کورونا وائرس سے پریشا ن کویتی حکومت کی جانب سے غیر قانونی تارکین کو اہم پیشکش کر دی گئی

کویت(ویب ڈیسک) کویت میں کورونا وائرس کے مریضوں کی گنتی میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے۔ جس کے باعث کویت بھر میں جزوی کرفیو بھی نافذ کیا گیا ہے اور کاروباری مراکز بھی بند کروا دیئے گئے ہیں۔ کویتی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ مملکت میں موجود غیر قانوی تارکین اپنے وطن لوٹ جائیں۔ وطن واپس جانے والوں سے کوئی باز پرس ہو گی اور نہ انہیں قید کی سزا اور جرمانہ بھگتنا ہو گا۔بلکہ وطن واپسی کے لیے انہیں جہاز کی ٹکٹس بھی حکومت فراہم کرے گی۔ کویتی اخبار القبس کے مطابق وزیر داخلہ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ جو لوگ اس رعایت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے واپس جائیں گے، انہیں کسی تفتیش سے نہیں گزرنا پڑے گا اور نہ مملکت میں غیر قانونی قیام پر سزا اور جرمانے کا سامنا کرنا ہوگا۔بلکہ حکومت کی جانب سے وطن واپس جانے والوں کو ٹکٹس بھی دی جائیں گی۔ان پر عائد تمام جرمانے معاف ہو جائیں گے، جن میں ٹریفک جرمانے بھی شامل ہیں۔البتہ جن تارکین کے اقاموں کی مدت ختم ہو گئی ہے، اور وہ کسی وجہ سے جرمانے جمع نہ کروانے کے باعث اس مملکت میں غیر قانونی تصور کیے جا رہے ہیں۔ اگر وہ مملکت میں قانونی طریقے سے قیام کے خواہش مند ہیں تو وہ اپنے تمام جرمانے ادا کردیں جس کے بعد ان کا اقامہ بحال کر دیا جائے گا۔واضح رہے کہ کویت میں جزوی کرفیو نافذ ہونے کے بعد خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جا رہا ہے۔ چند روز قبل کرفیو کے دوران باہر آنے والے غیر ملکیوں کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ ان افراد کی گرفتاری ٹویٹر پر ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کی گئی۔ کویتی اخبار القبس نے بتایا ہے کہ فروانیہ کے علاقے میں چند غیر ملکی کرفیو کے اوقات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی رہائش گاہوں سے باہر آ کر سڑک پر اکٹھے ہوئے اور خوب شور شرابا کرتے رہے۔تاہم ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس بھی حرکت میں آئی اور ان کی نشاندہی کرنے کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ کویتی وزارت داخلہ کے ترجمان کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کرفیو کی خلاف ورزی کرنے پر 10 غیر ملکیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جنہیں متعلقہ محکمے کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ان گرفتار شدگان کو جلد ملک سے بے دخل کر دیا جائے گا اور انہیں بلیک لسٹ کر کے ان کے مملکت میں دوبارہ داخلے پر تاحیات پابندی عائد کر دی جائے گے۔

سعودی مملکت میں کورونا کے مریض صحت یاب ہونے لگے

ریاض(ویب ڈیسک) سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں، اگرچہ مملکت میں کورونا کے کیسز کی گنتی 1453 تک پہنچ چکی ہے تاہم کورونا سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کی گنتی بھی کچھ کم نہیں ہے۔ سعودی گزٹ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ مملکت میں کورونا کے مزید 50 مریض آج صحت یاب ہو گئے ہیں، جنہیں واپس گھروں کو بھیج دیا گیا ہے۔سعودی وزارت صحت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ان 50 خوش نصیب افراد میں مقامی اور تارکین وطن دونوں شامل ہیں۔ اس طرح مملکت میں کورونا کے ظالم پنجوں سے بچ نکلنے والوں کی گنتی 165 ہو گئی ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں کورونا وائرس کے مزید 154کیسز سامنے آگئے ہیں جس کے بعد مملکت میں کرونا کے مجموعی کیسز کی تعداد 1453ہوگئی ہے۔سعودی وزیرِ صحت نے بتایا ہے کہ گزشتہ روز بھی کرونا کے 49 مریض صحتیاب ہوکر گھر چلے گئے تھے۔جبکہ 22افراد کی حالت تشویشناک ہے جنہیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا گیا ہے۔ سعودی عرب میں کورونا کے باعث زندگی سے محروم ہونے والوں کی گنتی 8 ہو چکی ہے۔ اس تمام صورتحال میں سعودی حکومت کی جانب سے عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ عائد کی گئی پابندیوں پر عمل کریں، بصورت دیگر ان کیخلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔واضح رہے کہ سعودی حکومت مملکت میں کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے کئی سخت اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اس وقت سعودی عرب کے بیشتر علاقوں میں لاک ڈاون ہے۔ سعودی عرب کے بیشتر نجی و سرکاری ادارے بند کیے جا چکے ہیں، جبکہ مساجد کو نمازوں کی ادائیگی کیلئے بھی بند کیا جا چکا ہے۔

سعودی دلہن 400 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے کرفیو سے صرف پانچ منٹ قبل پہنچ گئی

جدہ(ویب ڈیسک) سعودی مملکت کے اہم شہروں میں کرفیو کے نفاذ کے بعد لوگوں کو خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہاں تک کہ شادی کی تقریبات بھی انتہائی سادگی سے انجام دی جا رہی ہیں یا ملتوی کر دی گئی ہیں۔ کرفیو کے باعث ایک سعودی دلہن بھاری جرمانے سے بال بال بچنے میں کامیاب ہو گئی اور اس کی شادی بھی ملتوی ہونے سے بچ گئی۔ سعودی لڑکی کریمہ عبدالہادی الغزی سکاکا کی رہائشی ہے جس کی شادی اس کے رشتہ دار منیف عبدالعزیز الفندی الغزی سے طے پائی تھی۔ منیف اور اس کے گھر والے القریات میں مقیم ہیں۔ القریات اور سکاکا کا فاصلہ 400 کلومیٹر کے لگ بھگ ہے۔ دونوں کا نکاح پہلے ہوچکا تھا۔رخصتی کی تقریب کی تاریخ، وقت اور مقام سب کچھ طے تھا- تاہم کورونا وائرس کی وجہ سے لگائے جانے والے کرفیو نے پروگرام تبدیل کر ڈالا۔دولہا منیف الغزی نے بتایا کہ رخصتی کا پروگرام بڑے پیمانے پر ترتیب دیا گیا تھا لیکن شام 7 بجے سے کرفیو کے سرکاری فیصلے کا احترام کرتے ہوئے بزرگوں نے رخصتی کی ساری رسمیں منسوخ کر دیں۔طے کیا گیا کہ رخصتی کی تقریب گھر میں ہوگی جس میں دولہا، اس کے بھائی اور بہنیں شرکت کریں گی- القریات کے ایک ہوٹل میں ہمارے لیے ایک کمرہ بک کر لیا گیا- دلہن کو سکاکا سے براہ راست ہوٹل لایا گیا- دلہن کو جب اس کا بھائی سکاکا سے القریات لا رہا تھا تو راستے میں چیک پوسٹوں پر روکا گیا- سیکیورٹی اہلکاروں کو شادی کا پروگرام بتایا جاتا تو وہ مبارکباد دے کر رخصت کر دیتے تاہم جگہ جگہ تفتیشی کارروائی کی وجہ سے القریات پہنچنے میں کافی وقت لگ گیا۔دلہا منیف کا کہنا تھا کہ ہم ڈر رہے تھے کہ کرفیو شروع ہو گیا تو ممکن ہے جرمانے کی زد میں آ جائیں۔ سات بجنے میں پانچ منٹ باقی تھے کہ دلہن ہوٹل پہنچ گئیں۔

یکم اپریل سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان

اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت نے یکم اپریل سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان کردیا۔ یکم اپریل سے پٹرول کی فی لیٹر قیمت 96 روپے 58 پیسے اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت107 روپے 25 پیسے برقرار رہے گی۔ ترجمان پٹرولیم ڈویڑن کے مطابق یکم اپریل سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھی جائیں گی۔ یکم اپریل سے پٹرول کی فی لیٹر قیمت 96 روپے 58 پیسے برقرار رہے گی۔ یکم اپریل سے ڈیزل کی فی لیٹر قیمت107 روپے 25 پیسے رہے گی۔ مٹی کے تیل کی قیمت 77 روپے 45 پیسے برقرار رہے گی۔ لائٹ ڈیزل آئل کی فی لیٹر قیمت 62 روپے51 پیسے برقرار رہے گی۔ مزید برآں پٹرولیم مصنوعات کے بعد حکومت نے ایل این جی کی درآمد بھی محدود کرنے کا فیصلہ کر لیا ، حکام پٹرولیم ڈویڑن کے مطابق رواں ماہ ایل این جی کے 5 کی بجائے 3 جہاز آئیں گے، صورتحال معمول پرآنے پر معاہدے کے مطابق ایل این جی منگوائیں گے، طلب کم ہونے سے پاور سیکٹر نے بھی ایل این جی ڈیمانڈ کم کر دی۔ حکام نے بتایاکہ مقامی صنعت کی ایل این جی کھپت 490 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، پٹرولیم مصنوعات کی کھپت پہلے ہی 45 فیصد تک کم ہو چکی ہے۔ واضح رہے گزشتہ روز سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی مطالبہ کیا تھا کہ حکومت یکم اپریل سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15روپے فی لیٹر کمی کرے، شرح سود کو 11سے کم کرکے 9 فیصد اور روپے کی قدر کو مستحکم کرنا چاہیے، تاکہ موجودہ بحران میں معیشت کو سنبھالا دیا جاسکے۔

کورونا وائرس نے دبئی ایکسپو 2020ءکا انعقاد خطرے میں ڈال دیا

دبئی(ویب ڈیسک) گزشتہ کئی سالوں سے دبئی میں دنیا کی سب سے بڑی نمائش ایکسپو 2020ءکی تیاریاں بھرپور طریقے سے چل رہی ہیں۔ اس عالمی نمائش میں شرکت کی خاطرکروڑوں غیرملکی امارات کا رخ کریں گے۔اس عالمی ایکسپو 2020ءکا آغاز رواں سال 20 اکتوبر سے ہونا ہے جو 20 اپریل 2021ءتک جاری رہے گی۔ تاہم کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا کی تاریخ کی اس سب سے بڑی نمائش کا انعقاد خطرے میں پڑ گیا۔ ایکسپو 2020 دبئی کو آئندہ برس تک ملتوی کرنیکی سفارش کی گئی ہے۔ کورونا وائرس کے تناظر میں ایکسپو میں شریک ممالک کے نمائندوں کا آن لائن اجلاس ہوا۔ جس دوران نمائشوں کے بین الاقوامی ادارے کی جانب سے وبا کے باعث پیدا ہونے والی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک برس کے لیے ایکسپو 2020 کے افتتاح کو ملتوی کرنے کی سفارش کی گئی۔اس اجلاس کے دوران ایکسپو 2020ءکے انتظامات میں مصروف تمام افراد کی صحت کو سلامتی کے تحفظ پر بات چیت کی گئی اور اس معاملے میں اختیار کی گئی احتیاطی تدابیر کے بارے میں بھی مختصراً آگاہ کیا گیا۔اجلاس میں منتظمین کی جانب سے بھی سفارش کی گئی کہ کورونا کے باعث اس عالمی نمائش کو ایک سال کے لیے ملتوی کر دیا جائے۔ واضح رہے چند روز قبل بھی دبئی ایکسپو 2020ءکی انتظامیہ کی جانب سے اہم بیان سامنے آیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ منتظمین کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورت حال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ عالمی کوششوں کے نتیجے میں اس مہلک وائرس پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کر لی جائے گی۔ایکسپو کے ترجمان کی جانب سے مزید کہا گیا تھا کہ”دبئی میں ایکسپو 2020ءکو دیکھنے کے لیے آنے والے ہر شخص کا تحفظ اور بھلائی ہماری اولین ترجیح ہے۔ہم متحدہ عرب امارات کی وزارت صحت سے مل کر کام کررہے ہیں تاکہ اس کے فراہم کردہ رہ نما اصولوں کا(مہلک وائرس سے بچاو کے لیے) اطلاق کیا جاسکے۔“یہاں بتاتے چلیں کہ نمائش 2020ءاکتوبر میں شروع ہونا تھی اور اس کا دورانیہ چھے ماہ کا رکھا گیا تھا۔اس سے متحدہ عرب امارات کے سیاحت کے شعبے اور معیشت کو ترقی ملے گی۔ ابتدائی جائزوں کے مطابق قریباً ڈھائی کروڑ افراددنیا بھر سے اس نمائش کو دیکھنے کے لیے دبئی میں آئیں گے۔گزشتہ سال یہ خبر بھی سامنے آئی تھی کہ اسرائیل بھی اس عالمی نمائش میں شرکت کرے گا۔ایکسپو 2020ءکے منتظمین کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ اس نمائش کے لیے دنیا کے ہر ملک کو دعوت دی گئی ہے، کیونکہ یہ حقیقی معنوں میں ایک انٹرنیشنل ایونٹ ہو گا۔
اسرائیل کی وزارت خارجہ کی جانب سے بھی تصدیق کی گئی تھی کہ ان کے ملک کو اس ایکسپو میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ جس پر وہ بہت زیادہ خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ تاہم متحدہ عرب امارات حکومت کی جانب سے کچھ عرصہ قبل اسرائیلی کابینہ کے وزراءکو امارات مدعو کیا گیا تھا۔امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اس نمائش سے امارات میں تجارتی اورمعاشی سرگرمیوں میں کئی گنا اضافہ ہو گا۔

ڈاکٹروں کی نواز شریف کو کورونا سے بچنے کیلئے آئسولیشن اختیار کرنے کی ہدایت

لندن: برطانیہ میں زیر علاج سابق وزیر اعظم نواز شریف کو ان کے ڈاکٹروں نے کورونا وائرس سے بچنے کے لیے آئسولیشن اختیار کرنے کی ہدایت کردی۔ تفصیلات کے مطابق نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس 5 صفحات پر مشتمل ہے جو برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن سے تصدیق شدہ ہیں۔ یہ رپورٹس 18 مارچ کو جاری کی گئی ہیں، جن کی روشنی میں معلوم ہوا ہے کہ نواز شریف نے سوئیٹزرلینڈ کے کچھ ڈاکٹرز کی خدمات بھی حاصل کی ہیں۔ نواز شریف کو اسی ماہ چیک اپ کے لیے جانا تھا لیکن کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے نہیں جا سکے۔ میڈیکل رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف شوگر اور گردوں سمیت دیگر بیماریوں میں مبتلا ہیں، ان کی صحت تاحال خراب ہے، ان کے دل کو خون پہنچانے والی شریانیں مکمل فعال نہیں، بہتر علاج کے لیے وہ برطانیہ میں ہی رہیں، ڈاکٹروں نے نواز شریف کو ہدایت کی ہے کہ کورونا وائرس سے بچنے کے لیے آئسولیشں اختیار کریں کیونکہ مختلف بیماریوں کی وجہ سے ان پر کورونا وائرس زیادہ جلدی اثرانداز ہو سکتا ہے۔

دبئی کا علاقہ الراس دو ہفتوں کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا

دبئی(ویب ڈیسک) دبئی میں کرونا وائرس پر قابو پانے کے لیے سٹیریلائزیشن مہم زور و شور سے جاری ہے۔ دبئی حکام کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ دبئی کا علاقہ الرّاس دو ہفتوں کے لیے مکمل طور پر آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ آج 31 مارچ کو اس علاقے کی بندش کا پہلا روز ہے۔ دبئی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ الرّاس کے گنجان آباد علاقے کو بند کرنے کا مقصد یہاں پر سٹیریلائزیشن مہم کو پوری طرح موثر اور کامیاب بنانا ہے، کیونکہ عام دنوں میں لوگوں کا رش ہونے کے باعث اس علاقے میں صفائی ستھرائی کی مہم فعال طریقے سے انجام نہیں دی جاسکتی، اسی لیے اس علاقے کو لاک ڈاون کر دیا گیا ہےجس کے بعد دوسرے علاقوں کے رہائشی اگلے چودہ روز تک یہاں داخل نہیں ہو سکیں گے۔آج کے روز سے بند ہونے والے الرّاس کے علاقے کے رہائشیوں کو خوراک، ادویہ اور دیگر ضروری سامان پہنچانے کی ذمہ داری دبئی ہیلتھ اتھارٹی کی جانب سے نبھائی جائے گی۔دبئی ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ اگلے چودہ روز تک دبئی گرین لائن کے تین اسٹیشنز الرّاس، پام ڈیرہ اور بنی یاس سکوائر بھی بند کر دیئے گئے ہیں۔ان تینوں اسٹیشنز پر بھی سٹریلائزیشن کے دوران جراثیم کش ادویہ کا سپرے کیا جائے گا۔اس کے علاوہ الرّاس کو جانے والی شاہراہیں اور انٹرچینجز کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ روڈز اتھارٹی کی جانب سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ میٹرو اسٹیشنز کی بندش کا یہ فیصلہ مسافروں کی زندگی اور صحت کے تحفظ کو یقینی بنانے کی خاطر کیا گیا ہے۔ دبئی میں گزشتہ ماہ شروع ہونے والی صفائی مہم کے تحت متعدد میونسپلٹی کی جانب سے 73 علاقوں اور سڑکوں کی سٹیریلائزیشن کی جا رہی ہے، جبکہ دبئی میونسپلٹی کی ملکیت 129 عمارتوں اور مقامات کی سٹیریلائزیشن مکمل کر لی گئی ہے۔ سٹیریلائزیشن کے لیے جدید طرز کی گاڑیوں اور سپرے اور ڈس انفیکشن کے آلات استعمال میں لائے جا رہے ہیں۔ جبکہ سپریئنگ (spraying) ڈیوائسز ڈس انفیکشن کے مادے کو چھوٹے چھوٹے ذرات میں بدل دیتی ہیں۔ہائیڈرالک پاور سے کام کرنے والے پورٹیبل سپرے ڈیوائسز کے علاوہ سپرے اور فیومیگیشن کی مشینیں بھی استعمال میں لائی جا رہی ہیں۔ یہ تمام زیر استعمال مشینری ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے منظور شدہ ہے۔ جنہیں بہترین لیبارٹریز میں بھی چیک کر کے ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا ہے۔

کابینہ نے 1200 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کی منظوری دےدی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی کابینہ نے کورونا وبا کے باعث عوام کے لیے 1200 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کی منظوری دے دی۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں 4 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا، کابینہ کو کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر مراد سعید نے کہا کہ وزیراعظم کے بروقت اور درست اقدامات کو نمایاں انداز میں پیش نہیں کیا جاتا۔ کابینہ نے 1200 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کی منظوری دے دی جب کہ کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے فیصلوں کی بھی توثیق کردی۔ اجلاس کے دوران ایکسپورٹرز کا مال روکے جانے کے معاملے پر بھی بحث ہوئی، وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایات کے باجود تا حال عمل درآمد نہیں ہوا، وزیراعظم نے ایکسپورٹرز کا مال روکے جانے کی اطلاعات کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی کہ گڈز ٹرانسپورٹ سمیت ایکسپورٹرز کا مال نہیں روکا جانا چاہیے، اجلاس کے دوران کابینہ ارکان نے کہا کہ ٹرک اڈوں پر ٹرانسپورٹرز کے ہوٹل کے ہوٹل بند ہیں جس کی وجہ سے ڈرائیورز کچھ کھا پی نہیں سکتے، جس پر اجلاس کے دوران ٹرانسپورٹرز کے لئے مخصوص ڈھابہ ہوٹلز کھولے جانے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔

متحدہ عرب امارات میں آئندہ تین ماہ کے لیے رہائشی ویزے کی تجدید مفت میں ہو گی

ابوظبی(ویب ڈیسک) گزشتہ روز متحدہ عرب امارات کی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں رہائشی ویزوں کے حوالے سے اہم فیصلہ لیا گیا ہے۔کابینہ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ جن تارکین وطن کے رہائشی ویزوں کی مدت یکم مارچ 2020ءسے قبل ختم ہو گئی ہے، ان کے ویزوں کی مدت میں اگلے تین ماہ کے لیے تجدید کرانے پر کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔رہائشی ویزوں کے حوالے سے یہ فیصلہ مملکت میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث پیدا ہونے والے حالات کے باعث لیا گیا ہے۔اس کے علاوہ رہائشی ویزوں سے متعلق کسی خلاف ورزی کی بناءپر عائد ہونے والے جرمانے بھی وصول نہیں کیے جائیں گے۔ کابینہ کے اس فیصلے کا مقصد مقامی افراد، تارکین وطن اور سیاحوں کی صحت اور زندگی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔کابینہ کے اجلاس میں ایک اور اہم فیصلہ یہ کیا گیا کہ یکم اپریل 2020ءسے اگلے تین ماہ کے لیے نیشنل اتھارٹی فار آئیڈنٹٹی اینڈ نیشنلٹی کی جانب سے مہیا کی جانے والی خدمات سے متعلق خلاف ورزیوں پر بھی کوئی جرمانہ وصول نہیں کیا جائے گا۔کابینہ نے عدالتی امور سے متعلق رقوم ڈیجیٹل ٹرانزیکشن ٹیکنالوجی کے ذریعے ادا کرنے کی خاطر عارضی لائسنس جاری کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ تاکہ عدالتی عملے اور مقامی و تارکین وطن سب کی زندگیوں کا تحفظ ہو سکے۔ اس فیصلے سے آن لائن طریقے سے ہی رقوم جمع کرا دی جائیں گی۔ جبکہ جن افراد کی سرکاری خدمات سے متعلق دستاویزات کی مدت یکم مارچ 2020ءکو ختم ہو گئی تھی، انہیں بھی یکم اپریل سے تین ماہ کے لیے توسیع دی جا رہی ہے۔
اس فیصلے کا اطلاق تمام وفاقی سروسزبشمول دستاویزات، پرمٹس، لائسنس اور کمرشل رجسٹریشن وغیرہ پر ہو گا۔ تارکین وطن نے رہائشی ویزوں کی مدت میں بلامعاوضہ توسیع کو بہت خوش آئند قرار دیا ہے۔ ایک پاکستانی تارک وطن کا کہنا تھا کہ اس وقت کورونا کے باعث جو معاشی صورت حال میں بگاڑ پیدا ہوا ہے، ایسے میں اس نوعیت کی رعایتیں اور فلاحی فیصلے لوگوں کے لیے بہت مفید ثابت ہوں گے۔

کرونا فنڈ: پاک آرمی کے ملازمین و آفیسرز کا حصہ ڈالنے کا اعلان

راولپنڈی(ویب ڈیسک) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ملک میں بڑھتے ہوئے کورونا وائرس کی تعداد کے بعد حکومت کی طرف سے قائم کیے گئے ریلیف فنڈز میں سائنسدانوں، انجینئرز، این سی اے اور ایس پی ڈی کے ملازمین نے ریلیف فنڈز میں حصہ ڈالنے کا اعلان کیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پے سکیل 1 سے 7 تک ایک دن اور پے سکیل 8 سے 10 تک 2 دن کی تنخواہ فنڈ میں دیں گے۔ پے سکیل 11 سے 14 تک کے ملازمین اپنی 3 دن کی تنخواہ ریلیف فنڈ میں دیں گے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا نے کورونا ریلیف فنڈز میں 1 ماہ کی تنخواہ دی ہے۔ اس سے قبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے کورونا ریلیف فنڈ میں ایک ماہ کی تنخواہ دی۔ بریگیڈئیرز سے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے تک افسران اپنی 3.3 دن کی تنخواہیں کورونا ریلیف فنڈ میں دی، کرنل کے عہدے تک افسران نے 2 دن کی تنخواہ، سپاہیوں سے لیکر جے سی اوز نے اپنی ایک دن کی تنخواہ اس وباءسے نمٹنے کے لیے دی۔