تازہ تر ین

روزگار کا حصول اتنا مشکل کیوں؟

خیر محمد بدھ
گزشتہ روز سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کو بتایا گیا ہے کہ ملک میں بیروزگاری کی شرح 16 فیصد ہوگئی ہے اور 24 فیصد تعلیم یافتہ لوگ بے روزگار ہیں مجموعی تعداد میں 3 گنا ڈگری ہولڈرہیں۔ بے روزگاری اب ایک عالمی مسئلہ ہے پوری دنیا میں روزگار کا حصول ایک مسئلہ بنتا جا رہا ہے جہاں ساؤتھ افریقہ جیسے ملک بھی ہے۔جہاں دنیا میں سب سے زیادہ بے روزگاری تقریبا 35 فیصد ہے۔ وہاں قطر، بحرین اور ملاوی جیسے ممالک بھی ہیں جہاں بے روزگاری صفرہے۔ تاہم ہمارے ملک میں بے روزگاری کی شرح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس کی کئی وجوہات ہیں جن میں آبادی کا اضافہ سب سے بڑی وجہ ہے۔ بیروزگاری کیوں بڑھ رہی ہے اس کی کیا وجوہات ہیں۔ ملک میں سرکاری اور پرائیویٹ سیکٹر میں مسلسل روزگار کے مواقع پیدا ہوتے رہتے ہیں لیکن ایک عام آدمی کو اس کے بارے میں مناسب اور بروقت معلومات نہیں مل رہی ہے جو ایک قومی المیہ ہے اقوام متحدہ کے ادارے آئی ایل او نے 17 جون 1948 کو ایک کنونشن نمبر CO88 منظور کیا جس کے تحت ممبر ممالک کو پابند کیا گیا کہ وہ مفت روزگار سروس کے ادارے قائم کریں۔جو نیشنل اتھارٹی کے تحت کام کریں۔ لوکل اور ریجنل سطح پر بے روزگار افراد کوبے روزگار افراد کوملازمتوں سے متعلق فری معلومات مہیاں کی جائیں۔ سروس،معلومات اور ڈویلپمنٹ کے سلوگن کے تحت بے روزگار افراد کی مدد اور رہنمائی کی جائے۔
اس ایمپلائمنٹ سروس کنونشن کے تحت پاکستان میں بھی روزگار کے دفاتر ضلع اور ریجن کی سطح پر بنائے گئے جہاں نبیروزگار لوگ خواہ وہ تعلیم یافتہ تھے یا ہنر مند، غیر ہنر مند، ان کی رجسٹریشن کی جاتی تھی اور بوقت ضرورت سرکاری محکمے میں اور پرائیویٹ مالکان Employersاستفادہ کرتے تھے۔تمام سرکاری محکمہ جات کے لیے ضروری تھا کہ وہ بھرتی کے لیے دفتر روزگار ایمپلائمنٹ ایکسچینج Employment Exchangeکی جانب سے مہیا کردہ افراد کی لسٹ کو سامنے رکھیں اور اس میں سے انتخاب کریں۔صنعتی اور تجارتی ادارہ جات کے مالکان بھی اپنی لیبر اوردفتری ضرورت کے لئے ان دفاتر سے رجوع کرتے تھے اس طرح یہ ادارہ سرکاری اور پرائیویٹ اداروں اور بے روزگار افراد کے درمیان ایک پل اور راہ نماکا کردار ادا کرتا تھا۔ لازمی سروس ایکٹ کے تحت ڈاکٹر صاحبان کی رجسٹریشن اور معذور افراد کے کوائف بھی دفتر روزگار میں موجود ہوتے تھے۔ ضلع میں موجود افرادی قوت خواہ وہ تعلیم یافتہ تھی یا ہنرمند مکمل کوائف کے ساتھ موجود ہوتی تھی۔یہ سلسلہ 1990 تک قائم رہا۔ ضلعی اورریجنل نیشنل سطح پر موجود تمام آسامیوں کی تعداد اور بھرتی سے متعلق تفصیلات اس دفتر میں موجود ہوتی تھیں۔ اور جب بھی کوئی اسامی یا جاب سرکاری یا پبلک سیکٹر میں آتی تھی تو دفتر روزگار ڈاک کے ذریعے اہلیت والے لوگوں کو آگاہ کرتے تھے۔ جب1988 میں پنجاب میں ہارس ٹریڈنگ شروع ہوئی تو روزگار کے حصول کو مشکل اور من پسند بنانے کے لیے دفتر روزگار کو ختم کر دیاگیاملازمتوں میں خفیہ کوٹہ مقرر کیا گیا۔
پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار سیاسی لوگوں کے بیٹوں کو نائب تحصیلدار جیسی پرکشش ملازمت بغیر قواعد و ضوابط پر عمل کئے دی گئی۔ چونکہ خفیہ طریقوں سے سیاسی رشوت شروع کی گئی اس لیے دفتر روزگار کو ختم کر دیا گیا۔ ملک کے دیگر صوبوں میں غالباََ یہ ادارے قائم ہیں۔ لیکن پنجاب میں یہ اہم محکمہ ختم کر دیا گیا۔صرف یہی نہیں بلکہ دفاتی روزگار کا ایک اور اہم شعبہ ٹیکنیکل ٹریننگ بھی ختم کر دیا گیا۔ اب سرکاری آسامیوں کااعلان تو اخبارات کے ذریعے ہوتا ہے۔ اگر ایک دفتر میں خاکروب کی آسامی ہے تو اس کے لئے بھی دواشتہارات دلائے جاتے ہیں۔ جن پر ہزارو ں روپے خرچ آتا ہے۔ جبکہ پہلے یہ صرف ایک لیٹر لکھنے سے ہوتا تھا۔ دفتر روزگار کے خاتمے سے بہت سے نقصانات ہوئے ہیں۔ امیدواروں کو ہروقت معلوما ت نہیں مل سکتی۔جواشتہارات انگریزی اخباروں میں آتے ہیں ان کا علم بے روزگاروں کو نہیں ہوتا کیونکہ ہر جگہ یہ اخبار نہیں آتے پھر سیاسی رشوت کے لیے ہر حکومت جو اخبار منتخب کرتی ہے وہ ہر علاقے میں نہیں جاتا لائبریریاں ویسے ختم ہوتی جارہی ہیں سب سے زیادہ نقصان پرائیویٹ سیکٹر میں ہوا ہے پہلے مختلف صنعتی اور تجارتی ادارے اپنی ضرورت کے لیے دفاتر روزگار کو لکھ دیتے تھے اور ان کی وساطت سے غیر ہنر مند اور ٹیکنیکل لیبر فورس حاصل کرتے تھے اس سے امیدواروں کو بھی آسانی ہوتی تھی وہ مختلف جگہوں پر معلومات حاصل کرنے کی بجائے ایک دفتر میں جاتے تھے جہاں انہیں سب معلومات مل جاتی تھی لیکن اب یہ سلسلہ ختم ہوگیا ہے پرائیویٹ سیکٹر میں روزگار کے متلاشی لوگ بھی بہت پریشان ہیں انہیں روزگار کے حصول میں بے شمار جگہوں پر جانا پڑتا ہے۔
پاکستان پوری دنیا میں افرادی قوت لیبر فورسLabor Force کے حوالے سے نواں 9th بڑا ملک ہے یہاں سے بیرون ملک بھی لاکھوں پاکستانی روزگار کے سلسلے میں جاتے ہیں دفتر روزگار کے خاتمے کے بعد مختلف شہروں میں پرائیویٹ ادارے قائم ہیں جو اپنے اشتہاری مہم کے ذریعے لوگوں سے رابطہ کرتے ہیں اور بے شمار بے روزگار لوگوں سے لوٹ مار کرتے ہیں انسانی سمگلنگSmugling بھی کر رہے ہیں اور شکایات بھی عام ہیں۔بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے طوفان سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ آئی ایل اوکنونشن 88 کے مطابق ماضی کے دفتر روزگار ایمپلائمنٹ ایکسچینج Employment Exchangeکو دوبارہ شروع کیا جائے اس سے ضلعی سطح پر بے روزگار افراد سے متعلق مستند اعداد وشمار میسر آ سکیں گے ڈاکٹرز، انجینئرز، معذور افراد کے کوائف کا حصول آسان ہوگا حکومت کے اخراجات میں کمی آئے گی اور میرٹ پر عمل ہوگا۔
پرائیویٹ سیکٹر کے لئے آسانیاں پیدا ہوگئی ملازمتوں اور روزگار میں پرائیویٹ سیکٹر میں کھپت زیادہ ہے۔ انڈسٹری، تجارت، زراعت، فش فارمنگ اور فاریسٹ، آرٹیٹیکچر وغیرہ کے شعبے میں افرادی قوت کی ضرورت بھی ون ونڈوOne Window کے تحت پوری ہوسکے گی۔ لیبر مارکیٹ میں بہتری آئے گی بے روزگار لوگوں کو مناسب راہ نمائی اور معلومات مل سکے گی اور روزگار کے حصول میں آسانیاں پیدا ہوگئی بے روزگاری بیشمار برائیوں کی ماں ہے اور جب روزگار میرٹ کے بجائے چور دروازے سے شروع ہو جائے تو پھر بے چینی اور اضطراب میں اضافہ ہوجاتا ہے جب سندھ اور کے پی کے میں یہ ادارہ قائم کام کرسکتے ہیں اور پنجاب میں ان دفاتر کا سٹاف اب بھی موجود ہیں جنہیں دوسرے کاموں پر لگا دیا گیا ہے تو پھر ان دفاتر کو دوبارہ فعال کیوں نہیں کیا جاسکتا پوری دنیا میں فری پبلک ایمپلائمنٹ سروس موجود ہے۔پنجاب اور پورے ملک میں بھی یہ قائم ہونی چاہیے۔اس سے مقامی اور علاقائی سطح پر بروقت معلومات حاصل ہوگی اور پبلک پرائیویٹ سیکٹر کو افرادی قوت کے حصول میں مد د ملے گی۔ ان اداروں کی ضرورت اہمیت اور افادیت بے روزگار لوگوں اور اہمپلائز دونوں کے لئے یکساں ہے۔
(کالم نگار سیاسی وسماجی موضوعات پر لکھتے ہیں)
٭……٭……٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain