Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • فیفا ورلڈ کپ 2026 فائنل میں پانچ سال پرانی پیش گوئی سچ ہونے کے قریب
    • فیفا ورلڈ کپ فائنل کا ٹکٹ 23 لاکھ ڈالر میں فروخت کے لیے پیش
    • پاکستانی فلم ساز نے 2023 کے کیبل کار ریسکیو واقعے کی کہانی کو سنڈنس کے عالمی پلیٹ فارم تک پہنچا دیا
    • فیس بک اور انسٹاگرام کی سروسز دنیا بھر میں متاثر پاکستان بھی متاثرہ ممالک میں شامل
    • فیفا ورلڈ کپ 2026 فائنل: لاہور، اسلام آباد اور گوجرانوالہ میں بڑی اسکرینیں نصب
    • عمرہ کا رش، 45 دن میں 9 لاکھ سے زائد زائرین نے عمرہ ادا کر لیا، پاکستانی سرفہرست
    • لاہور ہائیکورٹ میں پٹرولیم قیمتوں میں اضافے اور روزانہ قیمتوں کے تعین کے منصوبے کو چیلنج کر دیا گیا۔
    • اسپین اور پرتگال کی جعلی ملازمتوں کے جھانسے میں پاکستانی انسانی اسمگلنگ کا شکار ہو رہے ہیں۔
    • این ڈی ایم اے نے 23 جولائی تک شدید موسمی صورتحال کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا۔
    • پاکستان میں سونے کی قیمت 4 لاکھ 20 ہزار روپے سے تجاوز کر گئی، عالمی سطح پر فی اونس قیمت 4 ہزار ڈالر سے بڑھ گئی۔
    • متحدہ عرب امارات نے ایران جنگ فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا، امریکا کو ذمہ دار قرار دینے سے گریز کیا۔
    • ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا اب سپر پاور نہیں رہا۔
    • حکومت نے سابق ارکانِ قومی اسمبلی کے بچوں کے لیے بلیو پاسپورٹ کا فیصلہ واپس لے لیا۔
    • چین، قطر، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات پورٹ قاسم کی ترقی کے لیے 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے۔
    • ڈیفنس میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کی کار کے قریب فائرنگ، پولیس ذرائع
    • ورلڈ کپ فائنل سے قبل لامین یامل کی دعا اور قرآن پاک کی تلاوت کی ویڈیو وائرل ہو گئی۔
    • غزہ پر اسرائیلی حملوں میں بچوں سمیت 11 افراد جاں بحق، محکمہ صحت
    • برطانیہ میں ریپ اور انسانی اسمگلنگ کے نئے مقدمات کے بعد ٹیٹ برادران میامی میں گرفتار۔
    • ایران کے صوبہ خوزستان میں 5.0 شدت کا زلزلہ۔
    • امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف حملوں کا آٹھوی رات کا مرحلہ مکمل ہو گیا۔
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    فوجداری قوانین میں اصلاحات دیر آمد درست آمد

    By Daily Khabrainجنوری 31, 2022
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    ملک منظور احمد
    پاکستان کو قیام پاکستان کے بعد سے ہی چند ایسے مسائل کا سامنا ہے،جن کے باعث اس ملک کی ترقی میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں اور یہ ملک حقیقی معنوں میں اپنی صلاحیتوں کا بروئے کار لا کر دنیا میں وہ مقام حاصل نہیں کر سکا ہے جس کا یہ حقدار تھا۔چند انہی مسائل میں سے ایک مسئلہ اس ملک کا نظام انصاف اور فوجداری قوانین ہیں۔اس ملک میں چاہے وہ سول کیس ہو یا پھر فوجداری مقدمہ۔کیسز تو ہو جاتے ہیں لیکن ان کے فیصلے نہیں ہو پاتے ہیں۔پولیس اور عدلیہ کا نظام اس طرح سے ڈلیور نہیں کرپاتا جس طرح کی ان سے توقع کی جاتی ہے۔اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ابھی تک اس حوالے سے جو قانون رائج ہیں وہ انگریز نے 1898ء میں کیے تھے،اور ابھی تک اس ملک کا نظام انہی قوانین کا تابع ہے اور ملک کے لیے مسائل کا باعث بنا ہوا ہے۔یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں اشرافیہ کو فائدہ ہو تا ہے اور غریب پستے چلے جاتے ہیں۔اور کیونکہ یہ نظام انگریز کا بنایا ہو ا ہے اس لیے اس امر میں کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے کہ انھوں نے ایک ایسا نظام تیار کیا ہے جو کہ حکمران طبقے کے گھر کی لو نڈی ہے۔لیکن ہماری سب سے بڑی بد قسمتی رہی ہے کہ 75سال میں اس ملک میں کبھی بھی ہمارے ملک میں اس نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ہے اور جس کا نقصان ہمیں بطور قوم اٹھانا پڑا ہے۔
    سابق صدر مشرف کے دور میں پولیس آرڈر 2002ء لایا گیا تھا اور کوشش کی گئی تھی اس حوالے سے بہتر پولیسنگ کو فروغ دیا جائے لیکن ایسا ہو نہیں سکا۔ اس آرڈر پر عمل درآمد میں کئی مسائل آئے اور اگر کہا جائے کہ یہ نظام بڑی حد تک ناکام ہو گیا تو یہ غلط نہیں ہو گا۔اب آخر کار کسی حکومت نے سنجیدگی سے پاکستان پینل کو ڈ،تعزیرات پاکستان اور فوجداری قوانین میں جامع اصلاحات کرنے کا فیصلہ کیا ہے،قانون شہادت میں تبدیلی کی جا رہی ہے،ویڈیو اور الیکٹرانک شہادت سے متعلق قوانین بدلے جا رہے ہیں پلی با رگین کا نفاذکیا جا رہا ہے،مقدمات ختم کرنے کی کے لیے ایک ٹائم فریم مقرر کیا جا رہا ہے،اور اگر ٹرائل جج مقررہ نو ماہ میں مقدمہ کا فیصلہ نہیں سناتا تو اس کو ہائی کو رٹ کو اس حوالے سے وضاحت دینی ہو گی۔اپیل کے لیے زیادہ سے زیادہ مدت 6ماہ مقرر کی گئی ہے۔کوئی بھی جج کسی بھی مقدمے میں 3روز سے زیادہ کا التوا نہیں دے سکے گا۔یہ تو چند مثالیں ہیں لیکن کل ملا کر قوانین میں 750ترامیم کی جا رہی ہیں،جو کہ تمام کی تمام دیکھنے کے لحاظ سے تو بہت اچھی ہیں لیکن سوال وہی آتا ہے کہ کیا ان پر مکمل طو ر پر عمل درآمد یقینی بنایا جاسکے گا؟پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ یہی رہا ہے کہ کاغذوں پر ان پر تو بہت بہترین اصلاحات لانے کی کوشش کی جاتی ہے اور لائی بھی جاتی ہیں لیکن جب عملی میدان میں ان کو نا فذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ ہو نہیں پاتا ہے۔
    جیسا کہ حضرت علی عنہؓ کا قول ہے کہ کفر کا نظام تو چل سکتا ہے لیکن نا انصافی کا نظام نہیں چل سکتا ہے۔سابق آئی جی پولیس افتخار رشید میرے دوست ہیں اور ایک جہاندیدہ شخصیت ہیں۔میری پولیس نظام میں اصلاحات کے حوالے سے ان سے بہت بار گفتگو ہو ئی ہے میں نے ان سے اس حوالے سے انٹر ویو بھی لیے اور ان کا یہی کہنا ہے کہ پاکستان میں اصلاحات کی کوشش تو بہت بار کی گئی ہے لیکن عمل درآمد نہیں ہو سکا اور عمل درآمد نہ ہونے کی کئی وجوہات رہیں،ان میں چند ایک یہ تھیں کبھی تو امریکہ یا یورپ کا نظام یہاں پر لانے کی کو شش کی گئی ہے جو کہ ہمارے ملک کے ماحول سے مطابقت نہیں رکھتا تھا اس لیے ناکامی ہو ئی اور کبھی اتنی مہنگی اصلاحات متعارف کروائی گئیں کہ ان پر عمل کے لیے بجٹ ہی موجود نہیں تھا اس لیے ناکامی ان کا مقدر ٹھہری لیکن بہر حال ہمیں اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی تعریف کرنے کی ضرورت ہے کہ کم از کم انھوں نے اس حوالے سے کوشش تو کی ہے۔کامیاب ہو تے ہیں یا نہیں یہ بعد کی بات ہے لیکن اللہ کرے یہ یہ اصلاحات کامیاب ہوں کیونکہ ملک کو اپنے پولیس اور عدل کے نظام میں ڈرامائی بہتری کی ضرورت ہے۔
    دور حاضر معاشی ترقی اور معاشی مقابلے کا دور ہے جو ممالک اور جو ریاستیں اس دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گی ان کے لیے اس دنیا میں عزت سے رہنا بہت مشکل ہو تا چلا جائے گا۔اور معاشی ترقی کے لیے کلیدی حیثیت انسانی وسائل کی ترقی اور ان کو ترقی کے لیے سازگار ماحول دینا ہے۔جو کہ ہم آج تک اپنے لوگوں کو نہیں دے سکیں ہیں۔ایک ایسا معاشرہ جہاں پر عدل اور انصاف کا دور دورہ ہو۔ایسے ماحول میں ہی ملک ترقی کیا کرتے ہیں۔ہمیں بھی اس حوالے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔حال ہی میں نیشنل قومی سلامتی پالیسی کا بھی اجرا کیا گیا ہے اور اس پالیسی کے تحت انسانی ترقی اور عوام کی خوشحالی کو کلیدی حیثیت دی گئی ہے اب ضروری ہے کہ فوجداری قوانین میں اصلاحات سمیت ایسے قوانین لائیں جا ئیں جو کہ اس ہدف کو مکمل کرے میں قومی پالیسی کو تقویت دیں۔پولیس نظام میں مرکزی اہمیت کا حامل تھانہ ہو تا ہے جس سے عوام کا واسطہ پڑتا ہے اگر پولیس نظام میں بہتری لانی ہے تو تھانوں پر خصوصی توجہ دینی ہو گی رویے بہتر بنانے ہوں گے تفتیش معیاری اور سائنسی بنیادوں پر کرنی ہو گی اور تھانہ دار بہتر لگانے ہوں گے انسانی وسائل میں بھی بہتری لانا ہو گی،تھانہ دار کے لیے گریجویشن کی شرط عائد کی گئی ہے اس کے ساتھ دیگر اقدامات کا بھی ذکر ہے لیکن اس حوالے سے میرے خیال میں مزید کام کیا جانا چاہیے اس کے بغیر نظام میں اس طرح کی بہتری نہیں آئے گی جس کی توقع عوام کرتے ہیں یا حکومت لانا چاہتی ہے۔
    (کالم نگارسینئرصحافی اورتجزیہ کارہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      عہدہ ختم تو اہمیت ختم

      تازہ ترین

      فیفا ورلڈکپ: انگلینڈ کو شکست، ارجنٹائن فائنل کا ہیرو بن گیا

      حکومت کی طرف سے عوام کو ایک اور تحفہ پیٹرول پھر مہنگا

      حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، نوٹیفکیشن جاری

      شارجہ سے پاکستان آنیوالا نجی کارگو طیارہ کراچی کے قریب لاپتا، ریسکیو آپریشن شروع

      نواز شریف کارڈیالوجی سرگودھا، افتتاح رواں ماہ متوقع

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.