تازہ تر ین

عدم سے بینظیر کا خط بلاول کے نام

سید سجاد حسین بخاری
نورِ چشم‘ لخت ِجگر بلاول
ہمیشہ سلامت رہو
بیٹا! مجھے انتہائی خوشی ہوئی ہے کہ آپ نے جنوبی پنجاب کو فوکس کیا ہے اور آج آپ کے سات روزہ دورے کا پہلا دن ہے۔ مجھے علم ہے کہ آج آپ نے پورا دن پارٹی کارکنان کے گھروں میں فاتحہ خوانی کیلئے جانا ہے‘ بہت ہی اچھی بات ہے۔
بیٹا! جس شہر میں آپ آج موجود ہو یہ بزرگوں اور اولیاء کا شہر ہے‘ اسے مدینتہ الاولیاء کہتے ہیں اور یہ تقریباً پانچ ہزار سال قدیم شہر ہے۔ اس کی ایک مسلمہ حیثیت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا لہٰذا میری چند باتیں غور سے سنو اور انہیں پلے باندھ لوگے تو کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔
بیٹا بلاول! ملتان شہر نے آپ کے نانا اور میرے بابا شہید ذوالفقار علی بھٹو پر جن محبتوں کا قرض چڑھایا تھا‘ ہم وہ آج تک نہیں اُتار سکے۔ یہاں کے لوگ (عوام) آم اور سوہن حلوے کی طرح میٹھے ہیں‘ محبتوں اور قربانیوں سے سرشار ہیں خصوصاً مڈل اور لوئر مڈل کلاس۔
بیٹا بلاول! 1971ء میں جب شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ملتان میں اپنے چند دوستوں کو پی پی میں شمولیت کی دعوت دی تو سب نے انکار کردیا۔ ملتان شہر میں پاکستان پیپلزپارٹی کا ٹکٹ کسی نے نہیں لیا تھا‘ بالآخر آپ کے نانا ذوالفقار علی بھٹو نے خود الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا۔ اس وقت ضلع ملتان کی سات تحصیلیں ہوتی تھیں اور کل 9سیٹیں قومی اسمبلی کی ہوتی تھیں جن کی تفصیل آپ کو بیٹا بتانا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں آپ کو فیصلے کرنے میں آسانی ہو۔ ملتان شہر سے آپ کے نانا کامیاب ہوئے۔ تحصیل شجاع آباد سے آپ کے نانا کے دوست اور کلاس فیلو مخدوم حامد رضا گیلانی کے مقابلے میں رانا تاج نون کو ٹکٹ دیا کیونکہ حامد رضا گیلانی نے ٹکٹ لینے سے انکار کردیا تھا اور وہ رانا تاج نون کے مقابلے میں شکست بھی کھا گئے تھے۔ اسی طرح بیٹا خانیوال سے برکت اللہ ایڈووکیٹ اور کبیروالا سے عباس حسین گردیزی‘ تحصیل میلسی سے کھچیوں کے مقابلے میں ارشاد خان پٹھان کامیاب ہوئے البتہ تحصیل وہاڑی سے مسلم لیگ کے صدر ممتاز دولتانہ کامیاب ہوگئے مگر وہ 1974ء میں آپ کے نانا کے ساتھ مل گئے۔ آپ کے نانا نے انہیں برطانیہ میں سفیر بنادیا اور پھر ضمنی الیکشن میں ریاض دولتانہ نے الیکشن جیتا۔ ان کی پوتی نتاشا دولتانہ آج کل آپ کے ساتھ ہے‘ ان کا خاص خیال رکھنا۔ بیٹا بلاول! لودھراں بھی ملتان کی تحصیل تھی‘ یہاں سے سید ناصر رضوی کامیاب ہوئے اور آپ کے نانا نے انہیں وفاقی وزیر بھی بنایا تھا۔ بیٹا! ضلع ملتان کی قومی اسمبلی کی 9نشستوں میں سے 8نشستیں پاکستان پیپلزپارٹی نے جیتی تھیں۔ اس زمانے میں ملتان ڈویژن کی حدود کے فورٹ منرو تک بلکہ بارکھان اور کوہلو تک اثرات ہوتے تھے۔ مظفرگڑھ سے غلام مصطفی کھر‘ ضلع لیہ سے مہر منظور سمرا‘ ڈیرہ غازیخان سے جمال لغاری ہمارے ساتھ تھے مگر ہار گئے تھے اور راجن پور سے شوکت مزاری آپ کے نانا کی ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے‘ تاہم بہاولپور چونکہ ایک الگ ریاست تھی جو قیام ِپاکستان کے بعد پاکستان میں ضم ہوئی اور پھر جب یونٹ ٹوٹا تو بہاولپور میں مقامی سطح پر ایک محاذ بنا جس کا نعرہ ریاست کی بحالی تھا۔ یہاں پر ایک کامیاب تحریک چلی اور اسی تحریک سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے محاذ نے الیکشن میں اپنے اُمیدوار کھڑے کردیئے جس کا نقصان پی پی پی کو ہوا۔ تاہم رحیم یار خان سے میجر عبدالغنی کانجو اور بہاولنگر سے رفیق شاہ پی پی پی کی ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے۔
بلاول بیٹا! یہ نام یقینا آپ کیلئے اجنبی ہوں گے اور ان میں اب ایک بھی زندہ نہیں ہے۔ تاہم ان کی نسلیں باقی ہیں اور بڑی تھوڑی تعداد میں وہ مختلف سیاسی جماعتوں میں شامل ہیں۔
بیٹا! 1971ء میں آپ کے نانا الیکشن جیت کر وزیراعظم پاکستان بن گئے۔ جیساکہ میں نے آپ کو بتایا کہ آپ کے نانا کے ان ساتھیوں میں 60 سے 70فیصد لوگ مڈل کلاس سے تعلق رکھتے تھے اور باقی فیوڈل تھے مگر جب آپ کے نانا وزیراعظم بنے تو اس خطے کے نامور جاگیرداروں نے رابطہ کیا اور پی پی پی میں شمولیت اختیار کرتے گئے۔ آپ کے نانا نے ان میں سے اکثریت کو سفیر اور مشیر لگادیا۔ رفتہ رفتہ جاگیرداروں کی تعداد پی پی پی میں بڑھتی گئی اور ان لوگوں کی تعداد کم ہوتی گئی جو پارٹی کا اصل سرمایہ تھے۔ آپ کے نانا کو وڈیروں اور جاگیرداروں نے پارٹی سمیت یرغمال بنالیا اور ان کی مرضی چلنے لگی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1977ء میں جب عام انتخابات ہوئے تو پوری جماعت پر اکثریت جاگیرداروں کی چھا چکی تھی۔ عوام سے ان جاگیرداروں نے آپ کے نانا کو الگ کردیا اور انہی جاگیرداروں نے مطلق العنانی قائم کی جس کا نتیجہ تحریک نظام مصطفیؐ کی شکل میں نکلا جس کا آغاز بھی اسی ملتان سے ہوا تھا اور بالآخر 5جولائی 1976ء کو ایک ڈکٹیٹر نے جمہوریت پر شب ِخون مارکر آپ کے نانا کو تختہ دار پر چڑھا دیا۔ پارٹی پر بہت بُرا وقت آیا جن وڈیروں اور جاگیرداروں کو آپ کے نانا نے نوازا تھا‘ وہ سب غائب ہوگئے اور قربانی کیلئے غریب کارکنان سڑکوں پر نکلے جنہوں نے قید‘ کوڑے‘ شاہی قلعہ اور جیلیں دیکھیں۔
میری آنکھوں کے ٹھنڈک بلاول بیٹا! پھر اس خطے کے جاگیرداروں کی اکثریت نے مجلس شوریٰ میں شمولیت اختیار کی اور 1985ء کے غیرجماعتی الیکشن میں ڈکٹیٹر کی اسمبلی میں چلے گئے مگر مڈل کلاس قیادت اور غریب کارکن نہ بدلا‘ وہ قربانیاں دیتا رہا۔ ہاں یہ بھی بتادوں کہ اسی ملتان شہر میں آپ کی نانی اماں کا لہو بھی گرا تھا۔ کالونی ملز میں مزدوروں کے قتلِ عام کے خلاف جب آپ کی نانی اماں احتجاج کیلئے آئیں تو میری ماں پر ڈنڈے برسائے گئے جس سے وہ شدید زخمی ہوگئیں۔
بلاول میرے چاند! جب ضیاء الحق ڈکٹیٹر اپنے انجام کو پہنچا تو 1988ء میں عام انتخابات ہوئے تو میں نے سب سے پہلا کام ان انکلوں کی چھٹی کرائی جو میرے بابا کے قاتلوں کے مددگار تھے اور پھر مجھے ایک مرتبہ پھر مڈل کلاس قیادت اور غریب کارکنان نے اپنے بابا کی نشست پر بٹھا دیا۔
بیٹا بلاول! یہ مختصر سا اس خطے کا احوال تھا جو میں نے آپ کو بتانا ضروری سمجھا اور یہ ہدایت بھی دینا تھی کہ کوشش کرو عوام اور کارکنان تک خود پہنچو‘ انہیں سینے سے لگاؤ‘ میری اور اپنے نانا کی یادیں تازہ کردو۔ اگر آپ نے میری ان باتوں پر عمل کیا تو یقینا کامیابی پاؤ گے۔ اس خطے کی ایک بڑی داستان ہے جس میں کارکنان کی قربانیاں‘ وڈیروں کی بے وفائیاں / مفادپرستیاں‘ اقتدار کی ہوس سب شامل ہیں جن کو بیان کرنے کیلئے طویل وقت درکا ہے جو وقتاً فوقتاً میں آپ کو بتاتی رہوں گی۔ فی الحال ایک ہی بات یاد رکھنا کہ مڈل کلاس قیادت اور غریب کارکن کا خاص خیال رکھنا۔ یہ آپ کی کامیابی کی ضمانت ہیں۔
والسلام
آپ کی والدہ بینظیر بھٹو
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain