صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی مقامی انتظامیہ نے شہر کے ایک پارک کی خوبصورتی بڑھانے اور لوگوں کے لیے سیلفی مقام بنانے کے لیے پاکستان کا خواب دیکھنے والے علامہ اقبال کا مجسمہ نصب کیا، تاہم لوگوں کو ان کا مجسمہ پسند نہیں آیا۔
لاہور کی مقامی انتظامیہ نے گلشن اقبال پارک میں شاعر مشرق کہلائے جانے والے علامہ اقبال کا مجسمہ نصب ک
یا، تاہم جب لوگوں نے ان کے مجسمے کو دیکھا تو وہ نہ صرف حیران رہ گئے بلکہ ’ناقص‘ مجسمے پر انتظامیہ پر برہم بھی ہوئے۔
علامہ اقبال کے مجسمے کی تصاویر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر ہنگامہ مچ گیا اور لوگوں نے ان کے مجسمے کو نہ صرف ’ناقص‘ قرار دیا بلکہ اسے ملک کے قومی شاعر کی توہین بھی قرار دیا۔
بعض افراد کو تو علامہ اقبال کے مجسمے میں جرمن فلاسافر نٹشے اور بعض کو وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود دکھائی دیے اور کسی نے کہا کہ نیا مجسمہ دیکھنے کے بعد اقبال کا ’شکوہ‘ تو بنتا ہے۔
سینیئر صحافی و اینکر حامد میر نے لاہور انتظامیہ کے ایک عہدیدار کا نام لیتے ہوئے اپنی ٹوئٹ میں سوالات اٹھائے کہ پارک میں نصب کیا گیا مجسمہ کہیں سے بھی شاعر مشرق کا مجسمہ نظر آتا ہے؟
انہوں نے عہدیدار کو مخاطب ہوتے ہوئے لکھا کہ آپ کی حکومت کے خیال میں یہ شاعر مشرق ہیں اور کسی سفارشی سے مجسمہ بنواکر عوام الناس کے لیے اسے گلشن اقبال لاہور میں سجا دیا گیا، مجھے تو یہ مجسمہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا ہے۔
انہوں نے علامہ اقبال کے نئے مجسمے کی تصویر بھی شیئر کی اور ان کی ٹوئٹ پر درجنوں افراد نے کمنٹس کیے، جن میں سے زیادہ تر افراد نے حامد میر سے اتفاق کیا اور کہا کہ انہیں بھی مذکورہ مجسمہ شاعر مشرق کا نہیں لگ رہا۔
ریٹائرڈ محمد ہارون اسلم نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ پارک میں نصب کیا گیا مجسمہ کسی طرح بھی علامہ اقبال کا مجسمہ نہیں لگ رہا اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ مجسمہ تنگ نظر لوگوں کے خوف کی وجہ سے ایسا بنایا گیا۔
