کراچی (10 مئی 2026): کراچی پولیس کے اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل کی کارکردگی صفر نکل آئی، رواں سال کے 4 مہینوں کی رپورٹ نے ہوش اڑا دیے۔
اے وی ایل سی کی ایک ہولناک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ کراچی میں یومیہ 114 سے زائد موٹر سائیکلیں چھینی جا رہی ہیں اور صرف 7 برآمد ہو پا رہی ہیں۔ اس رپورٹ نے پولیس حکام کے اسٹریٹ کرائم میں کمی کے دعوے جھٹلا دیے ہیں۔
پولیس رپورٹ کے مطابق کراچی میں یومیہ 114 سے زائد موٹر سائیکلیں چوری اور چھینی جا رہی ہیں، جب کہ موٹر سائیکل لفٹنگ کے برعکس برآمدگی یومیہ 7 موٹر سائیکل بھی نہیں ہے۔
چار ماہ کے دوران 13 ہزار 758 موٹر سائیکلیں چوری اور چھینے جانے کی وارداتیں ہوئیں، جب کہ چار ماہ کے دوران برآمد کی جانے والی موٹر سائیکلوں کی کل تعداد صرف 794 ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنوری میں 3731، فروری میں 3406، مارچ میں 3537 اور اپریل میں موٹر سائیکل لفٹنگ کی 3 ہزار 84 وارداتیں ہوئیں۔ اگر فی موٹر سائیکل 50 ہزار تخمینہ لگایا جائے تو اب تک شہری 68 کروڑ، 79 لاکھ کی موٹر سائیکلوں سے محروم ہو چکے ہیں، جب کہ لگائے گئے تخمینے کے حساب سے برآمدگی صرف 3 کروڑ 7 لاکھ کی ہی ہو سکی ہے۔
اے وی ایل سی کی رپورٹ نے شعبے کی کارکردگی پر سوال اٹھا دیے ہیں۔
ادھر کراچی میں جرائم کی وارداتوں سے متعلق سی پی ایل سی کے اعداد و شمار بھی جاری ہوئے ہیں، سی پی ایل سی نے 1 اپریل سے 30 اپریل تک شہر میں ہونے والی وارداتوں کی تفصیل بتا دی۔
اپریل میں میں 22 گاڑیاں چھینی گئیں، اور 111 گاڑیاں چوری ہوئیں، 469 موٹر سائیکلیں اسلحے کے زور پر چھینی گئیں، 2723 موٹر سائیکلیں چوری ہوئیں، اپریل کے مہینے میں 1624 شہریوں سے ان کے موبائل فون لٹیروں نے چھینے۔
سی پی ایل سی کے مطابق اپریل میں اغوا برائے تاوان کا 1 اور بھتہ خوری کے 9 کیسز رپورٹ ہوئے، فائرنگ اور پرتشدد واقعات کے دوران اپریل میں 42 شہری لقمہ اجل بنے۔





































