Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے
    • عاقب جاوید نے پاکستان کے 2027 ون ڈے ورلڈ کپ جیتنے کے امکانات مسترد کر دیے۔
    • امریکا۔ایران جنگ پر اخراجات 37.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے
    • ڈچ طلبہ نے دنیا کی پہلی شمسی توانائی سے چلنے والی ایمبولینس متعارف کرا دی۔
    • گوجرانوالہ کا شمسی انڈر پاس شدید بارش کے بعد زیرِ آب
    • ثمر خان، نومی خان اور کامی کلکس نے 5,100 میٹر بلند فرگم پاس سر کر لیا۔
    • عمران خان سے مذاکرات جاری، نبیل گبول کا بڑا دعویٰ
    • ڈیوڈ وارنر نے نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کے الزام کا اعتراف کر لیا
    • رحمت شاہ افغانستان کی ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیم کے کپتان مقرر
    • پاکستانی طلبہ نے حیاتیات اولمپیاڈ میں چاندی کا تمغہ اور میرٹ سرٹیفکیٹ جیت لیا
    • مری پولیس نے سیاحوں کے لیے سفری ہدایت نامہ جاری کر دیا۔
    • مسٹر بیسٹ نے دیرینہ دوست تھیا بوئسن سے جزیرے پر منعقدہ شاندار تقریبِ میں شادی کر لی
    • پاکستان میں سونے کی قیمت تقریباً 4 لاکھ 40 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔
    • ‘گاڈزیلا ورسز کانگ’ کی اداکارہ کیلی ہوٹل 18 سال کی عمر میں ٹریفک حادثے میں انتقال کر گئیں
    • پاکستانی کوہ پیماؤں نے 27 سال بعد ہندوکش کا دور افتادہ درہ دوبارہ کھول دیا
    • فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل گراؤنڈ کے ٹکڑے 450 ڈالر میں فروخت کرے گا
    • عبداللہ اقبال یوئیفا چیمپئنز لیگ کھیلنے والے پہلے فعال پاکستانی فٹبالر بن گئے
    • کینیڈین ایئر، لفتھانزا، اطالوی ایئرلائنز اور کیتھے پیسیفک نے دبئی کی پروازیں اگست تک معطل کر دیں۔
    • ممدانی: نیویارک کے پاس آئی سی سی وارنٹ پر نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کا اختیار نہیں
    • ٹرمپ نے امریکا۔سعودی تاریخی سول جوہری معاہدے کی منظوری دے دی
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    غریب کریں تو کیا کریں

    By Daily Khabrainاکتوبر 6, 2021
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    عبدالباسط خان
    اتوار کا دن سکون اور آرام کا دن ہوتا ہے گھر میں ہو تو بچوں پوتے اور پوتیوں، نواسے اور نواسیوں سے گفت و شنید ہوتی ہے۔ دل میں راحت محسوس ہوتی ہے اور اپنے بچپن کی یادیں تازہ ہوتی ہیں گھر سے باہر نکلیں تو سڑکوں پر بہت سکون ہوتا ہے لوگ مارکیٹوں میں چنے نان اور نہاریوں کے لئے لائن لگائے ہوتے ہیں۔ غرضیکہ غریب ریڑھی والے یا دوکان والے کے چہرے مسرت اور شادمانی سے سرشار نظر آتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو رزقِ حلال کماتے ہیں رات کو پکوان لوگوں کیلئے تیار کرتے ہیں اور صبح صبح لوگوں کو چنے، حلیم، نہاری جیسے مزیدار کھانے بنا کر دیتے ہیں اور ایک قلیل سی رقم منافع میں حاصل کر کے خوش اور شادمان رہتے ہیں وہ لوگوں کو خوش کرتے ہیں اور خود بھی خوش ہوتے ہیں اور پھر یہ غریب لوگ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں لیکن کیا صرف غریبوں کے لئے اتنا ہی کافی ہے کیا ان کا دل نہیں کرتا کہ وہ اپنے بچوں کو گرمیوں کی چھٹیوں میں مری کی سیر کرائیں کیا ان کا دل نہیں کرتا کہ ان کا اپنا گھر ہو اور ان کے بچے انگلش میڈیم سکولوں میں جا کر تعلیم حاصل کریں کیا وہ نہیں چاہتے کہ کم از کم ہفتے میں ایک دن گوشت پکائیں کیا ان کا دل نہیں چاہتا کہ ان کے بچے اچھے کپڑے پہنیں کیا ان کا دل نہیں چاہتا کہ ان کی بیٹیاں اچھے گھروں میں بیاہی جائیں یقینا ان کا دل چاہتا ہے مگر موجودہ مہنگائی نے ان کے تمام خواب چکنا چور کر دیئے ہیں ابھی یہ ذکر میں صرف غریب ترین طبقے کا کر رہا ہوں اگر متوسط طبقے یا تنخواہ دار طبقے کی بات کریں تو وہ بھی اس ہوشربا مہنگائی سے بہت تنگ نظر آرہے ہیں حالات بہتری کی طرف نہیں جا رہے اور نہ ہی امید ہے کہ مستقبل قریب میں ہماری عوام کے مسائل حل ہوں گے کیونکہ ہمارے ملک کے سیاستدان جو لوگوں سے ووٹ حاصل کر کے پارلیمنٹ میں جاتے ہیں وہ اچھے اچھے مہنگے مہنگے ہوٹلوں میں کھانے اور پارٹیاں کھاتے ہیں بیرون ملک کی سیر کو نکل جاتے ہیں باہر کے ملکوں میں ان کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں وہاں ان کے شاندار بنگلے اور گھر موجود ہوتے ہیں وہ عوام کی صرف فرضی محبت میں گرفتار ہوتے ہیں واجبی سے انداز میں میڈیا کے سامنے بولتے ہیں کہ غریبوں کا جینا دوبھر ہو گیا ہے۔ غریبوں کو دووقت کی روٹی میسر نہیں ہوتی وغیرہ وغیرہ جب ان محلوں اور شاندار بنگلوں میں رہنے والے لوگوں سے یہ گفتگو میڈیا میں دیکھتے ہیں تو ہم لوگ دانتوں میں انگلیاں دبا لیتے ہیں کیا واقعی ان کو اس عوام کے دکھ درد کا احساس ہے جن سے ووٹ لینے کے لئے یہ منت سماجت اور التجائیں کرتے تھے۔
    گرانی کا درد یا پریشانی صرف ایک غریب ہی سمجھ سکتا ہے کیونکہ وہ خود اس چکی میں پس رہا ہوتا ہے وگرنہ یہ خوش شکل خوش پوش پراڈو اور لینڈ کروزر میں پھرنے والے غربت، تنگدستی، بیماری، افلاس جہالت کی اندرونی کہانیوں سے واقفیت یا ادراک ہرگز نہیں رکھ سکتے یہ ان کے ڈی این اے میں بھی نہیں ہوتی ہے وگرنہ پاکستانی بخوبی واقف ہیں کہ کرونا جیسی موذی بیماری جس نے پوری دنیا کے بازار، ہوئی اڈے، ریسٹورنٹ، ہوٹل، دکانیں، مالز بند کروا دیئے تھے ہمارے ان بڑے صنعت کاروں، بزنس ٹائیکون، سرمایہ داروں، اربوں ڈالرز کے گھر بیرون ملک بنانے والوں نے پاکستان کی عوام کو کیا دیا صرف حکومت پر تنقید بازار کیوں بند کر دیئے یا بازار کیوں بند کریں کیا کسی ایک سیاست دان نے اپنے حلقے میں ہی لوگوں کے کرونا ٹیسٹ فری کروائے کیا کسی بڑے بینک کے سربراہ نے اپنے ملازمین کیلئے ویکسین کی دستیابی ممکن بنائی؟
    کیا کسی بڑے سے بڑے سرمایہ دار نے لوگوں میں پیسے تقسیم کئے جن کی دیہاڑی نہیں لگی؟ بالکل نہیں۔ اب ذرا سیاستدانوں کی طرف آ جائیں ہر پارٹی میں رئیس ابن رئیس، بڑے بڑے سرمایہ دار جاگیردار صنعتکار موجود ہیں مگر کسی نے بھی حکومت کو پیشکش نہیں کی کہ ہم احساس پروگرام میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں ہم ایک لاکھ یا دو لاکھ ویکسین لوگوں کے لئے فری دینا چاہتے ہیں قوموں کے مزاج اوران کی عظمت بڑائی کا اندازہ اس وقت ہی لگتا ہے جب کوئی آفت مصیبت سیلاب، زلزلہ یا وبائی امراض وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ ہمارے پڑوسی ملک ہندوستان میں فلمی اداکاروں سے لے کر ٹاٹا، برلا مکیش امبانی نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنے اپنے ملازمین کیلئے کرونا ٹیسٹ ویکسین سے لے کر فوت ہو جانے والوں کے بچوں کی تاحیات نوکریوں کا بندوبست کیا لیکن ہمارے ملک میں امیر آدمی یہ سوچتا رہ گیا کہ شائد اگر اس نے غریب آدمی کیلئے چندہ دے دیا تو وہ غریب ہو جائے گا ہم لوگ من حیث القوم بے حس، ذہنی طور پر دیوالیہ اور موت کوبھول چکے ہیں موت کا خوف عارضی طور پر اس وقت آتا ہے جب قبرستان میں تدفین کیلئے جاتے ہیں ہم لوگ برائی کرنے نکتہ چینی کرنے دوسروں کو تہ تیغ کرنے، اجاڑنے بے بس کرنے میں پیش پیش اور نیکی کرنے ہاتھ پھیلانے والے کو اور فلاح عامہ کے کاموں میں ہاتھ بٹانے چندہ دینے خاص طور پر ایسے نادار اور غریب دیہاڑی دار طبقے کی مدد کرنے میں سب سے پیچھے ہوتے ہیں۔ کوئی مجھ سے سوال ضرور کرے گا کہ یہ کام تو حکومت کے ہوتے ہیں تومیں کہتا ہوں کہ حکومت کے پاس ہے کیا جو وہ عوام کو دے سکتی ہے۔ حکومت رات دن یہ راگ الاپتی ہے کہ ہم تو صرف ماضی کی حکومتوں کے قرضوں کا سود ہی ادا کر رہے ہیں ٹیکس وصولی کا حال ہم سب بخوبی جانتے ہیں اس ملک کے تمام بڑے بڑے شہروں میں اگر آپ لوگوں کے طرز بودو باش کا اندازہ لگائیں تو آپ عرب ممالک کے شہزادوں کو بھول جائیں۔ افسروں کے گھروں میں بیرون ملک کی تمام اشیا اس طرح موجود ہیں جس طرح غریب آدمی کو کھانے کے لئے بھنے چنے یا سوکھی روٹیاں۔ بزنس مین طبقہ ہر وقت حکومت سے مراعات کا متلاشی رہتاہے ٹیکس ایمنسٹی اسکیموں سمیت ٹیکس ربیڈ، ریفنڈ، پرچیز ان کی دسترس میں ہے کیونکہ ان کے ہی چہیتے دوست حکومت میں موجود ہیں لیکن ایکسپورٹ میں اضافہ واجبی سا بڑے بڑے بزنس مین کارخانے والے بجلی چوری میں پیش پیش ہوتے ہیں۔گھرتو چھوڑیں گاؤں کے گاؤں، بجلی چوری سینہ تان کر کرتے ہیں مجاز ہے کہ بجلی میٹر چیک کرنے والا وہاں داخل ہو لہٰذا ان کی چوری جس سے گردشی قرضوں میں اضافہ ہوتا ہے کا سارا ملبہ غریب لوگوں پر پڑ جاتا ہے غریب کرے تو کیا کرے۔ غریب آدمی اپنے بجلی کے بل کی قسطیں کروانے کیلئے دربدر پھر رہا ہوتاہے دو تین مرلے کے مکان میں رہنے والے بے چارے پچاس ہزار سے لے کر ایک لاکھ کا بل لئے وفاقی محتسب کی عدالت میں XEN اور SDO کے دروازے پر سارا دن گزار دیتے ہیں۔ یہ حکومت آئی تو کہا گیا کہ گردشی قرضے ختم کر دیئے جائیں گے مگر یہ نہ ہو سکا کیونکہ اس معاشرے میں مافیاز لاتعداد میں موجود ہیں۔ بجلی چوروں کے گارڈین اور محافظ۔ ہمارے ملک میں بیوروکریٹس سے لے کر وزراء اور حکومتی پارلیمنٹرین سب برابر کے شریک ہیں غریب کریں تو کیا کریں۔
    لوگ بل ادا کریں یا کھانا کھائیں یا بیماری کا بل ادا کریں، ڈاکٹر کی فیس وہ نہیں دے سکتے اور ڈاکٹر بھی ملے تو وہ بھی گزارا لائق امیروں کے لئے بڑے بڑے پرائیویٹ ہسپتال بڑے بڑے ڈاکٹر ہر قسم کی مشینیں دستیاب مگر غریب بیچارہ کہاں جائے اگر وہ کلرک ہے یا عام سا ملازم تو پھر وہ رشوت نہ لے تو کیا کرے اور اگر رشوت میں پکڑا جائے تو پھر اس کی ضمانت میں گھر کے زیور بیچنے پڑ جاتے ہیں۔ رہ سہ کر ایک آٹا تھا جس کو پکا کر غریب آدمی دو وقت کی روٹی پیاز کے ساتھ کھا لیتا تھا مگر اب آٹا بھی اس کی دسترس سے باہرہے۔ وہ ملک جو زرعی ملک ہے اور اب لاکھوں ٹن گندم باہر سے امپورٹ کر رہا ہے غریب کریں تو کیا کریں۔
    (کالم نگارمختلف موضوعات پرلکھتے ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      عہدہ ختم تو اہمیت ختم

      تازہ ترین

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      عمران خان سے مذاکرات جاری، نبیل گبول کا بڑا دعویٰ

      فیفا ورلڈکپ: انگلینڈ کو شکست، ارجنٹائن فائنل کا ہیرو بن گیا

      حکومت کی طرف سے عوام کو ایک اور تحفہ پیٹرول پھر مہنگا

      حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، نوٹیفکیشن جاری

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.