تازہ تر ین

ن لیگ کا بیلٹ باکسز کو فوج کی تحویل میں دینے کا مطالبہ غیرذمہ درانہ ہے، بلاول بھٹو

این اے249کے بیلٹ باکسز کو فوج کی تحویل میں دینے کی حمایت نہیں کریں گے، ن لیگ فوج سے اپیل کی بجائے الیکشن کمیشن پر امید رکھے، انتخابی اصلاحات کا فائدہ اسٹیبشلمنٹ کے کردار کے بغیرممکن ہوسکتا ہے۔چیئرمین پیپلزپارٹی کی پریس کانفرنس

کراچی (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔03 مئی2021ء) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ن لیگ کابیلٹ باکسز کو فوج کی تحویل میں دینا غیرذمہ درانہ مطالبہ ہے، این اے249کے بیلٹ باکسز کو فوج کی تحویل میں دینے کی حمایت نہیں کریں گے، ن لیگ فوج سے اپیل کی بجائے الیکشن کمیشن سے امیدرکھے،انتخابی اصلاحات کا فائدہ اسٹیبشلمنٹ کے کردار کے بغیرممکن ہوسکتا ہے۔

انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن میں انتخابی اصلاحات کی ضرورت ہے، الیکشن میں دھاندلی ختم کرنے کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے، حالیہ این اے249کے الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ کا کوئی کردار نہیں تھا، انتخابی اصلاحات میں اپنا کردار ادا کریں گے، حکومت کے مئوقف کو کوئی سنجیدہ نہیں لیتا، الیکشن میں دھاندلی روکنے کیلئے قانون سازی کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کا رول ختم کرنا ہونا چاہیے، اگر اسٹیبشلمنٹ کا رول ختم ہوجائے تو پھر انتخابی اصلاحات کا فائدہ بھی ہوگا اور دھاندلی بھی نہیں ہوگی۔

این اے 249میں اسٹیبلشمنٹ کا کوئی ایکٹو رول نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ الیکشن میں اگر ن لیگ کو اعتراض ہے تو ان کے پاس فورم موجود ہے، ن لیگ کا حق ہے اگر ان کے پاس ٹھوس ثبوت ہے تو پیش کریں، ان کو الیکشن کمیشن سے امید رکھنی چاہیے، فوج کو اپیل نہیں کرنی چاہیے۔ فوج کی طرف اپیل نہ کریں کہ فوج انتخابی عمل میں مداخلت کرے، فوج کے کردار سے انتخابی عمل کو نقصا ن ہوتا ہے، 2018ء کے الیکشن سب سے زیادہ فوج پولنگ اسٹیشنز پر تعینات تھی،جبکہ 2013تک دہشتگردی عروج پر تھی پھر بھی ایسا نہیں تھا، اس سے الیکشن متنازع ہوتے بلکہ فوج بھی متنازع ہوتے ہیں۔

اگر کسی کو انتخابات سے متعلق شکایت ہوگی توجو ادارہ غیرسیاسی اور غیرمتنازع ہونا چاہیے پھر اس پر تنقید آنا شروع ہوجاتی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ن لیگ کا مطالبہ غیرذمہ درانہ ہے، فوج کی نگرانی میں ووٹوں کے باکسز کو دینا درست نہیں۔ اس مطالبے کی حمایت نہیں کریں گے، ن لیگ ک وسوچنا چاہیے کہ ان کا بیانیہ مئوقف انفرادی سطح پر ہے یا اصولی مئوقف ہے، اگر یہ ان کا اصولی نظریاتی مئوقف ہے تو پھر ان کا مطالبہ سمجھ سے باہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم یا مولانا فضل الرحمان سے ہمارا کوئی مطالبہ نہیں ہے۔ میری کوشش ہے کہ پریس کانفرنس میں صرف مزدروں سے متعلق بات کریں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved