تازہ تر ین

ناکام سیاست دان

نجیب الدین اویسی
کبھی کبھی اکیلے میں بیٹھا مرزا غالب کے اشعار ذہن میں آتے ہیں
نہ تھا کچھ تو خدا تھا
کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے
نہ میں ہوتا تو کیا ہوتا
اپنی پوری زندگی کے بارے میں سوچتے ہوئے بار بار مجھے یہ اشعار اپنے آپ پر موزوں لگتے ہیں۔ میں نے ایک آسودہ گھرانے میں آنکھ کھولی۔ میرے والد مرحوم اپنے علاقے کے بڑے زمینداروں میں سے ایک تھے۔ ان کی کثیر اولاد تھی یعنی سات بھائی ایک ہمشیرہ۔ میرے والد صاحب مرحوم کے نزدیک اپنے بچوں کو تعلیم کے لئے اتنا کافی تھا انہیں گاؤں کے سکول میں داخل کروادینا۔بعد میں ہم اپنی ضرورت کے مطابق ان سے کتابوں، سکول کی فیس، یونیفارم جو بھی مطالبہ کرتے وہ بلا تردد پورا کر دیتے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں میرے والد مرحوم تعلیم کے خلاف تھے۔ وہ ہمیشہ تعلیم کے فروغ کیلئے کوشاں رہے۔ اپنے علاقے میں بہت سی درسگاہوں کو اپنی ذاتی زمین بطور عطیہ دی۔ علاقے کے کافی بچوں کو تعلیم کیلئے مالی امداد بھی کرتے رہتے تھے۔ میرے نزدیک انہوں نے ہماری تعلیم کیلئے دو باتوں کو نظر انداز کیا۔ اول یہ کہ ہمیں اچھی درسگاہوں میں داخل نہیں کروایا۔ دوئم کبھی ذاتی دلچسپی لے کر یہ معلوم نہیں کیا ہم کیا پڑھ رہے ہیں؟ کونسی کلاس میں ہیں؟
جس کی وجہ سے ہم بھائی اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کر سکے۔ اپنے ذاتی تجربے کے باعث میں نے اپنے بچوں کو نہ صرف اچھی درسگاہوں میں داخل کیا بلکہ دن رات ان کی تعلیم پر بھرپور توجہ دی۔اپنی سیاسی، ذاتی تمام تر مصروفیات کو ترک کر کے بچوں کے یوم والدین پر میرا ایک بھی ناغہ نہیں تھا۔میں اس کے علاوہ بھی اپنے بچوں کے ٹیچرز کو گاہے بگاہے ملتا رہتا تھا۔انکا ٹیوشن ہو یا اکیڈمی میں نے ہمیشہ جاسوسی کی حد تک ان کی نگرانی کی۔اپنی اوقات سے بڑھ کر میں نے اپنے بیٹے کو بیرونِ ملک بھی تعلیم دلوائی۔ الحمدللہ اللہ نے میری محنت کو رنگ لگایا۔میرے بچے بھی میرے اعتماد پر پورا اترے۔ میرے بیٹے عثمان نے نہ صرف کینیڈا میں اچھے نمبروں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی بلکہ وہاں کے ایک بڑے بینک میں دس سال میں اپنا نام پیدا کیا۔آج میرے بچے اپنے خاندان میں سب سے زیادہ تعلیم یافتہ ہیں۔ سیکنڈری سکول تک میرے ٹیچر مجھے God Gifted Child، اپنے سکول کا ذہین ترین سٹوڈنٹ کہتے تھے۔میں نے میٹرک کیا۔ S-Eکالج میں فرسٹ ایئر میں داخلہ لیا۔ایف-اے میں بدیسی زبان میں کامیاب نہ ہوسکا۔ ان دنوں کالجوں میں آپ کو دو تین پیپرز میں فیل ہونے کے باوجود اگلی کلاس میں پڑھنے کی اجازت مل جاتی تھی۔ ہم تو صرف انگریزی میں فیل تھے۔
ہم نے کالج کا تھرڈ ایئر کا امتحان بھی پاس کر لیا۔ مگر فورتھ ایئر کا داخلہ اس وقت تک نہیں جاسکتا تھاجب تک ایف-اے پاس نہ ہو۔ سو ہم نے پڑھائی سے مایوس ہو کر آوارہ گردی شروع کردی۔ 79ء میں بلدیاتی الیکشن میں حصہ لے کر اپنے گھر کی یونین کونسل کا چیئرمین منتخب ہوا۔ پورے چودہ سال یونین کونسل کا چیئرمین رہا۔ جسکی وجہ سے میرے ٹاؤن کے بزرگ لوگ آج بھی مجھے میاں چیئرمین کہتے ہیں۔ چیئرمین بننے کے بعد میں نے بہاولپور میں اپنے دوستوں کا حلقہ وسیع کر لیا۔ ان میں بیوروکریٹ، ٹیکنوکریٹ، کالج، یونیورسٹی کے پروفیسرز، ڈاکٹرز شامل تھے۔ جب ان پڑھے لکھے لوگوں میں بیٹھتا تو وہ مجھ سے تعلیم کے بارے میں پوچھتے میں شرمندگی سے میٹرک پاس کہتا۔ اس شرمندگی سے بچنے کی خاطر میں نے شادی کے بعد ایف-اے اور پھر بی-اے کیا۔
اپنی بے پناہ محنت کے باعث 97ء میں ممبر پنجاب اسمبلی، 2001ء میں تحصیل ناظم، 2013ء، 2018ء میں ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوا۔ ایام ِ جوانی میں سوچتا تھا میں بہت بڑا آدمی (دنیاوی) بنوں گا۔ میرے آگے پیچھے پروٹوکول گاڑیاں ہوں گی۔ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کروں گا، مگر سب ادھورے خواب رہ گئے۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں جس طرح نو عمری میں ذہین تھا سی ایس ایس کا امتحان دیتا تو آج بیسویں گریڈ کے آفیسر کی حیثیت سے ریٹائرڈ بیوروکریٹ ہوتا۔ خیر میں سیاست میں آگیا۔مگر سوچتا ہوں میں اس کام کے لئے موزوں نہیں (miss fit)ہوں۔ بہت پہلے پرویز مشرف نے جب کہا تھا میں وردی سمیت صدر منتخب ہوں گا۔ عباس اطہر مرحوم نے کالم لکھا ”انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند“۔
ہمارے ووٹرز کے بھی انوکھے انوکھے مطا لبات ہوتے ہیں۔ میرے ایک سپورٹر تشریف لائے فرمایا فلاں آدمی کا تبادلہ فلاں جگہ کردیں۔ محکمے سے معلوم کیا پتہ چلا جہاں وہ چاہتے ہیں وہاں سیٹ ہی نہیں۔ مگر سفارشی بضد تھے وہیں پوسٹ کیا جائے۔درجہ چہارم کا ایک اہلکار گریڈ سولہ کے مکان کی الاٹمنٹ پر بضد ہوتا ہے۔اسی طرح عجیب و غریب فرمائشیں ہوتی ہیں جنھیں سن کر طبیعت سیاست سے بیزار ہوجاتی ہے۔میں جھوٹ سے نفرت کرتا ہوں۔ مگر سچ سننے کو کوئی تیار نہیں۔ میرے حلقے کے عوام کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے جو مجھ ایسے سے کھرا سچ سننے کے بعد بھی مجھے ووٹ دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ میں اپنے آپ کو اس لیے بھی miss fitکہتا ہوں جب اپنے دوستوں کو قائدین کی تعریفوں میں رطب اللسان دیکھتا ہوں۔انکے ابتدائیہ کلمات بھی قیادت کی تعریف سے شروع ہوتے ہیں۔ اختتام بھی اسی پر ہوتا ہے۔ انکی گفتگو کا یہ بھی مدعا ہوتا ہے ہم بالکل کسی قابل نہ تھے مگر یہ ہمارے قائدین کی مہربانی ہے۔ آج ہم اس مقام پر ہیں۔ انہی میں سے اکثریت جب بھی نجی محفلوں میں بیٹھتے ہیں تو اپنے لیڈروں کی ایسی ایسی برائیاں گنواتے ہیں بلکہ دشنام طرازی سے بھی باز نہیں آتے۔ خدا معلوم وہ یہ سارا کچھ کیسے کر لیتے ہیں؟
2010ء کے ضمنی الیکشن کے ٹکٹ کے انٹرویو میں مجھ سے پرویز رشید نے یہ کہا اگر پارٹی آپ کو ٹکٹ نہ دے؟ میں نے کہا مجھے میاں نواز شریف بلا کر کہہ دیں میں الیکشن نہیں لڑوں گا۔ انہوں نے فوراََ فرمایا ہم تو اپنے قائد کی منشاء بھانپ کر بغیر انکے لب ہلائے تعمیل کر دیتے ہیں۔میرا جواب کھرا سچ مگر تلخ تھا۔ پرویز رشید صاحب آپ انہیں روحانی پیشوا مانتے ہونگے، میں پارٹی ہیڈ تسلیم کرتا ہوں۔
پچھلے دور حکومت کے پانچ سالوں میں بڑے میاں صاحب یا چھوٹے میاں صاحب بہاولپور تشریف لاتے، انتظامیہ بتاتی آپ نے فلاں جگہ تقریب میں اتنے بجے آنا ہے۔ میں اسی تقریب ہی میں جاتا۔مجال کبھی ایئرپورٹ پر ان کی آمد یا روانگی کے وقت گیا ہوں۔ میرے ضلع کے سارے کولیگ آمد کے وقت، روانگی کے وقت حاضری دینا ضروری سمجھتے۔ ہماری لابی میں میاں شہباز شریف کبھی نہیں آئے۔ بلاول بھٹو ہمیشہ لابی میں بیٹھتے ہیں اپنے ممبران سے خوب گپ شپ لگاتے ہیں۔ میرے ایک دوست نے ان کو دیکھ کر آہ بھرتے ہوئے کہا: کاش!ہمارے لیڈران بھی ایسا کرتے۔ افسوس میں ایسی پارٹی میں ہوں جو اپوزیشن میں بھی اپنے ممبران سے ملنا اپنی توہین سمجھتی ہے۔ میں اپنے آپ کو اس لیے بھی miss fitسمجھتا ہوں۔ میں نے کبھی سپیکر کے ڈائس کے سامنے جا کر نعرے بازی نہیں کی۔کبھی بھاگ بھاگ کر اپنے لیڈران سے مصافحہ کرنا فرض اولین نہیں سمجھا۔مسلم لیگ کی حکومت کے دوران جب ہم لابی میں بیٹھے ہوتے تو ہمارے چیف وہیپ شیخ آفتاب تشریف لاتے ہمیں فرماتے چلو ہال میں چلیں چوہدری صاحب نے تقریر کرنی ہے یعنی چوہدری نثار نے تقریر کرنی ہے۔ آپ لوگوں نے ڈیسک بجانے ہیں۔ میں مسکرادیتا، مگر کبھی ہال میں ڈیسک بجانے نہ گیا۔جب اسمبلی میں بجٹ پیش کیا جاتا ہے بغیر بجٹ پڑھے وزیرِ خزانہ کی تقریر کے دوران شوروغل مجھے ذرا بھی اچھا نہیں لگتا۔ میرے ذاتی نظریات میں مخالف کی مکمل بات سننی چاہیے۔ اس کے بعد جواب دینا چاہیے۔پچھلے دنوں اسمبلی میں جو طوفانِ بد تمیزی ہوا، اس کو دیکھتے ہوئے میں سوچتا ہوں کیا میں بھی اسی اسمبلی کا ممبر ہوں؟ مجھے شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔
ہماری تمام سیاسی جماعتوں کی پارلیمانی میٹنگوں میں سوائے خوشامدانہ تقاریر کے کچھ نہیں ہوتا۔ جنہیں سن کر دل و دماغ شل ہوجاتے ہیں۔اسی وجہ سے میں کبھی ان میٹنگوں میں شریک نہیں ہوا۔کوئی ایسی سیاسی جماعت نہیں جس کے قائد تنقید سننے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ فیصلے اوپر سے مسلط کیے جاتے ہیں۔ کسی سینیٹر کو ووٹ دینا ہو، صدارتی ووٹ ہو، چیف آرمی کی ملازمت میں توسیع ہو، بس حُکم آجاتا ہے غلام ابن غلام لوگو ایسا کرنا ہے۔ پارٹیوں کے عہدے بغیر کسی الیکشن کے نامزدگی کے پُر کر دیے جاتے ہیں۔ میں نے اپنے ایک جمعیت العلماء اسلام کے ساتھی سے پوچھا کیا آپ کی مجلس شوریٰ میں بولنے کی آزادی ہے انہوں نے فرمایا: ہمارا حال تو آپ کے حال سے بھی زیادہ برا ہے۔ TVکے شوز میں جس طرح میرے ساتھی اپنے قائدین کا دفاع کر رہے ہوتے ہیں مجھے دکھ کے ساتھ ہنسی بھی آتی ہے ان معصوم لوگوں پر جو نہ جانے اپنے ضمیر کو سُلا کر کس طرح جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں۔ شاید میں ایسا کبھی نہ کر سکوں۔ اس لیے شاید تاریخ دان مجھے ایک ناکام سیاست دان لکھیں گے۔
(کالم نگارمعروف پارلیمنٹیرین ہیں)
٭……٭……٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain