Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • راولپنڈی :سی ٹی او فرحان اسلم ٹریفک انتظامات میں مزید بہتری کیلئے سرکل انچارجز سے میٹنگ کر رہے ہیں ۔
    • منظم ٹریفک اور حادثات روک تھام کیلئے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے، فرحان اسلم
    • شیخ وقاض اکرم اور خالد نواز سے کسان تنظیموں کے رہنمائوں کی ملاقات
    • اقدام قتل اور ضرر مقدمہ میں مجرم کو 17سال قید، 8 لاکھ ضمان، 5 لاکھ ہرجانے کی سزا
    • زمین تنازعہ پر کلہاڑی کے وار سے شہری کو قتل کرنیوالے مجرم کو موت کی سزا
    • راولپنڈی، 9 افرادگرفتار ، 39 لیٹرسے زائد شراب برآمد
    • فتح جنگ: ماسٹر مظہر افضال کیصاحبزادیوں کی شادی کی تقریب
    • راولپنڈی ، ناجائز اسلحہ رکھنے والے افراد کیخلاف کارروائیاں، 4 افراد گرفتار، اسلحہ معہ ایمونیشن برآمد
    • بہتر بزنس پلان کیساتھ پاکستان پوسٹ کو ڈیجیٹلائز کرنا وقت کی ضرورت ، عبدالعلیم
    • گورنمنٹ گریجوایٹ کالج تلہ گنگ میں فرضی انتخابی مشق (Mock Poll)کا اہتمام کیا گیا
    • ڈاکٹر محمد انس سعید کاگندم اور آٹے کیغیر قانونی بین الصوبائی ترسیل کی روکتھام کے لیے فوڈ پکٹ احاطہ کا دور
    • فوڈ پانڈا کی جانب سے ڈارک کچن کے انفرااسٹرکچر کا مظاہرہ
    • نئے سیکرٹری خارجہ عاصم افتخار کے ساتھ اسلام آباد میں تعینات یورپی ممالک کے سفیروں کی ملاقات کے بعد گروپ فوٹو۔
    • میونسپل کمیٹی ٹیکسلا کے زیر ِ اہتمام یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر احتجاجی ریلی کا انعقاد
    • گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری سکول ٹھٹھہ میں فرسٹ ایئر کا شاندار 80 فیصد نتیجہ
    • یوم سیاہ کشمیر کے موقع پر مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ ثمر ہارون بلور ریڈیو پاکستان پشاور میں میڈیا سے گفتگو کر رہی ہیں۔
    • ایس پی سکیورٹی اصغر علی گورائیہ کی پولیس لائنز ہیڈکوارٹرز میں کھلی کچہری
    • مرز ا سمیر بیگ کی شادی دختر مرزا عمرا ن بیگ کیساتھ بخیر و خو بی سر انجام پائی
    • علیشبہ عدنان کو گلوبل ڈائریکٹر آف یوتھ افیئرز مقرر کر دیا گیا
    • نورانی نعت کونسل انٹرنیشنل کی تنظیمات تشکیل دینے کا عمل جاری : عثمان نورانی
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    جرمنی کا انتخابی نظام

    By Daily Khabrainستمبر 19, 2021
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    مرزا روحیل بیگ
    جرمنی میں پارلیمانی انتخابات 26 ستمبر کو ہونا ہیں۔ کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی کے آرمین لاشیٹ، سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے اولاف شولس اور گرین پارٹی کی طرف سے اینا لینا بئربوک، چانسلر شپ کے امیدوار ہیں۔ جرمن پارلیمانی انتخابات میں امیدوار سے زیادہ اس کی جماعت کو اہمیت دی جاتی ہے۔ جرمنی میں اگر کوئی کسی سیاسی جماعت کا رکن نہیں ہے تو اس کے پارلیمنٹ میں پہنچنے کے امکانات بھی بہت معدوم ہوتے ہیں۔ کوئی بھی آزاد امیدوار بہت زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے بعد ہی پارلیمان کا حصہ بن سکتا ہے۔ جرمنی کے بنیادی آئین میں درج ہے۔جرمنی میں ”سیاسی جماعتیں ہی فیصلہ سازی میں شامل ہو سکتی ہیں“۔ سیاسی امور کے متعدد ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ جرمنی میں سیاسی جماعتیں فیصلہ سازی کے علاوہ یہ فیصلے بھی کرتی ہیں کہ کون سیاست کے میدان میں سرگرم رہ سکتا ہے۔ اس بات کا تعلق جرمنی کے انتخابی نظام سے ہے، جس میں ہر ووٹر کے دو ووٹ ہوتے ہیں۔ جرمنی میں اٹھارہ سال یا اس سے زیادہ عمر کا ہر شہری ووٹ دینے کا حق رکھتا ہے۔ اس طرح اہل ووٹرز کی موجودہ تعداد 61.8 ملین بنتی ہے۔ انتخابات میں حصہ لینے کی خواہش مند تمام جماعتوں کو الیکشن کمشنر کے سامنے پیش ہونا ہوتا ہے۔ آئین، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو تسلیم کرنے والی تمام جماعتوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی جاتی ہے۔ نظریاتی طور پر بڑی سیاسی جماعتوں کے ساتھ چھوٹی چھوٹی جماعتیں بھی پارلیمنٹ میں پہنچ سکتی ہیں۔ جمہوری طریقہ کار میں فیصلہ ہمیشہ اکثریت کی مرضی سے ہوتا ہے اور چھوٹی جماعتیں مختلف اتحادوں کا حصہ بن جاتی ہیں۔ جرمنی میں یہ قانون بھی موجود ہے کہ صرف وہی سیاسی جماعتیں اپنے نمائندے پارلیمان میں بھیج سکتی ہیں جنہیں انتخابات میں کم از کم پانچ فیصد ووٹ ملیں۔ اسی طرح ہر رائے دہندہ کا ایک ووٹ امیدوار کے لیے ہوتا ہے اور اپنے دوسرے ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے وہ کسی بھی پارٹی کی حمایت کر سکتا ہے۔ جرمنی میں بیلٹ پیپر کے بھی دو حصے ہوتے ہیں۔ پہلے ووٹ کے ذریعے امیدوار کو چنا جاتا ہے جبکہ دوسرے حصے پر سیاسی جماعتوں کے نام درج ہوتے ہیں۔ یہ حصہ زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیونکہ جس جماعت کو جتنے زیادہ ووٹ ملیں گے پارلیمان میں اس کی موجودگی اتنی ہی زیادہ ہو گی۔ اس طرح یہ جماعت اپنے زیادہ سے زیادہ امیدواروں کو پارلیمان میں پہنچا سکتی ہے۔ منتخب ہونے والے ارکان سربراہ حکومت یعنی وفاقی چانسلر کا انتخاب کرتے ہیں۔
    گزشتہ ساٹھ برسوں کے دوران اس انتخابی نظام میں نہ ہونے کے برابر تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ جرمنی میں ووٹنگ مشین کا استعمال نہیں کیا جاتا۔ کورونا وائرس کی وبا کے سبب امریکا کی طرح جرمنی میں بھی بذریعہ پوسٹ ووٹ ڈالنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ جرمنی میں 1957 سے بذریعہ ڈاک ووٹ دیئے جا رہے ہیں۔ پوسٹل ووٹوں کے بیلٹ بکسوں کا بالکل ویسے ہی خیال رکھا جاتا ہے جیسے پولنگ بوتھ میں موجود بلٹ بکسوں کا۔ جرمنی میں بذریعہ ڈاک ووٹ ارسال کرنے کے لیئے پہلے متعلقہ ادارے میں درخواست جمع کرائی جاتی ہے۔ ووٹر رجسٹریشن لسٹ سے تصدیق کے بعد ووٹر کو رجسٹرڈ پتے پر ووٹ کی پرچی ارسال کی جاتی ہے۔ جب حکام کو ووٹ کی پرچی کے ساتھ بند لفافہ واپس موصول ہوتا ہے تو اسے ایک محفوظ مقام پر الیکشن کے روز تک ایک بیلٹ باکس کے اندر ڈال کر لاک کر دیا جاتا ہے۔ ان بیلٹ باکسز پر ہر وقت کڑی نظر رکھی جاتی ہے تاکہ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ کو بروقت روکا جا سکے۔ بعدازاں الیکشن کے دن شام چھ بجے ووٹنگ کا مقررہ وقت ختم ہونے کے بعد انتخابی کمیٹی اور مبصرین کے سامنے ووٹوں کی گنتی کی جاتی ہے۔
    اس بار وفاقی انتخابات میں دو پاکستانی بھی حصہ لے رہے ہیں۔ گرین پارٹی کی طرف سے مصباح خان اور Team Todenhöfer کے پلیٹ فارم سے مقصود اکرام امیدوار ہیں۔ جرمنی کی سیاست میں پاکستانیوں کا متحرک ہونا خوش آئند بات ہے۔ دونوں امیدوار اپنی انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ رواں سال 2021 کو“ سپر الیکشن برس“ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سال چھ صوبائی انتخابات کے ساتھ ساتھ وفاقی انتخابات بھی منعقد ہو رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق الیکشن میں سخت مقابلے کی توقع ہے اس بار سی ڈی یو کے لیے انتخابات میں فتح آسان نہیں ہو گی، کیونکہ ایک طرف تو مہاجرین کے حوالے سے انجیلا میرکل کی پالیسیوں پر انہیں دائیں بازو کے حلقوں کی جانب سے تنقید اور دوسری طرف مہاجرین اور مسلم مخالف جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی کی مقبولیت میں بڑھتا ہوا اضافہ ہے۔
    (کالم نگارجرمنی میں مقیم،بین الاقوامی امورپرلکھتے ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      ہاکی کھلاڑیوں کو یومیہ 110ڈالر دیے جا رہے ہیں: صدر پی ایچ ایف

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      تازہ ترین

      سعودیہ جانیوالے مسافروں کیلئے لازمی ویکسی نیشن کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع

      پانی ہماری ریڈلائن، روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.