہمیں بھوک مار دے گی، بھارتی روہنگیا مسلمان

نئی دہلی(ویب ڈیسک) بھارتی کیمپوں میں مقیم روہنگیا پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ ہمارے کورونا وائرس سے پہلے بھوک کی وجہ سے ہلاک ہوجانے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق بھارت میں 21 دن کے لاک ڈاون سے جہاں عام آدمی سخت پریشانی اور اضطراب میں مبتلا ہوگیا ہے وہیں روہنگیا پناہ گزین کیمپوں میں پہلے سے مرجھائی ہوئی زندگی اب موت کا رقص دیکھ رہی ہے۔بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے مدن پور پناہ گزین کیمپ کے رہائشیوں نے شکایتوں کے ڈھیر لگاتے ہوئے الجزیرہ کو بتایا کہ 21 دن کے لاک ڈاون سے ہماری زندگی اجیرن ہوگئی ہے اور لگتا ہے کورونا سے پہلے ہم بھوک سے مرجائیں گے۔بھارت کے مختلف کیمپوں میں اس وقت 40 ہزار سے زائد روہنگیا مسلمان پناہ لیے ہوئے ہیں جہاں پہلے ہی سہولیات کا فقدان ہے اور انتہائی ضرورت کی اشیا بھی ناپید ہیں ایسے میں کورونا وائرس نے مشکلات میں اور اضافہ کردیا ہے جبکہ مودی سرکار کے پاس اس صورت حال سے نمٹنے کیلیے کوئی لائحہ عمل نہیں ہے۔ وزیراعظم مودی نے بغیر کسی منصوبہ بندی کے ملک بھر میں 21 دن کے لیے سخت لاک ڈاون کا اعلان کردیا ہے جس سے پورے ملک میں افراتفری پھیل گئی ہے اور بے سرو سامانی کا عالم ہے۔

لاک ڈاون مزید جاری رکھنے کی کل باقاعدہ تاریخ دی جائے گی، اسد عمر

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ لاک ڈاو¿ن کے دوران مزید بندشیں جاری رکھنے کی کل باقاعدہ تاریخ دی جائے گی، لوگوں کو آگاہ کیا جائے گا کہ پورے ملک میں فلاں تاریخ تک کاروبا اور سفری سرگرمیوں پر بندش ہوگی، یہ اعلان تمام صوبوں کے اتفاق سے کیا جائے گا۔ انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پرنیشنل کمانڈ سینٹر بنایا گیا ہے، اس میں صوبے اورادارے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں فیصلہ سازی میں توازن پیدا کرنے کی ضرورت ہے، شہریوں کو بچانا ہے اور بیماری کو پھیلنے سے روکنا ہے، اسی طرح معاشی بوجھ بھی لوگوں پر نہیں پڑنا چاہیے، اگر زندہ رہیں گے تو بیماری سے لڑ سکیں گے۔ دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جو چاہے گا کہ ہم بندش نہ لگائیں، اگر ہم لاک ڈاو¿ن لگا دیں اور لوگ گھروں میں بھوکے رہیں گے تو آپ لوگوں کو گھروں میں نہیں روک سکیں گے۔ اس مثال بھارت کی ہے، جہاں لاک ڈاو¿ن کرکے لوگوں کو گھروں میں بند کیا گیا لیکن لوگ لاکھوں کی صورت میں باہر نکل آئے۔ پاکستان میں تمام چیزوں کو دیکھ کر فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ عوام کی معاشی ضرورتوں کو پورا کیا جارہا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ امدادی پیکج کی رقم فوری عوام تک پہنچے اور وہ اپنی اشیاءخرید سکیں۔ اسٹورز پر چیزوں کی سپلائی پہنچانا بھی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کورونا مریضوں کو مجرم بنا کر پیش نہیں کرنا، بلکہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے، اگر ایسا ہوا تو لوگ بیماری کا بتانا ہی چھوڑ دیں گے۔حکومت نے محکمہ صحت اور قانون نافذ کرنے والے ادارو ں کوہدایت کی ہے کہ کورونا مریضوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے تاکہ لوگ خود محکمہ صحت اور ہسپتالوں سے رابطہ کریں۔ گندم کی کٹائی کیلئے چیف سیکرٹری کو اقدامات کرنا ہوں گے، ملک میں آٹے کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ہمیں آٹے کی بہتر صورتحال نظر آنا شروع ہوگئی ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ کورونا کیخلاف صوبوں اور ضلعی انتظامیہ نے اپنے طور پر مختلف عرصے کیلئے پابندیوں کا اعلان کیا تھا لیکن کل قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں لاک ڈاو¿ن کے دوران بندشوں کی باقاعدہ تاریخ دی جائے گی۔ تاکہ لوگوں کو پتا ہو کہ ہم نے اس تاریخ تک بندش کا سامنا کرنا ہے۔ یہ اعلان تمام صوبوں کے اتفاق سے کیا جائے اور ہر علاقے پر اس کا نفاذ ہوگا۔

افغانستان میں طالبان کے دو حملوں میں 19 اہلکار ہلاک

کابل(ویب ڈیسک) طالبان جنگجووں کے دو حملوں میں افغان فوج کے 19 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ افغانستان کے دو صوبوں تخار اور زابل میں طالبان جنگجووں نے فوجی چیک پوسٹوں پر دھاوا بول دیا جس کے دوران دونوں جانب سے فائرنگ کے تبادلے میں مجموعی طور پر 19 اہلکار ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔افغان وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں حملے کی ذمہ داری طالبان پر عائد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تخار میں 13 اور زابل میں 6 اہلکار ہلاک ہوئے۔ زابل میں حملہ فوج میں موجود طالبان کے ہمدردوں کی مدد سے کیا گیا۔ حملہ آور جاتے ہوئے افغان فوج کا اسلحہ بھی لے گئے اور 4 فوجی گاڑیوں کو نذر آتش کردیا گیا۔دوسری جانب طالبان کی جانب سے ان حملوں پر کسی قسم کا تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے تاہم ان علاقوں میں عملاً طالبان کا تسلط برقرار ہے اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور یہاں کچھ چھوٹے گروہ بھی حکومت کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ 29 فروری کو امریکا اور طالبان کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کے باوجود تاحال افغانستان میں امن قائم نہیں ہوسکا ہے۔ ایک طرف کابل حکومت اور طالبان کے درمیان اختلافات بڑھتے جارہے ہیں تو دوسری طرف سیاسی بحران کی وجہ سے بھی انٹرا افغان مذاکرات تعطل کا شکار ہو رہے ہیں۔

حکومتی حکمت عملی تبدیل، دکانیں شام 5 بجے بند کرنیکا فیصلہ

لاہور(ویب ڈیسک) پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں لاک ڈاو¿ن کی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے بدھ سے دکانیں صبح 9 سے شام 5 بجے تک کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صوبائی حکومت کے فیصلے کے مطابق پنجاب میں اشیائے ضروریہ کی تمام دکانیں کھولنے کا اوقات کار تبدیل کر دیا گیا ہے۔ صوبے بھر میں بروز بدھ مورخہ یکم اپریل سے اشیائے ضروریہ کی دکانوں کا وقت صبح نو سے شام پانچ بجے ہوگا، تاہم میڈیکل سٹورز اور فارمیسی کو اس سے اسثتنیٰ ہوگا۔ اس سے قبل پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں کورونا وائرس کے سدباب کیلئے لاک ڈاو¿ن کو موثر بنانے کیلئے اشیائے ضروریہ کی تمام دکانیں صبح 8 بجے سے رات 8 بجے تک کھولنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس بات کا اعلان صوبائی وزیر راجہ بشارت نے پریس کانفرنس میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی چیز کی کوئی کمی نہیں، پنجاب میں اس وقت صورتحال معمول پر ہے۔ یاد رہے کہ ملک میں کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر حکومت پنجاب نے 23 مارچ کو صوبے بھر میں لاک ڈاو¿ن کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ اہم فیصلہ صوبائی کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔ اس بات کا اعلان وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے باضابطہ طور پر پریس کانفرنس میں کیا۔ اہم اعلان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انسداد کرونا کیلئے ایک اہم اجلاس ہوا جس میں اہم فیصلہ کیا گیا کہ 24 مارچ سے 6 اپریل تک صوبے بھر کے شاپنگ مالز، بازار، دکانیں، پارکس، ریسٹورینٹس اور ایسی عوامی اجتماعات والی تمام جگہیں بند ہونگی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام سے التماس ہے کہ وہ ان 14 روز میں پولیس، قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں اور فوج کیساتھ تعاون کریں۔ 14 روز کیلئے سول اور فوجی ادارے احکامات پر عملدرآمد کے پابند ہونگے۔ عوام سے بھرپور تعاون کی اپیل کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ صورتحال کے پیش نظر ڈبل سواری پر بھی پابندی ہوگی تاہم فیلمیاں اس فیصلے سے مستثنیٰ ہونگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ لاک ڈاو¿ن کا مطلب کرفیو نہیں ہے۔ صوبے میں پہلے ہی دفعہ 144 نافذ ہے۔